عشق محشر کی ادا رکھتا ہے (8)_________حمیرا فضا

تحریر: حمیرا فضا

کور ڈیزائن: ثروت نجیب

_____________

آٹھویں قسط

_______ 

خود اپنی سوچ کے پنچھی نہ اپنے بس میں رہے

کھلی فضا کی تمنا تھی اور قفس میں رہے

قید پرندوں کے لیے آزادی کا خواب کبھی پرانا نہیں ہوتا یہ خواب تو پنجرے کے دروزے سے بندھا رہتا ہے ،وہ روز اِس بند دروازے کو حسرت سے دیکھتے ہیں،وہ روز اِس ناممکن خواب سے نظر ملاتے ہیں۔قیدی پرندوں کو بھی بس ایک عنایت کی طلب ہوتی ہے ،بس ایک موقعے کی تلاش رہتی ہے اور جب اُنھیں یہ موقع مل جائے وہ اُڑ جاتے ہیں ،جب اُنھیں آسمان دیکھائی دے تو وہ زمین کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں،جب اُنھیں ہوائیں گلے لگا لیں تو وہ مڑ کر پنجرے کی طرف نہیں دیکھتے۔پچھلی سزاؤں کے زخم ابھی ہرے تھے ۔اُس نے پکا عہد کر لیا تھا کہ وہ اب آزادی کے بارے میں کبھی نہیں سوچے گی،مگر چاچی شگو کی شکل میں امید کی ایک اور کرن نظر آنے لگی تھی۔صرف یہی عورت تھی جو حویلی کے بڑے دروازے تک پہنچ سکتی تھی ،اور اُسے دروازے کے پار پررونق دنیا کا راستہ دیکھا سکتی تھی ۔صرف یہی عورت تھی جس کے پاس پنجرے کے تالے کی چابی تھی ،جسے اُس کے ٹوٹے پروں کے نشاں معلوم تھے ۔کئی دن اِس کشمکش کی نذر ہو گئے کہ کیا اُسے چاچی شگو سے بات کرنی چاہیے ؟کیا اُسے چاچی شگو پر بھروسہ کرنا چاہیے؟ سوچ سوچ کر دماغ تھک گیا تو آخر ایک دن اُس نے فیصلہ کر ہی لیا۔

  ٫٫چاچی شگو صرف آپ ہی میری مدد کر سکتی ہیں۔صرف آپ ہی مجھے اِس قفس سے رہائی دلا سکتی ہیں۔صرف آپ ہی مجھے میرے گھر والوں سے ملا سکتی ہیں ۔آپ اچھی طرح جانتی ہیں کہ وہ کب حویلی میں ہوتا ہے کب نہیں۔ میرے راستے آپ ہی بنا سکتی ہیں،یہ پنجرہ آپ ہی کھول سکتی ہیں ۔‘‘ ایک دن اُس سے رہا نہ گیا تو وہ چاچی شگو کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہو گئی۔ایک نوکر سے بھیک مانگنے میں اُس کی انا تو مجروح ہوئی ،مگر یہاں سے نکلنے کے کیے وہ ہر حد پار کرنے کو تیار تھی۔

’’یہ کیا کہہ رہی ہیں بی بی ؟ یہ نا ممکن ہے ۔میں ایسا کبھی نہیں کرسکتی۔ہماری شکلوں پر نہ جا نا، ہم د ل کے کالے ا ور فریبی نہیں کہ مالکوں سے غداری کریں۔ہمیشہ حلال کما کر کھایا ہے ۔یہ نمک حرامی نہ ہوگی مجھ سے۔‘‘چاچی شگو نے وفاداری کے راگ الاپتے ہوئے اُس کے جڑے ہوئے ہاتھ کھول کر درشتی سے انکار کیا تھا۔

’’آپ کو مجھ پر ترس نہیں آتا ،میری شکل دیکھیے میری عمر کی بیٹی ہوگی آپ کی۔کسی کو زبردستی باندھ کر رکھنا گناہ ہے۔قیامت کے دن وہ تو حساب دے گا ،مگر اُس کا ساتھ دینے والے بھی دیں گے۔‘‘ چاچی شگو کے شدید ردعمل کے جواب میں صاحبہ نے اُنھیں ڈرانے کے لیے ایک اور چال چلی۔

’’بس کرو لڑکی ! ہمیں اِتنا آگے نہ گھسیٹو۔میں آپ کو یہاں نہیں لائی نہ میں نے آپ کو قید میں ڈالا۔میں نے تو آپ کی ساری سزاؤں کے باوجود آپ سے رعایت برتی ہے۔آپ ساری بھلائیاں بھول کر مجھے ہی بد دعا دے رہی ہیں۔‘‘ چاچی شگو نے تپتے ہوئے اپنے احسانات گنوائے ۔اُنھیں صاحبہ کی باتوں پر شدید تاؤ آ گیا تھا۔

’’ناراض نہ ہوں چاچی۔۔۔ناراض نہ ہوں ۔۔۔میرا وہ مطلب نہیں تھا جو آپ سمجھیں۔۔۔میں ما نتی ہوں آپ نے میرے ساتھ بہت نیکیاں کی ہیں۔۔۔آپ کے بہت احسانات ہیں مجھ پر ۔۔۔میں بھی جاتے جاتے آپ کے لیے کچھ کر کے جانا چاہتی ہوں۔۔۔میرے پاس بہت قیمتی زیوارات ہیں جن سے آپ کی اور آپ کے بچوں کی زندگی سنور جائے گی۔۔۔آپ کو اِس طرح کسی کی غلامی نہیں کرنی پڑے گی۔‘‘ صاحبہ نے چاچی شگو کے پیر چھوتے ہوئے اُن کی کمزوری کو پکڑا۔

’’مجھے گنہگار نہ کریں بی بی۔آپ کی بات مان بھی لوں تو بہت خطرہ ہے۔اِس حویلی کی حدود سے نکلنا آسان نہیں ہے ۔آپ پکڑی گئیں تو حْکم ہم دونوں کو جان سے مار دیں گے۔‘‘ وہ صاحبہ کو قدموں سے اُٹھاتے ہوئے درد ناک انجام سے لرزی تھیں۔

’’ فائدے کے لیے بڑے بڑے خطرات مول لینے پڑتے ہیں چاچی،اور اِس کام میں تو ہم دونوں کا فائدہ ہے ۔میں ایک بار یہاں سے نکل گئی تو وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا ۔میں ایک خط لکھ کر جاؤنگی جس میں صاف صاف درج ہو گا کہ میں کسی اور ملازمہ کی مدد سے بھاگی ہوں۔آپ بھی کہہ دیجیے گا کہ آپ اُس رات بیمار تھیں اور پہرہ دیتے دیتے آنکھ لگ گئی۔میں پکڑی بھی گئی تو آپ کا نام کبھی نہیں لونگی،یہ میرا وعدہ ہے آپ سے ۔ ‘‘صاحبہ نے اُن کی ہمت بندھاتے ہوئے اُنھیں سارے منصوبے سے آگاہ کیا تھا ۔

چاچی شگو کا دل زیورات کا سن کر لالچ میں آگیا تھا۔اُن کی غریبی اُنھیں اِس شاندار موقعے سے فائدہ اُٹھانے کے لیے اُکسانے لگی ۔وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ صاحبہ سچ بول رہی ہے۔ یہ حویلی کا اُصول تھا کہ مالک لوگ چاہے جتنی زیادتی کرلیں،کبھی بیویوں کا زیور نہیں چھینتے تھے۔

’’بولیں چاچی ۔۔۔بولیں۔۔۔ میری مدد کرے گی ناں آپ ؟‘‘ صاحبہ اُن کے چہرے کے تاثرات پڑھتے ہوئے بے صبری سے پوچھنے لگی۔

’’سوچتی ہوں بی بی۔۔۔سوچتی ہوں۔۔۔مجھے کچھ وقت دو۔‘‘چاچی شگو نے اُس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے نیم رضامندی سے سر ہلایا تھا۔صاحبہ کے وجود میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔اُسے اپنی آزادی یقینی نظر آنے لگی، کیونکہ اُس نے چاچی شگو کی نظروں سے ٹپکتا لالچ دیکھ لیا تھا۔

*****

’’میں نے یہاں آکر زندگی کو پرکھا ہے میں واپس جاکر زندگی کو مایوس نہیں کرونگی۔۔۔

میں نے یہاں خوشیوں کو،آسائشوں کو غلامی کرتے دیکھا ہے،میں واپس جاکر اپنی نعمتوں کی ہمیشہ قدر کرونگی۔۔۔

زندگی کا یہ باب ختم ہونے والا ہے اور میں نئے باب کے پہلے صفحے پر کوئی بے لگام خواہش درج نہیں کرونگی۔۔۔

میں نے پستیوں کی اذیت سہی ہے ،میں بلندیوں پر سنبھل کر چلوں گی۔۔۔

میں نے اپنی برتری کی سزا بھگتی ہے ،میں کسی کو کمتری کی نگاہ سے نہیں دیکھوں گی۔۔۔

میں نے جس جس کا دل توڑا ہے اپنے ٹوٹے دل سے اُن دلوں کی کرچیاں سمیٹوں گی۔۔۔

اپنے غرور اپنی انا کو اُن قدموں میں رکھ دونگی ،جن قدموں تلے میں نے عزت کی زمین کھینچ لی تھی ۔۔۔

میں اُن رشتوں کے آگے کبھی سر نہیں اُٹھاؤ نگی ، جو میری وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جھک گئے تھے۔۔۔

میں اپنوں کا مان اعتبار پھر سے جیتنے کے لیے ہزار بار ہار قبول کرونگی۔۔۔

میں جانتی ہوں کوئی مجھے معاف نہیں کرے گا ،میں رؤنگی گی،گڑگڑاؤنگی تب تک جب تک میرے ضمیر کو اِس بوجھ سے آزاد نہیں کردیا جاتا۔۔۔

میں نے پنجرے کی سب سلاخوں کو کئی بار گنا ہے ،میں آزادی کی ہر سانس پر شکر ادا کرونگی۔۔۔

میں اور مجھ جیسی کتنی لڑکیاں جو حد توڑتی ہیں،میں اُن کو بتاؤنگی اِس حد کے دائرے میں گھٹن نہیں ، تحافظ ہے۔۔۔

میں اپنی حقیقت سے ملتے ہی اِس بھیانک خواب کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بھول جاؤنگی۔۔۔

میں تمھیں ہمیشہ کے لیے بھول جاؤنگی۔۔۔

سن لو تم !میں تمھاری جھوٹی محبت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بھول جاؤنگی۔۔۔‘‘

چاچی شگو کے جانے کے بعد اُس نے خود سے کئی عہد لیے تھے۔کچھ دیر رونے کے بعد وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی۔امتحانوں کی بھٹی میں جلنے کے بعد اُس کے اندر ایک نئے اِنسان نے جنم لیا تھا،وہ انسان جو اپنے کیے پر پشیمان تھا ، اپنی غلطیوں سے سیکھنا چاہتا تھا،زندگی سے ایک موقع لے کر زندگی کو سنوارنا چاہتا تھا۔وہ مطمئن تھی کہ اُس نے ٹھیک سوچا تھا اور مدد کے لیے ٹھیک انسان کا انتخاب کیا تھا۔اُس کے اندر کہیں کوئی ڈر خوف نہیں تھا ۔وہ اتنی تکلیف اور اذیت برداشت کر چکی تھی کہ اب اُس کے اعصاب مضبوط ہو گئے تھے ۔

