کیوں پاکستانیوں کو ووہان سے واپس نہیں آنا چاہئے!

اس کی سب سے بڑی ایک دلیل تو وہ حدیث ہے جو دنیا کا سب سے پہلا اور اہم طبی اصول طے کرتی ہے اور جسے ایسے وقت میں جہاں اس کے نفاذ کی سب سے اہم ضرورت ہے وہاں اس کے استعمال کو طعنہ اور بزدلی اور ناکامی گردانا جا رہا ہے۔صحت کے شعبے کا سب سے اہم اصول احتیاط ہے جو پوری دنیا میں صحت و سلامتی کا سب سے پہلا نکتہ ہے۔اسی نقطے کو لے کر دنیا بھر میں مریضوں کو ان کے تیمارداروں سے بھی پرے رکھا جاتا ہے بالکل ایسے جیسے آج اس کے عملی مظاہرے چائینہ میں دکھائی دے رہے ہیں جہاں بیمار بچوں تک کو ان کی ماؤں سے الگ کر کے رکھا جا رہا ہے کیونکہ ہر ایک جان قیمتی ہے۔صرف محبت کی خاطر وباؤں کو اپنے پیاروں میں نہیں بانٹ دیا جاتا۔

اس کی دوسری اہم اور بنیادی وجہ جو چائینہ میں پھنسے پاکستانیوں کے سمجھنے کی ہے جو شاید ان کو اب بوکھلاہٹ میں سمجھ نہیں آ رہی ۔یہ سچ ہے کہ ملک سے باہر رہ کر ہر اچھے برے وقت میں ملک کی اور اپنے پیاروں کی یاد بہت آتی ہے اور یونہی لگنے لگتا ہے کہ وہ کوئی حسین جنتیں تھیں جو پیچھے رہ گئیں جن کی طرف گھڑی گھڑی لوٹ جانے کو دل کرتا ہے۔مگر سچ تو یہ ہے کہ اپنے ملک ،علاقے،خاندان کی سرحد میں اترتے ہی سب سہانے ڈھولوں کے پول کھل جاتے ہیں اور سب کھرا کھوٹا کھلی آنکھوں سے عیاں ہو جاتا ہے تو انساں کو سمجھ آتی ہے کہ کونسا سودا خسارے کا رہا۔پاکستان میں تو ہر چھ ماہ بعد ڈینگی پھیل جاتا ہے اور یہاں پر حکومت،محکمہ صحت،اور ساری سول انتظامیہ مل کر بھی اسے کنٹرول نہیں کر پاتی،یہاں تو دارلحکومت کے ایک بڑے مہنگے ہسپتال میں محض آنکھوں میں قطرے ڈلوانے کی کوشش میں کتنے لوگ بینائی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔یہاں تو میڈیکل سٹورز پر امریکی مہروں کے ساتھ نقلی دوائیں ملتی ہیں،یہاں تو کتے کے کاٹے کی دوا ڈھونڈنی مشکل ہے جس کی یاد میں اور جس کی گود میں سر رکھنے کو آج آپ مچل رہے ہیں ،یہاں پر آ کر اگر آپ کو وائرس لاحق ہوا تو کوئی ڈاکٹر شاید ہاتھ تک نہ لگائے،کوئی ہسپتال داخل ہی نہ کرے ،چونکہ یہاں تو ہسپتالوں،ڈاکٹروں کے پاس ابھی بنیادی معلومات تک مہیا نہیں،کرونا وائرس کا علاج کیا ہو گا۔جبکہ دوسری طرف آپ کے پیارے اور احباب اگر آپ کو اس وقت گود میں بھرنے کو بلک رہے ہیں تو یقین کر لیں آپ کو چھینک بھی آ گئی تو صحن کے ایک کونے میں آپ کی منجی بچھ جائے گی اور اس کے ساتھ پانی کا ایک کولر ہو گا تا کہ آپ دوسروں میں جراثیم نہ پھیلائیں۔اور اگر پھر بھی آپ کے کچھ رشتہ دار اتنے عظیم ہیں کہ وہ کھلے عام ایسے رویے کا اظہار نہ کریں تو بھی ان کے اندر اپنے دفاع کی بھرپور خواہش ضرور موجود ہو گی جس کے حق سے کوئی انسان انکار نہیں کر سکتا۔آپ کے ماں اور باپ ہو سکتا ہے آپ سے اچھوتوں والا سلوک نہ کریں تو کیا آپ کی محبت اپنے ماں باپ کی صحت کے لئے تھوڑا صبر اور حوصلہ نہیں مانگتی۔

یہ سچ ہے کہ چائینہ اس وقت کورنو وائرس کا گڑھ ہے اور اس سے بھی بڑا سچ یہ ہے اس وقت اگر کوئی علاج ،کوئی بہترین ہسپتال،صلاحیتیں،اور انتظامیہ اگر کرونا وائرس کے خلاف کہیں لڑ رہی ہے تو وہ صرف چائینہ میں ہی ہے۔وہاں رہتے اگر آپ وائرس کا شکار ہوتے ہیں تو آپ کی صحت ،سلامتی اور حفاظت کا ایک پورا مکمل نظام اس وقت وہاں کام کر رہا ہے۔اس کی نسبت اگر یہ وائرس آپ میں موجود ہوا اور پاکستان واپسی کے بعد ظاہر ہوا تو یہاں پھر آپ کے پاس بچاؤ کا کوئی مستند طریقہ یا سسٹم موجود ہی نہیں ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک دوسرا وطن جو آپ کو تعلیم اور روزگار کے اعلی ترین مواقع دیتا ہے،وہ سب کچھ دیتا ہے جو آپ کو اپنے وطن سے نہیں مل پاتا،وہ بھی آپ سے محبت اور وفاداری کا تقاضا کرتا ہے۔اگر دوسری مٹی میں اتنی طاقت ہے کہ وہ آپ کو اپناتی ہے،آپ کی تمام تر کمی بیشیوں کے ساتھ اور اپنے وسائل میں آپ کا حصہ رکھتی ہے تو افراد کی طرف بھی اس مٹی کی طرف سے قرض نکلتا ہے۔جس ملک میں آپ رہتے ہیں چاہے نیشنل نہ بھی ہوں وہ آپکا دوسرا گھر ہے اور اتنی ہی وفا،ذمہ داری اور محبت مانگتا ہے

جتنی وہ آپ کے خواب پورے کرنے کے لئے قبول کرتا ہے۔یہ اخلاقی طور پر بھی معیوب ہے کہ جب تک کوئی ملک آپ کا قد اونچا کرتا رہے اس میں ڈالر،درہم اور یوان ڈالتا رہے تو وہ آپ کا سگا رہے اور جیسے ہی اس پر کوئی مشکل وقت آ جائے آپ سر پر پاؤں رکھ کر بھاگنے کی کوشش کریں۔موت تو اٹل ہے لوگوں کو محاز جنگ پر بھی نہیں آتی اور دروازوں پر باڈی گارڈ کھڑے کر کے سو مشینوں اور سو ڈاکٹروں کے بیچ بھی انسان مر جاتا ہے۔تو موت سے بھاگنے کا کوئی فایدہ نہیں،جب تک اس کا وقت نہیں وہ خود ہی آپ سے دور رہے گی۔سو اس طرح مظطرب ہونے اور پریشان ہونے کی بجائے نمازیں اور قرآن پڑھیں اور اپنے لئے اور اپنے آس پاس پھیلے بیمار لوگوں کے لیے شفا مانگیں۔آپ سے بڑھ کر ہو سکتا ہے آج اس ملک کو اور آپ کے آس پاس کے لوگوں کو آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہو جو آج تک آپ کی قابلیت بڑھانے اور اور آپ کا مستقبل محفوظ کرنے کے لئے ایک باپ کا کردار ادا کرتا رہا ہو۔

یہ باتیں کہنی آسان ہوتی ہیں کرنی مشکل! میں مانتی ہوں مگر میں کہہ سکتی ہوں کیونکہ میں خود ایک ایکسپیٹ ہوں، دیار غیر میں رہتی ہوں اور اس سے محبت کرتی ہوں کہ مجھے آج بنانے میں جتنا ہاتھ میرے اپنے ملک کا ہے اس سے بڑھ کر اس زمین کا ہے جس کے دست شفقت نے ہمیں اماں دی۔اور میں الحمداللہ اس ملک کو اپنا دوسرا گھر سمجھتی ہوں اور یہاں کی خامیوں اور کمیوں کو بھی ایسے ہی ڈھانپ لیتی ہوں جیسے ہم اپنے ملک کی ہر خامی سے نظر چرا لیتے ہیں۔
________________
“ہم سب” پرپڑھیں

3 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.