“شکایت” (رب کے حضور ایک زخمی کلی کی) __________ نورالعلمہ حسن

تمہیں کیا یاد ہیں وہ دن
کہ جب ننھی سی وہ کلیاں
یہاں کرتی تھیں یہ گریہ
کہ اب کی بار ہم زنہار ہونٹوں کو
مُقَفَّل رکھ کے تو ہرگز نہ بیٹھیں گے
مجھے یہ تو نہیں ہے یاد وہ بچی یمن کی تھی
یا پھر آواز وہ ہم کو
کسی یوغر کی بستی سے سنائی دے رہی تھی
اک کلی زخموں کی ماری
جب رخِ بسمل سے اپنا رنج دکھلا کر یہ کہتی تھی
کہ اب کی بار خود جا کر حضورِ رب
رکھوں گی مدعا اپنا
اور اب کی بار تم میں سے
کسی کو درگزر ہونے نہیں دوں گی

مجھے یوں لگ رہا ہے اب
کہ ان کلیوں نے جا کر
بارگاہِ عادلِ ہستی میں
فریادیں سنا دی ہیں
شکایت بھی لگا دی ہے
جلال اب کے یہ قدرت کو
یوں آیا ہے کہ اس باری
یہاں طاری ستم اور جہل کے بادل
بلا تفریقِ رنگ و نسل و مذہب
وہ ہٹائے جا رہی ہے
اور کوئی ہتھیار بھی اس نے نہیں تھاما
سوائے ننھی ان کلیوں سے بھی ننھی سی اک مخلوق کے
دنیا جسے اک وائرس موسوم کرتی ہے
پریشاں ہیں بنی آدم
ہراساں ہیں زمیں والے
فقط یہ سوچتے ہیں
کل بروزِ حشر رب کے سامنے
کہنے کو کچھ اپنی صفائی میں
ہمارے پاس کیا ہو گا؟
سوائے مسخ چہروں کے
سیاہی جن پہ حرماں کی لگی ہوگی
جوابوں کی پٹاری بھی نہیں ہوگی
سوالی بن کے جانے والے دن بھی اب نہیں ہوں گے
کہ اب کی بار شاید سب سزا پانے سزا پائے ہوئے ہی جانے والے ہیں
کہ خالی دامنوں پر رحمتیں کیسے بھلا برسیں
کہ دانستہ گناہوں میں پڑے رہنے کو ہی جو عافیت جانیں
جو آنکھوں دیکھے صدموں کو نظر انداز کرتے ہوں!
بھلا کیسے اک ان دیکھی ہوئی شے سے ڈرے سہمے ہوئے
رب سے دعائے عافیت مانگیں؟
______________

کلام:نورالعلمہ حسن
فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

6 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.