’’ میں پکڑی گئی تو کیا ہوگا اب؟ اگر ظلم اپنی انتہا پر آیا تو وہ مجھے مار دے گا،اِس بدتر زندگی سے موت بھلی۔‘‘اُس نے ایک پل کے لیے انجام کے بارے میں سوچا ،مگر کوئی بھی چیز اُس کے حوصلے کو متزلزل نہیں کر سکی تھی۔ہر خوف سے مات کھانے کے بعد وہ ہر خوف سے لڑنے کے لیے تیار تھی۔

وہ بیڈ سے اُٹھی اور پردے ہٹا کر باہر دیکھنے لگی۔شیشے کے پار کی خوبصورت دنیا اُسے اپنی طرف بلا رہی تھی ۔اُس نے مسکرا کر باہر کے ہر نظارے کو محبت سے دیکھا ۔رات اپنے آخری پہر میں داخل ہو چکی تھی۔اُسے نیند اور سکون سے کوئی غرض نہ تھی۔وہ آج سورج کو نکلتے ہوئے دیکھنا چاہتی تھی۔ہلکی ہلکی روشنی سے پوری روشنی کو خود میں اُتارنا چاہتی تھی۔سورخ نکلا تو اُس نے ایک نظر جی بھر کر اُسے دیکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔ایک سورج اُس کی دل کی زمیں پر بھی طلوع ہوا تھا۔

*****

دو دن گزر چکے تھے ،لیکن چاچی شگو نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا تھا۔وہ چپ چاپ اپنا کام کرتیں اور فوراً کمرے سے چلی جاتیں۔اُن کی خاموشی صاحبہ کو بے چین کرنے لگی تھی۔اُس کے دل میں طرح طرح کے خدشات پیدا ہو رہے تھے۔جس راستے پر اُس نے پہلا قدم رکھ دیا تھا،وہاں سے چاچی شگو کا پیچھے ہٹ جانا اُسے بالکل بھی منظور نہیں تھا۔

’’حُکم دو دن کے لیے حویلی سے باہر گئے ہیں۔ہمیں جو بھی کرنا ہے، آج رات ہی کرنا ہوگا۔‘‘ چاچی شگو نے دروازہ بند کرتے ہوئے سرگوشی میں کہا تو وہ اُن کی ناگہانی آمد پر بری طرح سے چونک سی گئی ۔

’’سچ چاچی‘‘ صاحبہ کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔اُس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔

’’آپ تیار رہیے گا ۔رات کو میں آپ کی آزادی کی خوشخبری لے کر حاضر ہو جاؤنگی۔‘‘چاچی شگو فخر سے مسکرائیں تو وہ خوشی کے مارے اُن کے گلے لگ گی۔

’’میں آپ کا یہ احسان ساری زندگی نہیں بھولو گی۔میں جب جب آزادی سے سانس لونگی تو اُس کی وجہ بس آپ ہوں گیں۔‘‘صاحبہ فرطِ جذبات سے کہتے کہتے رو پڑی تھی۔

’’بی بی میں بھی آپ کو یاد رکھونگی اور دعا کرونگی کہ آپ سے یہ آزادی کو ئی نہ چھین سکے۔‘‘چاچی شگو اُس کے سر پر دستِ شفقت پھیرتے ہوئے رخصت ہو گئیں۔

وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اپنی خوشی کیسے منائے یا کیسے چھپائے۔۔۔وہ کمرے کی ہر ناپسندیدہ شئے کو بھی پیار سے دیکھنے لگی۔۔۔کھڑکی کے نازک شیشے پر مخروطی انگلیوں سے ساز بجا کر گانے لگی۔۔۔قالین کو پھولوں کی راہگزر سمجھ کر جھومنے لگی ۔۔۔ساری بتیاں جلا کر روشنی میں چھن چھن بھیگنے لگی ۔۔۔آنے والی روشن صبح کا سوچ سوچ کر رات کی راہ تکنے لگی ۔۔۔اُس نے جلدی جلدی ا پنی ساری ضروری چیزیں سمیٹنا شروع کیں اور ہر وہ چیز جو اُس کی دی ہوئی تھی بری طرح سے توڑ کر کمرے میں پھینک دی۔اُس نے سب زیوارات کا ایک بیگ تیار کیا تھا جو اُس کی آزادی کی قیمت تھے۔

’’تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا۔تم کبھی اپنی زیادتیوں کا حساب نہیں دے سکے،مگر میرے جانے کے بعد تم کڑا حساب دو گے۔یاد کرو گے مجھے، جب ہر چیز تم پر اونچی آواز میں ہنسے گی اور سب لوگ کانوں میں باتیں کریں گے۔‘‘ صاحبہ نے کتنے عرصے بعد یوں قہقہہ لگایا تھا۔

رات کے دو بج رہے تھے اور چاچی شگو بغیر کسی خوف کے اُس کے آگے آگے چل رہی تھی۔اُن کی بہادری کو دیکھ کر صاحبہ کا رہا سہا ڈر بھی جا تا رہا۔پوری حویلی ایک ویران خاموش جنگل کی طرح معلوم ہو رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ حویلی میں صرف وہی دو عو رتیں ہیں۔وہ حیران تھی کہ چاچی شگو نے اُسے بھگانے کے لیے کوئی چور راستہ نہیں چنا تھا ۔اُسے لگا وہ بہت ہی شان اور عزت سے رخصت ہو رہی ہے۔دونوں دروازوں پر کوئی چوکیدار نہ تھا۔ وہ سمجھ گئی کہ چاچی نے انھیں بھی خرید لیا ہے۔

