جھٹلائی گئی نعمتیں __________صوفیہ کاشف

اس شہر میں اترنا اور تنہا اترنا ایڈوینچر تھا،شوق،یا جستجو___کہ سیاحت تھی؟کچھ بھی تھا میں اس منزل سے گزر گئی تھی۔جہاز کی کھڑکی سے نیچے نظر آتی وادی نما شہر پر نظر ڈالتے نہ کوئی خوشی تھی نہ غم۔پلکیں بھیگی تھیں اور دل میں خدشات کی تیز ندی بہہ رہی تھی۔ایک انجان شہر کی انجان گلیوں میں،انجانے لوگوں کے بیچ مگر بس یہی احساس تھا کہ میری شناخت کے خانوں میں اس سرزمینوں کا نام لکھا تھا اور دنیا میں کہیں بھی ہمارے نام سے پہلے اس کا نام آتا تھا۔حقیقتوں سے واصل ہونا تھا،کچھ اور خوابوں کی کرچیاں چننی تھیں،چہروں پر سے کچھ اور رنگ اترنے تھے اور فاصلوں کی دھند میں سے حقائق کو سر اٹھا کر اونچا ہو کر ابھرنا تھا۔اس سفر اور دوسری ہجرت کا مقصد جو بھی تھا میں نے وہ تمام مقاصد پا لیے تھے۔

اور اب جب دوسری ہجرت میں سے ایک تیسری ہجرت یا واپسی کا سورج طلوع ہو رہا ہے تو اس باغ کی خوبصورت شاہراہ کے کئی دلوں اور تیروں سے کھدے ہوئے بینچ سے ٹیک لگائے میں سوچتی ہوں کہ پرندوں کی یہ چہچہاہت،اور نئی کھلتی کلیوں کی یہ مہک کیا مجھے تلاشے گی؟ ان درختوں کو جنہیں میں نے سرد رتوں میں لبادہ اتارتے،سوکھتے مرجھاتے اور پھر کونپل کونپل نیے رنگ میں ڈھلتے نئے روپ سے کھلتے دیکھ رہی ہوں کیا انکی عمر میں میرے نام کا کوئی حوالہ ہو گا یا اگلی خزاں کے ساتھ یہ میرا ذکر اور حوالہ بھی نئے لوگوں کی راہ میں نچھاور کر دے گا۔کیا یہ موسم،نظارے،وادیاں بھول جاتی ہیں؟ تو یہ ستم گر انساں کیوں یادوں ،محبتوں اور اذیتوں کی گلی سڑی پوٹلی ہمیشہ کاندھے پر لادے ذندگی کے ہر سفر پر ساتھ ساتھ لیے پھرتا ہے۔چاہے کندھوں میں کیسا ہی خم آ جائے،چاہے پاؤں کے نیچے چھالوں سے لال رنگ کی حرارت بہہ نکلے،چاہے دل میں دبی اذیتیں سب سانسیں نچوڑ دیں،ہاتھ سے چاہے حسن،صحت،ذندگی دولت کچھ بھی جائے،بس کوئی یاد،کوئی زخم رہیں، جو کبھی نہ بھر سکیں، کچھ یادیں تلخ ہی سہی ہمیشہ پلو سے بندھی رہنی چاہیں۔

بہار کے آغاز سے درختوں پر نئی ہری ہری معصوم دوشیزہ کونپلیں ابھر رہی ہیں۔خوبانی اور بادام کے سفید اور پیلے پھولوں سے خالی خشک شاخیں پھر سے ذندگی سے امنڈنے لگی ہیں۔کتے اسی طرح آزادی اور شان سے دندناتے ہیں اور انسان ،،،انساں بھی تھوڑے بہت فرق سے کبھی بیماری سے عاجز کبھی بڑھتے وزن سے خوفزدہ اور کچھ میری طرح ان رنگوں کو جی بھر کر دیکھ لینے کے لئے، پرندوں کے گیتوں سے سماعتوں کو ہمیشہ کے لئے تر کرنے کے لئے اس سرخ اور مٹیالی اینٹوں کے اوپر ہواؤں کی طرح دائروں میں گھومتے ہیں۔

ان لوگوں سے آخر میرا تعلق کیا ہے؟ اب سوچتی ہوں کہ ان لوگوں سے بھلا کیا لینا دینا تھا میرا؟ کیوں انسان گزرے موسموں کو ہمیشہ محبت سے سوچتا ہے؟ بچپن اور جوانی کی یادیں اس قدر محسورکن کیوں ہوتی ہیں کہ انسان ہمیشہ ان کی طرف لوٹ جانا چاہتا ہے؟ یہ بات الگ کہ ان کی طرف لوٹ کر بھی انسان اس طلسم و ہوش ربا کو چھو نہیں پاتا جو کوئی یاد بن کر اس کے دل و دماغ کے جسم میں ہمیشہ پیوست رہتا تھا۔

لکڑی کے اس بینچ پر بیٹھ کر اگر چڑیوں کی چہچہاہٹ اور طوطوں کی۔۔۔۔۔میں میرے پاس ڈوب جانے کے لئے وقت ہے،اس راہ کو دور تک دیکھنے،اور سبزے کی نرماہٹ کو جذب کرنے کا حوصلہ ہے تو اس کے پیچھے اس ذندگی کے اور تیس کی دہائی کے آخری دنوں کی فراغت بھی ہے۔جوانی کے شور وغل سے اور پریشان کن مصروفیات سے اب میں آگے نکل چلی،اب معرکہ ہے یہ کہ وہ جو ہر پل پل بھاگتے تھے اب رکے گئے ہیں، ٹھہر گئے ہیں، تو اس فراغت کو کس طرح سر کیجئیے!

پتا پانی

گھاس کٹنے کا شور

ہرے لال پتے۔بادام۔