جب سے عورت مارچ ہو رہا ہے میں اس کے خلاف لکھ رہی ہوں۔میں نے عورت مارچ کے بارے میں ہمیشہ میڈیا اور سوشل میڈیا سے جانا، اور ٹی وی مناظروں سے جہاں دونوں پارٹیاں،مخالفت اور حق میں ایک دوسرے کو کھینچ کر انتہائی لیول پر لیجاتی ہیں اور دونوں کے نظریات کا حشر نشر کر دیتی ہیں ۔اس لئے میری رائے مکمل طور پر فیمنسٹ ہونے کے باوجود ان کے طریقے کے خلاف رہی ہے ۔اس بار اسلام آباد میں موجود ہونے کی وجہ سے مجھے لگا کہ مجھے اس بار عورت مارچ خود جا کر دیکھنا چاہیے۔سچ کیا ہے جھوٹ کیا اس کو جاننے سے بہتر طریقہ اور کوئی نہیں کہ اس کا ڈائریکٹ مشاہدہ کیا جائے۔مزید حمایت یا مخالفت کرنے سے پہلے کم سے کم مجھے زمینی حقائق دیکھنے چاہیں۔چناچہ ہنگامی بنیاد پر ہم نے اس کی تیاری کی اور ایک آبزرور کے طور پر عورت مارچ میں پہنچ گئے۔ہم نے کوئی نعرہ نہیں لگایا نہ کوئی بینر اٹھایا صرف وہاں پر چلتے پھرتے مختلف لوگوں، کم عمر بچے بچیوں سے گفتگو کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ آنے والے افراد آخر اپنے دماغ میں کیا سوچ لے کر آئے ہیں۔کیا وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کیا مانگ رہے ہیں یا وہ صرف تماشا دیکھنے اور نعرہ لگانے کے لئے موجود ہیں۔

سب سے پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب محض ایک ٹینٹ کے فاصلے پر دو شدید مخالف پارٹیوں کا جلسہ ہوتا دیکھا۔مقرہ وقت تین بجے ابھی عورت مارچ کی لوکیشن پر صرف شرکت کے لئے احباب موجود تھے یا میڈیا تھا اس کے علاؤہ عورت مارچ کی انتظامیہ کہیں نظر نہ آتی تھی جب کہ ٹینٹ کے دوسری طرف کسی مذہبی جماعت کا عورت مارچ مخالف جلسہ بڑی شدومد سے جاری تھا اور ان کی تقریریں سڑک کے دوسری طرف بھی سنائی دے رہی تھیں۔شدید حیرت ہوئی کہ پاکستان جیسے انتہا پسند ملک میں جہاں پر صرف ایک بیان پر قتل ہو جاتے ہیں وہاں دو انتہا پسند تنظیموں کو ساتھ ساتھ جلسے کی اجازت دینا ایک انتہائی غلط فیصلہ تھا جس کا ثبوت مارچ کے دوران پتھراؤ اور ہنگامہ آرائی کی صورت نظر آئی۔

عورت مارچ کا مجمع اگر دیکھا جائے تو عورتوں کی تعداد بہت ہی کم تھی اور جو تھیں وہ بھی کم عمر لڑکیاں اور بچیاں ملا کر تھی۔باقی اکثریت جوانوں ،مردوں یا میڈیا نمائندوں کی تھی۔بلکہ جتنا مرد عورت مارچ میں موجود تھا اسے دیکھ کر سوچا اگر عورت مارچ کے ساتھ عورت کی نسبت مرد کی دگنی تعداد کھڑی ہے تو پھر عورت مارچ کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔بہت سی بچیوں سے بات ہوئی جو کسی نہ کسی طرح عورت کے حقوق کی بات کرتی رہیں۔کچھ بچے بڑے پلے کارڈز کے ساتھ دکھائی دئیے جو اپنی عمر اور شعور کے حساب سے یہ جانتے تھے کہ آخر وہ کس لئے اتنی محنت سے پوسٹرز بنا کر لائے ہیں۔تقاریر ہوئیں ،نعرے لگے اور نغمے گائے گئے۔تقاریر میں ایسا کوئی مواد نظر تو نہیں آیا جس میں مذہب کے یا معاشرت کے یا پچھلے جلسے میں موجود مخالف لوگوں کے بارے میں کوئی بات کی گئی ہو۔تمام باتیں عورت کے حقوق کے گرد ہی گھومتی دکھائی اور سنائی دئیں۔اگر لال لال کا نعرا اور میرا جسم میری مرضی کو ضد نہ بنا دیا جائے تو مجھے کہیں سے اس جلسے میں عریانی یا فحاشی دکھائی نہ دی۔اگر صرف آپ کسی کے ننگے سر یا برقعے نہ ہونے کی بنا پر کسی کو عریاں یا فحش کہہ سکتے ہیں تو پھر شاید آپ کو عریانی دکھائی دے ۔مگر ایسے ملک میں جس کی وزیراعظم ایک عورت رہ چکی ہو جو صرف علامتا سر ڈھکتی رہی ہو وہاں پر اتنی سے بات سے اتنا بڑا فرق پڑنا تو نہیں چاہیے۔

میری واپسی تقاریر ختم ہونے سے پہلے ہی ہو گئی مگر واپسی پر بھی مجھے ٹینٹ کے دوسری طرف سے عورت مارچ کو اور ان میں موجود عورتوں کو فحش اور بے ہودہ قسم کے الفاظ سے نوازا جانا سنائی دیتا رہا جو کہ اس طرف موجود ہونے کی وجہ سے اب یقینا میرے بھی کریڈٹ میں تھا۔

مجھے یوں لگا کہ عورت مارچ کا فسانہ وہ ہے نہیں جو بنا دیا گیا ہے۔یہ نہ تو کوئی بہت ہی بڑی تحریک ہے نہ کوئی ہزاروں لوگ اس کے فالور ہیں کچھ ایکٹیوسٹ عورتیں کچھ جوشیلے جوان اور بس۔تھوڑے سے پڑھے لکھے لوگ اور کچھ تبدیلی کی منتظر عورتیں۔بس یہ کہانی ہے۔چند لوگوں کی کہانی پر مذاکروں اور سوشل میڈیا نے بہت ہی غیر ضروری شہرت کا بوجھ ڈال دیا ہے۔مذاکرے پر مذاکرے اور تجزیے پر تجزیے نے گفتگو کو وہاں تک پھیلا دیا ہے جہاں تک ابھی عورت مارچ بھی نہیں پہنچا اور یہ تحفہ ریٹنگ کے چکر میں پڑ کر میڈیا کا ہے جس نے ایک گلی کی کہانی کو سارے ملک کے گھر گھر میں پہنچا دیا ہے بلکہ بہت ہی بھونڈے اور غلیظ انداز میں پراگندا بھی کر دیا ہے۔چٹخارے اور سنسنی کے شوقین میڈیا اور شائقین نے ایک مثبت احتجاج کی مٹی پلید کر دی ہے۔فارن فنڈنگ کہیں جلسے میں تو نظر نہ آئی کہ انتظام کے حساب سے ایک غریب قسم کا جلسہ تھا۔ فارن فنڈنگ کی تحقیق تو پاکستانی ایجنسیاں بہت آسانی سے کر سکتی ہیں اس کے لئے تنظیموں کو آپس میں لڑنے کی کیا ضرورت ہے؟تحقیق کریں اور کوئی فنڈنگ ہے تو اسے بین کر دیں ورنہ ان کو کچھ حدود نافذ کر کے پرموٹ کرئیں۔کچھ لوگ تبدیلی کے خواہاں ہیں تو ان کو ملک کی ترقی میں حصہ ڈالنے دیں۔یہ متنازعہ کر کے ،تماشا لگا کر، کونسا فایدہ حکومت،میڈیا یا ایجنسیاں حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

مجھے یہ بھی لگا کہ عورت مارچ والوں کو عام عوام تک اپنے پیغام کے ابلاغ کی ضرورت ہے۔آپ کیا کرنا چاہتے ہیں اور آپ کے کیا مقاصد ہیں سب سے پہلے سادہ اور آسان ،مقبول عام زبان میں عام لوگوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ اشتعال کا شکار ہو کر خود کو متنازعہ کر کے آپ میڈیا کی توجہ تو جیت جائیں گے مگر اپنا کیس ضرور ہار جائیں گے۔میڈیا میں بھی تحقیق کا رواج ہونا چاہئے۔آپ بھی تحقیق کریں اور جو صحیح حالات ہیں ان کو سامنے لا کر عوام کو دکھائیں۔سانپ اور نیولے کی لڑائی دکھا کر آپ اپنے معاشرے کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

میں نے کچھ اور بھی محسوس کیا کہ کئی قسم کے تعلیمی نظام اور طبقات رائج کر کے آپ نہ اپنا بھلا کر سکے نہ دوسروں کا۔آپ نے عام عوام کو انگریزی تعلیم نہیں دی،ان کو غریب مسکین سمجھ کر مدرسوں کے حوالے کر دیا۔آج آپ کے انگریزی پڑھے بچوں کو انہیں مدرسے کے بچوں سے اپنا حق مانگنا پڑ رہا ہے۔آپ نے اپنے بچوں کو انگریزی اور اعلی تعلیم دے دی مگر ان کے لئے ایسا ماحول نہ بنا سکے جس میں وہ سر اٹھا کر جی سکیں۔آج ان کی انگلش اور جینز مدرسے کے اردو بولنے اور پڑھنے والے بچوں کو مذہبی طور پر نہیں تو نفسیاتی طور پر خوفزدہ کرتی ہے۔آپ کے انگریزی پڑھے بچے معاشرے میں آزادانہ پھرنے کے قابل نہیں رہے اور مدرسوں کے اردو عربی پڑھے بچے اب آپ کو جینے نہیں دیں گے کیونکہ آپ نے ایک عرصے تک ان کو غریب مسکین جان کر دیوار سے لگائے رکھا۔۔یہ جینڈر کی جنگ سے زیادہ طبقات کی جنگ ہے۔لڑنے والے نہ مذہب کے لئے لڑ رہے نہ لادینیت کے لئے ۔لڑنے والے تو اپنی اپنی زبان اور لباس کے لئے لڑ رہے ہیں۔آپ کو اب وہی کاٹنا پڑے گا جو آپ عرصے سے بوتے رہے ہیں۔

انتہائی رش میں بھی مردو عورت کے بیچ میں نے کسی کو دوسرے کو چھیڑتے نہیں دیکھا نہ چٹکی کاٹتے،نہ خوامخواہ چھونے کی کوشش کرتے۔پڑھا لکھا طبقہ ہونے کی وجہ سے اکثریت خود کو اپنی حد میں محفوظ رکھے ہوئے تھا۔اتنا ہی رش کسی بس اسٹیشن یا ریلوے میں چڑھتے اترتے دیکھنا پڑتا تو آپ جان سکتے ہیں عورت کے ساتھ وہاں پر کیا کچھ ہو جاتا۔مگر تعلیم کا سب سے بڑا احسان یہی ہوتا ہے کہ یہ انسان کو تمیز دیتی ہے۔تو آس پاس اکثریت پڑھے لکھے لوگوں کی ہی تھی جن کو دوسرے کے جسم سے پرے رہنا آتا تھا۔تو یہ بات بھی سچ ہے کہ معاشرہ بدلنا ہے تو سب سے پہلے تعلیم دو۔

__________

فوٹوگرافی و تحریر:صوفیہ کاشف