روزن دل سے..___________عمارہ احمد

میں نے دیکھا ہے اب اسے ہر بات پر غصہ نہیں آتا.. اب وہ بچوں کو اتنا نہیں ڈانٹتی… بس کبھی اچانک ڈانٹ دے تو بچے سہم جاتے ہیں..خاموش رہتی ہے.. کم بولتی ہے…
لوگ کہتے ہیں وہ میرے خاندان کی سب سے سخت مزاج لڑکی ہے.. جسے غصہ بھی بہت آتا ہے اور وہ کڑوی بھی بہت ہے.. تین دن سے وہ میرے گھر مہمان ہے….. میں نے دیکھا ہے طوفان آنے کے بعد سب کچھ ڈھے چکا ہے.. بدل چکا ہے… مگر… تعمیرِ نو نہیں ہو سکی….. اسکے لیے تو ساتھ درکار ہوتا ہے….. اور ساتھ اسکی زنگی کا ایک اور آبلہ ہے…

ہاں تو میں کہہ رہی تھی آج اسکی آخری رات تھی میرے گھر… ہم نے جاگنے کی ٹھانی… اس نے میکے جانا ترک کر دیا ہے….میں نے پوچھا آپکو یاد نہیں آ تے سب؟ وہ خاموش ہو گئ…. یہ خاموشی تکلیف دہ تھی… پھر کہنے لگی.. ابو کو لگتَا ہے ہمیشہ ساری غلطی میری ہوتی ہے… اور وہ ایسے روئ جیسے دل پسلیوں سے نکلنے لگا ہو… اسکا بھی.. اور میرا بھی اس تکلیف سے….
ابو کہتے ہیں تم بدمزاج ہو.. تمہارا شوہر تمہیں مارتا ہے توبھی غلطی تمہاری ہے… ہاں میرا مزاج سخت تھا… میں کڑوا کہہ جاتی تھی… مگر میں نے سب بدل لیا ہے… اب بھی غلطیاں میری ہیں…. ابو کو گلہ ہے کہ میں انہیں اپنے مسئلے نہیں بتاتی.. پچھلی بار ابو کے ہاں گئ تھی.. سب کچھ سن کر آخر میں سب کے سامنے کہنے لگے تم بدمزاج ہو… تمہاری زبان کڑوی ہے… تم برداشت کیا کرو….

پھر وہ ایسے روئ کہ میرے دل کی درزوں سے درد رسنے لگا….

اس کی ماں کا انتقال ہو گیا تھا جب وہ میٹرک میں تھی…. بڑی دو بہنیں اور چھوٹی دو بہنیں اسکے علاوہ گھر پہ رہ گئیں… ابا سرکاری استاد تھے… اور کچھ اور سے مزاج کے تھے.. شدید محنت اور لگن کی انھوں نے.. مگر مزاج میں عجیب سختی سی در آئ تھی… انکی اماں بھولی روح آمنا و صدقنا کہتے گزر گئیں…وہ بچوں کو سب بنانے کی خواہش میں کچھ نہ بنا سکے تھے… اور اپنے ساتھ چلانے کی خواہش میں انکے راستے بھی گم کر بیٹھے تھے….
اب تو اور ہی چڑچڑے ہو گۓ تھے.. پھر بچیوں کے خیال سے شادی کر لی.. کہ انہیں سنبھالا ملے گا…….
نئے انسان نۓ مزاج… ماں کو کھونے کے بعدایک اور ماں… خیر بڑی دو کی آپس میں بائنڈنگ ہو گئ اور چھوٹی دو کی آپس میں.. بھائ تو اکلوتا تھا سو اسکا آشیانہ اپنے آشیانے سے باہر ہوا….. یہ درمیان میں عجب معمہ رہ گئ…….. پھر جب بڑی دو بہنوں کی شادیاں ہوئیں.. تو اس میں چھوٹی دو کیلیے ممتا سمٹ آئ…..

ابا… کچھ اور عجیب ہوگۓ تھے… کچھ اپنا مزاج اور کچھ دوسرے مزاج کے تسلط اور ملاوٹ سے….. انہوں نے اولاد کو کھلایا پلایا.. پڑھانے کی کوشش بھی کی.. بس پاس بیٹھ کر سن نہ سکے… دل کی ٹیسوں کیلیے مرہم کا سامان نہ بن سکے…. ہر چھوٹی بڑی ضرورت کیلیے والدہ کے دروازے پر دستک دیتی پڑتی جسکا جواب موڈ کے مطابق تھا…
اس نے بتایا کہ چھوٹی دو بہنوں کیلیے اسکی پڑھائ رہ گئ.. اور انکی چھوٹی چھوٹی خواہشوں اور ضرورتوں کیلیے اس نے محلے کی بچیوں کو ٹیوشن پڑھایا…. یہ میں کبھی نہیں جانتی تھی…. اس نے بتایا کہ وہ گھر کے سب کام سمیٹنے کے ساتھ انہیں بھی سمیٹتی تھی… اور انکے لیے ابا اور اماں کے مزاج کی سختیاں بھی پی لیتی تھی.. میرے ذہن میں باتیں اور یادیں مدہم پڑ جاتی ہیں.. مگر اسے دیکھ کر یوں لگ رہا تھا اب بھی انہی لمحوں میں جی رہی ہے….
اس نے بتایا کہ ابا کبھی کبھار دوسری ماں کے آنے کے بعد پاؤں کے انگوٹھے سے جھٹک کر بھی جگاتے تھے….
اس نے کہا اسکے اندر کی ساری شوخی کھو گئ ہے.. اور میں نے دیکھا واقعی کھو گئ ہے… اسے اب رنگ ویسے نہیں بھاتے…
میں نے اسے مزید بولنے نہیں دیا اور اسے بچپن کی اچھی یادوں کی طرف پھیر دیا.. اسے سب کچھ یاد تھا.. وہ بتا رہی تھی اور میں بظاہر سن رہی تھی…

مگر میں جانتی ہوں کہ میرا دل رس رہا تھا اور آنسو اندر گر رہے تھے… پھر بائیس سال کی عمر میں اسکی شادی ابا کے ایک جاننے والےخاندان میں ہوگئی تھی… ایک بظاہر پڑھے لکھے خاندان میں اور ابا مطمئن ہوگۓ… اسے جو محبت مل نہ سکی تھی اسے لگا بس اب اسے سب مل جاۓ گا… بےحد بھولی اور شفاف دل کی پگلی لڑکی… نے دل کھول دیا… جان نچھاور کر دی…. مگر کوئ اسے ویسے نہ سمجھ سکا جیسی اسے چاہ تھی… کسی نے اسے ایسے نہ دیکھا کہ یہ بن ماں کے رہ گئ تھی… اسکے اندر کے خالی گوشوں ہم بھر دیں..
وقت اور حالات اس پر بری طرح اثر انداز ہوۓتھے کہیں کہیں کمی رہ جاتی ہزار کوشش کے بعد.. کہیں وہ بول پڑتی…. گلہ کر جاتی تو کوئ نہ سمجھتا… شوہر بھی نہیں.. ہاتھ اٹھا جاتا… تو حالات مزید تلخ ہو جاتے…. اپنے بچوں کے ساتھ اسے سسرال کو بھی سنبھالنا تھا… اس نے سب کیا مگر کوئ اسے نہ سنبھال سکا.. ہر مسئلے میں قصور اسکا ٹھہرا.. وہ ایک بدمزاج اور غصیلی لڑکی بن کر رہ گئ اور بس…. کسی کو اسکی زندگی کا تکلیف دہ دور یاد نہ رہ سکا…. اور وہ دھیرے دھیرے اپنوں سے کٹتی گئ گم ہوتی گئ….
(وہ رات بھر جاگتی رہی.. آخر میں بالکل ٹھیک ہوگئ.. مہندی لگواتی رہی.. اور اگلے دن واپس چلی گئ)

اب اتنی مدت بعد اس سے ملی ہوں تو یوں لگتا ہے.. یہ دکھ جان لے لیگا… میں ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ آپکے بچے وہ نہیں سیکھتے جو آپ کہتے ہیں بلکہ وہ جو آپ کرتے ہیں.. جیسے آپ انہیں پالتے ہیں.. اور آپکا ہر انداز اور لفظ کم از کم تین نسلوں تک منتقل ضرور ہوتا ہے… خود پہ جبر کریں.. مگر اپنی نسلوں کو اپنی تربیت کا حسن بخش جائیں.. اپنے اندر کی سختیاں انہیں بخشیں گے تو انکی زندگی کو گھن لگ جاۓ گا..

اب کوئ بھی یہ نہیں کہتا کہ اس نے اپنے مزاج کی سختی اپنے ابا اور حالات سے لی ہے… سب تو یہ جانتے ہیں کہ اسکے ابا ایک بہت محنت کرنے والے بہت بڑے انسان ہیں.. ہاں اسمیں کوئ شک نہیں.. میں انہیں مکمل قصوروار نہیں کہتی کہ ہوسکتا انکے اندر کی سختی انہیں انکے ابا سے منتقل ہوئ ہو…. مگر انکی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اسکی لپیٹ میں آنے سے نہیں بچا سکے….
مجھے تو اب اس تیسری نسل کا دکھ نگل رہا ہے جو اس سختی کی زد میں ہوگی…

مجھے یہ نہیں معلوم کہ میں سب کو یہ کیسے کہوں کہ ساری غلطی اسکی نہیں…..میں نہیں جانتی اسکے بوں کو کیسے بتاؤں انکی ماں ایسی کیوں ہے
.. تیسری نسل کا دکھ…! ! مجھے نہیں معلوم میں انہیں کیسے کہوں اسے فقط محبت دیں اور اسکی غلطیوں سے درگزر کر دیں کہ اس نے اپنے رنگ ان پر قربان کیے ہیں….

اس دکھ سے کئ دن ہوۓ اب بھی دم گھٹتا ہے..
مجھے نہیں پتہ میں اسکے بے رنگ دن کیسے واپس لاؤں اور اسکے ابا کو بتاؤں کہ اسکا قصور نہیں ہے… اور یہ کہ جب وہ انہیں اپنے مسئلے بتاۓ تو وہ اسے سب کے درمیان تنہا نہ کریں.. اسکا ساتھ دیں.. سب کی نظروں سے دور بیشک سرزنش بھی کر دیں……

اسکا دل بہت پیارا ہے… بہت صاف اور محبت کرنے والا.. وہ ضرور پلٹ آۓ گی… بس کوئ اسکے اپنوں سے کہے اسے تنہا نہ کریں.. اسے سمجھیں… اسکے اندر کے خلا کو بس محبت دیں.. اور کبھی اسے.. صرف اسے سنیں…!

آپ اپنے اپنوں کو تنہا نہ کیجیے گا…. اگر وہ کڑوے لگتے ہیں تو انکے اندر جھانکیے گا.. اپنی تین نسلوں کو قیمتی رویوں اور لہجوں کے تحفے دیجیے گا…انہیں کسی عہدے پر نہ بھی بٹھا سکیں ایک مکمل شخصیت والا مکمل انسان ضرور بنائیے گا..

میں ایک کہانی گو نہیں ہوں.. قصیدہ گو بھی نہیں..
زندگی گو کہہ لیں.. یا درد گو شاید…
یہ ایک ادھوری تحریر.. مگر ایک مکمل درد ہے… اگر آپ اسے محسوس کر سکیں تو اسکے ادھورےپن کی تکمیل ہو جاۓ!

تحریر:عمارہ احمد

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

11 Comments

  1. When it comes to daughters, fathers have a big role to play. As they say, no one in this world loves a girl more than his father…

    In the drama serial Durr-e-Shehwaar (2012), the most lovely character is of the father who writes letters to his daughter as she struggles with her in-laws. That is the extent of responsibility that fathers need to be indoctrinated about.

    There is a form of knowledge that is qualification-based. I’d say it is informative knowledge.
    And then there is this form of knowledge that helps us to make decisions through wisdom, foresight, maturity and rationale; and which encompasses our life as human beings, social beings and relational beings.. Call it ‘directional sciences’ or ‘iqkhlaaqiyaat’ or ‘muaamlaat’, I think this is the best form of profitable knowledge, and this must be taught as a subject at households, and drilled into minds of parents rather than kids…..

    ….for we are what our parents make us.

    Liked by 1 person

  2. What a beautiful expression of things, which people lack guts to express normally. How difficult and how important is it to step into the shoe of a person dealing with life and how easy is to put the entire blame on a person already crippled by time and fate. We really need to address these hard reach issues. Kudos to the writer!

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.