بھوربن کی برفیلی پانچ ستارہ چوٹی(1)

بچوں کے ساتھ سفر ہمیشہ سے مشکل کا ہے کیونکہ میرے بچوں کو شرافت سے نچلے ہو کر بیٹھنے کی عادت نہیں۔مگر بات اگر برفباری دیکھنے کی نیت کی ہو تو اور بھی مشکل تھی کہ بھوربن کے سفر میں بچے جہاں پر برف کی زرا سی تہہ دیکھتے وہیں ضد کرتے کہ ابھی رک جائیں ہم نے یہیں سنو مین بنانے ہیں۔اگر جو اگلی گلی میں اتنی برف نہ ہوئی تو؟؟؟؟
ہم ان کو سمجھاتے تھے مگر سمجھا نہ پاتے تھے کہ برف کی پہاڑیوں میں ہمارا بھی یہ پہلا سفر تھا۔میدانی علاقوں میں پیدا ہوئے پلے بڑھے اور پھر صحرائی علاقوں میں کھڑی شیشے کی ریاستوں میں جا پہنچے۔غم روزگار اور غم جاناں نے کبھی فرصت ہی نہ دی کہ نرم نرم برف کے بوسے اپنے بالوں اور گالوں پر لے سکتے،اسکی پھوار میں چہروں کو حسین اور بالوں کو نمکین کر پاتے۔سو اسلام آباد کے قیام میں اگر ایک پڑاؤ بھوربن کی اس چوٹی پر نہ ہوتا تو سراسر خسارہ تھا۔کہ بھوربن جس کے نام سے ہی وہ رومانس اور خوبصورتی ہمیشہ سے جڑی تھی کہ اگر اس چوٹی کو سر نہ کرتے تو ناکام و نامراد ٹھہرتے۔تو ہم میاں بیوی تھے ،بچے تھے اور بھوربن کا برفیلا سفر تھا۔
جنوری کا اختیتام تھا تو دل میں بہت خدشات تھے۔گوگل قریب قریب کسی بھی تاریخ میں کہیں بھی برفباری کی نوید نہ سنا پاتا تھا۔اگرچہ مری کی راہگزر برفیلی تھی اور امید تھی کہ برف چھونے کو،کھیلنے کو اور بہت سے سنو مین بنانے کو تو مل جائے گی مگر برفباری کے خوبصورت محسورکن نظارے سے شاید ہم محروم ہی رہ جائیں۔پانچ ستارہ پی سی بھوربن بحرحال اپنے مہمانوں کو آسانی سے رسائی کی خاطر سڑک برف سے صاف رکھتا ہے جس کی وجہ سے سفر میں کچھ خاص مشکل نہ ہوئی۔دل تو کہتا تھا اس سے آگے بھی نکلیں مگر ڈرائیور ڈراتا تھا اور بتاتا تھا کہ آگے رستے بند ہیں،نکلنا مشکل ہے۔

چنار ریزورٹ کے قریب برف سے درخت اور ڈھلان اس قدر خوبصورتی سے اٹی ہوئی تھی کہ ہلکی ہلکی ہوا کے ساتھ درختوں سے برف کی پھوار نیچے گرتی بالکل برفباری کا ہی نظارہ پیش کرتی تھی۔کھلی کھڑکی سے برفیلی خوشگوار ٹھنڈک نے طویل سفر کی بدولت ہونے والے درد شقیقہ کو کچھ طمانیت بخشی اگرچہ اسی شقیقہ کی داستان نے ہمیں اگلی صبح تک ان نظاروں کو جی بھر کر جذب کرنے سے اور ان کی حسن سے روح کو شانت کرنے میں خوب رکاوٹ ڈالی۔

پی سی بھوربن پر پہلے گیٹ کے استقبال نے خاصا مایوس کیا کہ گیٹ پر کھڑا سیکورٹی کا عملہ کسی بھی قسم کے پروٹوکول سے عاری تھا۔سامان اسکیننگ کے لئے الگ کر لیا گیا جو ایک الگ حیرت کا باعث تھا کہ اگر اس طرح کی حرکت ابوظہبی یا دوبئی کا کوئی ہوٹل کرتا تو خاصا معیوب سمجھا جاتا بلکہ اس بدمذاقی کی بدولت ہو سکتا ہے ان کو کچھ مخالفے یعنی جرمانے بھی بھرنے پڑتے۔مگر یہ پاکستان ہے اور حیرت انگیز طور پر یہاں کنزیومر رائٹس اور کسٹمر کی خوشی اور احترام کی قطعا پرواہ کی نہیں جاتی۔کسٹمر اور کنزیومر بھی اکثر کثیر پیسہ خرچ کر کے بھی  بیچنے والے کے سامنے استحصال زدہ ہی نظر آتا ہے۔خیر یہاں سے نکلے تو ریسیپشن پر پہنچے۔میرا چونکہ تین چار گھنٹے کی ڈرائیو سے مایگرین شدت اختیار کر چکا تھا تو میں سر لٹکائے لابی میں ایک طرف بیٹھی رہی اور میاں صاحب اندراجات کے تمام لوازمات پورے کرکے واپس آئے اور ہمیں لئے ہمارے کمرے کی طرف بڑھے۔کمرے میں سامان رکھتے سب سے پہلے بیگ کی تلاشی لی کہ شاید غلطی سے کوئی مایگرین کی گولی بیگ میں موجود ہو اگرچہ شدت سے یاد تھا کہ گولیاں اٹھاتے اٹھاتے بھول گئے تھے۔تو پینا ڈول کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا جو قطعی طور پر درد کی دوا نہ تھی مگر اس کے سوا اب اور کوئی چارہ نہ تھا۔کمرہ:ڈیلکس ٹوین روم ایک خوبصورت کمرہ تھا جس میں یقینا ہماری ضرورت اور سہولت کی ہر چیز موجود تھی ۔کمرے میں ہیٹر کی تمازت نے اتنی اونچائی پر بھی پرسکون قیام ممکن کر رکھا تھا۔خوبصورت دلفریب رنگوں کے ایبسٹریکٹ آرٹ نے دیواروں کو جاذب نظر بنا رکھا تھا۔ڈیسک،کرسی،لیمپ ،کاوچ،منی بار،ٹی کیٹل سمیت یقینا عالمی معیار کی ہر سہولت میسر تھی۔ہوٹل کا لان ایریا برف سے لدا تھا اور ایسی حالت میں بچوں کا کمرے میں گزارا نہ تھا کہ مری کے سفر کے ایک گھنٹے میں وہ جتنا ہمارا اور اپنا ضبط آزما سکتے تھے آزما چکے تھے۔ ہم میں بھی اب برداشت کا یارا نہ تھا۔بچوں کو گھر سے ہی تین تین تہوں میں جوڑے پہنا کر آئے تھے سو انہیں لئے کمرے سے نکلے اور کھلے برف سے بھرے لان میں پہنچے۔ذندگی میں پہلی بار ہم نے بھی برفباری کی برف کو چھو کر دیکھا تو سمجھ آئی کہ برفباری دیکھنے کی عیاشی بھی خاصے لوازمات مانگتی ہے۔صحرا کے گرم موسموں میں گزارے کتنے سالوں میں ہم ہلکے پھلکے کپڑے خریدنے اور پہننے کے عادی ہو چکے تھےWinter stuffکو دور دور سے ترس بھری نگاہوں سے دیکھتے تھے اور سوچتے تھے ہم نے کیا کرنے ہیں آخر۔مگر اب دراصل برف میں موجود تھے اور محسوس کرتے تھے کہ گرم کپڑوں ،جرسیاں ،سویٹرز،دستانوں کے باوجود لوازمات ابھی بھی بہت کم ہیں۔ ادھر ادھر گھومتے بلآخر بچوں کو برف کے ایک ایسے گوشے میں پہنچایا جہاں برف بھی موجود ہو مگر سورج بھی چمکتا ہو تا کہ ٹیمپریچر میں کچھ مناسبت رہے۔میرے بچوں کی زندگی میں بھی پہلا موسم سرما اور پہلی برف تھی۔سو ساری ماؤں کی طرح فکر بھی کچھ زیادہ تھی۔ٹیرس کیفے:بچوں کو لان میں چھوڑ کر ہم میاں بیوی ٹیرس پر نظر آتے کیفے کی طرف بڑھے تا کہ کافی کی بھاپ کے ساتھ ہاتھ سینکتے بچوں پر نگاہ بھی رکھی جا سکے۔کیفے میں داخل ہوتے ہی ہییٹر کی گرمی کا  شدید جھونکا منہ پر پڑا جو شدید تر برا لگا۔برفیلے موسم میں اتنی گرمی قطعی کوئی خوشگوار احساس نہ تھی۔تھوڑی سی نمی تھوڑی سی تماذت موسم کی خوشگواری کے لئے اشد ضروری تھی مگر کیفے کے عملے نے ہمارے کہنے پر کوئی کان نہ دھرے تو ہمیں خشک گرمی کے سبب کافی کی بجائے جوس کی طلب ہونے لگی۔تازہ اوینج جوس کا آڈر دے کر ہم نے کھڑکی کھول کر بچوں کو ہاتھ ہلانا چاہا تو اسے بھی مکمل لاکڈ پایا۔یہ ایک دوسرا ناخوشگوار احساس تھا۔اسقدر خوبصورت منظر کو تالوں کے اندر بند کر دینا ایک زیادتی تھی کم سے کم ٹیرس کھلنے کا انتظام ضرور ہونا چاہئے تھا تا کہ کوئی منچلا برف باری کے دوران برف کو چھونے کے لئے ہاتھ ہی باہر نکال سکے۔فطرت کی خوبصورتی سے بھری چوٹی کے اوپر ایک گرم ترین کیفے میں یہ دوسری ناخوشگوار چیز تھی۔جوس تازہ ضرور آیا مگر اس میں سے پلپ کے ساتھ بیج بھی نکالنے کی ضرورت محسوس نہ کی گئی تھی۔یہ ہم نے پانچ ستارے میں پہلی بار دیکھا۔عملہ بھی انتہائی مستعد اور خوش اخلاق نہ تھا بس مناسب سی صورتحال تھی۔بہت سی وجوہات بار بار پانچ ستارے کا استحقاق مجروع کرتی محسوس ہوتی تھیں۔ ہم خموشی سے ادھر ادھر کا جائزہ لیتے تھوڑی تھوڑی دیر بعد کھڑکی میں کھڑے ہو کے بچوں کو  دیکھتے رہے۔بھوک کا عالم تھا اور ڈنر روم میں ڈنر کے لئے ابھی ایک گھنٹہ تاخیر تھی۔ چناچہ ادھر ہی پیٹ پوجا کے لئے سینڈوچز اور پیزا کا آڈر دے دیا جنہوں نے خوب مزا دیا۔برفباری بھری رات:
دن بھر گوگل پر برفباری کے اوقات جانچتے رہے تھے مگر اگلے کچھ دن تک برفباری کی کوئی نوید موجود نہ تھی۔چناچہ ہم شانت ہو کر رات میں اپنے بستروں پر پڑے اپنے اپنے کیمروں اور سمارٹ فونز میں مصروف رہے۔آج کی تمام فوٹوگرافی کو فولڈر میں منتقل کر کے تھوڑی سی فرصت ملی تو دل بہلانے کو ٹیرس کا دروازہ کھولا اور باہر نکلی!
اوہ میرے خدا! باہر تو نرم نرم سفید  پنکھڑیوں کی صورت آسمان سے برف برس رہی تھی۔اس قدر خوبصورت نظارہ یوں لگا جیسے کسی باربی فلم میں اونچے پہاڑوں کے بیچ مسحور کن برفباری کا منظر ہمارے سامنے کھل گیا ہو !گوگل برفباری کی رپورٹ سے ابھی تک عاجز تھا جبکہ برف کی پھوار ہماری آنکھوں کے سامنے پڑ رہی تھی۔کیمروں کے ساتھ ہم ٹیرس پر اتر گئے تھے۔کچھ دیکھتے کچھ ریکارڈ کرنے کی ناکام کوشش کرتے۔دیکھنا ،جی بھر کر دیکھنا اور محسوس کرنا بھی ضروری ہو اور کیمرے میں اس کے فوٹو گراف کی موجودگی بھی اہم ہو تو اکثر بندہ نہ ڈھنگ سے دیکھ ہی پاتا ہے نہ ریکارڈ کر پاتا ہے۔گرم ترین کپڑوں کی شدید کمی تھی سو پانچ منٹ باہر رکتے پھر پگھلنے کی خاطر گرم کمرے میں لوٹتے کہ جس میں مستقل چلتے ہیٹر نے زندگی کو ممکن کر رکھا تھا۔اس وقت یہ پانچ ستارے والا پی سی ہوٹل عظیم ترین لگا کہ اسی کی بدولت اس قدر اونچائی پر اتنی خوبصورت ٹھندی رات میں اتنی گرمائیش کے ساتھ رہائش ممکن تھی،ٹوٹیوں میں گرم پانی تھا،گرم بستر اور گرم کمرہ تھا اور ہر ضروری چیز بہت اچھی حالت میں موجود تھی تو یہ اللہ کے کرم کے بعد اس پانچ ستارے ہوٹل کی بدولت تھا۔برفباری کا سلسلہ کوئی گھنٹہ بھر چلا لوگوں نے لان میں نکل کر خوبصورت رات کے مزے لئے کسی نے ہماری طرح اپنی بالکنی میں خود کو بھگویا۔برفباری کو دیکھنے کا جو مزا بالکنی سے تھا وہ زمین پر اتر کر یقینا نہیں تھا۔
نادیہ ریسٹورنٹ:
ڈنر اور ناشتہ کے لئے مخصوص ہوٹل “نادیہ” میں عملہ بحرحال مستعد اور خوش اخلاق تھا اور کسٹمرز کو خوش کرنے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف تھا کہ میرے مسلسل دکھتے سر کی خاطر ان کا ویٹر ایک پینا ڈول تک تلاش کر لایا۔رات کا کھانا لذیذ تھا اگرچہ بوفے نہ تھا۔اور ہم نے یہاں بیٹھے اتنا سکون محسوس کیا اور اسقدر فرصت سے بیٹھے کہ عملے کو آ کر ہم سے معذرت کرنا پڑی کہ ان کے بند ہو جانے کا وقت ہوا چاہتا ہے تو وہ ہم سے رخصت چاہتے ہیں۔_____________(جاری ہے)تحریر و فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف