نایاب ہانڈی،دبئی

ابوظہبی کی نسبت دبئی میں پاکستانی ریستوران کی تعداد کچھ زیادہ ہے جبکہ کلاس معیار اور سروسز میں بھی وہ ریستوران ابوظہبی کے پاکستانی ریستورانوں سے بہتر ہیں۔ورنہ عموما پاکستانی ریستوران ذائقہ تو اچھا دیتے ہیں مگر معیار،کلاس اور سروسز پر ذیادہ دھیان نہیں دیتے۔ریستورانوں کی عمومی حالت ایک اصل ڈھابے سے بہتر نہیں ہو پاتی۔جبکہ انڈین ریستوران عموما مقابلے میں اپنی ہر چیز میں کلاس اور معیار پیش کرنے پر خاص توجہ دیتے ہیں۔

دبئی میں پاکستانی ریستوران جنہوں نے ہمیں اپنے ذائقے،ورائٹی،کلاس اور سروسز ہر چیز میں متاثر کیا ان میں سر فہرست” نایاب ہانڈی” رہا.لیکن یہ بات دھیان میں رہے کہ یہ تقابل پاکستانی اور انڈین ہوٹلز کے بیچ کا ہے کہ اگر انٹرنیشنل لیول کی بات کی جائے گی تو صورتحال کچھ اور ہو گی کہ یہاں اچھے سے اچھے کی قطار آسمان تک ہے۔

چند ہفتوں میں اسی چیز سے متاثر ہو کر ہم نے نایاب ہانڈی کے تین چکر لگائے۔پہلا چکر کرونا وبا کے دبوچنے سے پہلے تھا اس لئے بوفے اپنی تمام تر اچھی ورائٹی کے ساتھ موجود تھا۔لاک ڈاؤن کے بعد جب احتیاطی اقدامات کی بنا پر بوفے پر پابندی کے ساتھ رمضان میں ریستوران کھلے تو افطار کے لئے دو بار ہم صرف نایاب ہانڈی ہی پہنچے۔بوفے نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی ورائٹی تو غیر حاضر ہے مگر ان کے سیٹ مینیو نے کافی کسر پوری کر دی۔



افطار  میں ہماری روائیتی افطاری کے تمام لوازمات موجود ہیں۔خصوصا چاٹ کی تھالی جس میں فروٹ چاٹ ،دہی بھلے اور چنا چاٹ موجود تھی ہماری نمبر ون پسند رہی کہ یہ وہ لوازمات ہیں جو باربی کیو کے ساتھ مسلسل نہ رہیں تو باربی کیو کا لطف کرکرا ہو جاتا ہے۔مگر یہ تھالی ہمیں دوسری نہ مل سکی کہ یہ لوازمات اعزازی تھے اور فی میز ایک ہی میسر تھا۔جس کا ہمیں خاصا افسوس ہوا مگر اس کی کسر خاصی حد تک مکس سلاد نے پوری کر دی۔
افطار لوازمات کے ساتھ لذیز باربی کیو اور روغنی خاص روٹی کا سواد ہی کچھ اور ہے گرم گرم چکن ہانڈی کا دھواں دار مزہ کمال ہے



باربی کیو میں چکن، مٹن اور فش کے کئی ذائقے شامل ہیں جو سب سے ایک سے بڑھ کر ایک ہیں
۔اس کے علاؤہ بھی نہاری ‘حلیم سمیت اور بھی کچھ ڈشزز اس سیٹ مینیو کا حصہ ہیں مگر سچ تو یہ ہے کہ ہم اس باربی کیو اور ہانڈی سے آگے بڑھ ہی نہ سکے اور ہم نے خوب سیر ہو کر اس سے انصاف کیا۔باربی کیو کے ساتھ مزیدار سلاد نہ ہو تو باربی کیو کا مزا دوبالا نہیں ہوتا۔مصالحے دار بوٹیوں کے بیچ بیچ تھوڑا کھڑا میٹھا لقمہ رہے تو کھانے کا لطف قائم رہتا ہے۔ مکس سلاد نے بھرپور مزا دوبالا کیا۔

میٹھے میں گلاب جامن،رس ملائی اور کھیر شامل ہے اور جب بات ہم میاں بیوی کی ہو تو ہم سب سے پہلے کھیر اٹھاتے ہیں چونکہ ہم جانتے ہیں کہ کچھ جگہوں پر کھیر کسقدر لذیذ ملتی ہے بالکل قلفی اور ربڑی جیسی۔اگرچہ کھیر کی پریزنٹیشن نے کچھ مایوس کیا کہ تصویر بنانے کا لطف نہ آیا مگر ذائقہ مکمل دس بٹا دس نمبر لینے میں کامیاب رہا۔

احتیاطی اقدامات کی وجہ سے آدھی نشستیں خالی رہتی ہیں اور بارہ سال سے کم عمر بچوں کا داخلہ بھی ممنوع ہے۔سروسز میں سب ماسک پہنے تھے مگر بولتے ہوئے سب نے ماڈل اتار رکھے تھے جسے دیکھ کر دل گھبرایا کہ ہمیں تو کھانا ہے،ماسک اتارنا مجبوری ہے،جن کو دینا ہے ان کے تو منہ پر رہنا ہی چاہیے۔ان حالات میں اس پر انتظامیہ کو تھوڑے ڈسپلن کی ضرورت ہے۔
سیٹ مینیو کی قیمت ستر درہم فی فرد ہے۔نایاب ہانڈی شہر کے عین بیچ میں ایک کھلا اور بڑا پاکستانی ریستوران ہے ۔اور خوبصورت لوکیشن اور عمدہ ذائقہ اور اچھی تزین وآرائش کی بنا پر انڈین اور پاکستانی مصالحوں کے شوقین افراد کی اولین پسند ہے۔

تحریر و فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

مکمل گیلری:

4 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.