قطرہ قطرہ پگھلتی برف سے ٹپ ٹپ رِستا پانی چوٹیوں کی چلمن سے جھانکتی سورج کی شرمیلی کرنوں کی سوغات ہے ۔ ان کرنوں کو آئینے سے منعکس کرنے والی الہڑ لڑکی سوغات کی سینی پہ رکھا وہ گلدار رومال ہے جس کی شوخی سے مسکراہٹوں کو ثبات ہے ۔ بہار انھی رومالوں کی رونق سے مزید نکھر آتی ہے ۔ تناؤ پہ بیٹھی قمریوں کی قطاریں ، آبی آسمان پہ اڑتی قوس قزح سی پتنگیں ، پتنگوں کے پیچھے بھاگتے سیب کے پھولوں جیسے بچے ، بچوں کو پکارتی وسواسی مائیں ، زندگی کے نٹ کھٹ ، چنچل وہ سوقیانہ رنگ ہیں جو بڑھاپے میں یاد بن کر مزید شوخ ہو جاتے ہیں ۔ پھر زندگی بھر بھلائے نہیں بھولتے ۔گو کہ ابھی سوکھی شاخوں کی مسیں سبز نہیں ہوئیں ، درختوں کے بالغ ہونے میں کچھ وقت مزید باقی ہے ۔ موسم کے خدو خال بتا رہے ہیں جلد نوخیز و نوجوان ہو جائے گا ۔ شہر کی چہل پہل کا گمان ہے کابل برف کو الوداعی بوسے دے کر خدائے پہ امان کہہ چکا ہے ۔ لوگ بارش کے منتظر تھے تاکہ مکھیوں کی طرح پھیلی وبائیں ختم ہو جائیں ۔ سارے وسوسے اور خدشے بھی ۔ خبریں خوشخبری سنا رہی ہیں کہ اس بار بہار کے دامن میں امن کے پھول کھلیں گے ۔ کیا واقعی یہ بہار دائمی ہوگی ؟ کل کس نے دیکھا ؟ ہم آج میں جیتے ہیں اور خیر خواہوں کی تہنیتیں سمیٹتے ہیں ۔ سرشاری کے عالم میں رقص کرتے ہیں ۔ کابل تا ننگر ہار جہاں بم دھماکوں نے شہر سے رونقیں اس کے شاداب چہرے سے نوچ لی تھیں سبھی محو رقص ہیں ۔ کہیں ڈھول کی تھاپ پہ منچلوں کے قدم قدیم قبائلی رقص کے لیے اٹھتے ہیں کہیں دف پہ تھرکتی انگلیوں کے آھنگ پہ گردنیں گھومتی ہیں ۔ شانوں پہ بکھرے بال ہوا میں لہراتے ہی گھومتی ہوئی دھرتی کا حصہ بن جاتے ہیں ۔
آنیوالے وقت میں یہ خوشی ایک سنہری یاد بن کر جب ان کے بچوں کو منتقل ہوگی ، البم میں رکھی کسی تصویر کی صورت ، وڈیو یا محض منہ زبانی ایک کہانی تو انھیں کتنا اچھے لگے گا ۔ یہ سوچ کر ایک مسکان میرے لبوں پہ پھیل گئی ۔ پھیلتے پھیلتے کھڑکی سے نکل کر آسمان کی جانب چلی اور چاند کی لکیر کو چیرتے ہی دولخت کر گئی ۔ تبھی مسکان اور چاند کے درمیان ایک سیاہ بادل کا منچلا ٹکڑا آ گیا ۔

سوندھی سی دھیمی دھیمی ہوائیں چلنے لگیں ۔ ایک جانی پہچانی ، رومانوی خوشبو چار سو پھیل گئی اور پھر چاند کو بادلوں نے باہوں میں بھر لیا ۔ خاموشی کو بارش کے قطروں نے بڑے طمطراق سے توڑا ۔ بارش جو پہلے ہمارے اپارتمان سے باخبر دبے پاؤں آتی اور چپکے سے نکل جایا کرتی تھی ۔ صبح گیلی گیلی سڑکیں دیکھ کر میرے دل پہ اوس پڑ جاتی ۔ میں سوچتی رہ جاتی : “یہ کیا کہ بارش ہو اور خبر نہ کرے “۔ تب میں نے یہ جانا پی وی سی کی کھڑکیاں اور بند دروازے صرف آواز ہی نہیں یادگار لمحے بھی روک لیتے ہیں ۔ اس کا حل ہم نے یہ سوچا کہ کھڑکیوں پہ ٹین کے شیڈ لگا دیے جائیں ۔ جب سے شیڈ لگے ہر قطرہ ہسپانوی رقاص بن گیا ۔ ٹک ٹک ٹک ٹک ، ٹپ ٹپ ٹپ ٹپ ۔ جیسے چست لباس پہنے چاک و چوبند لڑکے Flamenco رقص میں محو ہوں ۔ بارش کی ہر بوند سفید دامن اٹھائے اونچی ایڑی والی سینڈل پہنے ہسپانوی حسینہ بن جاتی ، جس کے قدم زور سے ٹین پہ پڑتے اور ردھم کی روح سرشار ہو جاتی ۔ رات بھر بارش کی سبھی بوندیں چٹان پٹاخ تالیاں بجاتی رقاص لڑکیاں اور قطرے جیل لگائے قرینے سے بال چپکائے ایڑیوں پہ گھومتے مردوں کی طرح فلمینکو کرتے رہے ۔ میں دیکھتی رہی، سنتی رہی جھومتی رہی ۔ بادل بوڑھے گیٹارسٹ کی طرح اپنی پاٹ دار آواز میں زور زور سے اجنبی زبان میں گیت سناتا رہا ، اکیلے ہی گاتا رہا ۔ میں داد دیتی رہی ۔ ایک شعر ذہن میں کلبلاتا رہا ۔“بزن باران کہ من ہم ابری ام ۔۔۔۔
بزن باران ۔۔۔۔
پُر از بےصبری ام!
جب آسمان سے گاہے گاہے سپاٹ لائیٹ رقاصاؤں پہ پڑنے سے ان کے شفاف چہرے واضح ہو جاتے تو وہ منظر دل موہ لیتا ۔ ساری اداسی کافور ہو جاتی ۔
”I mean yes we are sinking
But…..
The music is exceptional.
( Katherine Schulte)
پھر بوندیں میری کھڑکی کے شیڈ پہ اپنی ایڑیوں پہ جھومتی اور ان کی آہٹیں میری آنکھوں کو کئی زمانے پیچھے کسی یاد کے دباؤ میں دوبارہ نمناک کر دیتیں ۔ سٹیج رات بھر سجا رہا قطروں کی ٹولیاں ایک ساتھ گھومتی رہیں ۔ صبح ہوتے ہی سارے ساز، سبھی سازندے اپنے آرکسٹرا سمیت لوٹ گئے ۔ بس رقاصاؤں کی خوشبو اور قدموں کے نشان باقی رہ گئے ۔
بارش سب کچھ دھو چکی تھی سوائے میری یادوں کے۔
محترمہ سردی صندوق اٹھائے سسرال واپسی کی تیاری میں لگی ہوئی ہے ۔ لگتا ہے یہ بارش بہار کی پہلی بارش تھی ۔ پھر بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگا ۔ زمین جب سیر ہو جائے گی تو اس کے سینے سے سبزہ پھوٹے گا ۔ اس کے بعد آسمان پہ قوس قزح نہیں پتنگیں ہوں گی ۔ درخت نئی پوشاک پہنیں گے اور بھنورے تتلیوں کے تعاقب میں پہاڑوں کے پیچھے دور تک نکل جائیں گے ۔
اُسی صبح ہمارے دیرینہ ملازم کی والدہ خالہ نفیسہ جان خوشی سے پھولے نہ سمائی سندیسہ لائی ۔ اس کے آخری اور لاڈلے بیٹے کی منگنی ہے ۔ میرے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ میں حامی بھروں یا عذر پیش کروں ۔ پھر میں نے سوچا کہ میرے جانے سے ہم دونوں کو کچھ یادگار لمحے ملیں گے تو سودا گھاٹے کا نہیں ۔ ہم دونوں کے عکس ماضی کے البم میں یہ وقت گزر جانے کے سالوں بعد بھی ایک خوشگوار یاد میں پیوستہ رہیں گے ۔
ہاں مجھے یادوں سے پیوستہ رہنا پسند ہے ۔ اور میں نے فیصلہ کر لیا ۔

میری گاڑی ٹریفک کے اژدھام سے پھنستی نکلتی کھلی شاہراہ پہ پہنچی ۔ شہر کے اطراف میں آج بھی وہ عمارتیں سلامت ہیں جن کے سینوں پہ جنگ کے نشان سلامت ہیں ۔ کسی طبیب نے ان کے زخم نہیں بھرے ۔ کبھی کبھی انھیں دیکھ کر دل چاہتا ہے کہ اپنے ہاتھوں سے وہ سارے خلا پُر کر دوں جو دہشت کی علامت بن کر عوام کو خوفزدہ کرتے ہیں مگر نہیں ! کچھ عمارتیں ایسے ہی محفوظ ہو جائیں تو اچھا ہے ۔ تاکہ آنیوالی نسلوں کو علم ہو سکے کہ جنگ الجبرا کا وہ سوال ہے جس کا نتیجہ ہمیشہ صفر نکلتا ہے ۔ میری گاڑی فاں کر کے ایک ایسی خستہ عمارت سے گزر گئی جہاں الجبرا کے سوال درج تھے ۔ بیشتر سوال کھنڈر کے کونے کھدروں سے نکل نکل کر میری گاڑی کی ونڈ سکرین پہ چپکنے لگے ۔ بالکل ان بھکاری عورتوں کی طرح جو خیر مانگے بنا ٹس سے مس نہیں ہوتیں ۔
سامنے فیروزی گنبد والی مسجد کے پیچھے پہاڑوں پہ بنے نیلے پیلے اودے گھر کسی گڑیا کی ملکیت لگتے تھے ۔یا جیسے کسی بچے نے ماچس کی رنگ برنگی ڈبیاں ایک دوسرے پہ رکھ دی ہوں ۔ مگر مجھے معلوم ہے یہ گھر بس دور سے ہی بھلے معلوم ہوتے ہیں ۔یہاں زندگی بھی گھروں کو جاتی سیڑھیوں کی طرح زگ زیگ گزرتی ہے ۔ گاڑی سے اترتے ہی رونق سے بھرپور ایک بازار ملا ۔ ریڑھیوں پہ لدے میوے ، انار کا جوس ، ہو زری کا سامان ، آرائشی اشیاء ، سکارف ، بیٹریاں ، تول کے حساب سے کپڑا ، زمین پہ پڑے کٹ پیس کے ڈھیر ، نسوار فروش ، ماہی فروش ، خشک میوہ ، پتیسے ، نمکو ، نُقل کے تھیلے خرید و فروخت کرنے والے سبھی مرد اور ان کا سامان ٹھکانے لگانے کے لیے پلاسٹک کے لفافے بیچنے والے ننھے بچے ۔ اکا دکا عورت بھی نظر آ جاتی جسے میں آٹے میں نمک کے برابر کہہ سکتی ہوں ۔ اندرونی گلیوں میں چھوٹی بڑی دکانیں تھیں ۔ ایک جگہ قالین فروش دو تاجیک خوش گپیوں میں مصروف تھے تو ایک دکان پہ آلات موسیقی برائے فروخت تھے ۔ سبھی مستعمل تھے جنھیں دکان دار نے مرمت کر کے بیچنے کے لیے پیش کر دیا ۔ تنبورا ، کی بورڈ ، پیانو اور رباب کے پہلو سے جھانکتا ایک ننھا سرخ گیٹار بھی دیکھائی دیا ۔ اسی کے ساتھ بزاز کی دکان پہ کھٹے میٹھے رنگوں والے گلدار پارچے اور سلے ہوئے افغانی کپڑے تھے ۔ دوسری طرف سبزی منڈی نما جگہ تھی جہاں سبزیوں کی ریڑھیاں تھیں ۔ صاف ستھری چمکتی سبز مرچیں ، لیموں اور لہسن ۔ حیرت مجھے دکان کے تھڑے پہ لٹکے سکھائے ہوئے سالم دنبوں کو دیکھ کر ہوئی ۔ ہم تو گوشت کے ہار پروتے ہیں پھر نمک لگا کر سائے دار جگہ پہ لٹکاتے ہیں ۔ ان کا طریقہ کچھ ذیادہ ہی پروفیشنل تھا ۔ ساتھ پانی کی بوتلوں میں مختلف قسموں کے تیل ، خدا جانے ان کے کیا فوائد ہوں ۔ گلابی پگڑی والے ایک سکھ سردار کی دکان پہ جڑی بوٹیاں بک رہی تھیں ۔ خشک دھنیا ، بادیان، ثابت ہلدی ، گھگیوار ، اور پسی مہندی کے علاوہ بھی بہت کچھ ۔ ایک ڈبے میں املتاس کے بیج دیکھ کر انجانی خوشی ہوئی ۔ املتاس کے بیج بے مثال فوائد کی وجہ سے میری والدہ کے پسندیدہ ترین بیج ہیں ۔ بچپن میں جب املتاس کے پیلے پھول جھڑنے لگتے اور لمبی لمبی سیاہ بیج سے بھری ڈنڈیاں شاخوں سے لٹکتی تو میں اور میری بہن انھیں درختوں سے اتار کے دوپٹّے میں باندھ کر گھر لے آتے ۔ بعض اوقات ہم اتنا ذخیرہ کر لیتے کہ ان کے لیے سٹور میں جگہ کم پڑ جاتی اور وہ پھینکنے پڑ جاتے ۔ محلے میں جب کسی کو ضرورت ہوتی تو میری امی حسب مقدور حکیم بن جاتیں ۔ قبض کا تیز بہدف علاج کرنا ہو کسی بچے کو گلے ہوں یا جلاب یہی بیج کام آتے ۔ تب طبیب کے پاس جانے کا ذیادہ رواج نہیں ہوا کرتا تھا ۔ کچھ جڑی بوٹیوں اور بیجوں کی موجودگی نمک مرچ کی طرح باورچی خانے میں ضروری سمجھی جاتی تھی ۔ جیسے کہ بادیان ، کلونجی ، میتھی کے بیج ، ہینگ ، ہریڑ ، ملٹھی وغیرہ وغیرہ ۔ ایک دفعہ پشاور قطار در قطار املتاس کے درختوں پہ مایوں بیٹھے بسنتی پھول دیکھ کر مجھے بچپن یاد آ گیا تھا ۔ وہیں پہ میں نے کچنار کے درختوں پہ بند کلیاں دیکھیں تو گاڑی رکوا لی ۔ درختوں کے پاس نام دیو جیسا ایک مالی بیٹھا تھا ۔ میں نے کہا : کچھ کلیاں توڑ دیں گے ؟۔
وہ اللہ کا بندہ کچھ کلیاں ہی توڑ لایا ۔
میں نے کہا : چاچا جی یہ تو کم ہیں میں نے سالن بنانا ہے ۔
وہ چونکا اور چِٹی ناں کرتے ہوئے بولا : اس طرح تو آپ ساری کلیاں کھا جائیں گی ۔ یہ کلیاں کھِل کر بہت ہی پیارے کاسنی کاسنی پھول بنتے ہیں ۔ آپ کو دے دیں تو درخت گنجا ہو جائے گا ۔ میں نے دل میں کہا : کہتے تو آپ بھی ٹھیک ہو مگر کیا کروں ان کا سالن بہت لذیذ بنتا ہے ۔ خیر میں نے گھر جا کر ان مٹھی بھر کچنار کی کلیوں کا سالن بنایا اور نان کے ساتھ کھایا ۔

سردار کی دکان پہ ایک ڈبے میں ویسے ہی کاسنی پھول پڑے تھے ۔ اور اس سے آگے روٹیوں کی دکان بھی تھی ۔ جس کے سامنے قطار میں بیٹھی برقع پوش عورتیں ۔ یہ بھیک نہیں مانگتیں ۔ صرف روٹی مانگتی ہیں ۔ اس کے لیے بھی ہاتھ نہیں پھیلاتیں ۔ کسی کا دامن پکڑتی ہیں نہ چھوٹے چھوٹے بچوں کا واسطہ دیتی ہیں ۔ بس چپ کر کے بیٹھی رہتی ہیں ۔روٹی خریدنے والے ان کو حسب ضرورت روٹیاں خرید کر دے دیتے ہیں ۔ یہ اٹھ کر چلی جاتی ہیں ۔ ان کے نیلے برقعے دیکھ کر پنجرے میں قید تیتریوں کا گمان ہوا ۔ مجھے ہرگز اعتراض نہیں کوئی چادری اوڑھے نہ اوڑھے مگر اتنا جانتی ہوں چادری اوڑھنا بیشتر خواتین کی اپنی مرضی یا منشا نہیں ہوتی بلکہ رواج اور ماحول کا تقاضا ہوتا ہے ۔ اس لیے انھیں دیکھ کر اچھا محسوس نہیں ہوتا ۔ میرے خیالات کے تسلسل کو ایک بھاگتے بچے نے توڑا جب اس کی چرخی میرے دوپٹّے کے پلو سے الجھ گئی ۔ چرخی نہ ہوئی بہار کا جھونکا ہوگیا ۔ اور کچھ فاصلے پہ پتنگوں کی دکانیں اور ان کے سامنے کھڑے بیشمار لڑکے ۔ کوئی ڈوری کو چرخی پہ چڑھا رہا ہے تو کوئی پتنگ خرید رہا ہے ۔ میں نے اپنی رفتار سست کر دی ۔ آیس کریم کی ریڑھی اور پتنگ کی دکان پہ کھڑے بچو ں کے چہروں پہ مسکراہٹ دیکھنے لائق ہوتی ہے ۔ وہ بچے جیسے پتنگ نہیں پنکھ خرید رہے ہوں ۔ رنگین امیدوں سے آراستہ پنکھ ۔ رنگ برنگی چرخیاں ٹافیوں کی طرح بچوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہی تھیں ۔ ان بچوں کو موت کا مطلب نہں معلوم نہ جنگ کے معنی آتے ہیں ۔ یہ موم کے پُتلے ہیں انھیں پتنگ دو ، کتابیں تھما دو یا یا بندوق یہ اسی سے کھیلنا شروع کر دیں گے ۔ بے اختیار دل سے دعا نکلی ان کی چمکتی آنکھوں کو خدا نظر بد سے بچائے ۔ ایک وہ بھی وقت تھا جب افغان بچے گولیوں سے کھیلتے تھے ۔ وہ مدرسوں میں قرآن پاک پڑھنے جاتے اور وہیں پہ انھیں اللہ کے نام پہ یرغمال بنا کر انھیں میدان جنگ میں بھیج دیا جاتا ۔چھ ، سات سال کے بچے جہادیوں کا ذاد راہ بنتے اور بارہ ، تیرہ سال کی عمر کو پہنچتے ہی کلاشنکوف اٹھائے پھرتے تھے ۔ ان کے نازک کندھے راکٹ لانچر کے بوجھ سے دوہرے ہو جاتے ۔ ماں کی مہک سے دور بہت دور جہاں ان کے آنسو جہاد کے رومال سے پونچھے جاتے اور ہچکیاں جنت کے بہلاوئے میں بند کی جاتیں ۔ افسوس بیشتر بچے بہتر حوروں کے آنچل تلے سونے کے کا طمع لیے بلوغت سے پہلے ہی شہید ہو جاتے ۔ کبھی لوٹ کر نہ آتے ۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکہ نے افغانستان کے سکولوں کو ایسا نصاب فراہم کیا جس میں لکھا ہوتا الف سے اللہ ، ب س بسم اللہ ج سے جہاد ۔حساب کی کتاب میں دو گولیاں جمع دو چار گولیاں ۔ وہ انتہائی پر تشدد نصاب تھا۔ جس میں ٹینک ، میزائل ، گن ، کلاشنکوف گرینڈ وغیرہ ہوا کرتے ۔ اس وقت فارسی اور پشتو زبان کے درسی قاعدے میں حکایات بھی ساری جنگ پہ مبنی ہوتیں ۔ قاعدے میں کچھ ایسے جملے لکھے ہوتے ۔“ج جہاد ، جہاد فرض ہے ۔ جمیل جہاد پہ گیا ہے ۔ میں بھی جہاد پہ جاؤں گا ۔ “یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی تاکہ بچے بڑے ہوں تو جہاد کی تمنا ان کے دل میں اس قدر جاگزیں ہو چکی ہو کہ وہ جنگ کو زندگی کا نصب العین سمجھ لیں ۔ امریکہ کی یونیورسٹی میں چھپی چار ملین کتابیں بزریعہ پاکستان ٹرکوں میں لاد کر افغانستان لائی گئیں اور سرکاری سکولوں میں تقسیم کی گئیں ۔ طالبان جب آئے تو انھوں نے بھی یہی نصاب رہنے دیا ۔ البتہ کتاب میں کندھے پہ میزائل رکھے مجاہد کے سر پہ پینسل پھیر کر اسے چھپا دیا۔

وجہ ؟ کیونکہ ان کے مطابق اسلام میں عکاسی حرام ہے ۔ امریکہ نے اپنی عوام کے ٹیکسوں کی خطیر رقم افغان جنگ میں جھونک کر افغان بچوںں کو انتہا پسند بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ ان کے معصوم ذہن جنگ کو ہی زندگی کا حصول سمجھنے لگے۔ پھر نائن الیون کے واقعے کے بعد انھیں دھشت گرد قرار دے کر ساری دنیا میں بدنام کیا ۔ سِن اسی کی دہائی میں جو بچے پیدا ہوئے انھوں نے آنکھ کھولی تو روس کو لڑتے دیکھا ۔ بچپن ان کا خانہ جنگی میں گزرا ۔ نوجوانی کا دور طالبانوں کی سختیوں کی نذر ہوا ۔ جوان ہوئے تو امریکہ نے حملہ کر دیا ۔ جب ان کے بال بچے پیدا ہوئے تو ملک طالبان کے بم دھماکوں سے گونجنے لگا ۔ طالبان کی بیس سالہ مسلسل دھشت گردی میں مرنے والوں کے لاشے سنبھالتے سنبھالتے مردہ خانے تک ٹوٹنے لگے ۔ افغان تو پھر انسان ٹھہرے پھر بھی چٹان بنے سفید فاختاؤں کی راہ تکتے رہے ۔ جب امن کے پرچم لہرانے کی بات آئی تو بہت سے لوگوں نے بنا تاریخ پڑھے زرد صحافت کے تولیے سے ہاتھ پونچھ کر لکھنا شروع کر دیا “ افغان قوم کو لڑنے کے سوا کچھ آتا ہی نہیں ہے ، امریکہ چلا بھی جائے تو یہ آپس میں لڑیں گے “ ۔ ہم ایسے چٹکلے پڑھ کر کبھی مسکراتے اور کبھی کھڑکی سے باہر درخت پہ قمری کو گھونسلہ بناتے دیکھ کر سوچتے ، سانپ ہر بار اس کے انڈے پی جاتا ہے مگر پھر بھی یہ انڈے دینا بند نہیں کرتی کیونکہ یہ امید سے ہوتی ہے ۔ تو ہم بھی امید سے ہیں۔ مثبت سوچنا کیوں چھوڑ دیں ۔ جبکہ یہ بھی جانتے ہیں سکندرِ اعظم سے لے کر امریکہ تک بیشمار قوتیں اس خطے پہ شورش کرنے آئیں اور افغان دفاع کرتے رہے ۔ کبھی خود بھی دفاع کرتے کرتے دروں سے دور نکل گئے ۔ مگر اپنا خطہ سنبھالے رکھا ۔ ہتھیار اگر ہمارا زیور نہ ہوتے تو غلامی طوق بن جاتی ۔ ہم بھی غاصبوں کی گاڑیوں پہ پتھراؤ کرتے ۔ محصور ہوتے اور آخر میں اپنی شناخت تک کھو دیتے ۔ آج اگر ہمارے ہاتھ میں پتھر کے بجائے کتاب ہے تو ہمارے ان بزرگوں کی وجہ سے جنھوں نے بروقت فیصلے کر کے افغانستان میں آزادی کا پرچم لہرایا ۔ یہ اور بات کہ مشکل کی گھڑی میں کچھ ملکوں کا کردار بالکل ایسے تھا جیسے یہ شعر ،

“دیوار کیا گری میرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے ۔”
(سبط علی صبا)

اس چالیس سالہ جنگ میں عورتیں سب سے ذیادہ متاثر ہوتی ہیں ۔ ان کا ہر رشتہ ہتھیار اٹھا کر جب گھر سے نکلتا تو ان کے پاس سوچنے کے لیے کچھ بھی نہیں بچتا ۔ ان چالیس سالوں میں ہتھیاروں کی طرح عورتوں قربانیاں دیتی رہیں ۔ روس ، امریکہ ، مجاہدین اور طالبان کے پاس استعمال شدہ ہتھیاروں کا یقیناً ریکارڈ ہوگا مگر کسی کے پاس عورتوں کے آنسوؤں کی کوئی گنتی نہیں ہوگی۔ روسی مائیں بھی روئیں اور افغان بھی ۔ حد تو یہ تھی کہ جب خبروں میں امریکی فوجیوں کی مائیں افغانستان میں مرنے والے بیٹوں کے بوٹ کو گلے لگا کر روتیں تو ہم بھی ان کے ساتھ آنسو بہاتے ۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کا بیٹا ہمارا کئی ہم وطنوں کو مار کر مرا ہوگا ۔ برطانوی شہزادہ ہیری جب نیٹو فوج کے ہمراہ افغانستان آیا تو کئی مائیں اس بات پہ بھی پھوٹ پھوٹ روئیں کہ بیچارا مسکین لیڈی ڈیانا کا جگر گوشہ نجانے کس حال میں رہ رہا ہوگا ۔ ماں زندہ ہوتی تو اسے اس جنگ میں جھونکتی بھلا ؟ ۔
جنگ وہ ڈائن ہے جو مردوں کے دماغ ، بچوں کا بچپن اور عورتوں کے دل کھا جاتی ہے ۔
افغان عورت کا یہ حال ہے کہ باپ ، بھائی ، شوہر اور بیٹے تک کو جہاد کا ایندھن بنتے دیکھنے کے بعد اب وہ پوتے کو روکتی ہے ۔ وہ چپکے چپکے اس کی جیب سے غُلیل نکال کر گیند رکھتی ہے تاکہ وہ زندگی کی شروعات مار دھاڑ والے کھیل سے نہ کر سکے ۔ اس کے لیے چھوٹی سی کنگھی اور شیشہ لاتی ہے تاکہ اس کو اپنے خوبصورت چہرے سے محبت ہو اور وہ چاہے کہ اسے کوئی سراہے وہ بڑا ہو کر کسی حسینہ سے عشق کرے گھر بسائے اور سکون سے سوئے ۔

مارچ کا مہینہ شروع ہوتے ہی جب باقی ساری دنیا میں حقوق نسواں کے حق میں نعرے لگنے شروع ہو جاتے ہیں تو کابل ، کندھار ، ننگرہار اور مزار شریف کی عورتیں مخمصے میں پڑ جاتی ہیں ۔ انھیں اپنے مردوں کو کھانا پکانے ،گرم کرنے ، دسترخوان پہ سجانے اور کھلانے پہ کوئی اعتراض نہیں بس کھانے والے گھر کے افراد مکمل ہونے چاہیں ۔ ہر سال کھانے پہ درود فاتحہ پڑھ کر بخشنے والی عورتوں کو شکوہ ہے بم دھماکوں میں مرنے والے مرحومین کی فہرست طویل ہوتی جا رہی ہے ۔ وہ چاہتی ہیں اس پہ اب فل سٹاپ لگ جائے ۔ وہ آدھی روٹی پہ گزارہ کر سکتی ہیں مگر آدھ ادھورے خاندان دیکھ کر ان کی آنکھیں بھر آتی ہیں ۔
وہ خدا سے سوال کرتی ہیں کہ میدانِ جنگ میں کھینچے چلے جانے والے مردوں کو تو مرنے پہ بہتر حوریں ملتی ہیں پر ان کی بیواؤں کو قیدِ تنہائی یا دیور یا جیٹھ سے نا چاہتے ہوئے بھی نکاح پڑھوانا پڑتا ہے ۔ وہ پوچھتی ہیں کہ ان کے بچوں کو مسجد میں جا کر سپارہ پڑھنے کی سزا موت کی صورت کیوں ملتی ہے ؟ کیوں مولوی انھیں اغواء کر کے میدان جنگ میں لے جا کر جہاد کے نام پہ قربان کرتے ہیں ۔ یہاں کی ساری عورتیں منتظر ہیں کہ قدرت جواب دے جوان بھائی کی لاش پہ ماتم کرنے والی بہنوں کو صبر کے علاوہ کیا انعام ملے گا ؟ کیا خدا نے ان کے لیے بھی جنت میں کوئی بار کھول رکھا ہے ؟ جہاں وہ دنیاوی دکھوں کو بھلانے کے لیے جام لنڈھائیں ۔ اور بھول جائیں کہ دنیا میں مرد معاشرے نے مذہب اور جنگ کے نام پہ عورتوں پہ کیسے کیسے ستم ڈھائے ۔ فی الحال افغان عورتوں کو صرف امن چاہیے اور خوشخبری والے اخبار میں لپٹا تازہ نان ۔افغانستان وہ قبرستان ہے جہاں بڑے بڑے سورماؤں کی ہڈیاں دفن ہیں ۔ ان کے نام وقت کے سمندر نے اگل کر سب کچھ نگل لیا ۔ یہ پتنگ باز چڑیا کی طرح پھدکتے بچے خوش نصیب ہیں پتنگ لوٹنے کے لیے الجھتے ہیں ، توپ میں پہلے گولے ڈالنے کے لیے نہیں ۔
میں نے ایک بچے سے راستہ پوچھا وہ میرے ساتھ ہی چلنے لگا ۔ اب تک چل چل کر میرے پاؤں سوج گئے تھے ۔ بازار کے اندر بازار اور بازار میں مڑتی گلی ، گلی سے نکلتا کوچہ ۔ کوچے سے نکلتی سڑک پھر سڑک کس اور کوچے کے منہ پہ جا کے تقسیم ہو جاتی ۔ میں جیسے وقت کی گردش میں گول گول گھوم رہی تھی ۔ ایک شکستہ دیوار کے چوبی دروازے نے میری منزل کو دستک دی ۔ اندر ایک اور کوچہ تھا وہ آخری کوچہ جہاں خالہ نفیسہ جان رہتی تھی ۔ دف کی آواز نے میری سماعتوں کو اطلاع دی کہ کہ اندر دستمال کی رسم زور و شور سے جاری تھی ۔
خوشی کے گیت گاتی عورتیں ۔۔۔۔
پر امید ، مسکراتی عورتیں ۔۔۔۔
جن کا پہلا حق امن دوسرا محبت اور تیسرا اختیار ہے ۔

تحریر و فوٹوگرافی و کور ڈیزائن:

ثروت نجیب،کابل،افغانستان