میں خود کو اب بہت سی بندشوں سے آزاد کرنا چاہتی ہوں۔یہ بندشیں جو ہماری سوچ اور خیال کے پر باندھے رکھتی ہیں،جو ہمیں ہمیشہ باکس کے اندر رکھنے پر مجبور رکھتی ہیں۔مثلا یہی بندش کہ مجھے اپنے بارے میں بات نہیں کرنی چاہئے۔میں نے خود کو اس سوچ سے آزاد کر دیا کہ مجھے خود کو محدود رکھنا ہے۔ آخر کیوں؟ جب ساری دنیا کے لوگ ہر کونے ہر گلی میں کھڑے صرف اپنی بات کرتے ہیں تو میں کیوں نہیں؟ ہر نئی سوچ اور ایک نیا عمل ایک پرانی سوچ کو بدلنے سے اور پرانے رواج یا عادت کو پاؤں سے مسل کر آگے بڑھ جانے سے شروع ہوتی ہے۔

ایک اور سوچ جسے میں پاؤں کے نیچے مسل دینا چاہتی ہوں کہ اب ہر کور ڈیزائن میری پسند اور خواہش کا ہو گا ،پھر چاہے وہ میری تحریر سے کتنا ہی مختلف کیوں نہ ہو۔جیسے میرے بلاگ کا یہ حصہ صرف میرا ہے، اسی طرح اس پر لگائے جانے والی تصویر بھی میری خواہش اور پسند سے ہو گی میرے تحریر کی مناسبت سے نہیں۔یہ تصویر ،میرے لئے ہو گی،کوئی خوشی کا لمحہ،کوئی خوبصورت کونہ،رنگین پھول،چمکتا سورج،برستے بادل،،،،کچھ بھی صرف میری خوشی کے لئے،صرف میرے لئے!جیسے ہم عورتیں سارا گھر سجاتی ہیں مگر اس میں ایک کونہ،کہیں ایک کرسی،کوئی ایک صوفہ اپنی پسند سے اپنے لئے سجا کر رکھتی ہیں۔جس میں بیٹھ کر انکو “کوالٹی سکون”محسوس ہوتا ہے،ایسے ہی میرے پلیٹ فارم کا یہ حصہ میرے لئے اور میرے سکون کے لئے! تو میں اس نظریہ ضرورت سے بھی خود کو آذادی دوں گی۔

مجھے آذادی چاہیے اس مفروضہ سے بھی کہ اچھے ہوں یا برے،ہمارے اپنے ہمارے خونی رشتے ہوتے ہیں۔میں نے ذندگی سے سیکھا ہے کہ آپ کے اپنے وہ ہوتے ہیں جو ہر بری گھڑی میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں،پھر چاہے وہ اپنے ہوں کہ باہر کے،وہی آپکے اصلی اپنے ہیں۔ان کو سنبھال لینا چاہیے۔اور وہ لوگ جو قانون کی کتابوں میں آپ کے بہت قریب رکھے جاتے ہیں مگر درحقیقت وہ حسب توفیق آپ کے نیچے سے زمین کھینچنے اور سر سے آسماں اڑا لینے کی کوشش میں مگن رہتے ہیں انکو لال رنگ کی بجائے کسی ابدی رنگ سے بھی اپنے لکھ دیا جائے،وہ آپ کے نہیں ہیں۔میں اپنی سوچ کو اس ذہنی معزوری سے نکالنا چاہتی ہوں کہ ہر حالت میں مجھے جڑیں کاٹنے والوں کو اپنے قریب رکھنا ہے۔میں سر اٹھا کر صرف ان سے تعلقات رکھنا چاہتی ہوں جو مشکل میں ہاتھ بڑھا سکیں۔ہے ناں ہماری روایات اور تربیت سے مشکل بات! میں اس مشکل سے لڑ جانے کا فیصلہ کر بیٹھی ہوں۔

ابھی دو تین سال پہلے جب میں چالیس کے ہندسے سے کچھ پیچھے تھی تو میں سوچتی تھی کہ میں چالیس تک پہنچتے ذندگی کو بالکل مختلف رخ پر نکل جائے گی۔وہ کہتے ہیں

Forty is a new twenty!

تو میں بھی مستقبل کے منظر نامے میں خود کو اسی جگہ دیکھ رہی تھی۔ذندگی کے بارے میں پیشین گوئی کرنا مشکل ہے۔کل،آنے والے ہفتوں،مہینوں اور سالوں میں ہمارے لئے اس کے دامن سے کیا نکلے ہم سوچ نہیں سکتے ۔لیکن پھر بھی ہم خواب دیکھ سکتے ہیں اور خواب دیکھتے رہنا چاہیے! یہ انساں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں چاہے آپ چالیس پر قدم دھرتے میری طرح تھک ہی کیوں نہ چکے ہوں۔چالیس پر باقاعدہ قدم رنجہ کرنے میں ابھی ایک ماہ باقی ہے مگر میں خود کو پھر سے یاد کروانے لگی ہوں کہ مر جانے کے لئے چالیس کی عمر ناکافی ہے۔اور مر جانا چھوڑ دینا ہی تو ہے۔

میری اس عقیدے سے بھی بغاوت ہے کہ خواب صرف نوجوان آنکھوں کی دولت ہیں۔

اپنے خوابوں کو ،ارادوں کو،جذبوں کو،ہر حالت میں جگائے رکھنا ہی تو ذندگی ہے!خواب صرف جوانوں کے لئے نہیں ہوتے۔یہ ہم عمر کی کئی دہائیاں کاٹ چکنے والوں کے لئے بھی اتنے ہی امید افزا ہوتے ہیں جتنے ینگسٹرز کے لئے،بلکہ اکثر اوقات تو انکی اہمیت ہمارے لئے ان سے بھی بڑھ کر ہوتی ہے۔

