التفات سے بھی گئے—————حسن نقوی

سکوں کے دن سے فراغت کی رات سے بھی گئے
تجھے گنوا کے بھری کائنات سے بھی گئے
جدا ھوئے تھے مگر دل کبھی نہ ٹوٹا تھا
خفا ھوئے تو تیرے التفات سے بھی گئے
چلے تو نیل کی گہرائیاں تھیں آنکھوں میں
پلٹ کر آئے تو موج فرات سے بھی گئے
خیال تھا کہ تجھے پا کے خود کو ڈھونڈیں گے
تو مل گیا ھے تو خود اپنی ذات سے بھی گئے
بچھڑ کے خط بھی نہ لکھے اداس یاروں نے
کبھی کبھی کی ادھوری بات سے بھی گئے
وہ شاخ شاخ لچکتے ھوئے بدن”محسن”
مجھے تو مل نہ سکے تیرے ھاتھ سے بھی گئے

____________
کلام:محسن نقوی

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

2 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.