ہمارے گھر میں ایک آٹھ سالہ فرشتہ رہتا ہے ۔ اس کے سکول کب سے بند ہوگئے لیکن یہ سب اس کے لیے نیا نہیں ۔ بم دھماکوں کی وجہ سے تحفظ کی خاطر ان کے سکول آئے دن بند ہوتے رہتے ہیں ۔ ہم گھروں پہ محصور ہونے لگے تو وہ تب بھی لاعلم رہا کہ حفاظت کی خاطر اسے ویسے بھی باہر جا کر کھیلنے کی اجازت نہیں ۔
اسے خبروں سے پتہ چلا چین بند ہو چکا ہے تو وہ پہلی بار قدرے پریشان ہوا کیونکہ اس کے سارے کھلونے وہاں سے بن کر آتے ہیں ۔
جب وبا پھیلنے لگی اور چلتے چلتے اٹلی تک جا پہنچی تو وہ باقاعدہ رونے لگا ۔ کیونکہ اسے فراری پسند ہے وہ فیاٹ کا بھی فین ہے اور لیمبرگینی میں گہری دلچسپی رکھتا ہے ۔ کھانے میں پاستا اور پیزا اسے مذید اطالوی عوام کے قریب لے گیا ۔ وہ خود سے ڈولینگو ایپ سے اطالوی زبان سیکھتا رہتا ہے ۔ دنیا کو اس طرح قید و بند میں دیکھنا اس کے لیے بہت تکلیف دہ ثابت ہوا ۔ کیونکہ اس کے لیے تو کابل کی وادی کے باہر ہر جگہ جائے پناہ تھی ۔ وہی جائے پناہ جب نظر بند ہو جائے تو یقیناً تشویش ہوتی ہے ۔ ایک بار اس کی جیوگرافی کی کتاب میں ایک سوال تھا کسی جزیرے اور اپنے علاقے کی خصوصیات الگ الگ خانوں میں لکھیں تو اس نے سسلی کا جزیرہ منتخب کیا ۔ کاپی پہ لکیر کھینچی اور دو خانوں میں ایک پہ لکھا کابل دوسرے پہ لکھا سسلی ۔ کابل کے نیچے لکھا پہاڑ ، وادی ، برف ، جنگ ، اور سسلی کے نیچے لکھا ریت ، چٹان ،ساحل ، سورج اور امن ۔
۔


وہ حیران تھا کہ ایک بیماری سے لوگ اتنے خوفزدہ کیوں ہیں ۔
آخر ہم نے اسے سمجھایا ۔ وائرس کِسے کہتے ہیں اور دنیا میں کیا ہو رہا ہے ۔
وہ معصومیت سے بولا کیا :
“ کیا ساری دنیا افغانستان بن چکی ہے ؟ “
پھر اس نے ایک دھنک بنائی اور اس پہ اٹلی میں گردش کرنے والا مشہور جملہ لکھا
‏“ Andra tutto bene “
ترجمہ : یہ وقت بھی گزر جائے گا
وبا امریکہ پہنچ گئی اور وہ امریکہ کے افغانستان پہ دیرینہ تسلط اور ارد گرد سے بدگمانیوں کی سُن گُن کے باوجود ایک بار پھر وہ غم ذدہ ہوگیا ۔ کیونکہ اسے امریکہ پسند ہے ۔اس کی بیشمار وجوہات ہیں ۔ سات سمندر پار امریکہ اپنی تمام تر ہیبت کے باوجود ساری دنیا کے بچوں اور جوانوں کے لیے خوابوں کی دنیا ہے ۔ انھیں لگتا ہے وہاں زندگی نیویارک کی شاموں کی طرح رنگین اور پرامن ہے ۔ اس کا پسندیدہ کردار کپتان امریکہ اسے محفوظ رہنا سیکھاتا ہے ۔ وہ کاپی پہ شیلڈ بناتا ہے اور وائرس کو شکست خوردہ دیکھا کر خوش ہوتا ہے ۔ وہ ہندوستان جانے کا بھی خواہشمند ہے جہاں وہ ہولی کے رنگین تہوار منا سکے ۔ اس کی ڈائری پہ ایک نقشہ بنا ہے جس پہ آئے دن وہ کراس کے نشان لگا کر ان دیکھے ممالک جانے کی خواہشمند فہرست کو طویل کرتا رہتا ہے ۔ وہ ان دنوں شدید مخمصے میں ہے ۔
کہتا ہے “Virus is a terrorist“
اور میں سوچتی ہوں کیا یہ افتاد بھی باقی تھی ۔

دنیا کی چہل پہل گلابوں والی وہ گلابی گلی ہے جس سے ہر شخص جب بھی گزرتا ہے بھانت بھانت کے لوگوں کی بھینی بھینی خوشبو سے مسحور ہوتا ہے ۔

اگر ایک پل کو یہ چہل پہل رک جائے تو یہ تصور ہی کسی بھیانک خواب کی طرح جان لیوا معلوم ہوتا ہے ۔
کرفیو سے ڈسے محلے ہوں یا بدامنی میں خوف سے دبکے چوگلے ہوں ۔
قید و بند ایک عذاب ہے ۔ کبھی کبھار یہ عذاب بقا کے لیے ضروری بن جاتا ہے ۔ زندگی کی خاطر ، بقا کے نام پہ ہمیں ہر سختی قبول ہے ۔
وبا کے دنوں میں سب کےخدشے سانجھے ہوتے ہیں ۔ بدامنی میں سب کی آنکھیں نکل آتی ہیں ۔ قدم دہلیز سے باہر رکھتے ہی راستے پہ بچھا ڈر آہٹوں کا سایہ بن کر ساتھ ساتھ چلنے لگتا ہے ۔
دنیا جس خوف میں اب مبتلا ہوئی ہے ہم برسوں اس برسات میں نمک کی طرح گھلتے رہے ہیں ۔
میں دنیا کے اس خطے سے ہوں جہاں لوگ پچھلے چالیس سال سے قرنطینہ میں ہیں ۔ کبھی جزوی نظر بندی تو کبھی مکمل قید و بند ۔
ہمیں کھڑکیوں سے خالی سڑکوں کو جھانکتے عرصہ بیت چکا ہے ۔
پھر انھی سڑکوں پہ بھوک کے مارے لوگوں کو مجبوراً متحرک دیکھ کر انجانی خوشی کو محسوس کرنے کی لذت سے بھی بارہا واقف ہوئے ۔
ہم گھروں میں بند ایک دوسرے کے چہرے دیکھ کر اوب جانے کی کیفیت سے بھی آشنا ہیں ۔ حتیٰ کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ آئینوں پہ جالی کے پردے ڈال دئیے ، بار بار اپنی شکل دیکھ کر آئینہ منہ چڑانے لگا تھا ۔کوارنٹین کی نوعیت مختلف ادوار میں بدلتی رہی ۔ گھر جب کاٹ کھانے کو دوڑنے لگے اور فرسٹریشن بڑھنے لگی تو لوگوں نے از خود اس کا حل سوچ لیا ۔ تب ہر گھر میں ہنرمندوں نے جنم لیا ۔ بیشتر خیاط اپنی سلائی مشین گھر لے گئے اور وہیں سے مشین کی گراری چولہے میں ایندھن ڈالنے لگی ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شوہر کپڑے کاٹتا ، بیوی سیتی اور بچے بٹن ٹانکتے ، کاج لگاتے اور ترپائی کرتے ۔ یوں ایک ٹیم سے ننھے منے کارخانوں نے جنم لیا ۔ اب یہ کہنا مشکل ہے کہ کابل میں کاریں ذیادہ ہیں یا خیاط ۔ اور ایسے ماہر خیاط کہ رسالوں سے ہو بہو نقل کر کے چار دن میں ایسی میکسی سی دیں جو ہالی ووڈ کی اداکارہ نے ریڈ کارپٹ پہ پہنی ہو ۔ کابل میں دشت برچی کی ہزارہ برادری اتنی پروفیشنل ہے کہ تین خیاط ایک دن میں سو جوڑے آسانی سے سی کر دے سکتے ہیں ۔ گو جدید مشینوں نے ان کے کام کی استعداد بڑھائی مگر ان کی لگن اور جانفشانی ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہے ۔ اُس دور میں کڑھائی کے نمونے اور باریک بینی بھی اپنے عروج پہ تھی ۔ رنگ برنگے دھاگوں سے عورتیں ایسے ایسے فن پارے تیار کرتیں کہ دیکھ کر یقین نہ آتا یہ نفاست مشین کا کام ہے یا ہاتھ کا ۔


ایک وقت ایسا آیا کہ بازار میں مخصوص کپڑا ملنا بند ہو گیا یا قوت خرید سے باہر ہوا تو عورتوں نے آٹے کے بوجھے پہ چار سوتی کڑھائی شروع کر دی ۔ ذیادہ تر جائے نماز ، ڈور میٹس اور میز پوش بنائے جاتے ۔ خامک دوزی ، گل دوزی ، گلابتون
کاڑھنے والی لڑکیوں نے ثابت قدمی سے حالات کا مقابلہ کیا تو دوسری طرف پڑھی لکھی خواتین الگ مثال قائم کی ۔ ہرات کے سلائی سنٹر میں خفیہ ٹیوشن سنٹر کھولے جہاں وہ ادب میں عصر جدید کے ناول نگاروں کو پڑھا کرتیں جن میں کافکا ، دستووسکی ، الیگزنڈر ڈوماز جیسے عظیم ادیبوں سے شناسائی اور فلسفہ جمالیات سے آگاہی حاصل کرتیں ۔ شیکسپئیر ، جیمز جائس ، نوبوکوف کے کلاسکس سے متعارف ہوتیں ۔ ادبی تنقید ، جمالیات اور فارسی پر لیکچر سنتیں “ وہ کتابوں کو تھیلوں میں چھپائے بظاہر طالبان کو یہ تاثر دیتیں کہ وہ خیاطی سیکھنے جاتی ہیں مگر اندر خانے وہ مشرقی اور مغربی ادیبوں کو پڑھ کر ان کی تحریروں پہ تبصرے کر کے ادب کی پیاس بجھاتی ۔ ایسی خواتین کا مفصل ذکر کرسٹینا لیمب نے اپنی کتاب
The sewing circles of Herat
میں کیا ۔ بعد از آں اس کتاب کا ترجمہ اردو میں “طالبان کا افغانستان “کے نام سے محمد یحییٰ خان نے کیا ۔
یاد رہے کرسٹینا لیمب وہی مصنفہ ہیں جنھوں نے پاکستان کی نوبل انعام یافتہ ملالہ کی کتاب لکھی ۔ کرسٹینا لیمب طالبان کے انخلاء کے بعد دوبارہ جب افغانستان آئی تو ہرات کی ان لڑکیوں سے ملی، وہی ٹیوشن سنٹر دیکھا اور پھر ان کے حالات و تاثرات اپنی کتاب میں قلمبند کئیے ۔ انھی لڑکیوں میں بعد میں نامور شاعرات اور مصنفات منظر عام پہ آئیں ۔
خدا ہر ایک کی محنت اور لگن کو رنگ لگاتا ہے ۔ ثابت قدمی کچھوے کی طرح ہمیشہ جیت جاتی ہے ۔

پر تب تک دنیا والوں کو کبھی احساس نہ ہوا قید تنہائی کیا ہوتی ہے ؟ ہم کس حال میں جی رہے ہیں ؟ فرانسیسی کی ایک کہاوت ہے زمین وہی جلتی ہے جہاں آگ لگی ہو ۔وہ وقت بہت عجیب تھا ۔ شروعات میں لگا جیسے آج یا کل میں ٹل جائے گا مگر گھڑی کی سوئیاں سست ہو گئیں ۔ سن ستر کے آخر میں ایسی جنگ چھڑی کہ ہم اپنے ہمسایوں کے شر سے پناہ مانگتے مانگتے تھک گئے ۔ پہلے بیرونی حملہ آوروں نے ہمارے علاقے اور حوصلے مسمار کرنے کی کوشش میں دس سال لگا دیے ۔ پھر ہمارے اپنوں میں طمع اور لالچ کی وبا پھوٹ پڑی ۔ وہ حکومت کی چاہ میں خانہ جنگی پہ مائل ہوئے ۔ ان سے جان چھوٹی تو کوزے میں بند کچھ اذہان مالک بن کر سر پہ سوار ہو گئے ۔ انھیں ہانکنے کے لیے سات سمندر پار سے جنگ کا دیوتا امن کے نام پہ سفید جھنڈا لہراتا ہمارے ملک کے رگ و پے میں سرایت کر گیا ۔ ان سے مد بھیڑ کرتی تربیت یافتہ کچھ کالی بھیڑیں عام عوام کے درپے ہو گئیں ۔ لاشوں پہ لاشیں اٹھا اٹھا کر قبرستان تنگ ہونے لگے ۔ پچھلے بیس سالوں سے ہمارے بیشمار لوگ صبح ہاتھ منہ دھو کر بال سنوارے ، ستھرے لباس پہن کر گھروں سے روزگار کے لیے نکلتے اور بم دھماکے کا شکار ہو جاتے ۔ کئی کے چہرے تو حادثے نگل گئے ۔ وہ خوبصورت مکھڑے لیے گھروں سے نکلے اور بنا چہرے لیے ٹکڑوں کی صورت واپس لوٹے ۔ ہم مسلسل چالیس سال خبروں کی شہ سرخیوں میں سانس لیتے رہے ۔ پھر ایسا وقت بھی آیا کہ آئے روز بم دھماکوں پہ دنیا والوں نے مذمت کرنا بھی چھوڑ دی ۔ شاید انھیں لگا ہو یہ تو ہمارے روز کا معمول ہے ۔
ہمارے بچے تعلیم سے محروم ہوئے اور ایک نسل نے ہمارے ہاتھوں میں دم توڑ دیا ۔ بچے کچے نوجوان ، بوڑھے اور بچے ، عورتوں سمیت ایک بار پھر قرنطینہ میں ہیں ۔جنگ ، جینوسائیڈ اور دہشتگردی سے نبرد آزما قوم کو اب وائرس کا خدشہ لاحق ہے ۔ ساری دنیا اس وقت ایک ہی تکلیف میں مبتلا ہے ۔ چین سے نمودار ہونے والے ایک قدرتی دہشتگرد نے اس وقت تقریباً دنیا کی سارے ملکوں کو ہراساں کر رکھا ہے ۔ دنیا میں ہلاکتوں اور متاثرہ افراد کے اعداد و شمار منٹوں کے حساب سے بڑھ رہے ہیں ۔ جبکہ باقی ماندہ تمام افراد انتہائی خوفزدہ ہیں ۔ یہاں صورت حال کم و بیش پرانی والی ہے بس خوف کا نام بدل گیا ہے ۔
ایران سے آنیوالے پہلے بیمار شخص نے ہرات میں داخل ہوتے ہی وائرس ہر اس شخص کو منتقل کر دیا جس سے وہ ملتا رہا ۔
اگر وہ شخص ایران سے نہ آتا تو یہاں کس نے آنا تھا ۔ ہم امن اور بدامنی کے شش و پنج میں مبتلا قرنطینہ کی پہلی حالت میں رہتے ۔ نہ وائرس پھیلتا نہ کوارنٹین کے نئے دور سے آشنا ہوتے ۔
عوام کو ابھی تک یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ہم دنیا کے اس غم میں برابر کے شریک ہوئے ہیں یا دنیا ہمارے غم سے آشنا ہو رہی ہے ۔ ایک اور افتاد یہ بھی ہے کہ عوام کو واضح کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے کہ خودکش حملہ آور اور وائرس ذدہ مریض میں بہت فرق ہوتا ہے ۔حکومت کہتی ہے گھر سے باہر مت نکلو تاکہ وائرس مکانوں کے اندر داخل نہ ہو یہی واحد طریقہ ہے جانی نقصان سے بچا جا سکے ۔
لوگ پوچھتے ہیں : اس کی کیا ضمانت ہے ہم پھر بھی نہیں مریں گے ؟
بھوک ، افلاس اور کسمپرسی والے ملک میں احتیاطی تدابیر کا لائحہ عمل بہت مختلف ہوتا ہے ۔
پہلے لوگ جمعہ نماز پڑھنے جاتے تو رکوع میں پہنچتے ہی ان کی ٹانگیں لرزنے لگتیں اس ڈر سے کہ ساتھ کھڑا آدمی کہیں خودکش حملہ آور نہ ہو ۔ اب اس خوف سے کانپتی ہیں کہ کہیں ساتھ کھڑا شخص کرونا کا مریض تو نہیں ۔ پہلے پہل تو اس ڈر کے باوجود کچھ عرصے تک نقل و حمل جوں کی توں جاری رہی پھر دھیرے دھیرے خوف دیواریں پھلانگ کر گھروں کے آنگین میں اترنے لگا ۔
مجبوری کا یہ عالم ہے کہ ریڑھی والے سبزی لے کر اب بھی نکلتے ہیں ۔ غبارے بیچنے والے بچوں نے سٹیشن بدل دیے ۔ وہ اب چوک کے سامنے نہیں ہسپتال کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں ۔ہمارے اپارتمان کے باہر ہر دوسرے دن بلدیہ والے ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کا سپرے کر جاتے ہیں گھروں کے اندر عورتوں کو متلی اور سر چکرانے کی شکایت ہوتی ہے ۔ باغبان سارا دن صفائیاں کرتا رہتا ہے ۔ اس کا دس سالہ بیٹا ڈیلوری بوائے بنا ہوا ہے ، کوارنٹین میں بیٹھے لوگوں کے سودا سود وہ ایک فون کال پہ لا کر دیتا ہے ۔ میں اس کے قدموں کی چاپ اکثر خالی راہداریوں میں سنتی ہوں ، کبھی ایسے لگتا ہے وہ دو دو زینے پھلانگ کر بہت جلدی میں کہیں روانہ ہے ۔ گھر گھر جا کر لوگوں کی فرمائش پوری کرنے پہ مامور کسی کو نان کسی کو نُقل پہنچا پہنچا کر اس کی ننھی ٹانگیں یقیناً تھک گئی ہوں گی ۔ اور سوچتا ہوگا یہ کوارنٹین کب ختم ہوگا ؟

عمر رسیدہ مصالحہ فروش ہر دوسرے دن لونگ اور کلونجی بیچنے آ جاتا ہے ۔
خیاط خواتین و حضرات ماسک بنا کر فروش کرنے میں مصروف ہیں ۔ وہ کہتے ہیں عید کے کپڑے سلوانے کے لیے کسی اور سے رجوع کریں ہم صرف ماسک بنائیں گے ۔ تاکہ پل صراط پہ یہی ماسک انھیں جنت تک پہنچانے کی سواری بن سکیں ۔ جمعہ کے دن ایک مُلا خطبے میں کہہ رہا تھا “ ایسے حالات میں مسجد آ کر نماز پڑھنا بھی جہاد ہے “
چونکہ موذن پہ جہاد فرض ہے اس لیے وہ باقاعدہ اذان دیتا ہے ۔ دوسرا ملا کہتا ہے وائرس دراصل غربی تبلیغات ہیں ۔ یہ سب سازش ہے ۔ ایمان تازہ کرو اور مسجدیں آباد کرو ۔ تعویز گنڈے کرنے والوں نے پرچیوں پہ نت نئی لکیریں کھینچ کر اور وظیفے بتا بتا کر ایمان کو مضبوط کرنے کا مفت میں ٹھیکہ الگ لے رکھا ہے ۔
سچ تو یہ ہے کہ اس خوف سے کئی لوگوں کا روزگار جڑ گیا ہے۔اور کئی لوگ بیروزگار ہوگئے ۔ کل ایک خیر مانگنے والے نے ماسک پہن رکھا تھا ۔ اُسی بے رونق بازار میں ایک مزدور بچہ چہرے پہ پلاسٹک کا لفافہ باندھے افسردگی سے ریڑھی کھینچے گندنا بیچ رہا تھا پر دور دور تک گاہک کا نام و نشان تک نہ تھا ۔
ہمیشہ گلی کی نکڑ پہ بیٹھا کلچے بیچنے والا بابا مجھے کہیں دیکھائی نہ دیا ۔
عقبی باغ میں لڑکیاں جہاں سٹاپو کھیلا کرتی تھیں وہاں اب خود رو گھاس اگ چکی ہے ۔
درختوں سے اٹکی بیشمار رنگ برنگی پتنگیں دیکھ کر آنکھ بھر آئی ، انھیں لوٹنے والے بچے کھڑکیوں سے ان پتنگوں کو دیکھ کر کیا سوچتے ہوں گے ؟
نانبائی کی دکان پہ پردہ لٹک رہا تھا ۔ شیر فروش کی بند دکان کا بورڈ “مسکہ ، چکہ ، پنیر و شیر “ لڑھکا ہوا تھا ۔ یقیناً گزشتہ بارشوں نے اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا ۔
میوہ فروشوں کی چھابڑیوں کے سامنے سے اکا دکا لوگ بھی کترا کر گزر رہے تھے ۔ سٹابیری اور انگور آ بھی گئے اور خریدنے والا کوئی بھی نہیں تھا ۔
ہمارے سامنے والے اپارتمان کی بالکونی میں بیٹھا لڑکا اکثر بے وقت بانسری بجانے لگتا ہے ۔ اس کے لے سے اداسی نکل کر چاروں اور پھیل جاتی ہے ۔ اچھی خاصی اداسی پھیلا کر وہ خاموش ہو جاتا ہے لیکن اس کی بانسری سے نکلے غمگین نغمے میری زبان پہ چڑھ جاتے ہیں ۔
ہم نے کھڑکیوں کے پیچھے رہ کر ایک عمر گزار دی پر یقین نہیں آتا کیا اب ساری دنیا واقعی اس کیفیت سے گزر رہی ہے ؟ ہم کبھی دنیا کو بتا نہیں سکے کہ خوف کس بلا کا نام ہے ۔ جب سر پہ موت کی تلوار لٹک رہی ہو تو بہار کے کھلنے والے شگوفے بھی اداس لگتے ہیں ۔ کینری کی آواز بھی جیسے نوحہ سنا رہی ہو ۔
خوف یک طرفہ محبت کی طرح نظر نہ آنے والا وہ روگ ہے جو دیمک کی طرح انسان کو چاٹ جاتا ہے ۔
آج سے عرصہ پہلے امیر جان صبوری کا لکھا اور گایا ہوا گیت ایک بار پھر ان حالات کی عکاسی کرتا ہوا ملک کے اندر اور باہر گردش کرنے لگتا ہے تو یقین ہوجاتا ہے کہ واقعی دنیا اب ہمارے غم سے واقف ہوئی ہے ۔

آہ امیر جان صبوری ، اس نے کس اذیت سے دل کو چھلنی کر دینے والے منظر کو کاغذ پہ اتارا ، کس کیفیت میں اس نے بے بسی سے لکھا ہوگا :
“میں ہر دروازے پہ دستک دے کر تھک چکا ہوں “
اففف کتنے سال بیت گئے اب جا کر شنوائی ہوئی اور دنیا نے جانا کہ شہر ، سڑک ، اور کوچے خالی ہو جائیں تو کیسے تکلیف ہوتی ہے ۔

گیت :

شهر خالى، جاده خالى، کوچه خالى، خانه خالى
( شہر خالی ، سڑک خالی ، کوچہ خالی ، گھر خالی )
جام خالى، سفره خالى، ساغر و پيمانه خالى
( جام خالی ، دسترخوان خالی ، ساغر و پیمانہ خالی )
کوچ کرده دسته دسته آشنايان عندليبان
( بلبلوں کے آشنا جتھوں کی صورت کوچ کر گئے )
باغ خالى، باغچه خالى، شاخه خالى، لانه خالى
( باغ خالی ، باغیچہ خالی ، شاخیں خالی ، گھونسلہ خالی )
واى از دنيا که يار از يار ميترسد
غنچه‌هاى تشنه از گلزار ميترسد
( وائے اے دنیا کہ دوست دوست سے ڈر رہا ہے ، پیاسی کلیاں بہار سے ڈر رہی ہیں )
عاشق از آوازه ديدار ميترسد
( عاشق دعوتِ دیدار سے ڈر رہا ہے )
پنجه خنياگران از تار ميترسد
( موسیقاروں کی انگلیاں ساز کے تاروں سے ڈر رہی ہیں )
شهسوار از جاده هموار ميترسد
( گھڑسوار ہموار سڑک سے ڈر رہا ہے )
اين طبيب از ديدن بيمار ميترسد
( یہ طبیب بیمار کو دیکھنے سے ڈر رہا ہے )
سازها بشکست و درد شاعران از حد گذشت
( سارے ساز ٹوٹ چکے ہیں اور شاعروں کا درد حد سے تجاوز کر گیا )
سالهاى انتظار بر من و تو بد گذشت
( سالہاسال کا انتظار ہم دونوں پہ بہت برا گزرا)
آشنا نا آشنا شد تا بلے گفتم بلا شد
( آشنا ، نا آشنا ہوگیا ، شناسائی سے پہلے ہی بلا بن گیا )
گريه کردم ناله کردم حلقه بر هر در زدم
( رویا ، فریاد کی اور ہر در پہ جا کر ماتم کیا )
سنگ سنگ کلبه ويرانه را بر سر زدم
( ویرانے کے پتھروں کو سر پہ مارا )
آب از آبى نجنبيد خفته در خوابى نجنبيد
(نہ ہی پانی میں جنبش ہو ہی نہ خواب غفلت سے سوئے ہوئے جاگے )
چشمه‌ها خشکيد و دريا خستگى را دم گرفت
( چشمے خشک ہو گئے اور دریا تھک چکے )

آسمان افسانه ما را به دست کم گرفت
( آسمان نے بھی میرے افسانے کو اہمیت نہ دی )
جام‌ها جوشى ندارد عشق آغوشى ندارد
( جام سرد ہو گئے ، عشق بے آغوش ہوگیا )
بر من و بر ناله‌هايم هيچکس گوشى ندارد
( مجھے اور میری فریاد کو کسی نے نہ سُنا )
بازآ تا کاروان رفته باز آيد
( واپس آ جاؤ کہ کاروان واپس آجائیں )
بازآ تا دلبران ناز ناز آيد
( واپس آ جاؤ کہ دلبروں کے ناز واپس آ جائیں )
بازآ تا مطرب و آهنگ و ساز آيد
( واپس آ جاؤ کہ مطرب و آھنگ اور ساز واپس آ جائیں )
تا گل افشانم نگار دلنواز آيد
(
گل بيفشانيم و مى در ساغر اندازيم
(تاکہ میں اس پہ گل پاشی کروں اور ساغر بھریں )

میں سوچتی ہوں بدامنی کسی وبا سے کم تو نہ تھی کہ سمجھی نہ جا سکتی ۔ البتہ اس دائرہ چھوٹا تھا ۔ اتنا چھوٹا کہ اس کے حصار میں ُاُن دنوں صرف ہمارا ہی ملک تھا ۔ افسوس کہ پھر کچھ اور ممالک بھی ہمارے ہم پلہ آ گئے ۔ وہ بھی نجانے کب سے قرنطینہ میں رہتے رہتے اوب چکے ہوں گے ۔ پر کوئی پرسانِ حال نہ ہوا ۔ کوئی نہ جان سکا کہ وہ کیوں کشتیاں بھر بھر زندگی داؤ پہ لگائے زندگی کی تلاش میں موت کو گلے لگاتے رہے ۔ ہجرتیں کرتے رہے ، مرتے رہے ۔ اب جبکہ وبا کی پچھل پیری سرحدیں پھلانگتی یہ جا وہ جا ہوگئی تو امیر جان صبوری کا درد دنیا نے سمجھ لیا اور وہ ایک بار پھر سے مشہور ہو گئے ۔ اور دنیا میں وہی الفاظ گونجنے لگے جو کابل کی وادیوں اور پہاڑوں پہ ادا ہوئے تھے ۔
وہ بھی ایک زمانہ تھا جب اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں ملک کے بےبس صدر ڈاکٹر نجیب نے تقریر کرتے ہوئے نہایت تکلیف سے کہا تھا :
“ این ہم می گذرد “
ترجمہ : یہ وقت بھی گزر جائے گا
(یہ جملہ آج بھی کابل کی کاروں کے پیچھے لکھوائے جانے والے جملوں میں مقبول ترین ہے “این ہم می گذرد” )
اور یقین جانیے واقعی اضطراب ، اذیت اور بدامنی سے بھرپور وہ وقت بھی گزر گیا ۔
مگر وائے قدرت یہی الفاظ اب دیگر ملکوں کی مختلف زبانوں میں گونج رہے ہیں ۔ہم نے اُس دور اور اس کی سختیوں سے سیکھا کہ جنگ کا دائرہ چاہے جتنا بھی بڑا کھینچو آخر اسے ایک دن مکمل ہونا ہوتا ہے ۔ اس کی تکمیل کا نام امن ہے ۔
اب کہیں جا کر ہم اور ہمارے دشمن اس پہ متفق ہونے لگے
کہ جنگ دو دھاری تلوار ہے اور نتیجہ یہ نکلا کہ اب غنچوں میں امن کی آوازیں بھی شامل ہیں ۔ یہ سب ثابت قدمی سے ممکن ہوا ۔ لوگ علامہ اقبال کے شعر کی طرح شجر امید سے پیوستہ رہے ۔
ہم جانتے ہیں کہ صرف امید ہی خوف کا واحد علاج ہے ۔
اب چونکہ ہم سب ایک ہی متعدی غم میں مبتلا ہیں اور نئی قسم کی کوارنٹین میں بیٹھے دنیا کو زاویے سے دیکھ رہے ہیں ۔
شاید یہ وبا بھی ضروری تھی ۔ اس نے ناک کان گلہ متاثر کر کے آنکھیں کھول دیں ۔
اس سے پہلے قرنطینہ میں ہمُ نے امن اور انسانیت کے معنی سمجھے تھے اب اس کوارنٹین میں قدرت کی قدر کرنا سیکھ رہے ہیں ۔
افغانستان کے لوگوں کی زندگی سے محبت اور زندہ دلی کی مثالیں دیتی بہت سی تصاویر گواہ ہیں ۔ ایک تو وہ جو عاشق مزاج سپاہی بندوق کی نال میں گلاب کا پھول اڑسے گشت پہ ہے اور ایک یہ کہ آج کل فیس بک پہ گردش ہے ۔
نقاب کو بھی ثقافت کی جھالر لگا دی اور دنیا کو خاموش پیغام دیا ۔۔۔۔
زندہ دلی آفتوں سے آلودہ نہیں ہوتی ۔
افواہوں سے آگے بھی ایک دنیا ہے اور خدشوں کے پیچھے بھی کوئی حقیقت ہوتی ہے ۔
یہ وائرس آسمانی افتاد ہے یا تیسری عالمی جنگ اس مخمصے میں پڑنے کے بجائے ہمیں تدابیر کی راہ ہموار کرنی ہوگی ۔
خاص کر ہمارے جیسے ممالک جہاں ایک طرف دریا اور دوسری طرف گھاٹی ہو تو درمیان کا راستہ بہترین ہوتا ہے ۔
چین سے جب وائرس کی وبا پھیلی تو کرونا سے ذیادہ اس بات نے لوگوں کو خوفزدہ کر دیا کہ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں ۔
قرآن میں ہے کہ جس میں خدا معالجین کو مخاطب ہو کر کہتا ہے

وَإِذَا مَرِضْتُ فھوَ يَشْفِينِ
تم صرف تسلی دیتے ہو ، علاج تو میں کرتا ہوں ۔

خدا کبھی بھی آسمان سے اتر کر ہمارے زخموں پہ پھاہے نہیں رکھتا بلکہ اس نے ہمارا مدافعتی نظام ایسے بنا رکھا ہے کہ مثبت سوچ اور شفا کی امید ہماری ول پاور کو ایسی خوراک دیتی ہے جو حملہ آور ہونے والے وائرس کے خلاف ڈٹ جاتے ہیں ۔
میں مانتی ہوں کرونا وائرس کی ویکسین ایجاد نہیں ہوئی ۔ اس کی دوا بھی بازار میں میسر نہیں المیہ یہ ہے کہ سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں ۔ ہنگامی حالات کے لیے کوئی ہسپتال نہیں تھا ۔ یہاں تک کہ چین کو ہنگامی طور ہسپتال بنوانا پڑا ۔ اس کے باوجود میں یہ کبھی نہیں کہہ سکتی کہ کرونا وائرس ایک لاعلاج مرض ہے ۔
اس کا علاج ، پرہیز ہے احتیاط اور فاصلہ ۔

متاثر ہونے والے مریضوں کے سر سے لاعلاج ہونے کا خوف اتار کر انھیں اچھے کی امید ہی شفایاب کر سکتی ہے ۔
ہم سب گھروں میں قید قدرت ماں کی مہربانی کے منتظر اچھے دنوں کو یاد کر کے خوش بھی ہوتے ہیں اور پشیمان بھی ۔
پشیمان اس بات پہ کہ کیسے ہمارا رہن سہن گنجلک دھاگوں کی طرح الجھا ہوا تھا ۔ ہماری خانگی تعلقات جوتے کے تسموں کی طرح بن چکے تھے جنھیں باندھتے وقت ہمیں کوفت ہونے لگتی کیونکہ ہمیں ایک دوسرے کو وقت دینے کی اتنی فرصت نہ تھی ۔ ہم ہمیشہ گھر سے نکلنے کے لیے بہت جلدی میں ہوتے ۔ ہماری خوراک جنک فوڈ کے سوا کچھ نہ نکلی ۔ جسم کو دھوپ لگوائے مہینوں گزر جانے کا احساس تب جاگا جب بدن نے الارم بجا دیا کہ وٹامن ڈی کم ہو چکی ہے ۔ بےرونق چہروں پہ ہم کاسمیٹک سے نکھار لانے کی کوششوں میں وقت اور پیسہ برباد کرتے رہے پر سورج کی آغوش میں پناہ نہ لی ۔ ہڈیاں چٹخ چٹخ کر کراہتی ہوئی کہنے لگیں کہ کیلشیم بھی کم ہو چکی ہے ۔ لیموں اور نارنج جیسے سستی اور وافر سٹرس میسر ہونے کے باوجود وہ سلاد کی پلیٹ میں ڈیکوریشن پیس کی طرح سجے رہ جاتے مگر کھانے کے دوران ہاتھ اٹھتے تو صرف سوڈا کی بوتل کی طرف۔ اور نتیجہ یہ نکلا کہ وٹامن سی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ۔ ہماری منفی سوچیں ہمارے معدے میں تیزابیت جمع کرتی رہیں پر ہم تعصب اور بغض سے پھر بھی باز نہ آئے ۔
کرونا وائرس نے ہمیں احساس دلایا کہ کس طرح ہم ہر الم غلم چٹخارے کے نام پہ کھاتے رہے اور بیشمار صحت افزا جڑی بوٹیاں ہمارے قدموں تلے مسلتی رہ گئیں ۔ تلسی ، ادرک ، ہلدی ، پودینہ ، لہسن ، کلونجی ، سونف ، زعفران ، سبز چائے ، نیم گرم پانی پینے کی قدر ہمیں اب جا کر ہوئی ۔
ہم درختوں اور جھاڑیوں سے کتنے دور چلے گئے تھے ۔ پودوں کو چھوئے ہوہے عرصہ بیت گیا ۔ پھولوں کے گلدستے صرف تحائف اور قبروں پہ فاتحہ کے وقت خریدے ۔ کبھی اپنے لیے پھول خریدا ، سونگھا اور کالر یا بالوں میں سجایا ؟ ۔
قرنطینہ ایک ایسے دورانیہ کا نام ہے جو ہمیں ہمارے قریب لاتا ہے ۔ بالکونی میں بیٹھ کر سنسان سڑکیں دیکھ کر کیا ہمیں احساس نہیں ہوتا ہے کہ کشمیر ، شام اور یمن میں یہ وائرس کیوں نہیں پھیلا ؟ ۔ ظاہر سی بات ہے وہ پہلے سے ہی کٹ آف ہیں دنیا سے انھیں بھی قرنطینہ میں گئے ہوئے عرصہ بیت چکا ہے ۔
دنیا کو اب سمجھ جانا چاہیے کہ ہم ایک دکھ میں شاید اس لیے مبتلا ہوئے کہ ایک دوسرے کا احساس کر سکیں ۔
دروازے بند ہیں تو کیا ہوا ۔ سوشل میڈیا کی کھڑکیاں تو کھلی ہیں ۔ ٹویٹر کی نیلی چڑیا آپ کی بالکونی پہ کب سے منتظر ہے ۔ آئیں ہم مل کر چہچہائیں ۔ فیس بک کی کتاب سے ہم رابطے میں رہ کر ایک دوسرے کی ہمت کر اپنی زبان کے اچھے اچھے لفظ سکھائیں ۔ امن اور آشتی کی راہ ہموار کریں ۔ ایک پیغام شام کے باشندے کے نام بھیجیں جس پہ “ سلام “ لکھا ہو ۔ ایک سندیسہ جموں کے کشمیری کے نام جس پہ یکجہتی کا پیغام لکھا ہو ۔ ایک محبت بھری چِٹھی اجنبی یمنی کے نام لکھیں ۔ ایک خوشگوار رقعہ بنام کابل ۔ ۔۔۔۔ہم سب ایک دوسرے کے سانجھی اور ہمدرد ہیں ۔ ہم نے کبھی نہیں چاہا کہ ایسا وقت پوری دنیا پہ مسلط ہو ۔ ہم تو امن کی آشا لیے دست دعا بلند کئے ہوئے تھے ۔ اب چونکہ یہ افتاد آن ہی پڑی ہے تو ہو سکتا ہے امن والے ممالک کے خوش باش عوام کو جنگ ذدہ لوگوں کے دکھ سمجھنے میں شاید آسانی ہو ۔ اور جنگ ذدہ ملکوں کے لوگوں کو احساس ہو کہ قدرت کو روندنے کے نتائج بہت بھیانک ہوتے ہیں ۔ جہاں بھی لوگوں کے پیارے اس وائرس کی نذر ہوئے ہم سب ان کی تعزیت کرتے ہیں ، جو بیمار ہیں خدا ان کو شفا دے ۔ آخر کو تمام تر مذہبی اور نظریاتی اختلافات کے باوجود ہم ایک مٹی سے بنے ایک دوسرے کے رشےدار ہی تو ہیں ۔ مذاہب اور نظریاتی اختلاف ہم سے کبھی بھائی چارہ نہیں چھین سکتے ۔
قرنطینہ میں رہنے والے تمام لوگوں کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ اس وقت گھر اصلی جنت ہے ۔ مسیحاؤں کو سلام جن کی قربانی سے بیشتر مریض صحت مند ہو کر گھروں کو لوٹ رہے ہیں ۔ اور میڈیا سے گزارش کہ مثبت خبروں کی بھی جنگل کی آگ کی طرح ویسے ہی پھیلائیں جیسے منفی خبریں گردش کرتی ہیں تاکہ لوگوں کا حوصلہ پست نہ ہو ۔ انھیں زندگی سے قریب لانے کے لیے تسلی سے نوازیں ، خوف سے نہیں ۔ صحت یاب ہونے والے افراد کے انٹرویو پیش کریں تاکہ لوگوں میں بے یقینی ختم ہو ۔
مجھے اطالویوں کے حوصلے کی داد دینی ہوئی ہوگی جنھوں نے “سب ٹھیک ہو جائے گا “کا نعرہ لگا کر پوری دنیا کو حوصلہ دیا ۔ ہم اب تک سب سے ذیادہ متاثر ہونے والی امریکی عوام کے لیے دعا کرتے ہیں وہ محفوظ رہیں ۔ ہم دنیا بھر کے دکھ سے واقف ہوتے ہوئے دلگیر ہیں کہ ہم ایسے حالات سے بار بار گزر چکے ہیں ۔
مگر یقین رکھئیے ۔۔۔۔
یہ وقت بھی گزر جائے گا اور جلد تاریخ کا حصہ بن جائے ۔
بہت سی دل سوز کہانیاں جنم لیں گی ۔ ادب میں کئی شاہکار تخلیق ہوں گے ۔ کئی آنسو زیب قرطاس ہوں گے کئی قربانیاں افسانے بنیں گی ۔ نظموں میں قید و بند کے حالات ہوں گے ، فن پاروں میں بے بسی کے واقعات ہوں گے ۔ اس صدی کا بڑا دھچکا انسانیت کی پرکھ کر رہا ہے ۔ گو کہ فحاشی ، بے ایمانی ، بے وفائی ، چوری ، غبن ، ڈکیتی ، بدامنی ، بےحسی کا دورہ دور تھا اور یوں لگتا تھا جیسے انسانیت اور احساس اس دنیا سے اٹھتے جا رہے ہیں ۔ مگر حقیقت میں دنیا کبھی اتنی بری تھی ہی نہیں ۔

