“ہینگرز کی بستی میں برہنہ پرندے اور مافیا کا مُلا “___________از ثروت نجیب



سردی سے اکڑے ہاتھ پھیلائے بخشش مانگتی برقع پوش عورت ، خشک روٹیوں کی ریڑھی سے اکڑا ہوا نان چُراتی بھوکی لڑکی ، جھریوں ذدہ نیلے ہاتھوں سے ٹھیلا کھینچتا ضعیف کُبڑا ، خنکی سے کانپتا نکڑ پہ اکڑوں بیٹھا پھٹی پرانی جوتیاں سینے والا نوجوان لڑکا، پھسلن والی سڑک پہ برہنہ پا دوڑ کر غبارے بیچنے والا بچہ ، برف میں دفن ہونے کے قریب حدت کو ترستا ہواخیمہ نشین لرزتا خاندان ، شام ڈھلے کوچے کے موڑ پہ پلاسٹک کے لفافے اور ٹائر جلا کر
ہاتھ تاپنے والا ٹھٹھرتا کوچوان یا اس کو پیٹنے والا ماحول دوست آدمی ،
کیا زندگی اتنی سفاک اور کٹھن ہے ؟

فروری کا مہینہ شروع ہوتے ہی میدانی علاقوں میں جہاں سرسوں پھوٹتی ہے کابل میں ہنوز ہینگرز کا موسم ہوتا ہے ۔
کپڑوں کی تہہ در تہہ میں چُھپے سر پہ ٹوپی کانوں پہ کنٹوپ ، آنکھوں پہ سیاہ چشمے ، ناک پہ ماسک ، گردن مفلر سے ڈھکی ، ٹرینچ کوٹ پہنے ، ہاتھوں پہ دستانے ، پنڈیوں تک لمبے لمبے چرمی بوٹ، دور سے دیکھنے پہ یہ انسان نہیں ہینگرز لگتے ہیں ۔ یا پوش دکانوں میں رکھی وہ ڈمیاں جو دکانوں کے شیشے توڑ کر باہر نکل آئی ہوں ۔ ان کے چہرے مہرے کو موسم کھا گیا ۔ ہینگرز کے قدم اور ہاتھ روبوٹک انداز میں اٹھتے ہیں ۔ انتہائی محتاط ۔سارے کے سارے ایچ جی ویلز کے ناولThe invisible manکے مرکزی کردار لگتے ہیں ۔ میں بھی ایک ایسا ہی کردار تھی اور خوش تھی کہ سفید موسم میں رنگ برنگے خوشنما ہینگرز نے بہار کا سماں باندھ دیا ہے ۔ ہم نہ ہوتے تو یہ موسم کتنا روکھا پھیکا ہوتا۔ ایسے میں ایک ٹریفک سگنل پہ مجھے ہینگرز کا مان توڑتا ایک انسان دیکھائی دیا ۔ سچ مچ کا انسان ۔ اس کے کپڑے پھٹے پرانے تھے ، موزے تو کیا اس نے چپل تک نہیں پہنی تھی ۔ سر پہ کوئی ٹوپی نہ کنٹوپ ۔ ایک میلی سی چادر کندھوں پہ تھی ۔ اس کی سرخ ناک ، جمے ہوئے الجھے بال نشاندھی کر رہے تھے کہ بوجہ غربت ہی وہ انسان رہنے پہ مجبور ہے ۔ غربت ہی انھیں گھروں سے نکال کر مشقت یا بھیک مانگنے پہ مجبور کر رہی تھی ۔ اس نے اپنی انگلی سے گاڑی کی کھڑکی کو کھٹکھٹایا ۔

وہ جیسے فریاد کر رہے تھے ،
اے امیر ذادو!
ڈھکے چھپے ، سردی سے محفوظ ، برف کو انجوائے کرنے والو ، کھڑکی کا شیشہ نیچے کر کے اپنی نظر اتارو۔۔۔۔۔
بدلے میں چار پیسے ہماری طرف اچھالو تاکہ ہم چار لکڑیاں اور چند کوئلے خرید سکیں ۔
اے شہزادو ! بھیک کو لعنت اور مشقت کو خیر کہنے والو!
اے رزقِ حلال کا بھاشن دینے والو !
رُکو ! کہ ہم گاڑی کے شیشے صاف کر لیں ۔
رکو ! کہ ہم رومال بیچ سکیں ۔

لیکن گاڑی کے اندر بیٹھے ہینگرز کو ریڈیو پہ بجنے والے نغموں نے کنٹوپ پہنا رکھے تھے ۔انھیں صرف مسکین ، اشارے کرتی منہ بسورتی صورتیں دیکھائی دیتیں ۔ ننھے ننھے ہاتھ ہلتے اور پھر مایوس ہو جاتے ہیں ۔ مشقت کرنے والے بچے ضرور سوچتے ہوں گے وہ غریب ہیں مگر ان کی پانچ حسیں کام کرتی ہیں ۔امیروں کی ہر حسؔ بہت کمزور ہوتی ہے ۔ انھیں اپنے مطلب اور فائدے کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔موسم کی شدت سے بے خبر وہ سارا جاڑا انگھیٹیوں کے قریب ہاتھ تاپتے گزار دیتے ہیں۔ اور گاڑی کے شیشے محض تصویریں کھینچنے کے لیے اتارتے ہیں تاکہ روتے ہوئے نیم برہنہ بچوں کی تصویریں کھینچ کر وائرل کر سکیںُ۔ عاجز اور مسکین بچوں کی مصوری ان کے بڑے بڑے پرتعیش ڈرائنگ روم کی رونق بڑھاتی ہے ۔ امیروں کے ڈرامائی آنسو بھی ان کی آنکھ کی پُتلیوں پہ دھرے ہوتے ہیں ۔ جذباتی فلمیں دیکھ کر وہ انھیں بہا دیتے ہیں مگر حقیقت قریب ہو تو غریبوں کے میلے کچیلے کپڑوں کی بدبو ان کو ناگوار گزرتی ہے ۔ بہتی ناک والے بچے کو دیکھ کر ابکائیاں آنے لگتی ہیں ۔انھیں لگتا ہے گاڑی کا شیشہ اتارتے ہی یہ غریب اکٹوپس کی طرح انھیں جکڑ لیں گے ۔ ان کا مال دولت ، خوشی ، خوبصورتی سب نگل لیں گے ۔ اس لیے غریبوں کو نظر انداز کرنا ہی بہتر ہے ۔مشقت کرنے والوں میں ذیادہ تر بچے دیکھ کر اکثر میرا دل پگھلنے لگتا ہے ۔ ان کے مٹھی برابر نازک دل جب مسوس کے رہ جاتے ہوں گے تو یہ کیا سوچتے ہوں گے ؟
“اے کاش ہم بھی ہینگرز ہوتے”
خدا ، خلق اور امید موسموں کے پابند نہیں ہوتے ۔ نہ برف کو کچے مکان نظر آتے ہیں نہ بارش کو رِستی چھتیں دیکھائی دیتی ہیں ۔ نہ ہی لوگوں کو ان میں بسنے والے خوفزدہ مکین ۔ خدا آنکھیں موند لیتا ہے ۔ موبادانہ ہر طرف سکوت چھا جاتا ہے ۔
امید برسنے لگتی ہے ۔صرف شاعر ادیب اور مصور ہر کسی کے دکھ پہ موم بتی کی طرح پگھلتے رہتے ہیں ۔
البتہ مجھے ان بچوں کو دیکھ کر ایک تسلی سی ہوتی چالیس سال سے زائد عرصہ جنگ میں گزارنے کے بعد بھی جس قوم میں بھکاری کم اور مشقت کرنے والے ذیادہ ہوں وہ قوم کبھی پسپا نہیں ہو سکتی ۔ کچھ بھی ہو برف غنیمت ہے ۔برف نہ ہوتی تو قحط ہوتا ۔ گزرے وقتوں کی کچھ بھیانک یادوں میں بسا وہ دردناک قحط افغان آج تک نہیں بھولے ۔
قحط جو خوف کے دنوں میں ناراض خدا کا قہر بن کر اترا تھا ۔ بادلوں کو جمود کا ایسے گرہن لگا کہ وہ کابل کے آسمان پہ تیرنے کے بجائے ہمالیہ کے پیچھے جا چھپے تھے ۔ سالوں بارش کی بوند برسی نہ برف پڑی ۔ دریاؤں پہ جزیرے نکلنے لگے ۔ زمین میں بوئے گئے سبھی بیج مٹی میں گل سٹر گئے ۔باغات ویران ہو کر سوکھی سڑی شاخیں بن گئے ۔ اناج تھا نہ پھل تھے ۔ نماز استقا پڑھنے والوں کے ماتھے سیاہ ہوگئے مگر بادل سیاہ نہ ہوئے ۔لوگ پاگلوں کی طرح چشموں ، کنوؤں ، جھیلوں اور جوہڑوں پہ ٹوٹ پڑتے ۔ ہمیشہ کی طرح صاحب حیثیت لوگوں نے نقل مکانی کر لی ۔ پیاس سے بلبلاتی زمین اور اس پہ چمکتا تیز سورج دیو ہیکل پنجرے میں بند متوسط اور غریب طبقے کے حصے میں آیا ۔ نچوڑ کر رکھ دینے والا اکال تھا ۔ ایک وقت تھا جو گزر گیا مگر کیسے گزرا یہ گزارنے والوں کو خبر ہے ۔
سویت جنگ کا خاتمہ ہوتے ہی روسیوں سے لڑنے والے مجاہدین آپس میں لڑنے لگے ۔ انھوں نے ذاتی عناد اور کرسی کی چاہ میں ایک دوسرے پہ میزائل داغنے شروع کئے اور کابل مسمار ہوتا رہا ۔ بہ ظاہر وہ خانہ جنگی کا دور تھا مگر دراصل ایک آزمائش تھی جب ہر دن شہرِ کابل پہ خون کی بارش ہوتی ۔ سویت جنگ میں بھی جو لوگ وطن کی محبت میں اپنے اپنے گھر بار سے جڑے رہے تھے اب نقل مکانی پہ مجبور ہو گئے ۔ ایسا خوف پھیل چکا تھا کہ لوگ اپنے ہی سائے سے ڈر جاتے ۔ ہر لمبی سلاخ پہ انھیں بندوق کی نال کا گمان ہوتا ، بلبلہ بھی پھوٹتا تو لگتا ، ٹھاہ ! گولی سیدھی اِن کے ماتھے میں آ لگی ہے ۔ کہتے ہیں نا ہر فرعونِ را موسیٰ ، ایک موسیٰ تب وقت کے دھارے پہ بہہ رہا تھا ۔ اور بہتا بہتا ارزگان کے گاؤں آ پہنچا ۔
وہ مدرسے کا ایک طالب تھا جس کا کام لکڑیاں چننا تھا ۔ مگر اسے لکڑیاں چننا پسند نہ تھا ۔ چارو ناچار جب وہ لکڑیاں چننے جاتا تو ہر وقت بُڑبُڑاتا “ تم لوگ اچھا نہیں کر رہے ۔ میں ایسے حقیر کام کے پیدا نہیں ہوا ۔ بلکہ میرے ذمے ایک پاکیزہ اور معتبر کام لکھا ہے “ دوست اس پہ ہنستے ! وہ دوستوں کی پروا کئے بنا کہتا “ مجھے افغانستان کا امیر بننا ہے ۔ امیر المومنین ۔۔۔۔۔ اس کی بُڑبُڑاہٹ کو اس کے ساتھ دیوانے کی بڑ کہتے تھے۔ دیوانہ ہے دیوانے کے منہ نہ لگو تو اچھا ہے ۔ لیکن کسے خبر تھی یہ دیوانہ دیوانگی کی انتہا کر دے گا ۔ ادھر کابل میں پے در پے ایسے ہولناک واقعات منظر عام پہ آنے لگے کہ عوام عاجز آگئے ۔ ایک کمانڈر نے ایک لڑکے کو ٹینک پہ بیٹھا کر شہر کا گشت شروع کر دیا ۔ لڑکے کے گلے میں ہار تھے وہ مغازہ گالوں پہ لگائے دلہن کی طرح شرما رہا تھا ۔ ٹینک کے آگے پیچھے تماشائیوں کا ہجوم تھا ۔ کمانڈر نے اس لڑکے سے شادی کر لی تھی اور اسی خوشی کا اعلان کرنے وہ ٹینک پہ بیٹھ کر سڑکوں پہ نعرے لگاتا ، ہوائی گولیاں برساتا کر رہا تھا ۔ یوں تو بچہ بازی اندر خانے انتہائی حدوں تک جا چکی تھی مگر ایسا اعلان تو بچہ بازوں پہ بھی ناگوار گزرا ۔ آخر کو برائی ، برائی ہوتی ہے ۔ اعلانیہ کرنے سے وہ کبھی بھی اچھائی میں نہیں بدل سکتی ۔ بچہ بازی سے متنفر لوگ اس واقعے سے بہت آزردہ ہوئے۔ اُن دنوں عورتوں کے اغواء اور ذیادتی کی وارداتوں میں بھی خوفناک حد تک اضافہ ہو چکا تھا ۔ ایسی ہی ایک واردات نے مجاہدین کی کایا پلٹ دی ۔ ارزگان گاؤں کی بوڑھی بیوہ کی نوجوان کنواری بیٹی کو ایک مجاہد اٹھا کر لے جا رہا تھا ۔ جب اس نے گاؤں کے ہر شخص کو تماشائی بنتے دیکھا تو وہ دوڑی دوڑی مُلا کے پاس گئی ۔ ایک ماں کا درد تھا تب اسے مُلا ہی مسیحا لگا ۔ افغانستان خاص طور پہ گاؤں میں مُلا عمومی طور پہ ہر درد کا درمل ہوتا ہے ۔ اس کے صافے کے نیچے باریش مکھڑے کے کئی روپ ہوتے ہیں ۔ شاید اس لیے کہ وہ گاؤں کے خان کی نسبت مسجد کے دروازے بنا کسی پروٹوکول کے ہر وقت ہر کسی پہ خوش دلی سے کھول دیتا ہے ۔ وہ بیک وقت معالج ، منصف ، مسیحا اور مددگار بن کر کم قیمت پہ لوگوں کے آنسو پونچھتا ہے ۔ وہ عورتوں کے دکھڑے سننے والی سہیلی ، مشورے دینے والی ماں ، سر پہ ہاتھ رکھنے والا باپ اور مصیبت کے وقت بھائی بن جاتا ہے ۔ عاشقوں کے لیے خصوصی پیکج “ محبوب آپ کے قدموں تلے “ الگ ۔ بچے کے کان میں پہلی اذان سے لے کر جنازے کی نماز پڑھنے تک مُلا سبھی باسیوں کے کندھوں پہ بیٹھے کراماً کاتبین کی طرح ساتھ ساتھ چلتا ہے ۔ پائے پائے چلنے والے بچے کے گلے میں لٹکتے تعویز سے امام ضامن تک اس کی کرامات ہوتے ہیں ۔ حتیٰ کہ وہ خواتین و حضرات کے پوشیدہ امراض کا بھی تسلی بخش علاج کرتا ہے ۔ دور دراز کے گاؤں جہاں حکومت کےُپنچھی پر نہیں مارتے وہاں مُلا مرغی کی طرح اپنے پروں میں ہر اچھے برے کے راز دل میں چھپائے ان کی ڈھارس ہوتا ہے ۔ قصہ مختصر اوپر اللہ ، نیچے مُلا ۔ وہ عورت بھی مُلا کے پاس آئی کہ کوئی ایسا اسمِ اعظم پھونک کہ بد بخت مجاہد اندھا ہو جائے ، کوئی ایسا تعویز لٹکا درخت پہ کہ اس کی بیٹی واپس مل جائے ، کوئی کاری ورد پڑھ ، کوئی دعا بتا ، کچھ تو کر مُلا ۔ مُلا سیانا آدمی تھا سمجھ گیا کہ مجاہد نامی بلا تعویزوں سے ٹلنے والی نہیں ۔ اس نے توپک ( بندوق) اُٹھا لی ۔ بس پھر کیا تھا جیسے گاؤں والوں کو ایک محافظ مل گیا ۔ مُلا کے پاس چند طالب علموں کی افرادی قوت تھی ۔ طالب جو سبھی انتہائی غریب نابالغ لڑکے تھے ،قرآن اور حدیث پڑھنے مدرسے میں داخل ہوئے تھے ۔ یہاں انھیں مفت تعلیم کے ساتھ مفت رہنے کی جگہ ملتی ۔ کھانا وہ گاؤں کے گھر گھر سے مانگ کر جمع کرتے ۔ کہیں کسی دروازے سے کوئی حسینہ ان کی چھوٹی سی جستی بالٹی میں سالن انڈیلتے انڈیلتے اپنا دل بھی انڈیل دیتی ۔ کہیں خود طالب کسی چوکھٹ پہ نان کے بدلے دل چھوڑ آتے ۔ کئی معصوم محبتیں ایسے پروان چڑھیں اور کئی محض یاد بن کر رہ گئیں ۔ ان کے عشق کی داستانیں ٹپے میں ڈھل کر سینہ بہ سینہ ہم تک پہنچیں ۔ پشتو کے ایک مشہور ٹپے کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ “ طالب خدا کی قسم کہ اسطرح تم کبھی مُلا بن سکو ! تمھارے سامنے کتاب دھری ہے اور یاد تم محبوبہ کے سبز خال کر رہے ہو ۔ “ صدیوں سے پورے ملک میں مُلا کو بہت عزت دی جاتی ہے ۔ یہی عزت غریب خاندان کے والدین کے لیے بہت معنی رکھتی تھی ۔ ان کے بچے زمانہ طالب علمی میں طالب ہوتے اور جب سند حاصل کر لیتے تو مُلا بن جاتے ۔ مُلا بنتے ہی “ آسمان نیچے اور میں اوپر ۔آج میں آگے زمانہ ہے پیچھے ۔۔۔۔” ان کے منہ سے پھر خدا بولتا ہے ۔ ان کے فتوے ایسے کاری ہوتے ہیں کہ بادشاہوں کے تخت الٹ سکتے ہیں ۔

اور تو اور بچوں کو پولیو کے دو قطرے پلانے کے لیے بھی حکومت کو اپنی زبان مُلا کے منہ میں دینی پڑتی ہے ۔
پھر بھی یہ ملک کے غریب ترین طبقے کی عاجز ترین مخلوق سمجھے جاتے ہیں ۔
ارزگان کے مُلا نے مجاہد سے بیوہ کی بیٹی چھڑا کر واپس کر دی ۔
اور مسجد کے طالب علموں کو ڈنڈے اور بندوقیں پکڑا کر گاؤں کی حفاظت پہ مامور کر دیا ۔
جس طرح بطخ کے بچے پیدا ہوتے ہی تیرنے لگتے ہیں ایسے ہی پشتونوں کے بچوں کو بھی اسلحہ چلانا کوئی نہیں سیکھاتا ۔ انھیں یہ ہنر وراثت میں مل جاتا ہے ۔ پھر یہ بچے تو روسی جنگ میں پیدا ہوئے اور خانہ جنگی میں بڑے ہو رہے تھے ۔ انھوں نے مسجد چھوڑ کر مورچے سنبھال لیے ۔ اب یہ بچے دن تو کیا رات بھر بھی جاگ کر پہرہ دیتے تاکہ گاؤں کے لوگ میٹھی نیند سو سکیں ۔ یوں طالبان گاؤں والوں کی آنکھوں کے تارے بن گئے ۔
