خیانت کے عَفَن میں آئیں کیسے
فرشتے پَر یہاں پھیلائیں کیسے…

خود اک مجمع ہمارا اپنا دل ہے
قرنطینہ میں اب ہم جائیں کیسے…

خیال اپنے بھی تو اک وائرس ہیں
بَچے اِن سے کہیں پر جائیں کیسے…

سِحاب اب کے برستا ہے تو پوچھو
اِن اشکوں سے خلاصی پائیں کیسے…

اندھیرے ہر طَرف یاں چھا رہے ہیں
ضِیَا کوئی دلوں میں لائیں کیسے…

نہیں اٹھ پا رہے ہیں یاں جنازے
بھلا ہم شادیانے گائیں کیسے…

بَس اک بار اپنے دن بدلیں تو دیکھیں
اَحِبّا ہوں گے دائیں بائیں کیسے…

______

کلام: نورالعلمہ حسن

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف