قسط آٹھویں.
تحریر:سدرت المنتہی ‘

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: قدسیہ،صوفیہ


وہ تمہاری جدائی کا آخری پہر ہوگا.


یہ ایک عجیب حیران کن منظر تھا
.. کچھ بھی کہنے سننے کی تک نہ تھی..
کبھی کبھار زندگی کسی ایک مرکز پر سب کو روبرو لا کھڑا کرتی ہے.
انتقال کی خبر کے فورا” بعد ہی
اس نے اپنی کھٹارا گاڑی پر بھروسہ نہیں کیا اور کیب فوری طور پر لے کر نکل گئی تھی.
وہاں پہنچی تھی کہ اس منظر نے اسے حیران کیا کہ گھر کے اندر آتے ہی ایک ہجوم تھا اس گھر کے اندر
ایک طرف مرد لوگ بیٹھے تھے گھر کے صحن میں شامیانہ لگا تھا..
اور التمش اس کے درمیانی حصے میں کھڑے تھے.. اندر شاید عورتیں تھیں.
وہ التمش کے پاس رکی تو نظروں کی تپش نے لاشعوری طور پر تھوڑا بے چین کیا اس نے ادھر ادھر نظر بھی ہلکی سی دوڑائی لیکن التمش کی طرف توجہ تھی.. اس نے دیکھا انکے چہرے پر بے پناہ تھکن کا بوجھ اور آنکھیں نڈھال ہیں..
اس کا پوچھنا بیکار تھا کہ آپ کیسے ہیں..یا یہ کہ وہ بہتر ہونگی.. فکر نہ کریں جو ہوا ہے یہی ہونا تھا.. یہ بروقت تھا..
خدا نے انہیں مزید محتاجی سے بچالیا ہے..
وہ بس اتنا ہی کہہ سکی تھی..

عالین..مجھے تمہارا انتظار تھا.. نور فاطمہ کے غسل کی تیاری کرو..تمہیں کرنا ہے..
شکر ہے میں وقت پر آگئی ہوں.. لیکن مجھے یہ غسل کرانا نہیں آتا.. اسے احساس ہوا کہ ایک عورت کو اس طرح غسل کی ترکیب آنی چاہیے کہ وہ اپنے جیسی عورت کے کام سکے..
ایک علاقائی عورت آئی ہے.. تم اس کا ساتھ دو.. کاش زیبی ہوتی تو.. یہ ذماداری اسی کی تھی..
اسے بتایا نہیں آپنے.. ؟اوف میں نے بھی نہیں بتایا
اس کے نمبر بند ہیں..
تم… اب مزید دیر مت کرو عالین.. جاؤ.
وہ بہت تھکی ہوئی تھی.. اسے انتظار ہے بہت..
کتنی عجیب بات ہے نہ عالین ہم مرجانے والوں سے کتنی جلدی ہاتھ کھینچ لیتے ہیں..
میں اسے روک نہیں سکتا.. نہ اسکے لئے..
موت ایک امان ہے..
وہ بڑبڑائے تھے..
میں جاتی ہوں.. دیکھتی ہوں..
آپ بیٹھیں اس طرف.. پانی لے لیں تھوڑا سا..
تم دیکھو.. کچھ چاہیے تو بتانا..
ویسے.. اسکی الماری میں سب چیزیں رکھی ہیں..
وہ.. لباس بھی. اس کا احرام..اسی کا کپڑا استعمال کرنا ہے.
اور ہاں.. وہ مہر بھی..
مہر؟وہ نا سمجھی سے رکی..
کس قسم کی مہر.
ارے مہر نبوت..
مہر نبوت.. وہ بڑبڑائی..
حضور پاک کے حوالے سے؟
ہاں.. وہی.. مہر نبوت.. دو ہاتھوں کی ہتھیلیوں میں.. اور ایک پیشانی پر. اور ہاں وہ غلاف کعبہ کے دھاگے آنکھوں پر رکھنے ہیں.
دھیان رکھنا اچھا..
وہ کہہ کر مردوں کی نشست کی طرف مڑگئے اور وہ دنگ سی رہ گئی..
مہر نبوت.. غلاف کعبہ کے دھاگے… اوہ..
انسان اپنے لیے کیسے کیسے حیلے ڈھونڈتا ہے..
اسکے دل کو ڈھارس سی ہوئی..
وہ اندر آئی حال کے اندر پندرہ بیس عورتیں بیٹھی تھیں..
وہ نور فاطمہ کی چارپائی کی طرف بڑھی..
کپڑا ہٹایا.. چہرے پر سرد احساس اس تھا..
پانی رکھ دیا ہے غسل کا.
زینت بیبی پائینتی کی طرف کھڑی اسے بتانے لگی..
ہاں.. وہ برتنوں میں تب ڈالنا.. جب میں.. وہ چیزیں نکال لوں..
وہ اندر کی طرف جانے لگی تو دروازے کی چوکھٹ سے سر اٹھاکر دیکھتی نگاہوں سے اسکی نظریں اٹکی تھیں..
سعدیہ..
عالین.. وہ اٹھی تھی..
تم.. ؟وہ ٹھٹھکی تھی…رکتے ہوئے
عالی.. وہ اس سے لپٹ گئی..
شکر ہے سعدیہ.. تمہیں میں نے دیکھا.. بہت فکر تھی تمہاری..اس نے اسے الگ کرکے چہرے پر یقین کرنے والے انداز میں ہاتھ پھیرا..
مجھے پتہ تھا.. تمہیں میری فکر ہوگی..
بالکل..
چلو.. بعد میں بات کرتے ہیں.. اندر چلو.. میری مدد کرو.
وہ اس کے کہنے پر اندر آگئی..
انکی الماری کا تالا کھلا تھا..
سامنے ہی سفید لباس کاغذ میں رکھا گیا تھا. اور اس نے دراز کھولی.. ایک سفید تھیلے کے اندر ٹشو تھے.. اور اندر ایک مخملیں تھیلی میں سے مہر نبوت کے چند نقش کی پرچیاں تھیں..
اس نے نقش کو دیکھا تو آنکھیں بھر آئیں.. اپنے رہبر کے ہونے کا اقرار.. اسکی تصدیق.. تائید.. کے ساتھ جڑا یہ استحکام..
اور ایک ڈبیا کے کیس میں وہ چند دھاگے.. محترم معمر مخملیں ڈوریوں سے..
سعدیہ..انہیں رکھو..
اس نے اسی سفید کاغذ میں تمام اشیاء رکھ کر سعدیہ کو تھمائیں..
مجھے یہ غسل آتا ہے عالین..
دادی نے سکھایا تھا.. انکو آخری غسل میں نے دیا تھا..
ارے واہ..شکر ہے..
چلو تو پھر بہت اچھا ہے.. تسلی ہوگئی..
اب زیادہ اطمینان رہے گا..
وہ اسے لیکر باہر آگئی..
اور زینت بیبی نے ایک عورت کی مدد سے پانی ڈالا گھڑوں میں..
چارپائیاں مردوں نے کھڑی کرکے ایک حلقہ سے بنالیا تھا.. چوکور دائرہ.. اندر ایک تختہ رکھا تھا.. نیچے زمین کی تہہ کچی اور نرم تھی..
یہ صحن کی جگہ پر سیٹ کیا تھا.. کونے میں..
ایک نوجوان اٹھا اور زینت بیبی کے سامنے گھڑا اٹھاکر اس جگہ پر رکھا..
اور رکھنے کے بعد جب جھکتے سے اٹھا تو عین سامنے کھڑی عالین کے لئے یہ دوسرا حیرت کا جھٹکا تھا..
میں مجدد ہوں..
تم عالین ہو..
ہم نے ایک دوسرے کو پہچان لیا ہے..
وہ یہ مدھم آواز میں کہتے ہوئے دوسرا گھڑا لانے گیا تھا.. وہ اسے پہلے دیکھ چکا تھا.. اور التمش کے منہ سے زکر سن کر یقین کرچکا تھا..اسلیے حیرانی کی باری صرف اسکی تھی.
عالین کی..
میت التمش مجدد اور ایک نوجوان نے احتیاط سے چادر سمیت اٹھاکر تختے پر ڈال دی..
اور عورتیں.. جمع ہوئیں.. ایک وہ غسل والی عورت تھی..
عالین کو اب ایک اور احتیاط نے آلیا تھا..
کسی کو بھی خود کے سامنے بے لباس دیکھنا مرے ہوئے کی بے بسی کا اعلان کرتا ہے..
اسے یکدم احساس ہوا کہ وہ بھی مرے گی تو اسے کوئی اور نہلائے گا..
تم پریشان کیوں ہورہی ہو.. یہ سب اتنا بھی مشکل نہیں ہے.. سعدیہ نے اسے تسلی دی تھی..
اور وہ اب کفن کا لباس چیک کررہی تھی..
عالین.. ساتھ ہی اس کے منہ سے حیرت سے آواز نکلی..
عالین یہ تو پہلے سے لکھا ہوا ہے..
کیا ؟وہ نزدیک آئی.. لباس پر ایک جگہ قرآن پاک کی آیات لکھیں تھیں
.چہار کل سورہ فاتحہ.. عہد نامہ درود و سلام..
یہ کس نے لکھ رکھا ہے؟
اس نے دیکھا تھا موت کے بعد ہی کوئی بندہ بیٹھ کر میت کے کفن میں آیات لکھتا تھا..
یہ اس نے خود لکھ رکھا تھا..
لکھائی مدھم ہوگئی..
اس پر میں نے دوبارہ قلم پھیرا ہے آج.. اس نے خود ہی اپنے انتظامات بیماری کی شدت سے پہلے ہی کرڈالے تھے..
حیرت ہے اس کا کتنا حوصلہ تھا.
التمش پیچھے کھڑا تھا..
گھڑے رکھے گئے..
عورت اور سعدیہ بیٹھیں.. لباس ادھر ہی رکھی ایک میز پر بچھائے کاغذ میں رکھا..
عالین سرہانے تھی.. دوسری جانب سعدیہ..
اور ساتھ ہی عورت بیٹھی تھی..
سعدیہ نے کینچی سے احتیاط سے بازو کی طرف کپڑے کو کٹ دیا اور اس سے پہلے سینے پر ایک کپڑا دھر دیا تھا..
عالین صرف دیکھ رہی تھی کہ وہ کیا اور کیسے کرے گی..
سعدیہ نے پوری احتیاط سے دوسرے بازو کی طرف ہی کٹ دیا اور کپڑا نکال لیا قمیص کا.. لیکن سینہ اس اضافی سفید کپڑے سے ڈھکا رہا..
وہ بے ساختہ اطمینان سے مسکرائی.. جیسے یہ دلاسہ ملا ہو کہ کسی کو بھی مکمل طور پر کسی کے سامنے ننگا نہیں کیا جاتا..
عورت اور سعدیہ نے دستانے پہنے تھے.. عالین کو بھی دستانوں کی جوڑی دی..
اس نے بھی چڑھائے.. اور اب وہ سعدیہ کی ہدایات پر ہی روئی کی مدد سے پانی میں ڈبوکر اسکن ایسے صاف کررہی تھی.. جیسے کسی معصوم شیر خوار کو دھوکا جاتا ہے.. نہایت نرمی.. نہایت احتیاط.. نہایت. فکرمندی سے.. ساتھ وہ قرآن پاک کی آیات بھی تلاوت کررہی تھی..
اسی وقت باہر کچھ لوگوں کے باتوں کی آوازیں.. اور ایک لڑکی کی حواس باختہ بے ترتیب آواز تھی..
اس نے پاگلوں کی طرح پردہ ہٹایا تھا
غسل والی عورت چیخی.. لڑکی پردہ گراؤ..
اس نے پردہ تو گرادیا لیکن اس طرف بیٹھ کر.. رونے لگی تھی..
ساتھ میں التمش تھے..
اٹھو
.زیبی.. شکر ہے تم بروقت آگئیں…
وہ مرگئیں.. مجھے کسی نے بتایا نہیں..
وہ مرگئیں..
سعدیہ اور عورت غسل میں منہمک تھیں
وہ پھرتی سے اٹھی..
اور باہر آئی.
زیبی.. زیب..
التمش نے سر ہلایا.. زیبی کو ساتھ لگائے
زیب نے اجنبی نظروں سے اس لڑکی کو دیکھا جو اسے جانتی تھی..
سنو زیب.. وقت گزرجائے گا.. رونے کے لئے بہت وقت ہے.. لیکن یہ وقت قیمتی ہے.. چلو ہمارا ساتھ دو.. اپنی نانی کو خود غسل دلواؤ.. کپڑے پہناؤ.. انہیں تیار کرو..
انکا آخری سفر ہے..
رونے کے لئے عمر پڑی ہے..
انکے پاس کم وقت ہے..
پلیز.. اٹھو.. تم بروقت پہنچی ہو یہاں…
زیب التمش سے الگ تو ہوئی لیکن حواس باختہ سی دیکھنے لگی..
دیکھو مجھے بھی یہ سب نہیں آتا.. لیکن ہم دیکھ کر پوچھ کر کرلیتے ہیں..
تم اٹھو تو… یہ آخری ساتھ ہوتا ہے انسان کا..
زیبی اٹھی.. اور پردہ ہٹاکر اس کے ساتھ اندر آگئی. تھی..
اسکی آنکھوں سے آنسو چل رہے تھے..اور وہ اپنی مدھم سسکیاں دباتے ہوئے.. جیسے جیسے سعدیہ بتارہی تھی ویسے ویسے کرتی جارہی تھی..
آخری لباس پہناکر جب آیات سے لکھا ٹکڑا سینے پر شان سے دھرا تھا.. اور سر ڈھانپا گیا..
آنکھوں کے اوپر غلاف کعبہ کے دھاگے رکھنے سے پہلے زیبی نے ایک بوسہ دیا اور پھر رکھ دیئے..
عالین نے نور فاطمہ کے چہرے پر ٹہرا سکون محسوس بڑھتا ہوا محسوس کیا تھا..
انہیں پوری طرح تیار کرلیا تو پردہ ہٹایا.
زیب تم پیدا ہوئی ہوگی تو انہوں نے تمہیں نہلایا ہوگا..
آج تم نے اپنا حق ادا کردیا..
عالین نے اسے تسلی دی..
اور زیبی کے چہرے کا اطمینان دیکھا..
وہ تھکی ہوئی مسکراہٹ سے جاکر نانی کے سرہانے تلاوت کرنے لگی تھی..
انکی آخری تمام رسومات میں وہ سب ساتھ تھے..
ہاشم الدین بھی پہنچ چکے تھے.. ماں کے آخری دیدار کے لئے.. لیکن کس قدر اجنبی لگتے تھے..
جیسے انہیں بس انکے ضمیر کی آواز لے آئی ہو.. عجیب سرد مہری اور خاموشی تھی..
التمش اس سے دور کھڑے تھے..
عالین نے اس شخص کے اندر عجیب رکھ رکھاؤ محسوس کیا تھا..
تدفین کے وقت جب کندھا دیا تو ہاشم الدین کی آنکھیں نم ضرور تھیں ہلکیں سی.. لیکن دونوں باپ بیٹے کے درمیان جیسے ایک صدی جتنا فاصلہ تھا..
اس سارے منظر میں فقط ایک شخص نہ تھا..
اور وہ تھا مستقیم.


وہ مجھے کس نام سے پکارے گی


خود محبت چل کر آئی تھی.
اس رات میری سلمان محمود سے ملاقات ہوئی تھی..
وہ تھا تھکا ہارا.. اور پریشان سا..
میں ایک شادی شدہ مکمل زندگی گھر بار بچوں والے اس قدر پریشان کن شخص کو ایسا پریشان دیکھ رہا تھا..
جیسے دھرتی پر اسکے لئے کچھ نہ ہو… کوئی سہارا نہ ہو..
کوئی آسرا نہ ہو..
اس روز مجھے سمجھ میں آیا کہ ہر کوئی اپنے حصے کی چکی ضرور پیستا ہے.
ہر کسی کو چکی پیسنے کے عمل سے ضرور گزارا جاتا ہے.
