تمہیں کیا یاد ہیں وہ دن
کہ جب ننھی سی وہ کلیاں
یہاں کرتی تھیں یہ گریہ
کہ اب کی بار ہم زنہار ہونٹوں کو
مُقَفَّل رکھ کے تو ہرگز نہ بیٹھیں گے
مجھے یہ تو نہیں ہے یاد وہ بچی یمن کی تھی
یا پھر آواز وہ ہم کو
کسی یوغر کی بستی سے سنائی دے رہی تھی
اک کلی زخموں کی ماری
جب رخِ بسمل سے اپنا رنج دکھلا کر یہ کہتی تھی
کہ اب کی بار خود جا کر حضورِ رب
رکھوں گی مدعا اپنا
اور اب کی بار تم میں سے
کسی کو درگزر ہونے نہیں دوں گی

مجھے یوں لگ رہا ہے اب
کہ ان کلیوں نے جا کر
بارگاہِ عادلِ ہستی میں
فریادیں سنا دی ہیں
شکایت بھی لگا دی ہے
جلال اب کے یہ قدرت کو
یوں آیا ہے کہ اس باری
یہاں طاری ستم اور جہل کے بادل
بلا تفریقِ رنگ و نسل و مذہب
وہ ہٹائے جا رہی ہے
اور کوئی ہتھیار بھی اس نے نہیں تھاما
سوائے ننھی ان کلیوں سے بھی ننھی سی اک مخلوق کے
دنیا جسے اک وائرس موسوم کرتی ہے
پریشاں ہیں بنی آدم
ہراساں ہیں زمیں والے
فقط یہ سوچتے ہیں
کل بروزِ حشر رب کے سامنے
کہنے کو کچھ اپنی صفائی میں
ہمارے پاس کیا ہو گا؟
سوائے مسخ چہروں کے
سیاہی جن پہ حرماں کی لگی ہوگی
جوابوں کی پٹاری بھی نہیں ہوگی
سوالی بن کے جانے والے دن بھی اب نہیں ہوں گے
کہ اب کی بار شاید سب سزا پانے سزا پائے ہوئے ہی جانے والے ہیں
کہ خالی دامنوں پر رحمتیں کیسے بھلا برسیں
کہ دانستہ گناہوں میں پڑے رہنے کو ہی جو عافیت جانیں
جو آنکھوں دیکھے صدموں کو نظر انداز کرتے ہوں!
بھلا کیسے اک ان دیکھی ہوئی شے سے ڈرے سہمے ہوئے
رب سے دعائے عافیت مانگیں؟
______________

کلام:نورالعلمہ حسن
فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف