سنو مایوس کیوں ہو تم؟
نصیبِ دشمناں اب تو وفائے دوستاں ٹھہرا
کہ دشمن تو چلو ہر پل کے دردِ سر کا باعث تھے
مگر اُن دوستوں کا کیا
کہ جن کی دوستی بس لفظ سے آگے نہیں بڑھتی
کہ جن کی زندگی اک گھاؤ ہے اس بے ربط دل کا
سنو
کیا اپنے رب کو بھی ، کسی ایسے ہی رشتے کے مماثل تم سمجھتے ہو
سنوکیا تم ‘عطائے رب’ کو بھی بس دو عدد الفاظ کی صورت ہی دیتے ہو
وہ جن کے بیچ ساری کہکشائیں ہیں
ہماری آتمائیں ہیں
ہماری اولیں صبحیں
ہماری آخری شامیں۔
سنو
کیا رب کی قدرت اور عطا تم پر
کسی مجبور لمحے کا سہارا ہیں
کہ یا پھر پختہ تر ایماں ، یقیں کا استعارہ ہیں
سنو
یہ معجزے ہوتے ہی تب ہیں
جب ہمارا دل یقیں سے سانس لیتا ہے
اخیرِ شب میں جو آنسو شرمساری سے بنتے ہیں
وفاداری سے گرتے ہیں
سپرداری سے آنکھوں کی
وہ موتی اور گہر ہوتے ہیں اس بے خانماں پن کے
کہ جس کی ہر ادا محبوب ہے اس عرش والے کو
کہ جس کی عظمت و توحید ہر مخلوق کا محور
کہ جس کی تسبیح و تقدیس ہر مخلوق کا شیوہ۔
سنو
وہ رب جھکے کندھوں
خمیدہ گردنوں
ٹوٹے ہوئے سجدوں
شکستہ، پر ، نمیدہ نیتوں
اور ڈولتی پیشانیوں سےپیار کرتا ہے
حیا صورت ، وہ ان سب نامکمل ساعتوں ، ناکامیوں کو
تم سے زیادہ اہم بھی بننے نہیں دیتا۔۔۔۔
سنو
!وہ رب تمہارے لوٹ آنے کے ارادوں اور فریادوں کو
اپنی ہر توقع سے بہت زیادہ ، بہت ہی خاص حد تک
پل بہ پل
لمحوں کی صورت گنتا رہتا ہے
کہ شاید اب
کہ شاید اب
کہ شاید جب بھی لوٹ آؤ۔۔۔۔۔
وہ سارے آسمانوں اور زمیں کا رب
صرف ‘لا تقنطو’ کے اک ارادے پر
تمہیں وسعت بخشتا ہے
وہ وسعت جو محبت کی حدوں سے ماورا
ہر سمت میں
تم کو
سہارا دے
وہ وسعت جو تمہں ہر پل
تمہارے رب کی رحمت کے حصارِ خاص میں رکھے
عطائے رب’ کے دو الفاظ میں رکھے۔’

____________

کلام:عمر

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف