بزدلی کا پیام بھاڑ میں جائے
ایسا ہر ہر نظام بھاڑ میں جائے

مصلحت کی پناہ میں رکھی
تیغ بھی با نیام بھاڑ میں جائے

راہِ حق میں نہیں ہو گر مصرف
یہ قلم، یہ کلام بھاڑ میں جائے

جو نہیں دیتا کیف اے ساقی
وہ ترا جام بھاڑ میں جائے

جو نہیں خیر دل میں، کیا کرنا
کینہ پرور سلام بھاڑ میں جائے

لاغری کہتی ہے تجھے زاہد
تیرا سجدہ قیام بھاڑ میں جائے

گر نہ ہو مفلسوں کو حاصل تو
ہر ذخیرہ گدام بھاڑ میں جائے

کلام:نورالعلمہ حسن

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف