۔شب برات اور شب فراق۔۔۔گزرگئ اس سال شب برات اور نہ جانے کتنے لوگوں کی دعائیں آہیں اور سسکیاں قبول ہو چکی ہوگی ۔۔یہ رات پورے سال میں صرف ایک دفعہ آتی ہے اور اسکے متعلق یہ بھی مشہور ہے کہ اسی رات آسمانی بجٹ،عمر ،رزق ،واقعات ،حادثات،المیے،خوشیاں اور کئ دوسرے اہم امور پورے سال کیلئے لکھ دی جاتی ہیں۔لیکن دینی اعتبار سے یہ حقیقت پہ مبنی ہے کہ نہیں مجھے نہیں معلوم مگر یہی رات لوگوں کے بیچ نہایت ہی اہمیت کی حامل ہے اور اس میں عبادات اور خیرات وصدقات کی خاص اہتمام کی جاتی ہے۔پورے دنیامیں یہی رات شب برات کے نام سے گزر گئ لیکن ایک بدنصیب پر یہی شب برات کے ساتھ ایک اور رات بھی ذہن پہ سوار تھی وہ رات شب فراق کے نام سے جانے جاتی ہے۔شب برات میں اپنے لئے بہت کچھ مانگا مگر ساتھ ساتھ شب فراق کو دیکھ دیکھ کر آنسو جاری ہوگئے کہ خدایا شب برات میں شب فراق کو مجھ سے دور کردیں کہ دنیا کی روشنی دیکھ سکوں۔۔۔دوائ کی نیند سے نکل کر سکون قلب والی نیند کر سکوں۔۔لیکن یہی شب برات اتنی لمبی ہوتی گئ کہ نیند اور چھین دونوں ایسے غایئب ہوگئے جیسے خزان میں درختوں سے پتے غایب ہوجاتے ہیں۔اب میرا سامنا سوچ اور شب فراق سے مکالمہ شروع ہونے والاتھا کہ میں نیند کی گولی تلاش کرنے لگاکہ احمد فراز یاد آگئے۔شب فراق تو کھٹتی نظر نہیں آتی۔۔خیال یار میں آو فراز سو جایئں۔۔اب میرے خواب وخیال دونوں منتشر ہوچکے تھے۔۔کبھی سوچ آسمانی بجٹ اور نصیب قسمت اور شب برات کی اہمیت اور فضیلت کےساتھ ساتھ شب فراق کی تلخی مجھے مسلسل بے قرار کرتی چلی جارہی تھی۔۔کسی کی۔ یادیں مجھے کھٹمل کی طرح ڈستی رہی۔۔میں برابر سوچتا رہا کہ کاش وہ بھی شب برات میں حنا زدہ سرخ ہاتھ دعا کیلئے اٹھاکر زلفوں کو رخ سے ہٹاکر بھیگی آنکھوں سے گھائیل کیلئے موت کی دعا دے کر تاکہ شب فراق سے آذاد ہوکر ابدی نیند بغیر کسی گولی کے سو جائیں۔۔۔۔لیکن یہ بھی ناممکن تو میں نے شب فراق کو گلے ملاکر اس سے التجا کی۔اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لیں لے۔دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے۔بس سوچوں کی انبار سے میرا بدن ٹوٹ رہا تھا۔۔رات مزید خوف اور وحشت کی لباس پہن رہی تھی تو دل کے ویران دریچے سے کسی یادوں نے آکر اداس کر ڈالا۔بہت خیال بہت خواب سو گئے تھک کر۔خدا کرے تری یادیں کہیں نہ سو جایئں۔رات مزید بھاری ہوتی گئ اور میں شب فراق میں پورے سال کیلئے کسی کی اداووں کو وفاووں کو،ناز وانداز اور پلکوں اور زلفوں کو پورے سال کیلئے دل کے محل میں سجا رہاتھا کہ۔اچانک ہوش آیا کہ میں بان کی ڈھیلی چارپائ پہ دنیا کا ایک ادنی فقیر  پاکر گھایئل ہو گیا اور دل جو شہزادوں کی طرح کسی کو اپنانے کا برابر تقاضا کررہاتھا۔۔۔تو میرا خیالات شب برات کے فریادی بن گئے۔کل رات شب برات تھی بٹتی تھی زندگی۔شب بھر میں بس خدا سے تجھے مانگتا رہا۔

_____________

تحریر: مظہر گھائل

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

ماڈل: وجاہت علی