“میں ڈاکٹر نہیں مجھے مار دئیجیے”__________صوفیہ کاشف

کالج کے زمانے میں کسی عقلمند لڑکی نے مجھے بتایا کہ ڈاکٹر بن جائیں تو رشتے اچھے ملتے ہیں۔میں نے محض اچھے رشتے کی خاطر اتنی محنت کرنے سے گریز کیا۔مجھے ڈاکٹر اچھے لگتے تھے مگر دور سے ،مجھ سے بند آنکھوں سے ہل ہل کر رٹے نہیں لگتے تھے،میں دن کے بیس گھنٹے کتاب میں سر دے کر نہیں بیٹھ سکتی تھی،مجھے ہنسنا،گپ شپ لگانا پینٹنگز کرنا ،موسم کے نظارے دیکھنا اور کتابیں پڑھنا اچھا لگتا تھا۔میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر شوق سے بن جاتی مگر ایم بی بی ایس ڈاکٹر بننا انتہائی ناگوار عمل تھا۔چناچہ میں ڈاکٹر نہ بنی۔اور سر اٹھا کر اپنے والدین کی مالی استطاعت اور اپنی ذوق طبع کے تحت انگلش لٹریچر کا مضمون چنا اور اگلے کچھ سال جی لگا کر خوب محنت کر کے اپنے مضامین میں طاق ہو گئی۔مگر میں غلط تھی۔وقت نے ثابت کیا میرے تماتر فلسفے اور دانشمندانہ تدبر کے باوجود ڈاکٹر نہ بننا کسی بھی فرد کی شدید بڑی غلطی ہے۔بھاڑ میں گئے آپ کے طبعی میلان بھاڑ میں گئے “تارے زمین پر” بنانے والے اور اس طرح کی فلاسفی سے متاثر ہونے والے۔کہ یہ فلاسفی جب تک پاکستان کی سو فی صد آبادی سو فی صد تک پڑھ لکھ نہ جائے،اور علم کی مختلف شاخوں کی اہمیت سے واقف نہ ہو جائے، بالکل بیکار ہیں۔

ڈاکٹری وہ ہر فن مولا شعبہ ہے جسے اپنا کر آپ جو چاہے بن سکتے ہیں۔وکیل،سیاستدان،اینکرپرسن،صحافی،رائیٹر،افسر،اے سی،ڈی سی،ایم ڈی،یا عزت دار باوقار ہاوس وائف! جب چاہیں اسے لپیٹ کر الماری میں رکھیں اور ڈاکٹر’ انجینئر’ افسر میاں کے لئے گول گول روٹیاں بنائیں،جب چاہیں جیب سے ڈگری نکال کر قوم کی خدمت کرتے پیسہ کما لیں ،جب چاہے اس ڈگری کو من چاہے شعبے میں چلا کر وہاں کی سب سے اونچی کرسی پر بیٹھ جائیں۔یہ ہے جادو کی کنجی جس سے سب تالے کھل جاتے ہیں۔محض اس ایک ڈگری سے آپ پورے پاکستان کے ہر شعبے پر راج کر سکتے ہیں۔

کیوں؟ کیونکہ پاکستان میں ڈاکٹر سے بڑھ کر کسی کو ہم قابل نہیں سمجھتے،پھر چاہے وہ انجئینر ہو کہ سائنسدان ،دانشور ہو کہ نقاد،پروفیسر ہو کہ استاد،ریسرچر ہو کہ آرٹسٹ،ہر کرسی ڈاکٹری سے نیچے ہی ہے۔اس کے علاؤہ سب کو ہم کچرا سمجھتے ہیں۔وہ لوگ جو تعلیمی اداروں میں نہ گئے ان کے روئیے تو ایک طرف مگر ان لوگوں کا کیا جنہوں نے اپنے اپنے زمانے میں ڈاکٹر بننے کا سپنا دیکھ کر ایک حسرت سینے سے لگا رکھی ہے۔ان پڑھ منظر نامے اور معاشرے اور خاندان کے پریشر کے باجود وہ ڈاکٹر جتنے بڑے افسر بننے میں ناکام رہے اس حسرت کا ناسور ہر انسان کے سینے میں ساری عمر پلا بیٹھا رہتا ہے چناچہ یہ لوگ خود انجئینر،صحافی، پروفیسر،رائیٹر جیسے بڑے لوگ ہوتے ہوئے بھی ساری عمر ڈاکٹر کے لئے کرسیاں خالی کرتے رہتے ہیں۔کیونکہ ہم نے اپنے ناخواندہ معاشرے سے سیکھا ہی یہی ہے کہ بس ایک ڈاکٹر عزت کے قابل روزگار ہے باقی سب کچرا ہے۔ہمارے اپنے خاندان میں پندرہ بیس لڑکیاں ڈاکٹر بن گئیں تو باقی سب بیکار ہو کر رہ گئیں۔ہر طرف ڈاکٹرز کی وی آئی پی کلاس الگ ہو جاتی باقی ناکارہ مال دوسری طرف۔وی آئی پی کلاس کے لئے سب کھڑے ہو جاتے،کرسیاں خالی کر دی جاتیں،سٹیج پر جگہ بن جاتے،باقی سب آخری لائنوں میں دربانوں کی طرح کھڑی رہ جاتیں۔مجھے پھر بھی سمجھ نہ آئی کہ میں ہمیشہ اپنے ہی برش کے رنگوں ،لفظوں کی جل ترنگ میں گمشدہ رہی۔خود کو ادب اور آرٹ میں لت پت کر کے میں اپنے آپ میں مکمل تھی۔۔آپ اپنی جگہ پر سو فی صد مکمل ہوں تو آپ کو کسی سے غرض ہی نہیں ہوتی ۔مگر یہ بات ہمارا معاشرہ نہیں جانتا !یہاں پر جو دھڑا دھڑ غلط ٹیکے لگانے والے ،میڈیکل کالج کی کلاس کی آخری کرسی پر بیٹھنے والے اور کئی سال میں ایک سال پاس کرکے بننے والے ڈاکٹر کی عزیت آنکھ بند کر کے کی جاتی ہے وہ اور کسی شعبے کے ٹاپر اور گولڈ میڈلسٹ کی بھی نہیں ہوتی۔مہنگے ہسپتالوں میں محض نزلے زکام کے لئے مہنگی فیسیں دے کر آنے والے بھی صرف ڈاکٹر کو ہی قابل ،پڑھی لکھی مخلوق سمجھتے ہیں جیسے باقی سارے شعبوں والے محض مکھیاں ہی مارتے رہے ساری عمر۔

میں نے ہمیشہ چاہا کہ میرے بچے ڈاکٹر نہیں بنیں گے۔چاہے یہ کتنا ہی محفوظ اور بہتر روزگار کیوں نہ ہو۔میں نے سوچا میرے بچے معاشرے کی اس بھیڑ چال کا حصہ صرف اس لئے نہیں بنیں گے کہ اپنا قد اونچا کرنے کے لئے،بڑی کرسی اور پاکستانی معاشرے میں عزیت کے مقام کے لئے ڈاکٹر بننا ضروری ہے۔وہ وہی کریں گے جو ان کو بہتر لگے گا ،جو انکا مزاج ہو گا۔مجھے لگتا تھا آپکی قابلیت آپ کی بہترین صلاحیت اور ہنر میں اور اس کے بہترین استعمال میں ہوتی ہے پھر چاہے شعبہ کوئی بھی ہو مگر اس پر عبور ہو۔مجھے دنیا کا ہر شعبہ قابل عزت اور قابل وقار لگتا ہے۔

کچھ ہی دن ہوئے میں نے ارادہ بدل لیا۔کم و بیش چالیس سال لگ گئے یہ بنیادی بات سمجھنے میں۔سمجھ گئی کہ اگلی ایک صدی میں بھی پاکستان اس لیول تک نہیں جا سکتا جس لیول کے معاشرے ہر شعبے کو برابر کی عزیت دیتے ہیں۔میں کیوں آخر اپنے بچوں کو دوسرے درجے کے شہری بناوں۔کیوں جب ذندگی کے کسی بھی شعبے میں انتخاب کا وقت آئے تو وہ پہلی چوائیس نہ ہوں۔اب سوچا کہ الٹا بھی لٹک کر سارے پاکستانیوں کی طرح بچوں کو ڈاکٹر ہی بناؤں گی۔ کہ اچھے رشتے گھر سے نکلتے ہیں تو سب سے پہلے ڈاکٹر لڑکے، لڑکیاں چنی جاتی ہیں پھر یہ بھی نہیں دیکھا جاتا کہ حسن یا وجاہت ہے کہ نہیں،کمائی آتی ہے کہ نہیں اور گول روٹی پکاتی کہ نہیں ۔بس پورے انپڑھ گھرانے کو اپنے اکلوتے قابل بیٹے بیٹی کے لئے ڈاکٹر ہی پارٹنر چاہیے۔اس کے علاؤہ کوئی اور لڑکی ہو تو خوبصورت بھی ہو، لمبی بھی ہو، پتلی بھی ہو، خدمت گزار بھی ہو۔لیکن ڈاکٹر ہو تو چاہے کچھ بھی ہو۔صرف یہی نہیں فلموں ،ڈراموں اور حقیقت میں بھی محبت کرنے کے لئے بھی ڈاکٹر ہی سب سے موزوں ہے کہ کوئی بھی فوجی افسر،ہیرو،ڈاکٹر انجینئر نما کردار یا فرد ڈاکٹر سے کم تو کسی سے عشق بھی نہیں فرماتا۔یقین نہیں آتا تو “احدِ وفا” کو ہی دیکھ لیں کہ ایک قابل فوجی کے ساتھ رائیٹر اور ڈائریکٹر کو بھی صرف ڈاکٹر لڑکی ہی اچھی لگتی ہے۔کوئی عام سی لڑکی,چاہے کیسی ہی ذہین ،فطین،اور نمکین ہو، اس کے شایان شان کہاں!عام فزکس کیمسٹری میں ایم ایس سی کرنے والے،ایم بی ابے،ایم اے کرنے والی کی کی ایسی اوقات کہاں!

جرنلزم سالہا سال پڑھنے والے سڑکوں پر رپورٹنگ کرتے رہ جاتے ہیں،رپورٹر سے آگے جا ہی نہیں پاتے،اور ڈاکٹرز اونچی کرسیاں لے کر اینکرپرسن بن بیٹھے۔شاید بائیو کیمسٹری اور پتھالوجی پڑھنے والے عالمی منظرنامے کو انٹرنیشنل افییرز پڑھنے والوں سے ذیادہ اچھا سمجھتے ہونگے یا فزیالوجی اور اناٹومی پڑھنے سے سیاست ذیادہ اچھی سمجھ میں آتی ہو گی،پول سائنس والوں کو کیا پتا!!!اسی طرح لکھنے والوں میں جس کے نام کے ساتھ ڈاکٹر لگ جائے اسکا نام تحریر کے بغیر ہی معتبر ہو جاتا ہے۔شاید ڈاکٹری نسخے ساری عمر لکھتے رہنے سے لکھنے کی صلاحیتوں کو کوئی خاص جلا ملتی ہے یا یہ ہمارے معاشرے کے ایف ایس سی کے لگے ناسور ہیں جو جیسا بھی بڑا ہمارا قد ہو جائے ہم ڈاکٹر کو ہمیشہ جھک کر ملتے ہیں۔کیا یہ عذاب خوابوں کے ٹوٹنے سے نکلتے ہیں؟اے سی،ڈی سی،سیکرٹریز،اور بیورکریسی کی کرسیوں پر ڈاکٹر بیٹھے ہیں کبھی کسی انجینیئر ،پروفیسر،صحافی،بینکر کو ہسپتال میں مریض دیکھتے دیکھا کسی نے؟ مگر ان تمام جگہوں پر پاکستان میں ڈاکٹر ضروربیٹھے ملیں گے۔

جن کو ہم پڑھا لکھا طبقہ سمجھتے ہیں وہ بھی شعبوں میں مقام کا تعین اہلیت کی بجائے ڈاکٹری رتبے کی بنیاد پر کریں تو ان پڑھ عام برادری کی کیا بات کرے کوئی۔کوئی سو سال پاکستان کے ہر فرد کی تین نسلیں تعلیم کے عمل سے گزرتی رہیں تو شاید ہم بھی سیکھیں کہ انجئنیرز،پروفیسرز،استاد،صحافی،بینکر،اینکر،ادیب،ارٹسٹ ہر کسی کا معاشرے میں اپنا ایک الگ مقام اور اپنا اپنا کام ہے اور ہر شعبے کے لئے سب سے پہلی اولیت اس کی مطلوبہ قابلیت کو ملنے چاہیے۔ جب تک ہر تعلیمی شعبے کو آپ برابر کی اہمیت اور احترام سے نہیں دیکھتے،اور حقداروں کو ان کی جگہ نہیں دیتے خود آپ کی قابلیت اور علمیت خاصی مشکوک ہے۔

_______________

2 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.