اجنبی ! تمھاری نیت کی قسم مجھ پر بھروسے حرام ہیں _
اجنبی ! اجنبیوں نے میرے بھروسے کو جگہ جگہ سے کاٹا ہوا ہے ۔
میں نے بہت کم لوگوں کو اس نہج پر پایا کہ وہ بھروسے کے کھائے گئے حصوں کی پرواہ کیے بغیر باقی ماندہ دانتوں کے نشان والے حصوں کو اپنی چاہ سے قائم رکھ سکیں ۔

اجنبی میں نہیں جانتی تمھاری خواہش ۔
میں نہیں جانتی کہ تم میرے بھروسوں سے ہو کر میرے یقین کی گردن میں لپٹے دھوکوں کے طوق اتارنے کو پہنچ سکو گے یا نہیں ۔
اس یقین کے رستے میں میری بے بسیوں کے ساتھ ساتھ میری بے اعتنائیاں کیونکر الاہنگو گے تم ؟
تم کیوں بھلا میرے سائے کو دیوار پر لانا چاہتے ہو ؟
کیوں اس ٹوٹی ہوئی دیوار کو میرے سیاہ سائے سے بھرنا چاہو گے کہ جس دیوار کو میں نے تمام دھوپ سہنے کے بعد تمھارے ہی جیسے گزر جانے والوں کے لیے کئی برسوں میں کھڑا کیا ہے ۔ اور اس کی بنیادوں میں اپنے کڑوے منہ کے تمام مردہ ہوتے ذائقوں ، تلخی کی کنکریٹ سے اپنے آنسوؤں سے بنایا ہے.
اس دیوار پر میرا سایہ پڑنے سے جانتے ہو اس سائے کا بھاری پن کہیں دراڑیں نہ بنا دے ۔ اور دیوار ڈھے نہ جائے ۔
تم دیوار کی بنیادیں ہلانے کی خواہش کرو اور میرا سایہ کھو جائے۔
یہ میرا آخری سہارا ہے ۔
اجنبی میں نہیں جانتی تمھاری خواہش ۔
میں ہیولے جمع کیے بیٹھی ہوں ۔ تمھاری موجودگی انھیں بھگا دے گی پھر ………
اجنبی ! سایوں کی تشبیح رکھنے والوں کے ماتھے بوسوں کے لیے، کاندھے تھپکیوں کے لیے، ہنر تالیوں کے لیے جنمے ہی نہیں گئے _
اجنبی ! کیا تم کسی ایسی لڑکی سے واقف ہو جسے ستائش سے کچھ رغبت نہیں ۔
عجیب لڑکی
سراہے جانے کے لطف سے آشنا نہیں ہے
اسے وحشتوں کی پڑی ہے
اسے فکر یہ ہے کہ زمان و مکاں کی حدوں میں پنپتے دکھوں کا مداوا جب نہ ہو سکے تو کیا تب بھی چہروں پہ نور ، جاودانی سرور پنپنے کا منظر دیکھنے کو کوئی بھلا کیوں رکے گا ؟؟
کہ دکھوں کی اجاداری میں کہیں خشک پوروں کو کسی لمس نے نم کیونکر دیا ہے
کہیں کوئی کیوں کسی کو یہ کہہ رہا ہے
تمھارے پیروں میں جو آبلے ہیں انھیں تم بھلا دو اور اپنی آنکھوں میں موجود حسین اداسی سے مسکرا دو
کہیں کوئی آنکھوں کے بھورے ہلکوں کے ذائقے چکھ کیونکر چکھے گا۔
بھورے بالوں میں وقت کے دشت کے ذرے کیوں کسی نے چنے ہیں
کوئی کہہ سکا ہے اس درد میں تم صدیاں بتا دو
بھلے تم کبھی نہ مسکرانا
نہ پلکیاں جھکا کر اٹھانا
نہ کہنا میں کیسی لگ رہی ہوں
مجھے اک نظر ڈال کر تم جلا دو
تم اسی درد کے آبلوں کو لیے چلتی رہو
ہاتھ ملتی رہو ___ میں نئے دیسوں کو چل پڑوں گا۔
اجنبی ! یہ جس لڑکی کا میں نے ذکر کیا اسے یہ سب لغویات لگتی ہیں وہ سراہے جانے کو ستائش بیکار سمجھتی ہے ۔
اجنبی ! عین پیشانی پر گہری دو لکیریں ہیں . میرے چہرے پر ناپسندیدہ لکیریں ۔ کبھی تو اتنی واضح ہونے لگتی ہیں کہ مجھے اپنے ماتھے سے نفرت ہونے لگتی ہے ۔اور میں آئینے کو ضرورتاً بھی نہیں دیکھتی ۔
یہ واحد کام ہے جو میں ضرورت کے تحت کر لیتی ہوں ورنہ ضرورتاً بھی کسی ضرورت کی ضرورت نہیں اب ۔
محبت کی تتلیاں ہوس کے وحشی گدھوں سے گھبرا کے اڑ گئیں __
اجنبی ! تتلیوں کے اڑنے کا وقت ہو گیا تھا ۔
اجنبی ! میں نہیں جانتی تمھاری خواہش
اجنبی ! جب تک طبلے کی طنابیں کسی رہیں طبلہ جاندار ساز سامنے لاتا ہے اور جب یہ طنابیں ڈھیلی پڑ جائیں، کر دی جائیں تو ایک بوجھل پن ایک بھاری آواز کسی راگ کو اٹھا نہیں پاتی ایسے ہی وقت کی طنابیں ہیں اور میرا سر کسی ایسے راگ کے بعد اپنی بحر سے باہر ہے _میں نے بہت آوازیں لگائیں جیسے کہیں کسی آواز کی بولی لگ جائے اور اسے سماعت کڑیوں کے دام خرید کر اپنی خاموشیوں کی کنجیوں سے کہیں زنگ لگے خیالوں کے قفل میں قید کر دے ___
میں نے اپنا سامان بیچنے کے لیے بولی لگائی کہ آؤ کہیں فرصت سے بیٹھیں اور درد کے نوحوں پہ کان دھریں _ مگر ……
اجنبی ! لوگ پہلے سوال نہیں کرتے تھے بات سمجھتے تھے اب لوگ سوال کر کے بھی بات نہیں سمجھتے _ یہ المیہ ہے فقط میرا نہیں یہاں موجود ہر زبان کا ہر آواز کا المیہ ۔
اور ان المیوں میں میں ایک المیہ بنتی جاتی ہوں ۔
اجنبی ! ہر دم صعوبتیں سہنے والے کو پھر خوشحالی طعنہ لگتی ہے _ جی ہی نہیں چاہتا آسانیوں کا اور اگر جی کہیں لگنے کو مائل کر بھی لیا جائے تو بھروسے کو نئے زیریلے دانتوں سے خود کو کٹوانا پڑے گا ۔
اجنبی میں نہیں جانتی تمھاری خواہش…
مگر اتنا جانتی ہوں کہ رَبّ نے ایک ہی چیز مکمل دی ہے مجھے ، علامتوں کی پہچان ۔
اجنبی ! خط لکھنے کی وجہ جاننے کی کوشش مت کرنا ۔نہ ہی خود سے کوئی اندازے لگا کر الجھنا، نہ مجھ پر ہنسنا، نہ کسی غلط فہمی کو چٹکی بھرنے دینا ۔ یہ خط کسی ایک اجنبی کے نام نہیں یہ خط ان اجنبی آنکھوں ،کانوں ،زبانوں کے نام ہے جنہوں نے دلوں کے بھروسوں کو اپنے زیریلے دانتوں سے کاٹا ہے. نظروں سے دھتکارا ہے سماعتوں سے جن آوازوں کو نکالا ہے. میں ان سماعتوں سے نکالی گئی آوازوں دھتکارے گئے جسموں اور ادھ کھائے گئے بھروسوں کی سفیر ہوں ۔
میں اجنبیوں سے معذرت کرتی رہوں گی __

________________

تحریر:عظمیٰ طور

کور ڈیزائن و فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف