بسم اللہ

۔1_بسم اللہ!

رمضان دو ہزار سترہ میں ابوظہبی کے 110 نمبر ولا کے پینٹ ہاؤس میں میں نے اپنے خواب کی تعبیر کی طرف پہلا قدم اٹھایا تھا۔وہ خواب جو میں نے چار دیواری میں رہ کر دو ہزار گیارہ سے دیکھ رکھا تھا۔اپنا بلاگ بنانے کا خواب!میں یہ تب بنانا چاہتی تھی جب میرا بیٹا چھوٹا سا تھا اور اپنی کاٹ میں کھلونوں کے بیچ میں بیٹھا شریف بچوں کی طرح مسکراتا تھا۔اسکے منہ میں فیڈر ڈالے اس کی کاٹ سے لٹکے فیڈر ختم ہونے کا انتظار کرتے میں اکثر اس بلاگ کا خواب دیکھتی۔کیوں ،کیونکہ خواب دیکھنے کا وقت یہی تھا۔اس کے سوا خواب دیکھنے کا وقت نہیں تھا۔میرے ساتھ دو چھوٹے بچوں کا ساتھ تھا اور ہاتھ بٹانے کو کوئی دوسرا نہ تھا۔مجھے گھر کے اندر باہر اوپر نیچے کے سب کام اپنے ہاتھ سے کرنے تھے،آج تک کر رہی ہوں،مگر اس وقت بچے چھوٹے تھے اور لمحہ لمحہ ماں کی توجہ اور خدمت کے متقاضی تھے۔۔۔

تو جب بچوں کی ضرورتوں کے بیچ کچھ لمحوں کا فاصلہ بڑھنے لگا اور بچے باقاعدہ اسکول جانے لگے تو اس خواب کی بالواسطہ تعبیر کا وقت میرے ہاتھ میں آیا۔اور رمضان کی کسی ایسی ہی رات ٹی وی لاونج کی دیوار سے لگے صوفے پر بیٹھے ،اس صوفے پر جس پر میرے ڈھیر سارے رنگوں کے کشن تھے،اور ان سے ذیادہ رنگوں کے خواب،میں نے ساری رات اور اپنی عیدی کے پانچ سو درہم لگا کر میں نے صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاگ کو گلوبل ویلج میں متعارف کروایا۔ مجھے سائٹ بنانے کا کوئی تجربہ نہ تھا،انفارمیشن ٹیکنالوجی میرا شعبہ نہ تھا مگر ،وقت ذیادہ لگ جاتا ہے مگر اناڑی شخص بھی کوشش کرے تو ہر کام کر ہی لیتا ہے،اور میں نے یہ پل صراط بھی پار کر لیا تھا۔

مجھے بہت عرصہ لگا تھا اسے سمجھتے اور جانتے،اس کی سیٹنگز میں الجھتے،مگر آہستہ آہستہ میں سب سیکھنے لگی تھی۔مگر مسلئہ ایک اور بھی تھا!

کوئی ایک دہائی بچوں کے ساتھ تنہا گزاری تھی۔ بولنے اور گپ شپ کی مجھے اب عادت ہی نہ رہی تھی۔ “میں میں” کرنا عجیب لگتا تھا،اپنے بارے میں بات کرنا،اپنے بارے میں کہنا،میری پسند،ناپسند،میرے کام،خواب ارادے۔۔۔۔۔۔۔تو پھر اس بلاگ پر لکھنا کیا تھا؟ یہی کچھ تو لکھنا تھا مجھے اس بلاگ پر اور جب اتنی محنت کر کے یہاں تک پہنچی تھی تو اپنی ذاتیات پر بولنے کی ہمت نہ تھی!یہ کیا ہوا؟یہ تو سوچا ہی نہ تھا!کچھ مہینے گزرنے لگے اور ایک ماہ میں مشکل سے دو یا تین پوسٹس لگ پاتیں۔یہ تو پیسے کا ضیاع تھا۔اس کی خاطر مجھے ایک ویب سائٹ کی قیمت بھرنے کی ضرورت نہ تھی میں مفت کا بلاگ بنا سکتی تھی۔وقت ابھی بھی کم تھا مگر سچ میں اپنے بارے میں بات کرنے کا حوصلہ کم ترین تھا!حالات و واقعات نے مجھے ایک اوپن اور لاؤڈ صوفیہ سے انٹروورٹ صوفیہ میں بدل دیا تھا

ذندگی اک سفر ہے،ایک مسلسل سفر،چلتی رہتی ہے ہر وقت۔تو اسے تھمنا نہیں تھا۔جون سے دسمبر تک میں خود کو اس خیال پر قائل کر چکی تھی،اور صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاگ کی سلطنت پر ستارا بن کر تنہا چمکنے کے خواب سے کنارہ کشی کر چکی تھی۔میں خود کو سمجھا چکی تھی کہ اگر مجھے پیسے بھرنے ہیں تو مجھے اسے اپنے دوستوں کے لئے کھولنا چاہیے۔مجھے اس موقع اور پلیٹ فارم پر دوسروں کو بھی خوش آمدید کرنا چاہیے۔میرے احباب میں اتنا خوبصورت لکھنے والی لڑکیاں موجود تھیں جنکی تحریریں اپنے پاس رکھنا ایک استحقاق بھی تھا،خوشی بھی۔ان کی تحریر چھاپ کر مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ ایک خوبصورت کتاب جیسے خرید کر اپنی الماری میں ٹھونس لی ہو۔اور یوں صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاگ ایک ذاتی بلاگ سے ایک ڈیجیٹل پورٹل میں ضم ہو گیا۔

یہ تین سالہ سفر بہت سست رفتار تھا مگر مسلسل تھا۔وسی بابا صاحب کہتے ہیں”انسان کا اپنے آپ سے مقابلہ ہوتا ہے”تو اپنے ساتھ مقابلے میں میں ہار نہیں رہی۔ذندگی ہر قدم پر ایک آزمائش قدموں تلے اتارتی ہے اور میں سر دھڑ کی بازی لگا کر اس پر سے گزر جاتی ہوں۔ان تین سالوں میں میں نے تین سے تین سو تک اور ساٹھ ہزار ویوز تک کا سفر کیا ہے،نہ ہونے سے ہونے تک کا سفر بہت ہی کمال کا ہے! اور یہ سفر تن تنہا اپنے زور بازو پر کرنا تو سب سے بڑھ کر کمال ہے! تو میں خود سے مقابلے میں جیت جاتی ہوں۔

آج تین سال بعد ذندگی کے سمندر کے کئی کناروں سے سر پھوڑ چکی ہوں،بہت سے وہ رستے جن سے ڈرتی تھی لے کر پار اتر چکی ہوں،انجانے سفر میں بہت کچھ جان چکی ہوں تو آج پہلی بار اپنے بلاگ کا آغاز کرتی ہوں۔وہ بلاگ جس میں صرف میں ہونگی،میری زندگی،میرے خواب،میری حقیقت،میری زمیں اور میرے آسماں!اب مجھے ہارنے یا جیتنے سے ڈر نہیں لگتا! اب مجھے اپنی کہنے میں الجھن نہیں ہو گی اور ہو گی تو بھی مجھے اس سے الجھنا ہی پڑے گا۔کہ اس ذندگی میں اور بہت سی نشانیوں کے ساتھ مجھے لازما اپنی داستان بھی چھوڑنی ہے۔اس دنیا کی حکایتوں کو ساتھ لیجانے کی بھلا کیا ضرورت ہے!

آج میں دبئی میں، فلیٹ نمبر چار سو چار کے اپنے آدھ بنے سٹڈی کے فلور کشن پر بیٹھے اس بلاگ کا ربن کاٹتی ہوں جس پر کم یا زیادہ،واضح کہ مبہم،خوبصورت کہ کٹھن ،جو بھی ہو گا میرے لئے،میری طرف سے ہو گا!

صوفیہ کاشف


5 Comments

  1. The accomplishment has been made possible by living up to your dreams, and by keeping doing so…

    A rainbow of as many colours as authors on this site, there are some remarkable posts which are like, treasured collectibles…

    Keep up the good work…
    Godspeed and best wishes.

    “Every success story is a tale of constant adaption, revision and change.”
    Richard Branson

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.