صاحبِ حال_________عمر

صاحبِ حال کیسے بنا جائے؟
میرے خیال سے صاحبِ حال کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔
پر پھِر بھی، کوئی تو فارمولہ ہو گا ناں۔
اِن فارمولوں نے کافی نقصان کیا ہے۔ بات یہ ہے کہ ہر چیز الگ الگ نہیں ہوتی ، کہ اُس کی ناپ تول شدہ قیمت کو فارمولے کی مدد سے کِسی اور صفت میں تبدیل کر دیا جائے۔ اکثر چیزوں کی قیمت ناپ تول سے ماورا یونِٹس میں ہوا کرتی ہے۔ اسی لئے اسے قدر کہتے ہیں۔ قدر کا تعلق مقدار سے نہیں ، بلکہ معیار سے ہے۔ آپ نے اقدار کا لفظ سُنا ہو گا۔
جی۔
اقدار وہ چیزیں ہیں ، جو قیمتی ہیں۔ اسی لئے ہم اُنہیں عزیز رکھتے ہیں، اور اُن کا دفاع کرتے ہیں۔
تو کیا مقداری حیثیت میں کوئی چیز خود مختار نہیں؟
سب کُچھ باہم مربوط ہے۔ ایک کی کمی دوسرے کی زیادتی ہے، اور کائنات کا یہی توازن سکوت، جمود، تغیر اور حرکت کو معنی دیتا ہے۔
سکوت اور جمود میں کیا فرق ہے؟
سکوت مکمل بے حرکتی کی کیفیت ہے ، جیسے پہاڑ ہوا کرتے ہیں۔ ساکت۔
اور جمود اس پر طاری ہے، جو عام حالات میں ساکن رہے ، لیکن حرکت پذیر ہو سکے۔ جیسے درخت ہوا کرتے ہیں۔ جامد۔
کیا کائنات کا حُسن حال میں ہے؟
کائنات کا تو وجود ہی حال میں ہے۔
پر ہم حال میں نہیں رہ پاتے۔ ہمیں پچھتاوے اور اندیشے کیوں گھیرے رکھتے ہیں؟
دراصل ہماری یادداشت اور قُوتِ تخیل ، وقت اور زمانے کے ساتھ ہمارا ایک اِنٹرفیس ہیں۔ ایک رابطے کا پروٹوکول۔ ہماری اِن دونوں صفات کی واقعات کو یاد رکھنے ، نظریات کو تھام لینے، غور و فِکر کرنے اور معلومات کو برقرار رکھنےکی طاقت بہت زیادہ ہے۔ یعنی رِی ٹینشن پاور۔
یہ تو اچھی بات ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ان دونوں صفات کی دھیان اور توجہ کی طاقت محدود ہے۔ یعنی فوکَس اور اٹین شن پاور۔
اچھا۔۔۔
اس سب کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عام طور پر لوگ ماضی یا مستقبل کو ، حال کی نسبت زیادہ یاد کرتے ہیں، اور ایسا وہ یادداشت اور تخیل کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ اسے آپ پُرانے سپنے اور توقعات کہہ لیں یا نئے خواب اور اُمیدیں، اچھی بُری یادیں کہہ لیں یا اچھے بُرے پیش منظر، ہر دو صورت میں وہ حال سے کٹ جاتے ہیں۔
اور اِس کا حل کیا ہے؟
اِس کا حل یہ ہے کہ غور و فِکر بامقصد کیا جائے۔ حُزن، ماضی کا صیغہ ہے۔ یہ اُن اَن کہے الفاظ اور اَن کئے اعمال (یا پھر کہے اور کئے گئے) کا پانی ہے، جو زندگی کے پُلوں کے نیچے سے بہہ چُکا ہے۔ اس پر پریشان ہونا کُچھ بھی حل نہیں کرتا۔ اسی طرح وہ وقت جو آیا ہی نہیں ، اُس کے بارے میں خدشات اور سراسیمگی نقصان دہ سوچ اور عمل ہے۔
پر آپ یقیناً اتفاق کریں گے کہ ہر انسان کو کوئی نہ کوئی مسئلہ اُس کی نیت اور عمل کی غلطیوں کے حوالے سے درپیش رہتا ہے ، جو اُس کے مستقبل کی نیت اور عمل پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اس کا حل توبہ ہے۔ توبہ ہمارے ماضی کی لغزشوں کو حال کے احساس اور مستقبل کی اُمید سے جوڑتی ہے۔ یہ وہ نعمت ہے، جو ہمیں ربّ نے عطا کی ہے ، اور جو ہمیں کِسی غلط فہمی یا خوش فہمی سے بہت اُوپر ، اپنی نیتوں اور اعمال کو اُس شعورِ مقدّسہ کی نظر سے دِکھاتی ہے، جو ہمیں پروردِگار نے ودیعت کیا ہے۔ اسے آپ ضمیر کہہ سکتے ہیں۔
تو معلوم ہوا کہ صاحبِ حال ، لمحۂ موجود میں رہتا ہے۔ اور اپنی ہر سوچ اور عمل کو آج کی روشنی میں دیکھتا ہے۔
جی۔ صاحبِ حال کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ نہ خوف میں رہتے ہیں، اور نہ غم میں۔ اُن کی نشانی وہاں بھی یہی ہو گی ، اور یہاں بھی یہی ہے۔

اصل تحریر کے لئے لنک کریں!

_______________

تحریر: عمر

فوٹوگرافی وکور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

10 Comments

  1. بہت ہی دلچسپ مضمون ۔۔ ایک راے میری یہ ہے کہ انگریزی الفاظ کا اردو مترجم استعمال کریں ۔۔۔ اس سے اور خوبصورتی بڑھے گی۔۔۔ باقی وسلم۔۔۔ شکریہ

    Liked by 2 people

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.