یہ جو لوگ ہیں،
میرے شہر کے
انہیں عام ہونے سے کیا غرض،
یہ ہیں منتظر
مہ و مہر کے..!!

انہیں کیا خبرکہ یہ فاصلے،
نہیں خاص تر
کہ جو عام ہیں نہیں عام تر..
یہ تو زندگی کی نوید ہیں
یہ ہیں آشنا اسی بحر کے…
کہ جو عام ہیں میرے شہر کے!!

مجھے علم ہے
کہ طلاطموں سی ہے زندگی،
یہ ہے لمحہ لمحہ شکستگی!
مجھے علم ہے
کہ جو جنگ ہے مَن و تُو کی ہے!
مجھے ہے خبر یہ ہے زندگی..

مجھے ایک راز کا علم ہے
کہ جو عام ہیں یہی خاص ہیں
یہ جو خاص و عام کا فرق ہے
یہی زندگی کی شکست ہے!

یہ جو اردگرد کے لوگ ہیں،
یہ خدا کے ہیں..
یہ جو آپ، میں ہیں
خدا کے ہیں..!!
یہی زندگی میں ہیں زندگی!

یہ جو لوگ ہیں میرے شہر کے!
انہیں زندگی کی تلاش ہے..
مہ و مہر میں!!

کلام:عمارہ احمد

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن:

صوفیہ کاشف