خوبصورت_________________صوفیہ کاشف

وہ دنیا کی سب سے بدصورت عورت تھی۔جب جوان تھی تب جانے کیسی تھی مگر جب سے سب نے اسے دیکھا وہ تب سے ہی بڈھی اور بدصورت تھی۔چہرہ ہمیشہ لٹکا ہوا اور بیزار،آنکھیں ہمیشہ غیر دلچسپ اور اجنبی،ماتھے پر تیوریوں کا ڈھیر،ذبان میکانکی،اٹھ جاؤ بیٹھ جاو،کھا لو ،پی لو سو جاؤ!اس کا ہر کام ایسا تھا جیسے کسی نے کمپیوٹر میں فیڈ کر کے ربورٹ چلا دیا ہو اور وہ بغیر زندگی کے،بغیر جوش اور جزبات کے اسے پورا کرتی پھرتی۔بچے بھی پرے پرے نڈھال نڈھال اوپرے سے پھرتے ۔نہ کوئ دوست نہ سہیلی۔میاں کی سیوا پوری تھی دن کی بھی رات کی بھی۔ہر وقت کی ضیافت اپنے اوقات میں تیار ملتی۔پھر اس کے بعد پرواہ کسے تھی اسکے کھلکھاتے چہرے کی کمی کی،یا اسکے ماتھے پر دھرنہ دے کر بیٹھی جھریوں کی جن میں دن رات مزید مہمانوں کا اضافہ ہوتا رہتا۔وہ بدصورت تھی۔سب جانتے تھے اس لئے کوئ بھی اس سے محبت مانگنے کی توقع نہ کرتا،کسی کو اس کے حقوق چھن جانے کا قصور نہ سہنا پڑتا۔اماں ابا کے گھر جانے کیسی تھی کہ نہ کبھی کسی نے اسکا میکا دیکھا نہ میکے والے۔یونہی لگتا جنگلوں میں خود رو جھاڑیوں کی طرح سے وہ اکیلی اگی تھی اور کھیتوں میں سے گرے سیبوں کے ڈھیر پر سے اٹھا لی گئی تھی۔

“اسے کیا پتا!”

سب کو پکا یقین تھا!

“یہ کیا جانے”

سب اسی بات پر ایمان رکھتے تھے۔

ایکاچھی سگھڑ ماسی کی طرح گھر کو ہر وقت پونچھتی رہتی،صفاییوں میں جتی۔سب کی فرمائش کے کھانے،انکی توقع کے مطابق خدمات۔بچوں کے لنگوٹ سے لیکر ان کے کپڑوں کی الماریوں تک ،بلوغت سے لیکر ان کے رشتے ڈھونڈنے تک ہر کام طاق ہوا تھا۔بس محض ان میں رنگ نہ تھا۔ہر فرد پھر چاہے شوہر ہو کہ بچے بدمزاہ سے رہتے۔بیوی اور ماں کو پھیکی سویٹ ڈش کی طرح سہتے۔میاں کی حاکمیت مکمل تھی،قصور گلے ڈالنے کو ایک گونگی بیوی موجود تھی گواہی دینے کے لئے بچے۔کاروبار سے واپسی ٹی وی اور دوستوں سہیلیوں کے لئے کھلا وقت رات کو گرم بستر۔اس کی جنت پوری تھی۔بچے بھی کچھ سال خدمتیں کروا کر اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ہوتے چلے گئے پھر کسی نے مڑ کر نہیں دیکھا کہ بدصورت ماں اب کیا کرتی ہے۔

ہر آتا وقت اس کی بدصورتی میں اضافہ کرتا چلا گیا۔مصنوعی جھریاں اصلی میں بدلتی چلی گئیں۔چہرے کی سنجیدگی بنیادوں میں پکنے لگی۔چہرے سے نفاست اور لیاقت کا ہر نشاں اٹھ چکا تھا ایسے جیسے کبھی آیا ہی نہ تھا۔

پھر ایک روز ان کے گھر ایک دور کا رشتہ دار مہمان آیا۔گزرتے گزرتے خالہ کا ایک بیٹا رشتے کی کزن کا حال پوچھنے چلا آیا۔اس دن اس کے گھر کی دیواروں نے عجب حال دیکھا۔صدیوں کے بڈھے چہرے پر سے جوانی دیواریں توڑ کر جھانکنے لگی تھی۔مدتوں کے اکڑے چہرے پر ذندگی اتر رہی تھی ۔جوان بچے ماں کی آنکھوں میں زندگی کی جھلک دیکھتے حیران ہوے ۔شوہر نے پہلے بار دیکھا کہ اس کی بیوی تو خوبصورت تھی۔یہی زرا سے دیر میں اس بدصورت عورت پر حسن ،جوانی، زندگی، نکھار ذہانت اور لیاقت ایک مختصر موسم کی طرح اس مہمان کے ساتھ ہی آ کر گزر گیا۔کچھ موسم لوگوں کے ساتھ آتے ہیں اور انکے ساتھ ہی کوچ کر جاتے ہیں۔کچھ رشتوں،حدودں اور دیواروں کے اندر حسن ،جوانی،محبت اور ذہانت کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے۔بہار کے بعد خزاں لوٹی تو اس کے گھر کی ہر اینٹ ،ہر فرد، ہر شخصیت کو ادراک ہوا کہ ان کے گھر میں ایسا آئینہ کوئ نہ تھا جس میں کبھی اس حسن کی دلکشی اتری ہوتی۔ اس بدصورت عورت کا حسن اک غیر دریافت شدہ حقیقت تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر یہ لمحوں کی بہار اس کی زندگی کی سب سے بڑی تہمت بنی۔شوہر کی انگلی اٹھی اور بچوں کی نظریں پھر گئیں۔بے وفائ کے سارے الزام اسکے سر دھرے گئے۔تب نہ کسی کو چولہے میں ہزار بار چلے اس کے بازو اور ہاتھ یاد آئے نہ سالہا سالہا کی ہزاروں لاکھوں پکی ہوئی روٹیاں۔بچوں کو اپنے دھلے لنگوٹوں کا قرض یاد رہا نہ سالہا سال کا رت جگا ۔ماں کو دو گھنٹوں کا حسن بہت مہنگا پڑا تھا وہ حسن جو بن چاہے ،بن مانگے اس کے وجود پر بارش کے موسم کی طرح اترا تھا۔اور اسکی ذندگی بھر کی ریاضت بہا کر لے گیا تھا۔دہایاں دے کر جو گھر بنایا تھا اس سے چند گھڑیوں میں بے دخل ہو گئی۔جن رشتوں کو حسن دی کر سینچا تھا ان سے اس کی مسکراہٹ نہ دیکھی گئی تھی۔جن کو اس کی بدصورتی سے کبھی غرض نہ رہی تھی آج اس کے حسن کی اک زرا سی جھلک نہ ان سے دیکھی گئی۔عمر لگا کر جس حسن کو بگاڑا گیا تھا اس کی ایک کرن نے ساری باذی ہی الٹ دی تھی۔

پھر اس بڈھی بدصورت اور بدھی عورت کو اسی مہمان کے غریب سے گھر میں اماں ملی تھی۔پھر آسمان نے دیکھا کہ گھر،بچے اور عمربھر کی عزت،اثاثہ لٹا کر دربدر ہو جانے والی عورت کیسی خوبصورت تھی۔

_________________

تحریر:صوفیہ کاشف

فوٹوگرافی وکور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

ماڈل:عائشہ

14 Comments

  1. بہت ہی عمدہ۔۔ ایک عورت جو ہر شعبے میں استحصال اور عدم مساوات کا شکار ہے آج زندگی کے اس مقام اور دہلیز پر پہنچی ہے جہاں اس کی آہ و بقاء کوئی نہیں سنتا۔۔۔

    Liked by 1 person

    1. بہت شکریہ بنت حوا! اگر پڑھنے والے تک احساس پہنچ جاتا ہے تو سمجھیں تحریر کا مقصد ادا ہو گیا۔💝💝💝💝

      Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.