انصاف—————-شازیہ ستار ایان


سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا ۔ راجی کچی پکی پگڈنڈی جیسی سڑک پر تیزتیز قدموں سے چلتی جا رہی تھی۔ارد گرد لہلہاتے کھیت تھے۔اس کے مٹھی میں چند روپے دبے تھے جو سرپنج کی بیوی نے اسے کپڑوں کی سلائی کے عوض دیئے تھے۔ اماں کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لیے اسے جانا پڑا۔چھوٹے سے بازار سے گزر کر اپنے گھر کی طرف جانے والی پتلی سی گلی کی طرف مڑی تووہ بالکل سنسان تھی ارد گرد کے مکین کھیتوں میں تھے یا اپنے کچے پکے کمروں میں دبکے گرمی کا مقابلہ کر رہے تھے اچانک ایک طرف سے موجو نکل آیا۔اس نے کنی کترا کر نکلنا چاہا لیکن موجو اسی کے انتظار میں کھڑا تھا یہ موقع کیسے جانے دیتا …. وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا گنگناتا ہوا اس کی طرف لپکا “کدھر سے آرہی ہے تو”؟
راجی نے کوئی جواب نہ دیا موجو آگے بڑھ کر اس طرح کھڑا ہوا کہ اس پتلی گلی میں سے گزرنے کا کوئی راستہ نہ رہا۔
“میرا راستہ چھوڑ موجو”
“کیوں ؟ بڑی مشکل سے تو آج اکیلے میں ملی ہے ۔”
“موجو باز آ جا ورنہ…..”
“ورنہ کیا کرے گی تو ……..”موجو اس کے قریب آیا وہ خوفزدہ ہوگئی
“موجو مجھے جانے دے بس”راجی نے تھوک نگلتے ہوئے کہا
“کیسے جانے دوں بتایا تو ہے کہ میرا دل آگیا ہے تجھ پر……… وہ کہتے ہیں نا کہ محبت ہو گئی ہے تجھ سے”۔موجو کا اندازہ لوفرانہ تھا
راجی نے ایک نظر اس پر ڈالی اور پھر ایک سائیڈ سے ہو کر نکلنا چاہا ۔موجو نےاس کے دوپٹے کا کونہ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا راجی کے سر سے دوپٹہ سرک گیا اسے اپنے قدم روکنے پڑے ۔ موجو نے لوفرانہ انداز میں اسے آنکھ ماری اور گنگنانے لگا۔ نفرت اور غصے کی ایک شدید لہر راجی کے تن من میں دوڑی
وہ مڑی اور اس نے موجوکے منہ پر ایک تھپڑ دے مارا موجو دنگ رہ گیا” سالی تیری یہ جرآت” وہ چلایا گلی کی نکڑ پر آخری گھر راجی کا تھا وہ گھر کی طرف بھاگی موجو اس کے پیچھے تھا-
راجی گھر کے قریب پہنچی تو اس کی اماں اچانک دروازہ کھول کر باہر نکل آئی وہ راجی کو ہی دیکھنے آئی تھی کہ اتنی دیر ہوگئی ابھی تک کیوں نہیں پہنچی ۔
“اماں…… اماں…. “راجی نے ماں کے پیچھے ہوتے ہوئے ادھورا سا جملہ بولا اور اماں موجو پر نظر پڑتے ہی اس ادھورے جملے کا مطلب سمجھ گئی اور کڑک کر بولی
“اوبے ہدایتیا…..کچھ تو حیا کر….. تیرے گھر میں بھی جوان بہن ہے اور تو…….”
موجو نے کچھ نہ کہا کینہ توز نظروں سے راجی کو دیکھتا ہوا واپس مڑ گیا ۔
اماں نے دروازہ بند کیا اور راجی کو لے کر اندر آ گئی وہ کچھ سوچ رہی تھی۔
” اماں آج بھائی آئے گا تو میں اسے بتاؤں گی”
” خبردار کسی سے کچھ بھی کہا تو…..”اماں نےگھرکا
“مگر اماں یہ آج پہلی مرتبہ نہیں ہوا…… وہ پہلے بھی میراراستہ روکتا رہا ہے لیکن آج تو حد ہو گئی” را جی نے کہا۔
” بس آج کے بعد تو نےکبھی گھر سے اکیلے باہر نہیں جانا۔بلکہ گھر سے باہر جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے تیرا کیا کام ….. آج تیرا ابا آجائے تو اسے کہتی ہوں کہ اپنی بہن سے بات کرے…..لے جائے وہ ویاہ کر تجھے …..کب تک بٹھائے رکھیں گے “۔اماں پر سوچ لہجے میں بولی ۔
راجی اماں کو دیکھتی کوٹھڑی میں گھس گئی۔
______________
راجی کو جب کبھی موجو کی کینہ توز نظریں یاد آتیں وہ تنہائی میں بھی کانپ اٹھتی وہ بھی اک عام سا دن تھا ابا اور بھائی رمضو شہر گئے تھے اماں کو کسی کا پرسہ دینے جانا پڑا
“تو دروازہ بند کر لے میں تھوڑی دیر میں آ جاؤں گی”
اماں نے ہدایت دی
“میں بھی ساتھ چلو ں؟”راجی کو خوف سا محسوس ہوا
“میں تجھے کہاں سنبھالتی رہوں گی تو آرام سے گھر رہ اور کام کرلے”
“اپنے گھر میں کیسا ڈر” ایک پڑوسن نے کہا جو اماں کے ساتھ جا رہی تھی
“ٹھیک ہے اماں…… لیکن جلدی آجانا”۔
اماں کے جانے کے بعد راجی گھر کے کام کرنے لگی جھاڑو دیا کپڑے دھوئے پھر خود نہانے کا سوچا اور کوٹھڑی سے کپڑے لینے چلی گئی ٹرنک سے کپڑے نکال کر باہر نکل رہی تھی کہ کسی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور دھکیلتا ہوا کوٹھڑی میں واپس لے آیا
“موجو …….” وہ دھک رہ گئی۔اس نے چلانے کی کوشش کی لیکن منہ پر سختی سے موجو کا ہاتھ جما تھا۔وہ چڑیا کی طرح اس کی گر فت میں پھڑپھڑائی لیکن خود کو نہ چھڑا سکی ۔
اماں اور پڑوسنیں جب گھر پہنچیں تو موجو دروازے سے نکلتا دکھائی دیا اما ں بھاگ کر اندر پہنچی سامنے لٹی پٹی راجی بیٹھی تھی وہ ڈھے گئ سر پر آسمان ٹوٹ پڑا…. قدموں کے نیچے سے زمین نکل گئی …….چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال ہو چکا تھا۔
پڑوسنوں کی بدولت گاؤں میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ۔ معاملہ پنجایت تک جا پہنچا ۔
راجی کے ابا اور بھائی کی آنکھوں میں خون اتراہوا تھا وہ بدلے کی آگ میں جل رہے تھے اور پنجایت سے انصاف کے متمنی تھے۔پنجایت نے انہیں مایوس نہ کیا اور حالات واقعات اور گواہوں کو مد نظر رکھتے ہوئے فورااپنا فیصلہ سنا دیا۔
فیصلہ سنتے ہی موجو گھر پہنچا…… اس کی اماں اسے رو رو کر روکنے کی سعی کرنے لگی اور
شمسہ ……..وہ مہر بہ لب ویران نظروں سے موجو کو دیکھ رہی تھی اس کا بھائی.. اسکا ماں جایا…… اس کا محافظ …..وہ آج کچھ بھی نہ رہا تھا ۔
“جلدی کر سب انتظار کر رہے ہوں گے” موجو نے اس کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹا اور پنچایت کے سامنے لا پٹخا “سر پنچ جی لے آیا ہوں اسے…… لےلے رمضو بدلہ”۔
رمضو مونچھوں کو تاؤ دیتا اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہوا اور بلکتی ہوئی شمسہ کو گھسیٹتا ہوا بکریوں کے باڑے کی طرف چلا۔
لمحوں میں باڑہ شمسہ کی چیخوں سے گونج اٹھا ۔عورتوں نے دوپٹوں سے منہ بھینچ لئے۔سر پنجوں کا سر فخر سے بلند ہو گیا….. انصاف کا بول بالا ہوا بکریوں نے یہ انصاف دیکھ کر منہ پھیر لیا۔

____________
تحریر = شازیہ ستار نایاب۔لاہور

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

11 Comments

  1. Sofia Kashf, Some new followers for your blog
    Some of my friends have started following your blog.
    #Iffatnoor
    #Kashaf
    and #Irumkhan
    this blog has some awesome materials about site seeing, foods, stories and and articles.
    You guys gonna love this blog.
    especially #iffat your favourite writer #SumairaHameed stories, also posted there,
    and #Irum appi there is lot of stuff about photography.. ❤️ ❤️
    so guys keep following this blog. 😍👌❤️❤️❤️

    Liked by 4 people

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.