چونتیس سالہ اطالوی نرس Daniela Trezzi نے محض اس لیے خودکشی کر لی کہ اسے خدشہ تھا اس کی وجہ سے یہ وائرس کسی اور کو منتقل نہ ہو سکے ۔
اور بلجئیم کی نوے سالہ مریضہ
‏Suzanne Hoylaerts نے ثابت کیا انسانیت ابھی تک زندہ ہے جب اس نے کہا :
I had a beautiful life keep this ventilat for younger.
میں نے آج تک اس سے ذیادہ خوبصورت تحریر کبھی نہیں پڑھی ۔ کیا یہ تحریر ادب کا شاہکار مائکرو فکشن نہیں ۔ آنیوالی نسلیں اس ایک جملے کی پرتیں کھولتے کھولتے رہ جائیں گی مگر اس قربانی کی تہہ تک شاید کبھی پہنچ سکیں ۔ خوشی سے خودکشی کرنے والی ایسی عظیم مثالیں کیا یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں کہ ہم نے بلاوجہ کا واویلا مچا رکھا تھا ۔ دنیا میں اتنا گند نہیں تھا جتنا ہم نے اچھال اچھال کر اسے گندہ کیا ۔
ہم نے اپنی زبان پہ کنٹرول اور بروقت درست فیصلے کرنے کے بجائے بس یہی شور مچاتے رہے “ اللہ میاں تھلے آ “ اب وہ نیچے اتر آیا ہے تو سب ایک دوسرے سے خوف کھانے لگے ۔ فاصلے برتنے لگے مگر ہم اب بھی یہ نہیں جان سکے کہ ایک شخص کا دوسرے شخص کے درمیان یہ جو دو میٹر کا فاصلہ ہے یہیں اسی فاصلے میں خدا کھڑا ہے ۔ وہ ہمیں توڑ نہیں رہا دوبارہ سے جوڑ رہا ہے ۔ یاد رکھئیے گا یہ وقت گزر جائے گاتب صرف یاد رہے گا تو یہ کہ کس کا کردار کیسا تھا ۔
ہم پل بنیں گے یا دیوار ، گل بنیں گے یا خار ۔ کیا ہوگا ہمارا کردار ؟ ہمیں حدِاقل اتنا خیال رکھنا ہے کہ ہماری آنیوالی نسلیں ہمارے کردار پہ شرمسار نہ ہوں ۔ کہ وبا کے دنوں میں ان کے اجداد کا نام ہاتھ کاٹنے والوں میں نہ لکھا ہو بلکہ ہاتھ تھامنے والوں کی فہرست میں ہو ۔
قرنطینہ میں بیٹھا کر قدرت نے ہم کو اپنا محاسبہ کرنے کا بہترین وقت دیا ہے تاکہ قیامت کو ہزاروں سال پیچھے دھکیل سکے ۔
مولانا جلال الدین بلخی رومی نے کہا تھا :
ایک آواز ہے جو الفاظ استعمال نہیں کرتی ، اسے سنو ۔

________________

تحریر و فوٹوگرافی :ثروت نجیب،کابل،افغانستان