چھوٹا سا کام

صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاگ کی ٹیم نے سوچا کہ کیوں نہ چھوٹے سے کام میں اس طرح سےحصہ لیا جائے کہ نہ صرف سر سبز پاکستان مہم میں حصہ شامل ہو سکے ،خوبصورتی اور فطرت کو توانائی ملے اور ساتھ ہی صدقہ جاریہ کا بندوست بھی ہو جائے۔ چناچہ ہم نے پلان کیا کہ اپنے محبوب ایوب پارک میں جو مشکل کی تمام گھڑیوں میں ہمیں سہارا دیتا اور اچھے وقت کی فراغتوں میں ہم نشینی فراہم کرتا رہا ہے، میں کچھ پھل دار درختوں کا اضافہ کیا جائے۔


اس مقصد کے لئے ہم نے ایوب پارک کے مالی سے لیکر کرنل(ر) عمران تک سب سے تفصیلات حاصل کیں اور ان سب کی رہنمائی میں پانچ پانچ خوبانی اور آلو بخارے کے خوبصورت درخت ایک قریبی نرسری سے خریدے گئے۔نئے درختوں کے لئے جگہ پسند کی گئی اور جمعہ کا دن اس نیک کام کے لئے پسند کر لیا گیا تا کہ ہمارے بچے بھی نہ صرف اس کام کا مشاہدہ کر سکیں،اس سے انسپریشن لے سکیں بلکہ ہمیشہ جب بھی والدین کو یاد کریں تو انکی یاد کو مزید پودوں اور درختوں کی صورت میں ڈھال سکیں۔

دس درختوں کے لئے ہم نے اپنے ، دوست احباب کے بچوں اور ملازمین کے ایک ایک بچے کا نام منتخب کیا اور بچوں کو ہی ان کے لئے کارڈز بنانے کا کام سپرد کر دیا جسے بچوں نے بہت شوق،لگن اور توجہ سے سرانجام دیا۔

وقت مقررہ پر جب ہم بچوں کے ساتھ ایوب پارک کی مقررہ جگہ پر پہنچے تو بڑھتی ہوئی بارش کے باوجود سنئیر ہارٹی کلچر آفیسر مسعود احمد صاحب مالیوں کی ایک پوری فوج اور مہیا کیے گئے پودوں کے ساتھ ہمارے استقبال کے لئے موجود تھے ۔یہ محسوس کر کے بہت خوشی بھی ہوئی اور اچھا بھی لگا کہ ایوب پارک کی انتظامیہ بھی اس کام کو اتنی ہی محبت اور خلوص سے سرانجام دے رہی تھی جس سے ہم یہ سب کرنے جا رہے تھے۔

برستی بارش میں پودے لگانے کا عمل شروع ہوا اور باری باری بھیگتے ہوئے ہم ایک کے بعد ایک پودا لگاتے اور اس پر کسی ایک نام کا کارڈ لگاتے چلے گئے۔ان پودوں کے لگنے کا عمل اور اور ان پر کھلتی ہوئی چند کونپلیں جن کو ہم جلد سے جلد پھلتے پھولتے دیکھنا چاہتے ہیں ایک خوبصورت تجربہ اور مسحورکن احساس تھا۔صرف انسان ہی نہیں،پرندے،جانور اور پودے پالنا بھی ایک روح پرور تجربہ ہے اور انسان کو اندر تک اس طرح سے شانت کرتا ہے جیسے کوئی بےجان مگر مہنگی چیز کو سنبھالنا کبھی نہیں کر پاتا!

کرنل(ر) عمران صاحب نے کمال مہربانی سے بھگوتی بارش میں ہمیں بیٹری کار میں کار پارکنگ تک پک اینڈ ڈراپ بھی مہیا کی اور سنیئر ہارٹی کلچر آفیسر صاحب نے نہ صرف تیز بارش میں مسلسل بھیگتے ہوئے تمام درخت اپنی موجودگی میں توجہ سے لگوائے بلکہ ہمیں بہت ساری مفید معلومات سے بھی نوازا.

پودے لگانے کا دلربا عمل ختم ہوا تو ہم اور ہمارے بچے ایک خوبصورت،دلفریب تجربے کے اثر میں دیر تک رہے اور واپسی کے سفر میں سب کے سب کھلکھلاتے اور مسکراتے رہے۔خدا ہماری لگائی ان کونپلوں کو زندگی دے اور محفوظ رکھے اور ان کو پھلوں سے اس قدر بھر دے کہ بہت سے انسان اور پرندے اس کے پھل سے محظوظ ہو سکیں! آمین!

آپ نے بھی کیا ہے کوئی چھوٹا سا کام تو ہمیں تصاویر کے ساتھ تحریر بھیجیں۔ہم اس تحریر سے دیں گے بہت سے نیک دلوں کو مزید تحریک!ہاتھ بڑھائیں اور اپنے حصے کا چھوٹا چھوٹا کام کرتے جائیں!

سنئیر ہارٹی کلچر افسر مسعود احمد اور صوفیہ کاشف

_____________

تحریر و فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

A project by Sofialog.blog
Pics slideshow: