عورت، مارچ نہیں چاہتی!

سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی کوئی تحریک اناڑی لوگوں کے پاس آ جاتی ہے جن کے پاس زمینی حقائق نہیں ہوتے ،معاشرے کا صحیح رخ واضح نہیں ہوتا،تو اس تحریک کا مقصد  نیست و نابود کرنے کے لئے تحریک کا  وجود ہی کافی  ہوتا ہے۔سچ تو یہ بھی ہے کہ عورت مارچ اور مولانا حضرات کا مقابلہ محض دو کم عقل، کج فہم طبقوں کی لڑائی ہے ۔ایک ذاتی عناد اور حقائق سے دوری ہے۔وہ مولانا حضرات جو اسلام کے نام پر فیمنزم کی مخالفت میں ڈنڈے لے کر اترنے والے ہیں اسلام کی روح تو کیا جسم سے بھی ناواقف ہیں اور وہ لبرلز جو پوسٹرز لیکر عورت مارچ کے ذریعے پاکستانی عورت کو آزاد کروانے چلے ہیں زمینی حقائق ،معاشرے اور روایات کے علم سے نابلد ہیں۔مولانا حضرات کو مذہبی اتھارٹی میں عورت کا کردار پسند آتا ہے نہ لبرلزسے عورت کو آذادی دلائی جاتی ہے چونکہ ہمیشہ ہر دوسرے مسلئے کی طرح دونوں ہی اپنی اپنی ذاتی پچ پر ذاتی انا اور مفاد کی جنگ لڑ رہے ہیں۔اس میں عورت کا بھلا نہ معاشرے کا،  اخلاق کا نہ اقدار کا۔

لبرلزم کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ عورت گلی کے مردوں سے زیادہ گھر کے اندر کے مردوں کے ہاتھوں ذلیل ہوتی ہے۔باپ ،بھائی، بیٹے شوہر،رشتہ دار اور احباب ہیں جو عورت کو بیٹی ہونے کی بنا پراعلی تعلیم ،بہتر خوارک نہیں دیتے،  شادی میں رضا کا حق نہیں دیتے ،وراثت میں حصہ نہیں دیتے،جو عورت کو معاشی خودمختاری،نفسیاتی اعتماد،اعصابی طاقت اور عزت سے سر اٹھانے کا موقع نہیں دیتے،جو عورت کو ستی،کاری،قرآن سے شادی،غیریت کے نام پر قتل کرتے ہیں۔،۔اور یہ حق کوئی بھی ان کو ڈنڈے نعروں اور پوسٹرز کے ضرور پر ،مردوں کو گالیاں نکالنے سے نہیں مل سکے گا بلکہ شاید مزید محرومیاں جنم دے گا۔بڑے شہروں میں جاری عورت مارچ کی تہمت کے نام پر کچھ اور لڑکیاں اعلی تعلیم سے دور رہ جائیں گیں کچھ اور کو تعلیمی ڈگریاں چولہے میں جھونک کر گول روٹیاں پکانے میں عمر گزارنی پڑے گی۔معاشرے کے مردوں کو دی گئی یلغاریں آپ کو نہ عزیت دے سکیں گی، وقار نہ کوئی حق۔الٹا اس طوفان بادو باراں میں خاندان ،روایات،شریعت سب کا بیڑہ غرق ہو جائے گا۔

مولوی حضرات سے  بھی خود کو صدیوں سے ملی اتھارٹی پر چیلنج برداشت نہیں ہوتا ہے۔عورت کے حق کی بات کرتے کرتے کچھ حقوق و فرائض کو قربانی کے نام پر عورت کے ساتھ چپکا دینے اور کچھ مردانہ برادری سے ہمدردی کی بنا پر عورت کے نام کا حق گھٹنے کے نیچے دبانے کی اس قدر عادت ہو چکی ہے کہ اب یہ عزت اور وقار کی جنگ بن چکی۔اگر مولانا صاحب نے فرما دیا کہ عورت کو جنت قربانی سے ملے گی تو عورت یہ قربانی ہر حال میں دے گی چاہے کنپٹی پر پستول رکھ کر، چولہا پھاڑ کر ،ذندہ جل کر کسی بھی طرح۔کیونکہ ہمارے ہاں نافذ شدہ شریعت میں یہ مولانا حضرات کا حق ہے کہ جسے چاہے حق کہیں جسے چاہے ناحق!

ایسے میں پاکستانی میڈیا مسائل کے حل پیش کرنے کی بجائے آتش کو ہوا دینے میں مصروف عمل ہے۔درجنوں چینلز پر بیٹھے دانشور جان بوجھ کر ایسا مواد پھیلا رہے جو معاشرے میں پھیلی کنفیوژن کو مزید ہوا دے۔روزانہ مولوی حضرات اور لبرلزم کو سامنے بٹھا کر ناٹک لگا دیا جاتا ہے اور چسکے کی شوقین قوم کے لئے مزید چسکا پیدا کر کے مارکیٹ میں ڈال دیا جاتا ہے۔کیا ماروی سرمد کے علاؤہ فیمنزم پر بات کرنے کے لئے کوئی نہیں بچا اور کیا خلیل الرحمن قمر سے بڑھ کر پاکستان میں کوئی دانشور نہیں رہا؟ کیا یہ عورت مارچ  کے نام پر عورت کو اس کا حق دے رہے ہیں یا شاید صرف کچھ لوگوں کو اس چورن کی فروخت سے منافع؟

کیا عورت مارچ سے،واہیات سلوگنز سے، الٹے سیدھے نعروں سے عورت کو اس کا حق مل جائے گا؟ کبھی نہیں! آپ کسی قانون کسی تحریک اور خصوصاً اس طرح کی تحریک کے ذریعے عورت کو اس کا مقام نہ دلوا سکیں گے۔جن ممالک میں نعروں سے اور تحریکوں سے عورت کو اس کا حق ملا وہاں قانون کی حکمرانی ہو گی،معاشرہ قانون کے دائرے میں ہو گا،نظم و نسق ایماندار اور محنتی حکمرانوں اور اہلکاروں کے ہاتھ میں ہو گا۔پاکستان کے قوانین میں عورت کے جو حقوق درج ہیں کیا وہ عورت کو مل چکے ہیں؟ کیا پاکستان کی ہر عورت کو صحت،تعلیم روزگار کی سہولت مردوں کے برابر کی مل گئی ہے؟ کیا عورت کی عزیت،وقار اور رتبہ اتنا محفوظ ہے جتنا قانوں کی کتابوں میں درج ہے؟ اگر نہیں تو پھر جلسوں، مظاہروں ،نعروں سے قانون میں چار باتیں اور بھی لکھ ہو گئیں تو ان سے پاکستان کی عورت کو کچھ نہیں ملنے والا جب تک آپ عورت کے باپ کو راضی نہیں کرتے کہ اس کی بیٹی کا بھی تعلیم پر برابر کا حق ہے۔جب تک آپ بھائی کو یہ نہیں سمجھاتے کہ بہن جائیدادیں معاف کرنے کے لئے نہیں ہوتیں،   سکتیں،جب تک شوہر یہ خود نہیں سمجھ لیتا کہ صبح کی پہلی کرن سے رات کے آخری ستارے تک جو عورت اس کی خدمت گزاری میں مصروف ہے  عزت،وقار اور اختیار کی مستحق ہے،جب تک خاندان بیٹیاں قتل کے بدلے میں دینے سے انکار نہیں کر دیتے،جب تک قبیلے قرآن سے شادیوں کو کاروکاری کو مکروہ قرار نہیں دے دیتے،جب تک عورت کے وجود کو عزت اور غیرت کی ہتھکڑیوں سے آزاد نہ کر دیا جائے عورت کو اس کا بنیادی حق بھی نہیں مل سکتا ہے اور آپ اسے میریٹیل ریپ سے بچانے چلے ہیں۔ابھی تو عورتیں کے اصلی ریپ واجب ہیں مختاراں مایی کو یاد کر لیں،ابھی تو عورت کی ایک وڈیو اسے جہنم کی تہہ میں پہنچا سکتی ہے۔ابھی تو عورت می ٹو کی آواز لگا کر خود بدنام ہو جاتی ہے،ابھی تو گلی محلے میں نکلی عورت کھلے عام ہر خاص و عام سے ہراساں ہو رہی ہے اور آپ نعرے مار کر گانے گا کر سلوگن سنا کر اسے آزاد کرنے چلے ہیں۔

عورت کو آزادی نہیں چاہیے اسے تعلیم کا حق چاہیے،اسے اس دن رات میں، سورج چاند میں، عزیت وقار میں اپنا حصہ چاہیے۔اسے بے لباس یا مغربیت نہیں،اسے اپنی زندگی کے فیصلے کا حق چاہیے،اس کے سر پر دوپٹہ جبر کی نہیں اختیار کی علامت ہونی چاہیے۔اسے رشتوں سے آذادی نہیں اسے رشتوں میں احترام چاہیے۔اور یہ سب آپ اس عورت کے گھر کے، خاندان کے ،علاقے کے ،معاشرے کے مرد کو گالی دیکر،گولی مار کر نہیں دے سکتے۔اس کے لئے سوچ بدلنی ہو گی اور سوچ بدلنے کے لئے اس معاشرے کو تعلیم دینی ہو گی،اچھے برے کا فرق بتانا ہو گا۔تعلیم اور شعور چند سالوں میں نہیں آتا!۔تعلیم اور شعور کو معاشرے میں پھیلاتے صدیاں لگ جاتی ہیں. یہ نسل در نسل چلتا ہے تو پھلتا پھولتا ہے ۔اور ہمارا حال ایسا ہے کہ نوے فی صد پاکستانی پڑھے لکھوں کی پہلی نسل پڑھ رہی ہے ۔نسلوں کے پڑھے یہی کوئی چند سو یا ہزار ہونگے۔اور جو نسلیں آج بھی ان پڑھ ہیں ملک میں اکثریتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔اگر عورت کے حقوق سے آپ کو دلچسپی ہے تو عورت مارچ میں جانے کی بجائے اپنے آس پاس کے دس لوگوں کو پڑھا دیں ۔یہی ہزار لوگ جو نعرے لگا کر دن کو گزاریں گے ایک لاکھ لوگوں کی تعلیم کا آغاز کر سکتے ہیں۔مگر یہ کوئی نہیں کرے گا کہ مقصد محض آہ و زاری ہے،ایک نوٹنکی ڈرامہ ہے،مفادات ہیں اور عورت کے نام کا تماشا ہے۔کھلاڑی کوئی اور ہیں مگر مار کھانے کے لئے پھر سے بیچ میں عورت ہے۔

______________

تحریر و فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف