اس نے جلتے آلاؤ کے سامنے دہکتی آگ کو کہا :
“سرخی تو از من ، زردی من از تو ۔۔۔”
آگ نے سنتے ہی اس کے زرد جذبے ، یرقانی غم ، کیسری رنج و الم اور پیلے کرہیہ بھیانک خواب نگل لیے بدلے میں اس کے دامن میں سرخ گرم جوش جذبے ، اناری خوشیاں ، قرمزی ہنستی مسکراتی امیدیں اور نیلے پرسکون خواب عطا کئے ۔ ان خوابوں میں نئی صبح تھی ۔ جس کی پہلی کرن زمین پہ پڑتے ہی اس نے ہل چلایا جس سے بعد از آں جَو پھوٹی ۔ جَو کے نان اور جام نے زمستان کی ساری کلفتیں دور کر دیں ۔ سرسوں لہلہانے لگی ، گلِ لالہ کے کھیتوں میں عشق کے شگوفے پھوٹے ۔کیا وہ زرتشت تھا جس نے اولین نوروز کی بنیاد رکھی یا آدم کا بیٹا شیث ؟ روز اوّل سے جب آدم کے بیٹے شیث نے کھٹن موسم سرما کی رخصتی پہ چہچہاتی چڑیوں کو خوش دیکھ کر سبز درختوں کو بہار کی مبارک باد دی یہ رواج پڑ گیا کہ ہر آنیوالی بہار پہ مبارک سلامت کا سلسلہ شروع ہوا ۔
کتابوں کو قیاس ہے مگر حتمی طور پہ کچھ پتہ نہیں نوروز کب شروع ہوا ؟
تاریخ میں تین ہزار سال قبل مسیح نوروز یعنی نیا دن زرتشت کے نام سے منسوب ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ تین ہزار سال قبل مسیح سے جتنا بھی پیچھے چلے جائیں ہر تہذیب میں جشن بہار کا ذکر کسی نہ کسی حوالے سے ملتا ہے ۔ یہ بات الگ ہے کہ “ نوروز” لفظ کی اصطلاح زرتشت کے دور میں مستعمل ہوئی ۔
یہ دھقانوں کا جشن ہے جب وہ زمین پہ بچھی برفیلی چادر کو پگھلتے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ۔ اور اپنا ہل اٹھائے چھ ماہ سے چھائی خزاں اور کڑاکے کی سردی کو بخوشی رخصت کرتے ہوئے بہار کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔
میسو پوٹیمیا کے قدیم سومیری باشندے بہار کے آغاز کے ساتھ ہی جَو کی کاشت کرتے وقت جشن منایا کرتے تھے ۔ جسے جشن کاشت جَو کہا جاتا تھا ۔ بابل کے لوگ بھی بہار کی پہلی بارش کے موقع پہ جشنِ نیسان مناتے ( یہ نام یہودیوں کے کیلنڈر میں پہلے مہینے کا بھی ہے ) ۔ سال کے آغاز کے ساتھ ہی مختلف تقریبات ہوتیں جن میں دیوی دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے نوٹنکی ہوتی ۔ تھیٹر میں سومیری لوگ خود کو دیو مالائی قصوں میں ڈھال کر انھی کی زندگی اور کائنات کی تخلیق کے موضوع پہ خاکے پیش کرتے ۔ ان خاکوں میں زراعت کے دیوتا Marduk اور سمندر کے نمکین پانی کی دیوی Tiamat کو پیش کیا جاتا ۔ جس نے میٹھے پانی کے دیوتا Abzu کے ساتھ جب ملاپ کیا تو کہی دیوی دیوتاؤں نے جنم لیا ۔ قدرت کے گیت گاتے اور قصیدے پڑھتے وقت خود کو دیوی اور دیوتا سمجھنے لگتے ۔ ایسے موقع پہ بادشاہ اپنا تاج و تخت چھوڑ کر مندروں میں پناہ ڈھونڈتا ، رحمت طلب کرتا ، چڑھاوے چڑھاتا اور معافیاں مانگتا ۔ بادشاہ عبادت سے فارغ ہو کر جلسہ کرتا اور پھر وہی جلوس بادشاہ کے محل تک چھوڑنے جاتا ۔ تمام دن بادشاہ رعایا تحفے تحائف لینے میں گزار دیتا ۔ ادھر آریا تہذیب میں نوروز عظیم آریائی سلطنت میں زرتشتوں کا مقدس تہوار بن گیا ۔ تب یہ مانا جانے لگا کہ اسے زرتشت نے ایجاد کیا ۔ البتہ زرتشت کے سات مقدس تہواروں میں ایک نوروز بھی تھا ۔ چونکہ یہ دن زرتشت کا یوم پیدائش بھی تھا اس لیے آتش پرست اس دن سے عقیدت رکھتے ہیں ۔
جب سورج برج حوت کو چھوڑ کر برج حمل میں داخل ہوتا ہے تو یہ بہار کے اوائل یعنی مارچ کے تیسرے عشرے کی بیس / اکیس تاریخ کو واقع ہوتا ہے ۔ اس دن جنوبی ایشیا اور مشرق وسطی کے کئی ممالک اور قومیں نیا سال مناتی ہیں ۔ پارسی نوروز کی صبح ہفت شین میز سجاتے ہیں ۔ پارسی شیش جو عموماً چاندی کا ہوتا ہے اس میں شین سے شروع ہونے والی سات چیزیں رکھی جاتی ہیں ۔

شراب ، شکر ، شیر ( دودھ) ، شہد ، شیرینی ، شیرہ ، شیر برنج شامل ہیں ۔ ان کے علاوہ موم بتیاں اور زرتشت کی تصویر اور مقدس کتاب اوستا شیش کا لازمی حصہ ہیں ۔ پارسی اپنے پورے خلوص کے ساتھ اپنے گھروں کو ستاروں پرندوں مچھلیوں اور تتلیوں سے سجاتے ہیں ۔ جنوبی ایشیا کے پارسی دہلیز پہ رنگولی بھی بناتے ہیں ۔ جس میں مچھلی اور پھولوں والے ڈیزائن بہت مقبول ہیں ۔ جبکہ وسطی ایشیا کے پارسیوں پہ ایرانی اثرات ہیں ۔
فارس میں مشہور کتاب شاہنامہ میں نوروز اساطیری بادشاہ جمشید سے جڑا ہے ۔ اسے نے زرتشتوں کے کیلنڈر کا سہارا لیا ۔

سخت کڑاکے کی سردی کے بعد موسم بہار ایک نویلی خوشی لاتا ہے ۔ جمشید نے نہایت عقلمندی سے خانہ بدوش زندگی کو تہذیب و تمدن کی طرف لانے کے لیے اس دن کو چنا ۔ اس نے جوتشیوں کے حساب کے مطابق برج حمل کے پہلے دن کو نوروز کہا ۔ اس دن سے منسوب کئی دیو مالائی کہانیوں جڑی ہیں ۔وقت گزرنے کے ساتھ ان قصوں میں چاشنی گھلتی رہی قصے مزید دلچسپ اور مافوق الفطرت ہوتے گئے ۔
کہتے ہیں نوروز شاید تب کی یادگار ہے جب ساکت و جامد سیاروں نے ہزاروں سال کا جمود توڑ کر حرکت شروع کی ۔ جب مذہب میں جان ڈالی گئی اور آسمان پہ محیط ایک فرضی خطے نے گردش کی ۔ یا جس دن جمشید نے اپنا تخت سنبھالا اسے ہیرے جواہرات سے سجا کر آگ کا آلاؤ روشن کیا ۔ جب سورج اور آگ کی روشنی اس تخت پہ منعکس ہوئی اس انوکھے اور عجیب تخت کو دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے ۔ نوروز ان کے دماغ پہ منقش ہو گیا ۔ یا اللہ جانے نوروز کا آغاز اس دن ہوا جب جمشید بچھڑے پہ سوار تھا یا اس دن جب سلیمان سے سلیمانی انگوٹھی گم گئی تھی ۔ ان تمام کہانیوں پہ وقت کی گرد ایسے جمی کہ نوروز کی تاریخ معمہ بن گئی ۔ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ نوروز کا تہوار سب سے پہلے کس خوشی میں منایا گیا مگر یہ حقیقت اپنی جگہ مقدم ہے کہ نوروز جہاں بھی منایا گیا وہ برج حمل کا پہلا دن اور بہار کا آغاز تھا ۔ جو ہر صدی ہر دہائی کے بعد نئے سرے سے مرصع اور مرقع ہوتا رہا ۔ اخامینوں اور ساسانیوں کا سرکاری تہوار تھا تب قیدیوں کی سزا میں کمی ہوتی اور انھیں رہا کر دیا جاتا۔ یازدگر ( جو آخری غیر مسلم بادشاہ تھا ) سے خسرو تک یہ تہوار منایا جاتا رہا ۔ یازدگر کے دور میں پہلا درباری ایک تھال لاتا جس میں شراب سے بھرا جام چند سونے کے سکے مٹھی بھر گندم کی بالیں ایک تلوار ایک تیر کمان ہوتا وہ خدا کا شکر ادا کرتے ۔
اسلامی دور شروع ہونے کے بعد غیر اسلامی چیزیں متروک ہو گئیں مگر تہوار جوں کا توں باقی رہا ۔ ویسے ہی صبح نوروز کی میز سجتی البتہ اس بار شین کے بجائے سین سے شروع ہونے والی سات علامتیں رکھی جاتیں۔
عباسیوں کے دور میں سرکاری تعطیل ہوتی ۔ خلافت کے بعد صمدی اور شاہی دور کے بعد تیمور ، ترک اور منگول آئے انھوں وسطی ایشیا کا نقشہ بدل دیا مگر نورو کی بنیادیں نہ ہلا سکے ۔ نا صرف انھوں نے اس تہوار کا احترام کیا بلکہ اہتمام بھی کیا ۔
یہ تہوار صرف افغانستان یا ایران میں نہں بلکہ ترکی ، عراق ، آزربائجان ، تاجیکستان ، ترکمانستان، ازبکستان ، کرغزستان ، ہندوستان ، کشمیر اور پاکستان میں بھی منایا جاتا ہے ۔
ویسے تو یہ ایک سیکولر تہوار ہے مگر صوفی ، بہائی بکتاشی ، اسماعیلی ، علوی ، اور شعیہ مسلک سے جڑے افراد کا مقدس مذہبی تہوار ہے ۔ شعیہ مسلک کے مطابق اسی دن فرشتے جبرئیل وحی لے کر آسمان سے اترے تھے۔ اسی دن حضرت ابراھیم نے بت توڑے تھے اور یہی دن تھا جب حضرت محمد نے حضرت علی کو کندھوں پہ بیٹھا کر مکہ معظمہ میں رکھے بت توڑے ۔ اِسی دن حضرت علی کو خلافت ملی ۔
دسویں صدی کے سکالر البیرونی نے اپنی کتاب میں عربوں ، یہودی ، یونانی کیلنڈر کے ساتھ فارسی تقویم بھی مہیا کی ۔ سلجوک ملک شاہ نے باقاعدہ ایک رصد گاہ بنوائی اور آٹھ جوتشیوں کی جماعت بنا کر عمر خیام کو نئی تقویم بنانے کا کام سونپا گیا ۔عمر خیام کی کتاب نوروز نامہ میں اس بابت مفصل حالات ہیں ۔

نوروز کی رات رت جگے کی رات ہوتی ہے ۔ خاندان کے سبھی چھوٹے بڑے اس محفل میں شامل ہوتے ہیں ۔ بڑی سے دیگ میں رات بھر سمنک بنتا ہے ۔ گندم کی ہر بالوں کو پانی میں ڈال کر اس قدر گھوٹا جاتا ہے کہ وہ لیٹی بن جائے ۔ اگر سمنک میں دودھ گھی اور شکر ڈالی دل جائے تو وہ ملتان اور ڈیرہ اسماعیل خان کی سوغات سوہن حلوہ بن جائے ۔ مگر رکیے ! ہم سمنک کو گھوٹا لگا رہے تھے ۔ گھوٹا لگاتے لگاتے جب لڑکیوں کے بازو درد کرنے لگتے ہیں تو بڑی بوڑھی عورتیں چمچہ چلانے میدان میں اترتی ہیں ۔ ایسے میں گیت گاتی دف بجاتی کھلکھلاتی لڑکیاں انھیں چئیر کرتی ہیں ۔ جلد وہ سب خواتین تھکنے لگتی ہیں تو دالان میں بیٹھے گپیں مارتے لڑکوں کو پکڑ کر آشپز خانے میں لانے کی کوشش کرتی ہیں ۔ لڑکے عذر پیش کرتے ہیں تھوڑے نخرے دیکھاتے کچھ مردانگی کا غرور لیے اتراتے ہیں پھر وہ آشپز خانے میں آتے ہیں ۔ ان کے قدم آشپز خانے میں دھرتی ہی شور مچ جاتا ہے تالیاں بجتی ہیں اور لڑکے پر تپاک استقبال کے بعد کمر کس لیتے ہیں اور خوب زور شور سے گھوٹا لگاتے ہیں ۔ چولہے کی لکڑیاں کوئلے سے راکھ بنتی ہیں ۔ بام پہ بانگ دیتا مرغا اونگھتی لڑکیوں کو سحر کی نوید سناتا ہے ۔ لڑکے چمچہ چلانا بند کر دیتے ہیں ۔ سمنک کی خوشبو آشپز خانے سے نکل کر گھر کے کونے کونے میں پھیل جاتی ہے ۔ دف خاموش ہو جاتے ہیں نیند طاری ہونے لگتی ہے ۔ کچھ وقت سونے کے بعد سمنک میں حصہ ڈالنے والے اپنے اپنے ڈول ، ڈونگے لیے آتے ہیں ۔ گھر کی بڑی عورت سمنک کی دیگ کھولنے سے پہلے دعا کرتی ہے اور سب کو ان کے پیسوں کے مطابق حصہ دیتی ہے ۔ اس کے بعد سب اپنے گھروں میں جا کر سفرہ ( دسترخوان) سجاتے ہیں ۔
میز ہفت سین پہ سجی سات چیزیں زندگی کی ناگزیر سات ضروریات اور خواہشات کی عکاسی کرتی ہیں ۔
سبزی : دوبارہ پیدائش کی علامت
سمنک : دولت
سیر ( لہسن) : دوا / علاج
سیب : صحت
سماک ؛ سورج
سرکہ : عمر اور خیر کی علامت
جبکہ میز پہ سنبل اور سکوں کے علاوہ اور بھی علامتی اشیا رکھی جاتی ہیں جیسے کہ آئینہ ( آسمان ) سیب ( زمین ) عرق گلاب کا پانی اور موم بتیاں ، سنہری مچھلیاں ، رنگیں انڈے اور مقدس کتاب ۔ کوئی قرآن پاک رکھتا ہے تو کوئی حافظ کا دیوان ۔ انڈے انسانی نسل کے عکاس ہیں ۔ نوروز ہفت سین کے بنا ادھورا ہے اور ہفت سین سہنری مچھلیوں کے بنا بے معنی ۔ کابل میں ہفت میوہ کی میز بھی سجتی ہے جہاں سات خشک اور تازہ میوے رکھے جاتے ہیں ۔
نوروز کے دن مزار شریف میں جہاں قرین قیاس ہے کہ یہاں حیرت عل دفن ہیں جھنڈا بالا کی رسم ادا ہوتی ہے ۔ مسلکی اعتبار سے یہ اہل تشیع کی مقدس رسم ہے مگر یہاں جھنڈا بالا کی رسم کے دن سبھی مسلک کے لوگ یکساں شریک ہوتے ہیں ۔ جھنڈا بلند ہوتے ہی نئے سال کی دعا پڑھی جاتی ہے ۔

یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ وَ الْأَبْصَارِ یَا مُدَبِّرَ اللَّیْلِ وَ النَّهَارِ یَا مُحَوِّلَ الْحَوْلِ وَ الْأَحْوَالِ حَوِّلْ حَالَنَا إِلَی أَحْسَنِ الْحَالِ

زائرین کا ماننا ہے کہ یہاں مانگی جانے والی ہر دعا قبول ہوتی ہے ۔
افغانستان کا قدیم ترین میلہ صوبہ بلخ کے شہر مزار شریف میں لگتا ہے ۔
میلہ گلِ سرخ یعنی سرخ پھولوں کا میلہ ۔۔۔جب سبزے کے اوپر گل لالہ کے سرخ پھول نئی نویلی دلہن می طرح گھونگھٹ نکالے کھلتے ہیں تو دور سے لگتا ہے کسی نے زمین پہ سرخ چادر بچھا دی ہے ۔ نوروز سے چالیس دن تک یہ میلہ لگتا ہے دور دور سے لوگ اس میں شرکت کرنے آتے ہیں ۔ مزار شریف میں میلہ گل سرخ کا ایک حصہ بزکشی کا ٹورنامنٹ بھی ہے ۔ ویسے بزکشی کے مقابلے نوروز کے موقع پہ کابل سمیت شمالی علاقہ جات میں بھی ہوتے ہیں ۔

سیزدہ بدر ۔۔۔۔ نوروز کے ٹھیک تیرہ دن بعد سب لوگ اپنے اہل خانہ کے ھمراہ باغوں اور پارکوں میں تفریح کے لیے جاتے ہیں ۔ آسمان کے کینوس پہ رنگیں پتنگیں اسے فن پارے میں ڈھال دیتی ہیں ۔ سیزدہ بدر کے موقع پہ ہفت سین پہ سجائی جانیوالی سبزی ( جو عموماً گندم یا جو کی ہوتی ہے ) پانی میں بہا دی جاتی ہے ۔ عقیدے کے مطابق یہ سبزی ایک صدقہ ہے جو سال بھر کی تکالیف مصیبتیں ، نحوست اور بیماریاں اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے ۔ کنواری لڑکیاں اس آس پہ سبزی بہاتی ہیں کہ ان کو اس سال اچھا بر ملے گا ۔ ہم نے بھی سبزی اس آس پہ بہا دی کہ ساری وبائیں ، بلائیں بہہ جائیں ۔ انسان اور فطرت کو درپیش مسائل ختم ہوں ۔ تعصب ، حسد بغض سے پاک دل اور مثبت سوچوں سے تروتازہ تخلیقی دماغ لیے نئے سال کا آغاز کریں۔ خدا کرے کہ امید بارآوری کرتی رہے ۔ آسمان ہم سے ناراض نہ ہو زمین کا دامن تنگ نہ ہو ۔ انسان ایک دوسرے کو انسان سمجھیں اور انسانیت کے مذہب کا بول بالا ہو ۔ بہار کے کھلنے والے پہلے شکوفوں اور چنار کے درخت گواہ رہنا ہم صدق دل سے دعائیں قدرت ماں کے سپرد کر رہے ہیں ۔ سیزدہ بدر کی آخری رسومات کے ساتھ ہی نوروز کی تقریبات کا سورج ڈھل جاتا ہے ۔ سالِ نو کی اس پکنک کا سامان باندھ کر باغوں اور پارکوں سے کوچ کرنے والے اس امید پہ گھروں کو لوٹتے ہیں کہ سالِ نو ان کی زندگی میں امن ، محبت دولت ، سکون ، خوشحالی اور صحت لائے گا ۔ ہر شخص اپنی خواہشات کا پلندہ اٹھائے نئے اور خوبصورت منصوبے بناتا سیزدہ بدر کے ڈھلتے سورج کو الوداع کہہ دیتا ہے ۔ اگلے دن کابل میں زندگی پھر سے معمول پہ آ جاتی ہے ۔
سال 1399 کا کیلنڈر گھروں دفتروں اور دیگر اداروں سمیت موبائل پہ گردش کرنے لگتا ہے ۔
امروز مان نوروز شد ۔۔۔۔
نوروز مان پیروز شد ۔۔۔۔۔
فرداً ایمان بہروز شد ۔۔۔۔

_____________

تحریر: ثروت نجیب

فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف