ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے کہ طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران اچانک ہمارے گاؤں پر گولہ باری شروع ہوگئ۔ دل دہلا دینی والی گولہ باری کی آوازیں بچوں اور بڑوں سب کے لیے انتہائ غیر متوقع تھیں۔ نشانہ لوگ نہیں تھے لیکن اس کی دہشت ناقابل بیان تھی ۔ ہمارے گھر کے سامنے والی پہاڑی نے آگ پکڑ لی اور آگ آہستہ آہستہ نیچے آرہی تھی تو گمان بڑھنے لگا کہ اب گھر لپیٹ میں آجائیں گے لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ آگ گھروں تک پہنچنے سے پہلے بجھ گئ۔ گولوں کی گھن گرج میں وہ رات کیسے کٹی؟ نہیں معلوم۔ اگلے دن پورے گاؤں نے ہجرت کا آغاز کیا گھر کے سامنے ایک بڑے پہاڑ کو پیدل سر کرکے اس پار اترنا تھا۔ کچھ لوگ گاؤں میں رہ گئے اور باقی سب چل پڑے۔ بچے، بوڑھے اور خواتین سمیت ایک سیل رواں تھا۔ پہاڑ سر کرکے چوٹی پر کچھ دیر سستانے کو بیٹھے تو ایک دوست نے نیچے گاؤں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کیا کہتے ہو؟ تمہیں نہیں لگتا کہ ان وادیوں میں ویسے دن اب کھبی لوٹ کر نہیں آئینگے؟ میں نے ہنس کر کہا کہ اس بات کا تو نہیں پتہ کہ میں اور تم رہینگے یا نہیں لیکن اس بات کا یقین ہے کہ وہ دن لوٹ کر آئینگے انشاءاللہ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہجرت کے اس زمانے میں گاؤں کے ایک  لڑکے سے سر راہ ملاقات ہوئ تو لپٹ کر رو دیا حالانکہ گاؤں میں بس رسمی علیک سلیک ہی تھی۔  پوچھا کیوں روئے پگلے؟ کہنے لگا نہیں معلوم بس رونا آگیا۔ تب یہ احساس ہوا کہ رشتوں اور محبتوں میں ایک بے نام سی کشش ہوتی ہے۔ یہ پاس رہیں تو اتنا احساس نہیں ہوتا  کہ ہر وقت کی قربت میں انسان اکثر بیگانہ رہتا ہے لیکن آزمائش میں ذرا سی دوری ان رشتوں اور محبتوں پر سے ہر زنگ اتار دیتی ہے اور یہ خوابیدہ رشتے ابھر کر اپنے ہونے کا احساس دلا دیتے ہیں۔  یاد ہے مجھے کہ  ایک گرم طویل رات ہم ایک جگہ بیٹھے یونہی ہجر کے نغمے گنگنا رہے تھے کہ ایک ساتھی کا یہ فقرہ میرے دل میں پیوست ہو گیا کہ “خدایا جنت راکے خو چہ سوات پہ شان یئی”۔ (خدایا جنت دے دے بس سوات کی طرح ہو) پلٹ کر اس کی طرف دیکھا تو اسکی آنکھوں میں چھپی نمی صاف دکھائ دے رہی تھی۔ ہم میں سے کوئ نہیں جانتا تھا کہ ہم کب اپنے سبزہ زاروں کی طرف واپس لوٹیں گے۔    ہم میں سے بہت سوں نے بہت سے اپنوں کو دھماکوں میں کھویا۔ لوگوں اور فورسز کی قربانیوں اور مسافتوں کی ایک طویل داستان ہے جس کے بعد وہ دن بھی آگیا جب ہم اپنی “جنت” کی طرف لوٹ گئے۔ تب سے جو محبت اپنی مٹی سے ہوئ وہ دن اور آج کا دن کہ کبھی اس میں کمی محسوس نہیں ہوئ۔ دل میں موجود اکثر سوالوں کے جواب مجھے ہجر کی انہی طویل ساعتوں میں ملے۔ رشتوں کی مٹھاس کیا ہوتی ہے؟ محبتیں کیا ہوتی ہیں؟ وطن کی خوشبو کا کیا مطلب ہے؟ سب جواب مل گئے۔ ہجر کے ان دنوں میں جس طرح رشتہ داروں کی محبتیں یک جان ہوئیں، جس طرح ہم بے وطنوں کو سینے سے لگا کر رکھا گیا، جس طرح ہم کسی اپنے کی کہیں خبر پا کر اس سے ملنے جاتے تھے، ان لمحوں کے احساسات آج بھی دل پر نقش ہیں۔ آزمائشیں کیا ہوتی ہیں؟ آزمائشوں سے محبتوں کے کیسے کیسے کونپل پھوٹتے ہیں؟ یہ بھی میں نے تب ہی جانا۔ آج پھر ایک آزمائش سے دوچار ہیں ہم سب۔ میں بھی، آپ بھی اور پورا وطن ہی نہیں بلکہ پوری دنیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کب ختم ہوگی؟ ہاں اتنا جانتا ہوں کہ جلد انشاءاللہ جلد۔ یاد رکھیے گا یہ آزمائش بہت کچھ سکھا جائے گی۔ اس آزمائش کا پہلا مرحلہ ہی محبتوں اور قربتوں کا ہے کہ لوگ گھروں میں “قید” ہو کر اپنے لوگوں کی قربت کو محسوس کرنے لگ گئے۔ یہ قربتیں ایک میٹھے درد کی صورت گھر کے آس پاس سے ہوتی پورے ملک کو یک جان کر دے گی۔  آگے دیکھتے جائیے گا یہ آزمائش رشتوں پر لگے ہر زنگ کو مٹا دیگی۔ ایثار اور باہمی احترام کی نئ مثالوں کا سبب بنے گی۔ ہم کچھ زیادہ ہی دوڑنے لگے تھے۔ نہیں؟ اور اس دوڑ میں خدا کا زندہ احساس بھی ماند سا پڑ گیا تھا۔ جانتے ہیں؟  یہ احساس جب ماند پڑ جاتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے کچھ کھو گیا ہو، اندر ہی اندر ایک خلا سا بن جاتا ہے، ادھورے پن کا عجیب سا احساس۔ یہ آزمائش اس خلا کو پر اور  اس ادھورے پن کو دور کر دے گی۔ خوف اسی ادھورے پن سے، اسی خلا کے کسی خانے میں ہی تو جنم لیتا ہے۔  خدا کا زندہ احساس ہر خوف سے آذاد کرکے ہم سب کو اسی سے جوڑ دے گا۔  یاد رکھیے گا جب یہ آزمائش ختم ہوگی اور سب گھر سے باہر کھلی فضا میں ماسک کے بغیر لمبی سانس لیں گے تو ارض پاک کی مٹی کی خوشبو بھی محسوس کر لیں گے۔  یہ سب کچھ تھا۔ یہ رشتے، یہ محبتیں، یہ خوشبو۔۔۔ سب کچھ ، اور خدا بھی زمین سے کہیں گیا نہیں تھا۔ بس ہم ہی کہیں کھو گئے تھے۔ اب جب اپنا پتہ ملے گا تو دیکھ لیجیے گا محبتیں  اور رشتے   نئے رنگوں کے ساتھ ایکدوسرے کو  اپنا منتظر پائیں گے۔ ان دنوں میں کرنا اور کچھ بھی نہیں بس احساس کو جگانا ہے اور ابھارنا ہے،   اپنے انسان ہونے کو تسلیم کرنا ہے۔۔ یہ احساس جونہی ابھرا باقی کام یہ خود کر دے گا۔ رہا زندگی اور موت کا مسئلہ تو صاحب۔۔ موت کسی خاص آزمائش سے تھوڑی جڑی ہے، وہ پہلے بھی آتی رہی ہے، اب بھی آئے گی اور آئیندہ بھی آکر ہر اس شخص کو اٹھا لے جائے گی جن کا یہاں سے جانا اور نئ دنیاوں میں نئ زندگی کا آغاز لکھ دیا گیا ہے۔۔۔۔ جو احتیاط لازم ہے وہ کرکے آنے والے خوبصورت کل کی امید قائم رکھیں۔

_____________

تحریر:اشفاق احمد

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف