انسان اور معاشروں کی بہتری  کا آغاز اچھی سوچ سے ہوتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں بہتری کی بے تحاشا گُنجائش موجود ہے۔ اس کا سب سے بہتر آغاز اپنے رویّوں، سوچ اور عمل سے ہو سکتا ہے۔

کیوں نہ آج ایک مُثبت عمل، ایک اچھی نیت اور ایک  اُمید   افزا پیغام کا پیامبر بنا  جائے۔

آئیے، آج  اپنا کردار غرض و تمنا سے پرے، ضرورتوں اور وابستگیوں سے دُور  اور انعام و اکرام سے بالاتر ہو کر ادا کریں۔

آئیے ، آج ،انسانوں سے تعلق استوار کریں۔

————————–

•آج  ایک نزدیکی ہسپتال یا ہیلتھ یونٹ  جائیں ۔ اگر مُمکن ہو ،  راستے سے کُچھ پھل، جوس، پانی وغیرہ خرید لیں۔مریضوں  کی عیادت کریں۔ اُن کے لواحقین، احباب اور  عیادت کنندگان کا حوصلہ بڑھائیں۔ اُن کے لئے دعا کریں۔ اپنے لئے دعا کی درخواست کریں۔ اگر ہو سکے تو  کسی   مستحق مریض   کی دوائیوں  ، ٹیسٹوں  یا میڈیکل فیس کی صورت میں کُچھ مدد کر یں۔

•ایک گَلّا خریدیں، ویسا ہی جیسا اپنے  بچپن میں استعمال کرتے تھے۔ اُس میں  متفرق ریزگاری   ڈالتے رہیں۔ اس میں کوئی ضابطہ نہ رکھیں، نہ ہی کوئی  معمول۔ بس جب آسانی ہو، تب کُچھ رقم ڈال دیں۔ خوشی، تنگی اور پریشانی کے دِنوں میں زیادہ رقم ڈالیں۔ ماہ کا آخری ہفتہ شروع ہوتے ہی اسے کھولیں۔ یہ زیادہ تر لوگوں کے لئے مالی مشکل کے دن ہوتے ہیں۔ جمع شدہ رقم  اکٹھی کر کے کِسی کی مدد کریں۔

• مہینے بھر کی شاپنگ کرتے ہوئے، ایک کھانا پَیک کروا لیں، اور ایک پانی کی بوتل بھی۔ گھر واپس آتے ہوئے کِسی محنت کش، نادار یا سائل کو دے دیں۔

• اپنی گلی ، محلے یا گیراج کے قریب، ایک ایسی گاڑی یا بائیک کو راستہ دیجیئے، جو ریورس  یا پارک ہو رہی ہو۔ انتظار کیجئے۔ اُسے  اطمینان اور سکون سے آنے یا جانے دیجیئے۔

• ٹریفک میں یا کہیں بنی قطار میں، کِسی گاڑی یا شخص کو اپنا رستہ  اور اپنی باری چھوڑ کر آگے جانے کا موقع دیجیئے۔ ہو سکتا ہے کہ اُسے آپ سے زیادہ جلدی ہو۔

• کِسی ٹریفک پوسٹ پر، کِسی ٹول پلازے پر، کِسی چیک پوسٹ پر رُکیئے۔ اُن لوگوں کو سلام و دُعا دیجیئے جو ہماری خدمت اور حفاظت کرتے ہیں۔  اگر  بچے ساتھ ہیں تو اُنہیں کہیئے کہ انکل کو سلام کریں، اور  ایک ٹافی یا چاکلیٹ  تحفے میں دیں۔  اگر ہو سکے تو اُن کو پانی کی ایک بوتل فراہم کریں۔ وہ شاید شکریئے کے ساتھ انکار کریں گے،آپ اصرار اور محبت سے سے دیں۔ وہ لوگ شدید موسموں میں کم سہولیات میں اپنا کام کرتے ہیں۔ مُشکل حالات اور معاملات حل کرتے ہیں۔اُنہیں آپکی طرف سے دی گئی عزت و محبت ہمیشہ یاد رہے گی۔

•کِسی دور پار کے دوست، رشتہ دار، تعلق  دار یا استاد کو ایک کارڈ بھیجیں۔ اُس میں دُعا اور سلام لکھیئے ۔  کارڈ کِسی کو بھی بھیجا جا سکتا ہے، وہ صدرِ پاکستان بھی ہو سکتا ہے، اور آپکا  پسندیدہ ہیرو بھی،  وہ آپکے شہر کے ایف ایم چینل  کا پسندیدہ آر جے بھی ہو سکتا ہے  اور مقبولِ عام مذہبی ناصح بھی، وہ آپکا محبت کا رشتہ بھی ہو سکتا ہے، اور سیاچن و کشمیر کی کی سرحد پر چوکس ایک سپاہی بھی۔  انسانوں سے تعلق محبت کی بُنیاد پر بنتے ہیں،  اور یاد، دُعا، بے غرضی اور تحائف سے  مضبوط ہوتے ہیں۔

•کِسی کو  اپنی گاڑی میں لِفٹ دیجیئے۔ سفر میں آسانی فراہم کیجیئے۔

• کِسی لابی، لِفٹ  / ایلی ویٹر یا خودکار سیڑھیوں پر کم از کم ایک شخص کو   اپنے سے آگے جانے کا راستہ دیجیئے۔

• اپنے دفتر  کے ساتھیوں کے لئے  ایک  کھانے کی چیز، یا  ایک کتابچہ  تحفتاً لے جائیے۔

•بازار یا شاپنگ آرکیڈ میں کِسی کو اُن کا سامان گاڑی میں رکھنے میں مدد کیجیئے۔

•  کِسی کو حوصلہ دیجیئے۔ کِسی کی ہمت بندھایئے، جرأت بڑھایئے اور کارکردگی پر شاباش دیجیئے۔ یہ ایک تھپکی بھی ہو سکتی ہے، ایک سو روپے کا نوٹ بھی، ایک خط بھی، ایک جُملہ بھی، ایک نعرہ بھی،  اور آنکھ کی ایک جنبش یا اشارہ بھی۔ لوگوں کے لئے  تعریف، تحسین اور قدر دانی بے پناہ اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ ٹوٹے انسانوں کو جوڑتی ہیں، اور معجزاتی کارکردگی دِکھاتی ہیں۔

• کِسی  قریبی ایسے ارادے میں جایئے جہاں بے گھر اور یتیم بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کا  انتظام ہو۔  وہاں موجود بچوں سے ملیئے، ان کے ساتھ کھیلیں اور ہو سکے تو  اُنہیں کوئی تحفہ وغیرہ دیجیئے۔

•اپنی گزشتہ زندگی  سے ایک  ورق نکال باہر کریں۔ ایک ایسا ورق جِس پر پچھتاوے کی کڑواہٹ اور منفی پن کی سیاہی سے  کوئی نفرت انگیز یاد یا تحقیر آمیز لفظ  لِکھا ہو۔ آج کم از کم ایک ایسی یاد کو بھول جایئے، جو یاد آنے پر صرف پریشان، فکر مند اور پشیمان کرے۔

• دفتر میں گھر سے لنچ لے جاتے وقت ایک کی بجائے دو کھانے لے جایئے۔  لنچ کے وقفے میں   کِسی دفتری معاون  کے ساتھ شیئر کیجیئے۔

•اپنے بچے کو ایک کی بجائے دو لنچ دیجیئے۔ اُسے سکول میں لنچ  شیئر کرنے کی اہمیت اور طریقہ بتایئے۔

•مسجد سے باہر نکلتے وقت، باہر پڑے جوتوں میں سے کم از کم پانچ کو درست ترتیب میں، سیدھا کر کے ایسے رکھ دیں، کہ پہننے والوں کو آسانی ہو۔

•  نماز کے بعد کم از کم ایک دشمن اور ایک دوست کے لئے دُعا کیجیئے۔

• ایک پودا لگایئے۔

•اپنے اپارٹمنٹ کی سیڑھیوں ،اپنے گھر کے باہر کے فُٹ پاتھ، یا اپنی گلی  کے کُچھ حصے کو صاف کیجیئے۔

• کِسی کے لئے دروازے کو کھول کر رکھیئے، یا ایلی ویٹر کے اوپن بٹن کو دبا کو رکھیئے تاکہ کوئی اور لِفٹ میں داخل ہو سکے۔

•کِسی عزیز از جان رشتے، دوست یا تعلق کو بتایئے کہ آپ اُن کو کتنا چاہتے ہیں، اور کتنی دعا کرتے ہیں۔ اُن سے مِلنے کے مواقع ڈھونڈیئے، کہ کل کبھی نہیں آتا، اور  شایدوقت پھر نہ مِل پائے۔

• ایک سائل کو نقدی اور ریزگاری دینے ، یا  “معاف کیجیئے” کہنے کی کی بجائے انتظار کرنے کا کہیئے۔ پھر گھر میں موجود کھانا ایک ٹرے میں سجا کر انہیں  کھانے کی دعوت دیجیئے۔

• کِسی عزیز دوست کو ایس ایم ایس،  ای میل یا  چَیٹ  میسج بھیجنے ک بجائے خط یا کارڈ لکھیئے۔

• کِسی بھی جگہ سے گزرتے وقت رستے میں گِرے ہوئے  کاغذ وغیرہ اُٹھا کر نزدیکی ڈسٹ بِن میں ڈالیئے۔ اگر ڈسٹ بِن نہ مِلے تو اُنہیں ساتھ لے چلیں، جب تک انہیں پھینکنے کےلئے  کہ کوئی مناسب جگہ نہ ملے۔

• دو مٹی کے بڑے پیالے خرید کر ان میں پرندوں کے لئے  دانہ  اور پانی رکھیئے۔

• کم از کم پانچ لوگوں کو سلام  کرنے میں پہل کیجیئے۔

•بچوں کو ایک پُرانی کہانی سُنا کر اُس اس سے حاصل کردہ سبق  پر چھوٹی سی بحث کیجیئے۔

•  کِسی گروسری سٹور کے کاؤنٹر پر انتظار کیجیئے، اگر کوئی شخص  ایک چھوٹی سی رقم کی وجہ سے کوئی آئٹم بِل میں سے نکلوا دے۔ ہو سکے تو اُس کی مدد کر دیجیئے۔

•ہمسایوں میں موجود کِسی بزرگ کو گھر پر بُلایئے، اور اگر آپکے بزرگ موجود ہیں، تو ان کی  چائے  اور گپ شپ کا انتظام کیجیئے۔

•اپنے ملازم  / ملازمہ کو اپنے ساتھ کھانا کھِلایئے۔

• کِسی نادار رشتہ دار، مفلس واقف کار یا غیرتمند  ضرورت مند کی کِسی  رازدارانہ طریقے سے مدد کیجیئے۔

• ایک پُرانے اُستاد  کے پاس حاضری دیجیئے، اور اُنہیں تحفہ دیجیئے۔ آج ہم سب جس اچھے مقام پر ہیں، اس میں ہمارے اساتذہ کا بہت کردار ہے۔

• ایک چھوٹے سے  سڑک کنارے ڈھابے پر چائے پینے کے بعد چائے والے “چھوٹے” کو ایک  اچھی رقم  ٹِپ میں  دیجیئے۔

• کِسی بچے، بزرگ یا معذور فرد کو سڑک پار کرنے میں مدد دیجیئے۔

•  ایک بدنصیب، شکوہ کناں اور پریشان حال  انسان کی داستانِ غم کو غور، توجہ، دھیان، صبر  اور خاموشی سے سُنیئے، اور اسے بہترین مشورہ دیجیئے۔

•سوشل میڈیا پر، ایک  بُرے اور منفی تبصرے کو برداشت اور نظر اندازکیجیئے۔

• کِسی چھوٹی دُکان پر بھاؤ تاؤ کے بغیر چیز  اُنہی کی قیمت پر خرید لیجیئے، جیسے بڑے  بڑے برینڈ اور مارٹ پر خریدا کرتے ہیں۔

•  دروازے کی گھنٹی کو صرف ایک بار بجایئے، اور اس کے بعد دروازہ کھلنے تک دوبارہ  گھنٹی نہ بجایئے۔__________

تحریر:عمر

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف