ذہن پہ جمی گرد صاف نہیں ہوسکتی تو
کچھ اور بھی چیزیں ہیں جیسے صاف کیا جاسکتا ہے
جیسے!!!
ناخن کاٹتے ہیں
بال تراشتواتے ہیں
آنکھ دھو لیتے ہیں
زخم پہ مرہم لگاتے ہیں
ختم ہوتی صابن کی ٹکیہ کو دوبارا استعمال میں لاتے ہیں
شمپو کی خالی بوتل میں تیل بھرتے ہیں
پچھلے سال کا کیلنڈر اتار کر نئے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں
کونے میں پڑے جوتے پہ پالش کرکے دوبارا استعمال میں لاتے ہیں
ٹوٹی چپل میں کیل ٹھونک کر سفر آگے بڑھاتے ہیں
رُکے ہوئے راشن کو حاصل کرتے ہیں
کسی شام کا اہتمام کرتے ہیں
ٹوٹے ہوئے خوابوں کو جوڑتے ہیں
)وہ قسمیں وہ وعدے جو پورے نہیں ہوئے اسے بھی پورا کیا جاسکتا ہے)
کتابوں پہ پڑی گرد صاف کرتے ہیں
خالی سگریٹ پیکٹ پہ کوئی نظم لکھتے ہیں
ٹوٹی اینٹ کو جوڑتے ہیں

میں اس میں بہت سارے کام بڑی خوش اسلوبی سے انجام دے لیتا ہوں
مگر _
ستم یہ کہ
_مسلسل یاد رکھنے سے بہت کچھ بھول جاتا ہے

**
کلام:احمد نعیم

کور ڈیزائن/فوٹو گرافی:صوفیہ کاشف