’’یہ کچھ پیسے رکھ لیجیے آگے آپ کو ضرورت پڑ سکتی ہے۔ حویلی کا دروازہ میں خود کھولو ں گی آپ کے لیے۔باہر ایک گاڑی آپ کا انتظار کر رہی ہے ۔وہ میرا قابل اعتبار بندہ ہے۔آپ جہاں کہیں گیں وہ حفاظت سے آپ کو وہاں پہنچا دے گا۔ڈرنے کی کوئی بات نہیں ، آپ کی منزل اب بہت قریب ہے ۔‘‘چاچی شگو نے کچھ پیسے اُس کی ہتھیلی پر رکھ کر بھرپور اعتماد سے کہا تھا۔

’’میرا بال بال آپ کا مقروض رہے گا۔۔۔میں آپ کو کبھی نہیں بھولوں گی۔۔۔ کبھی بھی نہیں۔‘‘صاحبہ کے چہرے پر احسان مندی کے تاثرات تھے ۔وہ پل بھر کے لیے یوں اداس ہو ئی جیسے کسی اپنے سے بچھڑ رہی ہو۔

’’باتوں کا وقت گزر چکا ہے بی بی۔اب کوئی بھی لمحہ ضائع مت کیجیے ،یہ نا ہو اُس نشے کی دوا کا اثر ختم ہوجائے جو میں نے حویلی کے سارے نوکروں کو پلائی ہے ۔‘‘ چاچی شگو تیزی سے چلتے ہوئے دروازے کے پاس پہنچ گئی تھیں ۔صاحبہ نے آخری بار اُس عورت کو تشکر بھری نظروں سے دیکھا جس نے اُس کی خاطر ہر خطرہ مول لیا تھا۔

دروازے کے بڑے تالے کو کھولنے کے بعد ایک تیز ہوا کا جھونکا صاحبہ کے وجود سے ٹکرایا تو اُس نے سکون سے آنکھیں بند کر لیں۔یہی وہ آزادی تھی جس کے لیے وہ کتنا پھڑپھڑائی تھی، کتنا روئی تھی ،کتنا تڑپی تھی ۔اُسے لگا اُس نے کتنی صدیوں بعد باہر کا منظر دیکھا ہے ۔حویلی کے سامنے کھڑی ایک سفید گاڑی اُس کی منتظر تھی ۔

’’جائیے۔۔۔بھاگیے ۔۔۔سوچنے میں وقت ضائع مت کیجیے صاحبہ بی بی۔۔۔ آزادی آپ کو بلا رہی ہے۔‘‘چاچی شگو نے اُسے زور زور سے ہلایا تو وہ سکتے کی کیفیت سے باہر آگئی ۔

صاحبہ نے ایک ممنون نگاہ چاچی شگو پر ڈالی اور پوری طاقت سے گاڑی کی طرف دوڑ پڑی۔اُس کا اُڑتا آنچل اُس کی دلی کیفیت کا گواہ تھا۔خوشی کا بہاؤ اِتنا تیز تھا کہ اُس نے ایک بار بھی مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔

*****

ذکیہ بیگم اُسے تب تک دیکھتی رہیں جب تک وہ نظروں سے اُوجھل نہیں ہوگیا۔اُن بھی یہی خواہش تھی کہ جازم کچھ دن کے لیے حویلی سے دور چلا جائے۔وہ نہیں چاہتی تھیں کہ جازم جذبات میں آکر کوئی اور غلط قدم اُٹھائے ۔جازم کی اِس حرکت کی وجہ سے حویلی کے ماحول میں ایک تناؤ سا پیدا ہو گیا تھا۔سارے نوکر چپ تھے ،مگر اُن کی خاموش نگاہوں میں الجھن اور خوف لیے کئی سوال تھے۔اکثر نوکروں کی آنکھوں میں جازم کے لیے ناپسندیدگی تھی،مگر وہ کھل کر اِس کا اظہار نہیں کر سکتے تھے۔ذکیہ بیگم کے لیے یہ ساری صورتحال پریشا ن کُن تھی۔وہ بے چینی سے ٹہلتے ہوئے سارے معاملات پر غور وفکر کرنے لگیں۔اُنھیں اُن سب لمحوں کا علم تھا جن میں جازم اور جیون نے ساری حدیں توڑی تھیں۔تمام باتوں کی گہرائی میں جاکر اُنھیں اپنا خون ہی ٹھیک لگا۔

’’ایک پختہ کردار کے بغیر عورت کھوکھلی ہے اور ایک کھوکھلی عورت اِس حویلی کی آبرو کیا سنبھالے گی۔مرد کا کیا ہے وہ ایسی غلطی کر کے بچ سکتا ہے ،مگر عورت آنے والی ساری نسلوں کے لیے عبرت کا نشان بن جاتی ہے۔جازم کی غلطی نہیں ہے اُس کی عمر ہی ایسی ہے ،لیکن جیون کو ایک لڑکی ہونے اور اِس حویلی کی بیٹی ہونے کا پورا خیال رکھنا چاہیے تھا۔میں اِس حویلی کی چابیاں ایک کمزور کردار کی لڑکی کے حوالے نہیں کرسکتی۔‘‘ ذکیہ بیگم بڑبڑاتے ہوئے اپنی آرام دہ کرسی پر آکر بیٹھ گئی تھیں۔وہ ایک روایتی سوچ کی خاتون تھی جن کے نزدیک عورت اور مرد کے گناہ کو پرکھنے کا معیار مختلف تھا۔اُنھوں نے کرسی کی پشت پر سر رکھا اور سوچ میں ڈوب گئیں۔اُنھیں جلد ہی اِس بھڑکتی آگ کو سرد کرنا تھا۔آنے والے دنوں میں ایک اہم فیصلہ لینا تھا،جیون اور سیف کی شادی کا فیصلہ ۔

’’کسی کی زندگی برباد ہوگئی اور تم یہاں آرام فرما رہی ہو؟‘‘رقیہ ناز کی بلند آواز پر ذکیہ بیگم نے سر اُٹھا کر سامنے دیکھا۔

’’کس نے اجازت دی آپ کو یہاں آنے کی؟‘‘ ذکیہ بیگم کو رقیہ ناز کا اپنے کمرے میں بے دھڑک آنا سخت ناگوار گزرا تھا۔

’’اجازت کی بات کرتی ہو تم ذکیہ ،تم نے اپنے خون کو کیسے اجازت دی کہ وہ جیون کے ساتھ کھیل کر اُسے دھتکار دے؟‘‘ رقیہ ناز نے چبھتے ہوئے جواب طلب لہجے میں کہا۔

’’اگر آپ جیون کی وکالت کرنے آئیں ہیں تو تب بھی اپنی اوقات کے دائرے سے باہر مت نکلیے۔جیون کوئی دودھ پیتی بچی نہیں جسے اپنی حد کا علم نہ ہو۔‘‘ ذکیہ بیگم نے کرسی سے اُٹھتے ہوئے اُنھیں کرارا جواب دیا تھا۔

’’پہلے وہ تمھیں پسند تھی اور جب تمھارے بیٹے نے نا پسندیدگی کی سند جاری کردی تو تم نے بھی اُس پر مہر لگا دی۔ماننا پڑے گا ماں بیٹے کی کیا خوب ذہنی ہم آہنگی ہے۔‘‘ رقیہ ناز کا لب و لہجہ ترش اور طنز سے بھرپور تھا۔

’’کیا کہنا چاہتی ہیں آپ صاف صاف کہیں۔‘‘ ذگیہ بیگم نے بھی اُنھی کا انداز اپنایا۔

’’اِس حویلی کے مالکوں نے بے حسی کی ہر حد پار کردی ہے۔ میں تمھاری اور جازم کی گفتگو سن چکی ہوں ذکیہ۔‘‘رقیہ ناز نے اُنھیں سر تا پیر تاسف سے دیکھا۔

’’یہ انتہائی غیر اخلاقی حرکت ہے کہ آپ چھپ چھپ کر ہماری باتیں سنتی ہیں۔‘‘ذکیہ بیگم نے اُنھیں شرمندہ کرنے کی کوشش کی،مگر رقیہ ناز کی ملامت کرتی نظریں ایک پل کے لیے بھی نہ جھکی تھیں۔

’’اخلاقیات۔۔۔کونسی اخلاقیات ؟ وہی جس کا سبق گھٹی میں ملا کر تم نے اپنے بیٹے کو پلایا ،جس کے زیرِ اثر وہ دوسروں کی زندگی میں زہر گھول رہا ہے۔‘‘

’’بس کیجیے اور چلی جائیے یہاں سے ۔‘‘رقیہ ناز کے طعنے برداشت سے باہر ہوگئے تو ذکیہ بیگم چلا کر بولیں۔

’’چلی جاؤنگی،مگر تم اچھا نہیں کر رہی ۔جازم کو سمجھانے کی بجائے تم ایک غلط فیصلے میں اُس کا ساتھ دے رہی ہو۔‘‘ رقیہ ناز کی آواز دھیمی تھی اور انداز احساس دلانے والا تھا۔

’’ مت سیکھائیے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے یا کیا نہیں۔میں اِس حویلی اور اپنے بیٹے کے لیے وہی فیصلہ لونگی جو مجھے بہتر لگے گا۔‘‘ذکیہ بیگم نے ماتھے پر بل لاتے ہوئے دھونس سے کہا تھا۔

’’سیف سے تو تھی ہی نہیں،جیون سے بھی ذرہ ہمدردی نہیں ہے تمھیں؟ــ‘‘رقیہ ناز نے بے بسی سے پوچھا جبکہ وہ اِس سوال کا جواب بخوبی جانتی تھیں۔

’’مجھے ہے اُس سے ہمدردی جب ہی اُسے بدنامی سے بچانا چاہتی ہوں،اور اِس کا ایک ہی حل ہے کہ اُس کی شادی سیف سے کردی جائے۔‘‘ذکیہ بیگم نے پوچھے گئے سوال کا جواب منہ پھیر کر دیا ۔

’’تم جازم کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی سعی کر رہی ہو۔ یہ تمھارے اپنے اُصولوں کے بھی خلاف ہے ۔اِس حویلی کے نوکر تمھاری ناانصافی دیکھ کر تم سے منحرف ہو جائیں گے ۔یہ تمھاری ایک سنگین غلطی ہوگی ،جسے شاید آنے والا وقت بھی معاف نہ کر پائے۔‘‘رقیہ ناز کے الفاظ خدشات سے بھرپور تھے۔

’’نوکروں اور وقت کی پرواہ میں نے کبھی نہیں کی۔ میرے لیے جازم کی خوشی اور مرضی سے بڑھ کر کچھ اہم نہیں۔اپنے بیٹے کی محبت میں ذکیہ حویلی کے سارے اُصول بدل سکتی ہے،ہر روایت توڑ سکتی ہے ۔‘‘ذکیہ بیگم نے زعم بھرے انداز میں اپنی مامتا ظاہر کی۔

’’واہ کیا خود غرض محبت ہے ۔تم جیسی مائیں پہلے بچوں کی غلط تربیت کرتی ہیں اور پھر اُن کے گناہوں کی پردہ پوشی کرکے اپنی تربیت کو ٹھیک ثابت کرتی ہیں۔پچھتاؤ گی تم ۔۔۔بہت پچھتاؤ گی۔‘‘رقیہ ناز نے انگلی کے اشارے سے اُنھیں کھری کھری سنائیں اور بنا کوئی جواب سنے وہاں سے چلی آئیں۔

ذکیہ بیگم نے اپنا غصہ کم کرنے کے لیے ایک گلاس پانی پیا تھا،لیکن بے عزتی کی آگ کسی طور ٹھنڈی نہ ہوئی جو رقیہ ناز نے لگائی تھی۔

*****

آنکھیں کھلی کھلی ہیں نظر لے گیا کوئی

دیوار و در تو ہیں وہی گھر لے گیا کوئی

اُس نے پھولوں کے پاس جانا نہیں چھوڑا تھا ،بس پھولوں سے باتیں کرنا بند کر دی تھیں۔۔۔اُس نے پھولوں کو دیکھنا نہیں چھوڑا تھا ،بس اُنھیں توڑنے سے رک گئی تھی۔۔۔ایک ہفتہ پہلے جو خواب ٹوٹا تھا وہ اُس کی کرچیوں سے لہولہان ہوتی تو اپنے بچپن کے ساتھیوں کے پاس چلی آتی۔۔۔ناجانے اُس کی نظر کا دھوکہ تھا یا نظاروں کی سازش ۔۔۔اُسے سارے تازہ پھول کاغذی سے لگتے اور ساری اڑتی تتلیاں مردہ۔۔۔اُسے پھولوں کے گجرے اور کلیوں کی مالا بنانے کا جنون تھا۔۔۔وہ پھولوں کے زیور بناتی اور آئینے سے گھنٹوں باتیں کرتی ۔۔۔پھر وہ خود پسندی کی نیند سے ایسے جاگی کہ سارے شوق حسرتوں کی قبر میں جا سوئے ۔۔۔پھولوں کو دیکھنے والی آنکھیں اور چھونے والے ہاتھ پتھر کے ہو چکے تھے ۔۔۔سب کچھ کتنا بدل گیا تھا ۔۔۔اُسے پھولوں سے خوشبو نہیں آتی تھی۔۔۔اُسے تتلیوں میں رنگ نہیں دیکھتے تھے۔۔۔وہ پھولوں کے ساتھ ساتھ اب کانٹوں کو بھی دیکھتی۔۔۔اِن کانٹوں کے ہونے کا مطلب سمجھتی ۔۔۔۔اِن پر غور کرتی ۔۔۔اُن کانٹوں میں چبھن تھی،درد تھا پر وہ پھولوں کے ساتھ تھے ۔۔۔ اُن کی حفاطت کے لیے ۔۔۔اُس کی لاعلم محبت کے گرد بھی تو کانٹے تھے ۔۔۔تحافظ دینے والے نہیں ،چبھنے والے کا نٹے ۔۔۔یہی وہ دھوکے کے خار تھے جو اُس کی روح میں اُتر چکے تھے۔۔۔جنھوں نے اُس کی ذات کی پتی پتی بکھیر دی تھی۔

’’ایسا کیا ہے اُس پھول میں جو تم اُسے دیکھنے میں اتنی مگن ہو ۔‘‘ ذکیہ بیگم نے تعجب سے پوچھا ۔اُن کی موجودگی کا احساس پاکر بھی جیون نے کالے گلاب سے نظریں نہ ہٹائیں۔

’’تمھیں شاید اندازہ نہیں کہ گرمی کی شدت کتنی بڑھ چکی ہے ،سورج سر پر آچکا ہے۔‘‘اُنھوں نے اپنی چادر ماتھے پر سرکاتے ہوئے کہا ،مگر پسینے سے بھیگی ہوئی جیون نے اب کی بار بھی کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

’’میں تم سے مخاطب ہوں۔تمھاری یہ خاموشی بدتمیزی کے زمرے میں آتی ہے ۔‘‘ذکیہ بیگم کے چہرے کے تاثرات بگڑنے لگے تھے۔

’’آپ وہ بات کریں جس کا مقصد آپ کو یہاں کھینچ لایا ہے۔‘‘جیون نے مٹھی میں مٹی بھرتے ہوئے رکھائی سے کہا۔

’’ساری باتوں کو پھر سے دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔تمھاری ماں ہونے کے ناطے میں تمھارا بھلا چاہتی ہوں۔اِس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے تمھاری شادی سیف سے کردی جائے۔‘‘ ذکیہ بیگم اپنی ہچکچاہٹ چھپاتے ہوئے حکمانہ انداز میں بولیں۔

’’ماں۔۔۔آپ میری ماں نہیں ہیں ۔۔۔آپ اپنے کھوکھلے اُصولوں کی ماں ہیں۔۔۔آپ اپنی بوسیدہ روایتوں کی ماں ہیں۔۔۔آپ اِ س جیتی جاگتی حویلی کی ماں ہیں ۔۔۔اور اُس پتھر دل جازم کی ماں ہیں۔‘‘جیون نے اُن کے برابر کھڑی ہوکر تنی ہوئی گردن سے کہا۔اُس کی آنکھوں میں وحشت تھی اور لہجہ بے خوف تھا۔

’’یہ تم کس طرح بات کر رہی ہو جیون ؟یہ کیسے الفاظ ہیں تمھارے؟ کیا تم سارے ادب وآدا ب بھول چکی ہو؟‘‘ ذکیہ بیگم بھنویں سکیڑتے ہوئے تند مزاجی سے بولیں۔وہ لڑکی جو نظریں اُٹھا کر بات نہیں کرتی تھی اُس کا یوں منہ پھاڑ کر بولنا اُن کے لیے کسی دھچکے سے کم نہ تھا۔

’’سب ختم ہو چکا ہے ۔۔۔ادب و آداب بھی۔۔۔۔ لحاظ شرم بھی۔‘‘جیون کے لبوں پر افسردگی اور پھیکی مسکراہٹ تھی۔

’’اِن حالات کی تم خود ذمہ دار ہو۔اپنی غلطی کی سز ا ہر شخص کو بھگتنی پڑتی ہے ۔‘‘ ذکیہ بیگم نے ملامتی نظروں سے دیکھتے ہوئے اُسے قصور وار ٹھرایا۔

ـ’’غلطی دونوں کی ہے اور ہم دونوں سے بڑی غلطی ہے ہماری پرورش کرنے والی کی ۔آپ کی غلطی ہے ذکیہ بیگم آپ کی! ہمارے سامنے گناہ اور نفرت کا وجود اتنی خوبصورتی سے پیش کیا آپ نے کہ ہم اچھائی اور محبت کی اصل روح کو پہچان ہی نہ سکے۔آپ مجرم ہیں اور وقت ہر مجرم کو سزا ضرور دیتا ہے۔‘‘ جیون نے اونچی آواز میں بد لحاظی کی ہر حد پار کی تو ایک زور دار تھپڑ نے اُسے خاموش کرادیا۔

’’احسان فراموش لڑکی ۔مت بھولو کہ تم اِس حویلی کے ٹکڑوں پر پلی ہو۔تمھیں بھی وہی حیثیت اور مقام دیا جاتا جو سیف کا ہے۔ٹھیک کہا تھا جازم نے تم نافرمان ہو،سرکش ہو اور اپنے اِس غرور میں تم میرے سب احسانات بھول چکی ہو۔تم اِس حویلی کی بہو بننے کی بالکل بھی اہل نہیں ہو۔‘‘ذکیہ بیگم کی غصیلی آواز اہانت کی انتہا کو چھو رہی تھی۔

’’مجھے چپ کرانے کے لیے اِس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتی آپ۔۔۔کان کھول کر سن لیجیے میں سیف سے شادی نہیں کرونگی اور جازم کی شادی کسی اور سے نہیں ہونے دونگی۔۔۔میں جازم سے شاید نفرت نہ کر سکوں ،مگر آپ کے سب احسانات کا بدلا یہی ہے کہ میں اپنی آخری سانس تک آپ سے نفرت کرونگی۔‘‘جیون نے مٹھی میں بند مٹی نیچے گرائی اور اپنا فیصلہ سنا کر چلی گئی۔ذکیہ بیگم نے شعلہ بار نگاہوں سے اُسے جاتے ہوئے دیکھا۔اُن کے دل میں اُس کے لیے رہی سہی ہمدردی بھی ختم ہو چکی تھی۔

*****

جب تک جازم حویلی میں نہیں تھا ہر شخص نے خاموشی اوڑھ لی تھی۔۔۔نہ رقیہ ناز نے ذکیہ بیگم کو پھر سے احساس دلانے کی کوشش کی نہ ذکیہ بیگم نے جیون سے دوبارہ بات کرنے کو ترجیح دی ۔۔۔حویلی کے سارے نوکر اِس خاموشی کا مطلب سمجھ کر اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو چکے تھے۔سب نے جیون کو اُس کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔بس ایک سیف تھا جو اُس کے ٹوٹے دل کے جڑنے کی دعائیں کرتا ،مگر اُس کی دعائیں بھی جیون کا دل نہ جوڑ پائیں۔ جدائی کی ہر دیوار کھڑی ہوجانے کے باوجود وہ اپنے ہر جائی کو بھولنے کے لیے تیار نہ تھی۔اُس کا زخمی دل پھر سے انتظار کے رستے پر چل پڑا تھا۔اُسے اپنے اندر لگی انتقام کی آگ بجھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔اُسے پھولوں اور کانٹوں کا رشتہ سمجھ آگیا تھا،اُن کے ساتھ کی وجہ معلوم ہو گئی تھی ۔ لڑنے جھگڑنے ، برا بھلا کہنے اور نفرت ظاہر کرنے کے باوجود وہ جا زم سے نفرت کرنے میں ناکام ہو چکی تھی۔

تمھارے نام پر میں نے ہر آفت سر پہ رکھی تھی

نظر شعلوں پہ رکھی تھی زباں پتھر پہ رکھی تھی

’’تم بہت برے ہو ،مگر میرا دل تمھیں خود سے جدا کرنے کو تیار نہیں۔۔۔تم بہت سنگدل ہو ،مگر میری روح ہر اذیت کے باوجود تم سے جڑے رہنا چاہتی ہے ۔۔۔تم بہت ظالم ہو ،مگر میرا عشق تمھارے ظلم کے آگے ہار رہا ہے ۔۔۔میں تمھارے خوابوں کے چبھتے ٹکڑے اپنی آنکھوں سے نوچ کر پھینک نہیں سکتی ۔۔۔میں تمھاری یادوں کے سوکھے پھول دل کی زمین سے اُکھاڑ نہیں سکتی ۔۔۔میں خود کو مار بھی دوں تو تمھیں اپنے اندر مار نہیں سکتی ۔۔۔ کیوں آخر کیوں ؟ ۔۔۔یہ عشق کی کیسی چال ہے ؟ ۔۔۔ یہ بے بسی کا کونسا مقام ہے ؟۔۔۔میں بے وفائی کی دلدل میں گر کر بھی کیوں تمھارا ہاتھ پکڑے رہنا چاہتی ہوں۔۔۔میرے خدا! میرا نام اُس کی زندگی کی کتاب کے کسی بھی کونے میں لکھ دے یا پھر میرے ٹوٹے دل کے ذرّے ذرّے سے اُسے نکال دے۔‘‘وہ دونوں ہاتھ جوڑے شدت سے دعا مانگ رہی تھی کہ اُسے اپنے دل میں جازم کے قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی۔ الہامی عشق نے بتا دیا تھا کہ وہ دشمنِ جاں واپس آچکا ہے۔

سحر تک تم جو آجاتے تو منظر دیکھ سکتے تھے

دیئے پلکوں پہ رکھے تھے شکن بستر پہ رکھی تھی

اُس نے آنکھیں کھول کر آس پاس دیکھا ۔ وہ اُسے ہر جگہ دیکھائی دے رہا تھا۔بیڈ سے نیچے لٹکتی شکن آلود چاد ر کے پھولوں میں۔۔۔کھڑکی سے والہانہ لپٹے پردے کی پھڑپھڑاہٹ میں۔۔۔دیوار کے سینے پر آویزاں بولتے آئینے میں۔۔۔خوشبو کو باندھ کر رکھتی نشیلی پرفیوم کی بوتلوں میں۔۔۔وہ کسی جوگن کی طرح جوگ لیے بیٹھی تھی۔ اچانک ایک خیال نے اُس کی ساری بکھری سوچوں کو مربوط کردیا تھا۔یہ اُس کے دل کو ملنے والا وہ اشارہ تھا جس سے اُسے پورا سمندر تو نہیں پر چند قطرے نصیب ہو سکتے تھے۔ وہ ایک پرسکون مسکراہٹ چہرے پر سجائے چادر سنبھالتی ننگے پاؤں چل پڑی تھی۔ہر طرف گھپ اندھیرا تھا اور اُسے صبح سے پہلے اپنی زندگی میں سویرا کرنا تھا۔جازم کے کمرے کے باہر پہنچ کر اُس نے دستک دی اور تب تک دستک دیتی رہی جب تک دروازہ کھل نہ گیا۔

’’کیوں تم بار بار آجاتی ہو ؟۔۔۔کیا تمھیں ہر سوال کا جواب مل نہیں گیا؟۔۔۔کیا چاہتی ہو تم کہ میں اِس حویلی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلا جاؤں؟‘‘ جازم نے آنکھیں ملتے ہوئے آہستگی سے کہا ۔وہ نیند خراب ہو جانے پر سخت بدمزہ ہوا تھا۔

’’جازم مجھے معاف کردو۔۔۔میں نے تمھیں برا بھلا کہا۔۔۔تم سے ناراض ہوئی۔۔۔تم سے لڑی ۔۔۔لیکن میں جان گئی ہوں کہ اِس غصے ، اِن شکایتوں،اِس بیوفائی کے باوجود بھی میں تمھارے بغیر نہیں جی سکتی۔‘‘

’’مت کرو ایسا جیون۔۔۔مت کرو ایسا۔۔۔اِن حرکتوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‘‘

وہ روتے ہوئے اُس کے قدموں میں گری تو وہ جھنجھلاتے ہوئے پیچھے ہٹ گیا۔

’’ تم کر لو اُس لڑکی سے شادی ،مگر مجھے بھی خود سے جدا نہ کرو۔وڈیروں کی دو شادیاں بھی تو ہوتی ہیں۔اُسے چاہے تم اِس حویلی کی ملکہ بنا دو ۔پورا گلستان اُس کے نام کردو،مگر میرے لیے تمھاری چاہت کا ایک پھول ہی کافی ہے ۔‘‘وہ اپنے لفظوں کی بازگشت سے خود ہی سسک پڑی تھی۔

’’تم نے اپنی محبت کو ضد بنا لیا ہے اور اُس ضد کی خاطر تم اپنے آپ کو گرا رہی ہو۔بھیک میں ملنے والی محبت کا کیا کرو گی تم؟ کتنے دن خوش رہو گی آخر ؟کتنے سال یہ ظرف نبھاؤ گی؟‘‘ جازم نے عاجز آتے ہوئے سخت سوال اُٹھائے۔

’’پہلے یہ خواہش تھی اور اب یہ خواہش سے آگے کی کوئی منزل ہے ۔محبوب سے مانگنے میں قد چھوٹا نہیں ہوجاتا ،بلکہ دل بڑا ہوجاتا ہے۔میں نے اپنا دل بڑا کر لیا ہے جازم ۔مجھے اُس بھیک کو قبول کرنے میں کوئی عار نہیں ہے جس سے میرا چین سکون وابستہ ہے۔‘‘جیون کا جواب خالص جذبات سے لبریز تھا۔

’’کسی بھی صورت میں اور کسی بھی شرط پر میں تم سے شادی نہیں کرسکتا۔۔۔میری جان چھوڑ دو۔۔۔چلی جاؤ یہاں سے ۔۔۔چلی جاؤ ۔‘‘ جازم نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے بے رخی سے رخ موڑ لیا ۔

’’اِس کمرے کے باہر اب میرے لیے کوئی امید نہیں۔‘‘ جیون کی کانپتی آواز بھیگنے لگی تھی ۔

’’مجھے اِس سے کوئی سروکار نہیں۔‘‘جازم کے انداز میں بے پروائی تھی۔

’’اِس حویلی میں آگ لگ جائے گی۔‘‘وہ پلکیں جھپکائے بغیر صدمے سے بولی۔

’’مجھے اِس کی پرواہ نہیں۔‘‘جازم نے بدمزاجی سے کہا۔

’’جیون ہمیشہ کے لیے جل جائے گی۔‘‘اُس نے گیلی پلکیں گرا دیں۔

’’مجھے اِس کی بھی پرواہ نہیں۔‘‘جازم کا لہجہ سفاک تھا۔

اور وہ پھر چین سے سوگیا ،مگر جیون نے آخری امید بجھاتے ہوئے ایک بے رحم فیصلہ کیا تھا ۔سورخ کی کرنیں پھیلنے سے پہلے حویلی میں شعلے بھڑک اُٹھے تھے اور یہ آگ کہیں اور نہیں جیون کے کمرے میں لگی تھی۔

)جاری ہے (

حمیرا فضا

1 Comment

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.