وہ جا چکی تھی لیکن میرے لیے ایک معمہ چھوڑ گئی تھی۔۔ وہ اپنے مزاج کو بدلنا چاہتی تھی لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی لائی تھی کہ مزید کتنی تبدیلی اور۔۔۔؟

بننے کی عمرمیں اسے بار بار توڑا گیا، اب وہ بننے کی عمر سے بھی نکل چکی ، اب بھی سب اس کا کوئی نیا، کوئی منفرد version چاہتے ہیں۔۔ اب بھی لوگ اس سے خوش نہیں ہیں۔۔ وہ خود بھی خود سے مطمئن نہیں ہے۔۔
وہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہے، اس کی امی بیاہ کر ایک joint family کی بڑی بہوؤں میں شمار ہوئیں۔ انہیں بہت ارمانوں اور چاؤ سے بیاہ کر تو کے آیا گیا لیکن نہ جانے لانے والے ان کی خوبصورتی اور ذہانت سے متاثر تھے کہ تعلیم سے، کہیں آنے والی ان کے بیٹے کو قابو میں نا کرلے، ایک خودساختہ محاذ کا آغاز کردیا گیا۔ ان کی پہلی اولاد ہوئی تو اسے بھائی اور بیٹے کی اولاد سمجھ کر مان دینے کی بجائے اس بہو کی، بھابھی کی اولاد سمجھا گیا۔ اور بھابھی تو خاندان سے باہر سے بیاہ کر لائی گئیں تھیں، تو غیر ٹھہریں۔۔ غیر تو غیر ہی ہوتے ہیں نا! والد کی بے اعتباری اور والدہ کی بڑی بہو ہونے کے ناطے شدید مصروفیت نے اسی تختہ مشق بنانے والوں کو خوب شہہ دی۔ والد کی کمزوری ‘اولاد کی بہترین تربیت’ تھی اور اس کمزوری کو بھرپور استعمال کیا گیا۔ ہوش سنبھالنے کے بعد سے ہی اس پر جھوٹے الزامات لگائے گئے اور والد کو ماں بہنوں پر اس قدر اعتبار کہ ہر بار قصوروار بچی ٹھہری اور اس کی ذمہ دار ماں کی ناقص تربیت۔ وہ خاموش رہے تو مجرم ٹھہرائی جائے اور اپنی صفائی میں کچھ کہے تو زبان دراز اور بدتمیز جس میں سب کو ماں کی تربیت کا عکس دکھائی دینے لگتا۔ والد کی غیر موجودگی میں سب کی جانب سے اس بچی کو ڈرا دھمکا کر زبان بندی پر مجبور کیا جاتا رہا۔ اور ماں،، وہ تو کہیں تھی ہی نہیں، اس کی مصروفیت اس کو ان سب باتوں کا علم نا ہونے دیتی، اگر کبھی علم ہو بھی جاتا تو کیا فرق پڑ جاتا؟ بولنے کی اجازت تو اسے بھی نا تھی۔بڑے تو trends setters ہوتے ہیں، وہ چیزیں اور رویے نیچے منتقل کرتے ہیں۔ یہی سب ان کی اولادوں میں بھی منتقل ہوا۔ اس سے زبردستی اپنے مطلب کے کام کروائے جاتے اور پھر وہ لاڈلے ہونے کے ناطے منظرنامے سے غائب ہوجاتے اور پیچھے ایک چھ سات سال کی ڈرپوک بچی رہ جاتی اور اس کا قصور! پھر خاندان کے ‘بڑوں’ پر مشتمل عدالت سجتی اور ہمیشہ والی کہانی پھر سے دہرائی جاتی۔ اس بچی پر ہر چیز کی پابندی تھی، اس کی دادی کو وہ ہنستے ہوئے اچھی نہیں لگتی تھی سو اس عمر میں جب چہرے سے ہنسی جدا نہیں ہوتی، اور وہ ہنسی اس گھر کی رونق ہوتی ہے، اس بچی کے ہنسنے پر پابندی لگا دی گئی۔ والد جو اس کے والد ہونے سے پہلے ماں کی لاڈلی اولاد اور بہنوں کا مان تھے، وہ اس پابندی کو اپنی بیٹی کی ‘بہتری’ قرار دیتے ہوئے ان کے ہمنوا ہوئے کہ آخر ان کی ماں بہنیں ان کی اولاد کیلئے کچھ غلط تو نہیں سوچ سکتیں نا! کھلونوں سے کھیلنے کی عمر میں اس کے پر گڑیا کو ہاتھ لگانے پر پابندی تھی کہ گڑیا “بُت” ہوتی ہے اور بُتوں کو “پوجنے والے” جہنم کی آگ میں جلیں گے(اس بات سے قطع نظر کہ اس کی کزنز کے پاس بھی گڑیاں تھیں اور وہ بھی اس سے کھیلتی تھیں!) بھئی اس کی تو “تربیت” ہورہی تھی نا!!یہ صرف دو مثالیں ہیں اس سب کی جو ‘تربیت’ کے نام پر کیا جارہا تھا۔ اسے ہر اس کام سے روکنے کی کوشش کی گئی جہاں یہ محسوس ہوتا تھا کہ وہ یہ کرنا چاہتی ہے اور ہر اس کام پر مجبور کیا گیا جس پر وہ راضی نا تھی۔ اس کی عزتِ نفس کا بار بار جنازہ نکالا گیا، اس کے اعتماد کو اس بری طرح مجروح کیا گیا کہ اب بھی کئی جگہوں پر اس کے پاس بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی خاموشی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس کو اس کی صلاحیتوں کی افزائش کے مواقع دینے کی بجائے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔اس بچی کو ہر طرح سے ٹارچر کیا گیا، ڈرا دھمکا کر رکھا گیا (یہاں تک کہ بڑے ہونے کے بعد اب تک بھی محفلوں میں اس کے بچپن کے وہ دن یاد کرکے اس کے آنسوؤں پر قہقہے لگائے جاتے ہیں)لیکن اس کے والد کو سب واقعات کا علم نا ہو سکا، ہوتا بھی کیوں؟ انہیں ‘اپنوں’ پر پورا اعتبار تھا کہ جو بھی کریں گے، ان کی اولاد کی ‘بہترین تربیت’ کیلئے کریں گے اور ناقابلِ اعتبار ٹھہری وہ معصوم بچی جو اب، عمر کے اس حصے میں آکر بھی ناقابلِ اعتبار ہے اور بے اعتباری اس کے ریشے ریشے میں اس قدر سرائیت کر چکی ہے کہ اسے یقین ہے کہ زندگی کے کسی محاذ پر اسے کسی کی ضرورت پڑی تو بچپن کی طرح اب بھی اپنی جانب وہ اکیلی ہی ہوگی! 
وہ لڑکی اس سب کے باوجود بالکل ٹھیک ‘نظر آتی ہے’۔ اس کے پاس کبھی کوئی سہارا دینے والا نہیں رہا لیکن وہ سب کیلئے بہترین سہارا ثابت ہوتی ہے۔ حالات کی تلخیوں نے اسے دوسروں کیلئے بہت میٹھا بنا دیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ لڑکی کسی psychological disorder کا شکار ہوگئی، نہیں۔ وہ ہر کسی کو عموماً بہت مطمئن، بہت پر سکون نظر آتی ہے۔ وہ دوسروں کیلئے بہترین source of motivation ہے۔ لوگ اس سے انسپائر ہوتے ہیں۔ وہ کہہ رہی تھی کہ اسے اب کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہے، وہ بہت مضبوط ہے۔ بچپن میں وہ بہت ڈرپوک ہوا کرتی تھی، کوئی بھی شخص، واقعہ، چیز اسے ڈرا سکتی تھی، اور اس کارخیر میں ہر کوئی اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھتا تھا۔ اسے اب اس طرح سے ڈر نہیں لگتا لیکن اونچی آواز اب بھی اس کا دل دہلا دیتی ہے۔ شعوری طور پر وہ بہت بہادر ہے لیکن ‘خوف’ اس کے لاشعور میں کہیں پنجے گاڑ کر بیٹھا ہے۔  وہ بہت خاموش رہتی ہے اب کہ کہنے کیلئے کچھ ہوتا ہی نہیں۔۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس کے اردگرد کے لوگ اس کی خاموشی سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہیں بالکل اچھا نہیں لگتا جب وہ خاموشی سے اپنے کام کرتی رہتی ہے۔ اب وہ اس سے اس مزاج کا تقاضہ کرتے ہیں جو عموماً اس عمر کی لڑکیوں کا ہوتا ہے، شوخ اور چنچل۔ انہیں شکوہ ہے کہ وہ رنگوں پر بات نہیں کرتی، وہ کسی بھی ایسی چیز کو اتنی اہمیت نہیں دیتی جتنی اس کی باقی ہم عمر لڑکیاں دیتی ہیں۔ اور اسے کسی بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اب وہ خود بھی اپنے اس مزاج کو بدلنا چاہتی تھی کیونکہ اردگرد کے لوگوں میں اس کیلئے acceptance  نہیں ہے۔وہ سب کو معاف کر چکی ہے، زندگی میں بہت آگے بڑھ چکی ہے لیکن پھر یہ سب چیزیں اس کے مزاج کا حصہ کیوں بن چکی ہیں؟ زندگی کی پرسکون لہروں میں زور سے پڑنے والا کوئی پتھر اس کو کچھ وقت کیلئے وہ سب یاد ضرور دلا دیتا ہے، ایک ارتعاش اس کی پوری ذات کا احاطہ کرلیتا ہے لیکن پھر کچھ وقت کے بعد سب ٹھیک بھی ہوجاتا ہے۔۔ زندگی دوبارہ پرسکون ہوجاتی ہے۔ شعوری طور پر وہ بہت مطمئن ہے۔  لیکن وہ اپنے لاشعور میں بسی ان سب چیزوں سے چھٹکارا کیسے حاصل کرسکتی ہے؟ اس کا سوال یہ تھا۔۔اس کا سوال بس یہی تھا لیکن وہ جاتے ہوئے میرے ذہن میں اور بھی بہت سے سوالات پیدا کرگئی تھی کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟ مشترکہ خاندانی نظام جہاں ہر کوئی دوسرے کے معاملے میں ٹانگ اڑانا فرض عین سمجھتا ہے؟ یا وہ فرد جو رشتوں میں توازن نہیں رکھ پاتا؟ کسی رشتے کو بہت اہمیت دینا اور کسی کو دبا دینا؟ یا وہ لوگ جو اعتبار کا ناجائز فائدہ اٹھا کر صرف ذہنی تسکین کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں؟ یا پھر اسلام (جو حقوق العباد پر بہت زور دیتا ہے)، اس کو مکمل ضابطہ حیات سمجھنے کی بجائے صرف عبادات کا مجموعہ سمجھا جاتا ہے؟ 
خدا کیلئے انسانوں کو انسان سمجھیں، ان کے بھی جذبات اور احساسات ہوتے ہیں، دل و دماغ وہ بھی رکھتے ہیں۔۔ وہ ‘موم کی ناک’ نہیں کہ جہاں دل کِیا، موڑ دیا۔ رشتوں کے تقدس کا خیال رکھیں، خود سے جڑے لوگوں کو ان کے حقوق دیں، انہیں سانس لینے کیلئے تھوڑی space دیں اور ان پر اتنا حاوی نا ہو جائیں کہ وہ آپ سے دور جانے کے طریقے سوچنے لگیں۔ حقوق العباد کا معاملہ بہت نازک ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ بچے بہت نازک ہوتے ہیں، ان کے ذہن کوری سلیٹ کی مانند ہوتے ہیں، جو لکھا جائے، ساری عمر ساتھ رہتا ہے، ہر موڑ پر ان کے سامنے آتا ہے۔ بچوں کیساتھ معاملے کرتے ہوئے نزاکتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔کیا ضروری ہے کہ ہر خاموش جزیرے کو تہس نہیں کر دیا جائے؟

____________

تحریر:نور سحر

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف


نورِ سحر کے قلم سے!