روبینہ وجیح اسکی اکلوتی بہن تھی.. جو شوہر سے علیحدگی کے بعد بھی چار سال اکیلے رہنے کے بعد اب بھائی کے پاس لوٹ آئی تھی..
وہ برسر روزگار تھی..
ہمت والی تھی..
اس کے چہرے کے نقوش اکڑے ہوئے تھے.. لیکن چہرے کی سطح پر عجیب قسم کی تمکنت تھی..
وہ پہلی نظر میں لوگوں کو خود سے جھٹکنے پر مجبور کرتی..
لیکن اگر عامیانہ سی شکل صورت کے اکڑے نقوش پر کوئی دوبارہ نظر ڈالتا تو متناسب آنکھوں کے بھنور میں.. ایک عجیب تلاطم نظر آتا تھا.. اسکی آنکھوں کی کشش گہرا سمندر تھی..
میں جانے کیوں دوست کی بہن کو اپنی بہن کی نظر سے دیکھنے میں جب ناکام ہوا تو
نظریں جھکادی تھیں..
اور اسی رات کھانے کی میز پر روبینہ کی سنجیدہ خاموشی کسی طور ٹوٹنے میں نہ آتی تھی..
میں نے بس اسکی شخصیت میں ایک سحر سے ضرور محسوس کرکے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ ان عورتوں میں تھی جو قدرے کھڑوس اور بے لحاظ ہونے کے باوجود بھی اپنے اندر ایک مقناطیسی کشش ضرور رکھتی ہیں.
بندہ ان کے سامنے کبھی گھٹنے نہیں ٹیکتا لیکن انکے رعب تلے زندگی کی کچھ بہاریں اجاڑنا ضرور چاہتا ہوگا..
اگلے کچھ روز میں سلمان نے خود مجھے روبینہ سے شادی کے لیے کہا تھا..
میں نے بھی اپنی خشک زندگی میں کچھ رعب دار سنگم بھرنے کے لیے یہ ہامی بھرلی..
اور سادگی سے چند دوستوں کی موجودگی میں نکاح طہ پایا..
میں نے اس ایک ملاقات کے تجربے سے طہ کرلیا تھا کہ میں اس کے سامنے اکڑوں گا نہیں.. نہ جھکوں گا.. لیکن میں نارمل زندگی کی طرح خوشی کا احساس لیکر جاؤں گا.
لیکن یقین کرنا عالین کہ بجائے اس کے کہ میں اس عورت کی اکڑ کو فیس کرتا یا اس سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش میں دن رات کرتا..
اس پہلی رات ہی اس رعبدار کھڑوس عورت نے میرے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے جیسے مجھے جیت لیا تھا..
پھر میں جھکا.. اور اسکی اکڑ نرمی میں بدلتی گئی..
وہ دوسرے عام مردوں کے سامنے ایسی ہی ہوتی تھی جیسی مجھے ملی تھی.. پہلی بار.. لیکن میرے سامنے وہ مسکراتی بھی تھی.. اور میری کئی چھوٹی بڑی چیزوں کا ضروریات کا خیال بھی رکھتی تھی..
مجھے لگتا یہ سب وہ بڑی ہمت کرکے کرتی ہے..
اسکے اندر کی عورت انا کے پہاڑ میں چھپی ہوئی ہے
اور بڑی مشکل سے خود کو جھکاتی ہے.
خود کو نرم کرتی.
وہ اپنی دوسری شادی بچانا چاہتی ہے..
ہم ساتھ میں خوش نہ سہی پر اطمینان تھے..
اس نے تھوڑا سا خود کو درمیانہ کرلیا تھا..
ہم سہل زندگی گزارنے لگے تھے..
لیکن میں کب تک سیدھا رہتا مجھے اسکے خشک رویے سے عجیب وحشت ہوتی تھی کبھی کبھار.. میں گھر سے باہر رہنے لگا تھا.
اسکی مصنوعی رواداری سے دور..
اور پھر اس نے بھی وہی چولا پہن لیا.. اجنبیت کا..
لاپرواہی تو نہ تھی.. لیکن بیچ میں ایک دیوار سی آگئی تھی.. اجنبیت کی..
ہم دونوں ایک دوسرے سے کھنچے کھنچے رہتے تھے..
وہ اگر راشن ڈالنے لگی تو مجھے احساس ہوتا کہ وہ مجھ پر احسانات کا بوجھ لاد رہی ہے..
میری مردانہ غیرت کو کیسے گوارہ ہوتا.. میں نے اسے کہا کہ روبینہ تم تب تک یہاں سے چلی جاؤ.. جب تک میں کچھ کماکر نہیں لاتا.. تب تک.. مت لوٹنا..
یہ میری بھی سزا ہے.. اور تمہاری بھی..
اس دن میں نے اسکی آنکھوں میں نمی دیکھی تھی..
وہ چلی گئی تھی..
اور پھر لوٹ کر نہیں آئی صرف ایک پیغام بھیجا کہ جس گھر پر میرا اتنا بھی حق نہیں کہ میں اپنی مرضی سے وہاں رہ سکوں..
اس گھر میں لوٹ کر بھی میں کیا کروں گی جہاں میرا کوئی مستقل قیام نہ ہو..
اس نے کرائے پر کمرہ لیا..
مجھ سے خلاع نہیں لی..
میں نے طلاق نہیں دی..
ایک بار گیا تھا اسے لینے..لیکن ہمت نہ تھی کہ اسے فورس کرتا. ان دنوں میں حددرجہ مسکینی کی زندگی بسر کررہا تھا..
کوئی دھندہ کام تھا نہیں.. مزدوری مجھ سے نہیں ہوتی تھی..
بے ہمت تھا..
نوکری ڈھونڈ کر تھک گیا.. بھرے پرے شہر میں جیسے میرے حصے کی کوئی ملازمت تھی ہی نہیں..
پھر یوں ہوا کہ اچانک اس کے انتقال کی خبر ملی..
اور ایک بار پھر زندگی کی طرف لوٹنے والا دروازہ بند ہوگیا.. وہ خود دار عورت چلی گئی..
میں جس نے خود پر صرف اور صرف دل میں ملامتیں ڈالیں.. اور سامنے سینہ تان کر چلتا رہا..
میں.. جس نے محبت کے سارے دروازے خود پر بند کئے تھے.
محبت کا ایک دروازہ جو کھلا بھی تھا تو. بند ہوگیا..
میں دوبارہ علوم کی طرف راغب ہوگیا.. اپنی پناہ کتابوں میں ڈھونڈی.. انہیں دنوں کمیشن کے ٹیسٹ آئے وہ پاس کیے.. اور مجھے نوکری مل گئی..
شام میں انہیں شاگردوں کی ٹیوشنز کا تانتا بھی بندھ گیا تھا..
میں اپنی کچہریوں اور اندازوں سے لوگوں کو متاثر کرنے لگا تھا..
میں خوش ہوتا اگر کوئی میری تعریف کرتا..
میں خوش ہوتا اگر کوئی مجھ سے مطمئن ہوکر لوٹتا.
کہیں اندر لیکن.. اندر تک عالین.. میں خود کو ہزار ملامتوں کا مستحق سمجھتا ہوں..
میں اسی قابل ہوں یار..
میں بہت برے کے قابل ہوں..
میں نے روبینہ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا یار..
وہ قیامت میں مجھے کس نام سے پکارے گی.. شاید وہ مجھے پہچاننے سے انکاری ہوجائے..

میں اس کے سامنے سر نہیں اٹھاسکتا.. لیکن کوئی اپنی بیوی سے بدلہاظی کرے دل کرتا ہے اسے گریبان سے پکڑ کر ماروں..
یہ مرد زات بڑی سیلفش شہ ہوتی ہے..
دعا کرو عالین کہ روبینہ مجھے بخش دے..
مجھے کبھی وہ خواب میں نہیں آتی..
وہ کبھی میری طرف نہیں نگاہ کرتی.. نہ دیکھتی. اس نے پشت کی ہوئی ہے میری طرف سے.
وہ ایسی بددل ہوئی ہے مجھ سے.. ایسی بددل ہوئی ہے..
میں تمہیں کیا بتاؤں..
میرے دل میں ایک چھرا گھپا ہوا ہے..
وہ بخش دے تو نکل جائے گا..
میں اپنے ذہن کو مختلف تنتر منتر میں الجھاکر کئی کرتب کرتا ہوں.
میں نے مراقبے میں بھی دیکھا کہ اسکی میری طرف پشت ہے..
وہ مجھے پہچانتی ہے.. وہ مجھے جانتی ہے..
لیکن میں کیا کروں کہ میں نے اس محبت کو کھودیا ہے..
کاش میں انتظار کرلیتا..
کاش میں کچھ عرصہ اسکی تنخواہ سے فائدہ نہ بھی اٹھاتا.. تب بھی.. اسے جانےکا نہ کہتا..
اسے جانے کا کہ کر میں نے ایک سنگین غلطی کرلی..
آج میرے پاس سب کچھ ہے..
بس جو نہیں ہے سو محبت ہے.


یہ تیرے آنے کی پہلی خبر تھی


دن گزرچکا تھا.. شام سرمئی ہوکر رات میں ڈھل رہی تھی..
کئی لوگ چلے گئے تھے.
اور دیکھتے ہی دیکھتے رات کے آتے ہی گھر میں صرف مکین رہ گئے.
ہاشم الدین چلا گیا..
زیبی کا باپ افسوس کے لئے بھی نہ آیا تھا.
زیب’ سعدیہ نورعین’ عالین افتخار..اور مجدد ثانی کے علاوہ گھر کی رکھوالن زینت بیبی وہ بھی آدھی رات کو نکل گئیں گھر کی طرف…
اور التمش تامی کے ساتھ یہ ساتھی رہ گئے.
وہ لیٹے تھے.. اور زیبی کا سر انکے سینے پر بہت دیر تک دھرا تھا..
عالین کو لگا جانے کیوں وہ ایک دکھ کے ساتھ بہت سارے دکھ رورہی ہے…
وہ دیر تک روتی رہی..
وہ پوچھتے رہے.. وہ کیسا.. ہے..
آیا کیوں نہیں.. تمہارے ساتھ.. تم ٹھیک ہو نہ..
خوش تو ہو نہ..
اور وہ بغیر کچھ کہے ایسے سر رکھے خاموش آنسووں سے روتی رہی..
جیسے کہ اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو..
سعدیہ اور مجدد بیٹھے تھے..
وہ انکے درمیان جا بیٹھی..
تم دونوں ایک دوسرے کو کب سے جانتے ہو؟
اس سوال پر جانے کیوں وہ مسکرایا تھا..
اس میں اس طرح مسکرانے کی کیا بات ہے..
ہم سفر میں ملے تھے.. سعدیہ نے بتایا..
ہم بھی سفر میں ملے تھے..
آئی مین میری ملاقات بھی مجدد سے سفر میں ہوئی تھی..
ہاں.. بتایا تھا مجدد نے..
پوری تفصیل سے..

اچھا.. لگتا ہے کافی لمبا سفر گزارا ہے ایک ساتھ ؟وہ دونوں کے تاثرات جانچنے لگی تھی..
شناسائی کے تاثر مضبوط تھے..
ہاں..
یہاں کیسے پہنچے.. ؟
انٹرویو کررہی ہو؟مجدد نے اسے چھیڑا
نہیں.. تمہیں برا لگے تو تم سے نہیں پوچھتی.. اپنی دوست سے پوچھ رہی ہوں..
تمہیں غصہ آتا ہے کیا اتنی سی بات پر؟
میں تو تمہیں تحمل والا سمجھتا ہوں خاصہ..
اچھا ٹھیک ہے.. نہیں پوچھتی..وہ گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹ کر بیٹھ گئی..
لو.. تمہیں واقعی غصہ آگیا ہے..
چھوڑو مجدد اسے تنگ مت کرو.. سعدیہ بول پڑی..
یہ کیوں مجھے تنگ کرے گا بھلا.. حد یے
ہاں واقعی میں کیوں اسے تنگ کروں گا بھلا.. حد ہے
مجدد نے اسی کے انداز میں کہا تھا..
عالین اٹھی تھی..
ارے بیٹھو تو.. سعدیہ نے اسکا ہاتھ تھاما..تم تو بچوں کی طرح خفا ہورہی ہو.
نہیں یار.. خفا نہیں.. سوچ رہی ہوں اس وقت اس فضول کی بحث سے بہتر ہے میں اٹھوں التمش صاحب کو کھانہ دوں.. وہ مان ہی نہیں رہے تھے..
لیکن اب تھک گئے ہیں تو کھالیں گے..
زیب نے بھی نہیں کھایا..
شکر ہے کہ بروقت وہ پہنچ گئی..
اور شکر ہے تمہیں میں نے دیکھ لیا..
آؤ تم لوگ بھی کھانا کھاؤ لگاتی ہوں..
میں بھی چلتی ہوں تمہارے ساتھ عالین..
لیکن پوچھو کہ میں یہاں کیوں آئی..
میں اصل میں نور فاطمہ سے ملنے آئی تھی..
مجھے پتہ چلا تھا کہ وہ مرے ہووں سے ملواتی ہیں..
مجھے.. مستقیم کی روح کو دیکھنا تھا..
تم کتنی احمق ہو سعدیہ..
نور فاطمہ بہت نیک تھیں.. لیکن روح خدا کا امر ہے..
اسکا حکم کوئی بھی عام سا بندہ بھلا روح سے کسی کو کیسے ملواسکتا ہے.
مجھے پتہ ہے عالین.. لیکن میں نے سنا تھا وہ حاضرات ارواح کی ماہر ہیں..
حد کرتی ہو سعدی… تم بھی..
مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ وہ حاضرات ارواح کی ماہر تھی کہ نہیں.. لیکن وہ کئی بار غائبانہ مخاطب ہوتی تھی..
ایک بار میں نے دیکھا تھا وہ کسی سفید سائے سے بات کررہی تھی..
وہ کیا تھا.
یہ خدا کو ہی پتہ ہے پھر اس کو خود..
لیکن ایسا کچھ تھا تو.. کہ وہ.. مجھے نہیں پتہ کہ مجھے کیا کہنا چاہیے..
لیکن وہ روئی تھی.. اس نے کہا تھا کہ.. مجھے مت دکھلاؤ.. نیند میں بہت بار چیخی تھی.. شاید وہ کچھ چیزیں دیکھتی تھی..
التمش اس وقت گزرکر کر پانی لینے جارہے تھے کہ ان دونوں کی بات سن کر رک گئے..
عالین رکی تھی انکی بات سن کر..
اور حیران ہوئی تھی.
کچھ دیر بعد جب وہ کھانا کھاہی رہے تھے کہ عالین کو کال آگئی پروفیسر سالس کی.. اور بیل مسلسل بجنے لگی تھی تو اس نے اٹھالیا تھا.

اور وہ بوکھلائے ہوئے تھے.
آپ نے نور فاطمہ کا چہرہ کیوں نہیں دیکھا..
کیا مطلب.. اس کا چہرہ.. وہ..
انتقال ہوگیا ان کا کل رات..
آج تدفین ہوئی ہے..
اوہ.. مجھے نہیں تھا معلوم..
انکی آواز گرگئی تھی..
آپ نے مجھے فون اس لئے نہیں کیا تھا. ؟
نہیں..
پھر.. خیریت تو ہے نہ؟
ہاں خیر ہے.. بس میں تمہیں بتانا چاہ رہا تھا کہ.. میں نے مراقبہ کیا اور مستقیم کو دیکھا ہے..
وہ زخمی ہے.. شاید بیمار. لیکن میں نے دیکھا اسے سفید اور سرمئی بستر پر..
شاید وہ زندہ ہے.
تمہارا شک ٹھیک ہوسکتا ہے.
یہ شک نہیں.. مجھے یقین تھا کہ مستقیم زندہ ہوگا.
سعدیہ کے ہاتھ سے نوالہ گرا تھا
اور التمش نے پہلے عالین کی بات سنی پھر سعدیہ کو دیکھا.. حیرت سے..
زیبی نے بھی..
اور مجدد سب کی طرف باری باری..
بس عالین کے چہرے پر ایک پر یقین مسکراہٹ در آئی تھی.

جاری ہے.