پرانی تصویر_________________شیما قاضی


آج مجھے تمہاری آٹھ سال پرانی تصویر مل گئی تو یوں لگا تم مل گئی ہو۔ وقت جو آگے کی طرف دوڑتا ہے۔ مجھے لگا پیچھے چلا گیا ہے۔
آنکھیں بند کرکے دیکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ وہ سارے مناظر، وہ ساری مسکراہٹیں جو وہیں کہیں ان دیواروں میں قید ہیں۔ ان کو جا کے دیکھ آتی ہوں اور پوچھتی ہوں ہم تو زندگی میں بہت آگے بڑھ گئے ہیں۔ تم بتاو بھلا تم یہاں کیوں قید ہو؟ چھوڑ کیوں نہیں دیتے یہ ٹھکانہ۔۔۔ مگر وہ جواب نہیں دیتے عمارہ احمد! یادیں جتاتی نہیں ہیں مگر وفا کرتی ہیں۔ اور اب دیکھو! تم کتنی بڑی ہوگئی ہو۔ آگے بڑھ گئی ہو یہ جانے بغیر کہ تمہاری شیما باجی آج بھی آنکھیں بند کر کے ان مناظر سے باتیں کرتی ہے۔ وہیں پہ اٹکی۔ وہیں پہ رکی۔ چائے پیتی ہے تو ہنستی ہے کیونکہ اسے تمہارے سڑکے یاد آتے ہیں۔ اب کوئی تحریر لکھ رہی ہوتی ہے تو اس کہ اونچی نیچ کو بھی خود ہی دیکھتی ہے کیونکہ اب اس کے پاس کوئی عماری نہیں ہے!
اس زمانے میں جب ہمارے درمیان بہت ساری لڑائیوں کے باوجود بے پناہ محبت تھی۔ جب میں تمہیں ہر الٹی سیدھی بات بنا تمہید کے بتا دیا کرتی تھی کیونکہ مجھے یقین ہوتا تھا کہ تم سنتی ہو تو سمجھتی ہو اور سمجھ لیتی ہو تو میرا درد بانٹتی ہو۔ میرا بوجھ کم کردیتی ہو۔ تمہاری معصوم سی آنکھیں اور تمہاری لمبی زبان۔۔۔ جو مجھے جواب دیئے بغیر رکتی نہ تھی۔ یاد ہے ہم الجھ پڑتے تھے تو بحث ہوتی تھی۔ پھر لڑائی اور پھر قطع کلامی۔۔۔ کبھی کبھی تو میرا دل کرتا تھا تمہارا گلا دبا دوں لیکن پھر نجانے بات کیسے شروع ہو جاتی تھی؟ محبت اتنی تھی کہ صبح و شام لڑنے کے بعد بھی ختم نہ ہوئی۔ گھنٹوں ہم جافری میں بیٹھ کے کسی شعر تو کسی کہانی پہ بات کرتے۔ آدھی آدھی راتوں تک باہر بیٹھ کے مچھر مارتے اور باتیں کرتے۔ اتنی باتیں کرتے کہ لگتا تھا باتیں ختم ہو جائیں گی مگر نہیں۔ اگلے دن اس سے زیادہ باتیں اور محبت ہوتی تھی۔چاندنی راتوں کو جافری کی جھالیوں سے چاند دیکھتے تھے اور خواہش کرتے کہ کاش ہم باہر جا کر واک کر سکتے۔ مگر باہر کون چھوڑتا تھا؟ عائشہ تو دس بجے آنے ساری لائٹس آف کروا دیتی تھی اور پھر ہم اندھیرے میں بیٹھ کر بات کرتے۔ ہنستے۔لڑتے۔ ایک دوسرے کی جان عذاب کرتے مگر معمول نہ بدلتے۔ ہم یکجان دو قالب تھے عمارہ احمدقاضی۔۔💞
تم جانتی ہو مجھے کیا لگتا ہے؟ مجھے لگتا ہے ہم عالم ارواح سے بہنیں تھیں۔ پیدا الگ الگ ہوگئیں اور پھر اللہ نے ہمیں ملا دیا کیونکہ دیکھو مجھے برداشت کرنے والا کوئی نہیں تھا اور تم سے مجھ جتنی محبت کوئی کر نہیں سکتا تھا تبھی ہم مل گئے۔ مگر دیکھو اس میں بھی مصلحت تھی کہ ہم ایک گھر میں پیدا نہیں ہوئیں ورنہ تم جانتی ہو کیا ہوتا؟ ہماری ماں ہمارے جھگڑوں سے تنگ آکے خودکشی کرلیتی یا ہمیں مار دیتی۔۔ چلو اچھا ہے جان کی امان مل گئی۔۔🙂
ارے یاد آیا اس سب میں میں نے تمہارے یونیفارم دھونے کی بات تو جتائی ہی نہیں۔ کس قدر گندا یونیفارم تھا تمہارا جس کو دھوتےدھوتے میرے ہاتھ دکھ گئے تھے۔
اور سڑکے۔۔۔ وہ میں کیسے بھول سکتی ہوں؟ ہر رات ہمارا چائے کے سڑکے لگانے کا مقابلہ ہوتا تھا۔ لمبے لمبے سڑکے لگا کر ہم ایک دوسرے سے جیتنے کی کوشش کرتے تھے۔ اور پھر گھنٹوں ایک دوسرے پر ہنسنے میں گزار دیتے تھے۔
تم تھوڑی سی بڑی ہوئی تو سمجھدار ہوگئی۔ میری باتوں کو نوٹس کر کے مجھے سمجھانے لگ گئی۔ افوہ میں بتا نہیں سکتی کس قدر نفرت ہوتی تھی تمہارے اس روپ سے جب تم میری نانی اماں بننے کی کوشش کرتی تھی۔ تم تو میری بلی تھی۔ تمہیں مجھ پر میاوں میاوں کا حق کس نے دیا تھا؟
اور تمہیں یاد ہے میرا پہلا ناول تم گھر لے کے گئی تھی چھٹیوں میں اور گھر جا کر پہلی کال تم نے مجھے کی تھی۔ تب تو فون بھی اپنا نہیں ہوتا تھا۔ امی سے موبائل لے لے کے تمہیں میسج کرتی تھی۔ تم زیادہ یاد آتی تھی تو کال کر دیا کرتی مگر اب دیکھو فون بھی اپنا ہے۔ تم یاد بھی آتی ہو مگر میسج نہیں کر پاتی۔ کرتی بھی ہوں تو جواب نہیں ملتا یا جواب ملتا ہے
شیمے پنڈی جارہی ہوں راستے میں ہوں۔ پہنچ کے بات کروں گی۔
یہی ہوتا ہے۔ تم کبھی کشمیر کبھی پنڈی تو کبھی لاہور جا رہی ہوتی ہو۔ اور تمہاری ان مصروفیات نے پتہ ہے کیا کردیا؟ یہ کھا گئیں ہمارا تعلق۔۔
پہلے شیما باجی کہتی تھی تو سب ٹھیک تھا۔ یاد ہے نا سب ٹھیک تھا۔ پھر تم نے مختصر کر کے شیمے کردیا تو تعلق بھی مختصر ہوگیا اور اس کے بعد شیم ہوگیا تو پتہ ہی نہیں چلا کہ ہم ایک دوسرے سے کس قدر دور ہوگئے۔ اور اب تو معلوم بھی نہیں تم میرا ذکر کرتی ہو تو کیا نام لیتی ہو؟ کیا پتہ ذکر کرتی بھی ہو کہ نہیں؟
اب تو تم سے بے دھڑک ہر بات کہہ بھی نہیں پاتی کیونکہ مجھے معلوم ہوتا ہے تم نہیں سنوگی۔ سن لوگی بھی تو سمجھو گی نہیں۔ اور نہیں سمجھو گی تو درد نہیں بانٹوگی۔ بوجھ ہلکا نہیں کروگی اور یہ سب ہوگا تو بات سلجھے نہیں الجھ جائے گی۔ اور اب تو سوچتی ہوں جتنا فاصلہ ہے۔ کافی ہے۔ ورنہ اس سے زیادہ بڑھے گا تو بات بگڑےگی اور ایک وقت ایسا آئے گا جب تم سے کوئی پرانا جاننے والا پوچھے گا کہ تمہاری شیما باجی کیسی ہے؟ تو تم پہلے سوچوگی۔ یاد کروگی کہ بھلا شیما باجی کون ہے؟ اور جب یاد آئے گا تو تم جواب دو گی ارے ان سے تو برسوں ہوئے بات ہی نہیں ہوئی۔ اب تو یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کا جو نمبر میرے پاس ہے۔ ان کے استعمال میں ہے بھی یا نہیں۔۔۔۔۔
________________

تحریر: شیما قاضی

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

8 Comments

  1. دِل سے لکھی گئی تحریر۔

    محبت نامے سے کہیں بڑھ کر۔

    ~
    بے تعلق ہی سہی اس کو مگر ہے مجھ سے
    اک سروکار، سروکار بھی بھی ایسا ویسا

    Like

  2. امجد اسلام امجد کی وہ نظم یاد آ گئی

    —–

    ۔
    ۔
    ۔
    ۔
    ﻣﮕﺮ ﺍﮮ ﻣﻮﺳﻢِ ﮔﺮﯾﮧ
    ﺍُﺳﯽ ﺳﺎﻋﺖ
    ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﺲ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺗُﻮ ﭼﻼ ﺁﯾﺎ
    ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺑﯿﭻ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺍ
    ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺑﯿﭻ ﺳﮯ ﺗُﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮔﺰﺭﺍ
    ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺩﻭ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺎﭨﺘﯽ ﺳﺮﺣﺪ
    ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﺑﺲ ﺩُﻭﺭﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﺮﺩ ﺍُﮌﺗﯽ ﮨﮯ
    ﺍُﺳﯽ ﺍِﮎ ﮔﺮﺩ ﮐﯽ ﺗﮩﮧ ﺳﯽ
    ﺗﺠﮭﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﯽ ﺑَﯿﻞ ﭘﺮ ﺟﻤﯽ ﺷﺎﯾﺪ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ
    ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﻤﯽ ﺷﺎﯾﺪ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ
    ﺗﻤﻨّﺎ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﺮ ﺩَﻡ ﻣُﺴﮑﺮﺍﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ
    ﺍﺏ ﺍُﻥ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﻮﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﯽ ﺷﺎﯾﺪ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ

    Liked by 2 people

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.