جوانی کے خواب تو اندھا دھند ہوتے ہیں،نہ ڈھنگ سے دیکھے جاتے ہیں نہ ہوش سے سمجھے جاتے ہیں۔کم عمر انساں زرا سی جھپک دیکھتا ہے اور توانائی اور جوانی کے زیر اثر اندھا دھند دوڑ پڑتا ہے۔چناچہ ہوتا یہ ہے کہ دس خوابوں کی دیواروں سے ٹکریں مار کر زخمی ہوتا رہتا ہے جبکہ دروازہ ان میں سے صرف ایک دیوار میں سے نکلتا ہے۔ہماری ادھیڑ عمری کے خواب بہت ہی نرم گرم اور سہانے ہوتے ہیں۔کئی دنوں تک پلکوں کو چپکے چپکے شبنم سے بھگوتے رہتے ہیں اور قطرہ قطرہ کر کے جسم و جاں کو اس پر آمادہ کرتے ہیں۔اور خوابوں کے سفر پر نکلنے سے پہلے ہم اپنا زاد راہ ٹٹول لیتے ہیں،لباس اور حلیہ سنوار لیتے ہیں،ہاتھ میں ایک چھتری اور لاٹھی تھام لیتے ہیں اس لئے اس عمر کے خوابوں ٹوٹنے کی شرح کم ہے دس کی بجائے تین چار خواب دیکھتے ہیں جن میں سے ایک آدھ ضرور پورا ہو جاتا ہے۔اور یہ شرح جوانی سے بہت ہی بہتر ہے۔تو پھر کیوں نہ نکالے جائیں شادیوں کے وقت لڑکپن کی چیزوں کے ساتھ رکھے ہوئے سندر سندر خواب اور انہیں کروشیے کی سلائیوں میں پرونا اور سنوارنا شروع کیا جائے۔دنیا میں پھول اگانے سے لیکر مزیدار کھانے پکانے تک،خوبصورت باتیں کرنے سے رنگ برنگے آرٹ اینڈ کرافٹ تک،کچن گارڈننگ سے بلاگ رائٹنگ تک ہر کام کی اپنی جگہ ،اہمیت،خوشبو اور تاثیر ہے،اور ہماری آنکھوں پر جو بھی خواب رکھا ہے،جو ہمیں دھیرے دھیرے آنچ دیتا ہے اور یاد دلاتا رہتا ہے کہ”کبھی!۔۔۔کبھی!۔۔۔۔ضرورکبھی!۔۔”تو اس کبھی کا وقت ابھی ہے! پھر چاہے وہ خواب کیسا ہی کمتر،لاحاصل،یا بیکار کیوں نہ ہو،اگر اس سے میرے دل کو کچھ خوشی اور سکون ملتا ہے تو اس خواب کا مجھ پر حق ہے کہ میں اس کی تکمیل کو نکلوں۔کتنی کرچیاں اور لاشیں ہم کندھوں پر ڈھو کر ساتھ لیجانا چاہتے ہیں؟صفحات پر ٹک لگائیں،لفافوں کو سربمہر کریں اور کندھوں سے بوجھ اتار کر تعمیر کا ڈھیر لگاتے جاییں۔

میں نے خواب دیکھے تھے خوبصورت رنگین بلاگ بنا کر اس پر اپنے بچوں کی خوبصورت مسکراہٹوں سے بھری تصویروں کے خواب،میری بہت سی تحریروں سے اٹی ویب سائٹ،بہت سی گھوم پھر کر دیکھ چکی نئی جگہیں اور نیےنیے لوازمات، ذائقے، اور مقامات کی منظر کشی_____ آسکر نہ ملا تو کیا ہوا،آج میرے ہاتھ میں میرے کئے ہوئے کام کی اتنی ضخیم فائلیں تو ہیں۔ ذندگی کو خوبصورت اور مثبت رکھنے کے لئے کبھی کبھی یہ بھی بہت ضروری ہیں۔کیوں ہم ہمیشہ ناکامیوں اور پیشمانیوں کو تو سجا کر سامنے کارنر پر رکھ دیتے ہیں اور خوشیوں ،کامیابیوں اور محبت کے لمحات کو الماری میں کپڑوں کے ڈھیر میں پھینک کر بھول جاتے ہیں۔حالانکہ یہی تو خوبصورت رنگ ہیں جو اگلی مشکل سرحدوں میں قدم دھرتے ہماری طاقت بنتے ہیں۔ان کو اکثر و بیشتر دیکھتے رہنا اور یاد رکھنا چاہئے۔مر جانے سے بہتر انداز میں جی لینا اچھا ہے!اور کچھ نہ کرنے سے صرف اور صرف اپنے خوابوں پر کام کر لینا بہت ہی اچھا ہے۔

🌹🌹🌹کیا آپ نے بھی خواب دیکھے ہیں؟ آپ کی آنکھوں پر کون کون سے سہانے خواب اترتے ہیں؟ کتنے ان میں سے پھل پھول چکے ہیں اور کتنے باقی ہیں؟آئندہ دنوں میں میں بھی آپ کو بتاؤں گی کہ میں نے الحمداللہ کس کس طرح سے کیسے کیسے خوابوں کی تعبیر دیکھی ہے۔

___________

تحریر و فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف