دیکھے مِری چشمِ تر، پُرنم ہے قرنطینہ
سن کے مِری آہوں کو بےدم ہے قرنطینہ

اک ہمسرِ دیرینہ دونوں کو میسر ہے
میں یارِ قرنطینہ، یارم ہے قرنطینہ

اس میں بھی ہے ان دیکھا اک تازہ جہان آباد
میرے دلِ شاعر کا ہمدم ہے قرنطینہ

فطرت کے عقابوں کی پرواز سوئے افلاک
کمزور طبیعت کو محکم ہے قرنطینہ

فرقت کی عنایت سے ہوتا ہے وصالِ ذات
اسرارِ محبت کا محرم ہے قرنطینہ

اے دستِ جفا! مجھ کو تُو بِھیڑ میں گم کردے
تعزیرِ وفاداری کچھ کم ہے قرنطینہ

جذبات بدلتے ہی دنیا نے کِیا تنہا
خوشیوں کا تو میلہ تھا اور غم ہے قرنطینہ

نکلیں تو نکل نہ پائیں، بھولیں تو بھلا نہ پائیں
اک یادِِ گزشتہ کا البم ہے قرنطینہ

مر کر وہاں رہتا ہے انسان قیامت تک
برزخ جسے کہتے ہیں عالم ہے قرنطینہ

جو فصلِ خزاں آئی، تا دیر یہاں ٹھہری
شاید مِرے گلشن کا موسم ہے قرنطینہ!


کلام : حافظ فصیح احمد

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف