فریدا خاک نہ نندئیے _________محمد عظیم

فریدا خاک نا نندئیے!میرا یقیں بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مجھے اس دنیائے فانی سے اک دن گزر جانا ہے تبھی تو میری ذات لمحہ موجود میں دوسری ذات کے لیے کچھ کر گزرنا چاہتی ہے،اس ادراک کے ساتھ کہ مٹی کو اک دن مٹی ہونا ہے تو کیوں نہ یہ مٹی اپنے لمحہ وجود میں کچھ انہونا کر گزرے جب کل کو اس مٹی سے واسطہ پڑھے تو یہ گواہی دے کہ آ گئی وہ مٹی جس نے اپنی بنیاد کو “دیے،گملے میں موجود مٹی،گھڑے میں استعمال ہونے والی مٹی،گگو گھوڑے،دیوار میں موجود اینٹ جو ہر دوسری اینٹ کے لیے مضبوطی کا سبب بنتی ہے،زمیں کی ذرخیزی کا سبب بننے والی مٹی،کچے گھروندے کی چھت میں استعمال ہونے والی مٹی” بن کر زندگی گزار چکی ہےجب یہ مٹی دیے کے وجود کا باعث بنی تو اس روشنی کے نیچے بیٹھ کر اک ناتواں لڑکا اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھے ہوئے تھا۔ یہی مٹی جب گملے کا حصہ تھی تو اس نے اپنی انا کو یوں ختم کیا کہ جو بھی بیج اس میں بویا گیا وہ گل رعنا کی شکل لیے نازک سی پتیوں کی خوش لباسی کی صورت خوش کن “بو” لیے ہوئے گھروں کو مہکائے رکھتا تھا۔اس مٹی کو جب کوزہ گر نے ہاتھ لگایا اور اپنی ہاتھوں کی بھینی بھینی خوشبو اس میں سموئی تو اس ذرہ رنجیدہ نے اک نئی شکل پائی اور یہی کچا گھڑا سوہنی کو مہیوال سے ملوانے کے لیے شریک سفر بنا مگر شومئی قسمت کے محبوب سے وصل سے پہلے ہی جاں کی بازی ہار گیا۔ یہی ناقص و ناتواں مٹی کے ذرے جب دیہات میں موجود اک محنت کش کے ہاتھ لگی تو اس نے محنت شاقہ سے اس کو نئی شکلیں دیں جو اٹھکیلیاں کرتے بچوں کے لیے فرحت کا ساماں لیے ہوئے تھی۔جب یہ مٹی بھٹے پہ موجود محنت کش کے ہاتھ میں آئی تو اس نے اس کو نئی سوچ کے زاویوں سے روشناس کرایا کہ تم جب اپنے جیسی دوسری مٹی کے ساتھ ملو گی تو اک نئے جہاں سے شناسائی حاصل کرو گی اور دیوار گھر اور دیوار جاں کو نئی مضبوطی بخشو گی جس سے لوگ مستقل سایا حاصل کریں گے اور تم اپنے ہی خاندان کے دوسرے لوگوں کے لیے مواخات کا کام کرو گی اور ان کے دکھ درد میں برابر کی شراکت دار بنوں گی۔دیہات میں کچے گھروندے میں جب یہ ہر سو مہکتی ہے تو یہ چھت اور دیواروں کو نئی کشش بخشتی ہے پھر جب اک ماں کے ہاتھوں میں گھوندی جاتی ہے اور اک چولہے کی شکل اختیار کرتی ہے، تو اس کی تاثیر ہی جدا ہو جاتی ہے یہ محبت کا سر چشمہ بن کر گھر والوں کے پیٹ کی آگ بجھانے کا باعث بھی بنتی ہے اور خود تپتی آگ میں صبر کا دامن تھامے رکھتی ہے۔ایک محنتی کسان جب کھیت میں اپنے پیروں کے نیچے اسے روندتا ہے اور اس پر ہل چلاتا ہے تو خوشی سے نہال ہو جاتی ہے اور اپنی کوکھ میں بوئے جانے والے بیج کو نئی زندگی عطا کرتی ہے جو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والا ساماں لیے ہوتا ہے تو کہیں اناج،پھل،سبزیاں ٹھنڈی چھاؤں کے ساتھ جواں ہوتی بیٹی کے جہیز کی لکڑی کے حصول میں مدد فراہم کرتی ہےشاید یہی وجہ ہے کہ بابا فرید فرما گئے تھے کہفریدا خاک نہ نندئیے،خاکو جیڈ نہ کوجیوندیاں پیراں تھلے،تے مویاں اپر ہومحمد عظیم

4 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.