افغانستان میں اسلام کے ظہور کے بعد سے ہی مُلا کو سر آنکھوں پہ بٹھایا جاتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب عرب میں حضور اکرم کا دور تھا افغانستان سے قیس نامی پشتون قبیلے کے سردار نے عرب جا کر حضور اکرم کے ہاتھوں اسلام قبول کر لیا ۔ اسلام کے پانچ ارکان سمیت کچھ بنیادی باتیں جب وہ سیکھ کر واپس آیا تو سارا قبیلہ اس کے ہاتھوں مسلمان ہوگیا ۔ بزریعہ شمشیر افغانستان کی سرزمین پہ کوئی مذہب رائج نہیں ہوا حتیٰ کہ اسلام بھی نہیں ۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ رہن سہن ، معاملات اور ثقافت پہ عربی اثرات مرتب نہ ہوئے بلکہ وہ صدیوں قدیم پشتون آئین پشتون ولی کے مطابق زندگی گزارتے رہے ۔ دوسرا مسئلہ دینی تعلیم کے لیے انھیں عرب ممالک جانا پڑتا ۔ طالب علم دور دراز کے سفر کر کے مصر ، بغداد ، ترکی ، شام ، دمشق ، مکہ اور مدینہ جاتے ۔ پر ظلم یہ ہوا کہ جب نگری نگری گھوم پھر کر روشن خیال بنتے تو انھیں اِذن ملتا کافروں کو مسلمان کرو ۔ یوں بلخ سے جلال الدین بلخی عرف رومی گئے تو واپس نہ آئے ، ہجویر (غزنی)سے ہجویری صاحب نکلے تو لاہور میں ڈیرے ڈال دیے ، چشت سے چشتی صاحب نے کوچ کیا تو انڈیا جا کر خواجہ صاحب بن گئے ایسے علماء کرام کی فہرست بہت طویل ہے جو واپس کبھی نہ آئے ۔ خدا انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے وہ جاتے رہے چراغ تلے اندھیرا بڑھاتے رہے ۔ کوئی واپس آیا تو وہ تھے مُلا ۔ لے دے کے جن کو چالیس حدیثوں ، پانچ ارکان اور قرآن کی بہترین قرآت آتی تھی ۔ کچھ حفاظ بھی تھے تفسیر سے بے بہرہ سینے میں قرآن سمیٹے ۔ برصغیر میں جب انگریز قابض ہو گئے تو وہاں دو شہروں میں اسلام کی بنیاد پہ دو مدرسے کھلے ۔ دیوبند اور بریلوی ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک دین کے دو مکتب فکر بن گئے ۔ اب افغانستان کے دین دار لوگ دھڑا دھڑ اتر پردیش کے مدرسے دارلعلوم دیوبند جانے لگے ۔ بریلوی سے ان کو بیر تھا شاید اس لیے کہ دیوبندی امام ابو حنیفہ کے پیروکار تھے ۔ یوں کٹر سُنی دیوبندی سوچ افغانستان کے گھر گھر تک پہنچنے لگی ۔ ادھر ہندوستان میں انگریزوں سے نفرت اور آزادی کی شمعیں جلانے کا دور تھا ۔ جس کی وجہ سےانگریز اور انگریزی تعلیم سے شدید نفرت پنپ رہی تھی ۔ یہاں کے مُلا دین کے ساتھ بوہ نفرت بھی غلاف میں لپیٹے ساتھ لے آتے ۔ پہلے بھی انگریزوں کا تاثر ان کے ذہنوں میں مثبت نہ تھا ۔ پھر انگریزوں نے دو بار افغانستان پہ چڑھائی کر کے ڈیورنڈ لائن کا جنجال بھی ان کے گلے ڈال دیا یوں نفرت کی آگ دل کی بھٹی میں سلگتی رہی ۔ مُلا دو سو سال پہلے بھی کہتے تھے انگریزی تعلیم شیطانی تعلیم ہے جو پیسے کمانے کے لیے حاصل ہوتی ہے اور انسانوں کو دنیاداری سیکھاتی ہے جبکہ دینی تعلیم اللہ کو خوش کرتی ہے اور سیدھا جنت میں لے جاتی ہے اور آج بھی یہی حال ہے ۔ اسی سوچ نے کنگ امان اللہ خان کو اس کیے کافر کافر کہہ کر ملک بدر ہونے پہ مجبور کیا تھا کہ وہ سیکولر سوچ کا مالک تھا ۔ نہیں تو آج کابل اتنا پسماندہ نہ ہوتا ۔ انگریز فتنے اور فساد کے بیج بونے اور بندر بانٹ کرنے کے بعد ہندوستان سے نکلے تو پاکستان میں تین مدرسے بنے ۔ 1947 میں لاہور میں دارلعلوم جامعہ اشرفیہ اسی سال اکوڑہ خٹک میں دارلعلوم حقانیہ بنا جبکہ 1951 میں کراچی کے اندر جامعہ دارالعلوم کراچی کی بنیاد پڑی ۔ اب افغان دیوبند جانے کے بجائے انھی مدرسوں سے مستفید ہونے لگے ۔سویت جنگ میں یہ مدرسے جہاد کا درس اور تربیت دیتے تھے ۔ جن میں اکوڑہ خٹک کا دارلعلوم حقانیہ پیش پیش رہا ۔
طالب علموں نے یہیں پہ سیکھا !
“ اسلام کا مطلب کیا ؟ جہاد فی سبیل لّلہ “ ۔
یوں خطے میں ہولی وار ( جہاد) کا گھناؤنا دھندہ شروع ہوا ۔ روس کے جنگ ہارتے ہی خانہ جنگی ہوئی اور اب خانہ جنگی کو خُداحافِظ کہنے کا وقت آ گیا تھا ۔ ارزگان کے مُلااور طالبان کی وجہ سے گاؤں کے لوگوں کا حوصلہ بڑھا اور وہ بھی مُلا کی کمر بن گئے ۔ اتفاق میں برکت ہے کا محاورہ ایسے ہی تو ایجاد نہیں ہوا ۔ آس پڑوس کے گاؤں والوں نے بھی مُلا کی مدد طلب کر لی ۔ مُلا نے جی بسم اللہ کہا اور دیکھتے ہی دیکھتے بہت سے گاؤں بھی سینکڑوں نوجوانوں کے ساتھ مُلا کی دسترس میں تھے ۔ مُلا روسی جنگ میں باقاعدہ جہاد کر چکا تھا ۔ جس کی وجہ سے اسے جنگی داؤ پیچ تو آتے ہی تھے اور تھوڑا بہت اسلحہ بھی اس کے پاس تھا پھر بیرونی کمک نے اسے مزید مضبوط کر دیا ۔ کچھ ہی عرصے میں وہ ایک باقاعدہ تنظیم کا عظیم سپہ سالار بن چکا تھا ۔البتہ اسے سپہ سالار اور کمانڈر جیسے لفظوں سے نفرت تھی شاید اس لیے بھی کہ یہ نام مجاہدین کے القابات تھے ۔ وہ مُلا تھا اور مُلا بن کر رہنا چاہتا تھا ۔ ہمیشہ پردہ نشین ، پھونک پھونک کر قدم رکھنے والا محتاط مُلا ۔ جلد ہی کابل کے عوام کو مجاہدین کے جبر سے نجات ملنے والی تھی ۔ مُلا گاؤں کے گاؤں فتح کرتا آگے بڑھتا چلا آ رہا تھا ۔ چونکہ وہ خود ہر اوّل دستے کا سالار نہیں تھا بلکہ اس کے شاگرد ہی آگے بڑھ رہے تھے تو وہ جہاں بھی جاتے عوام خوشی سے یہی نعرے لگاتے کہ
“ طالبان آ گئے ۔۔۔۔۔۔طالبان آ گئے “ ۔

البتہ اسے سپہ سالار اور کمانڈر جیسے لفظوں سے نفرت تھی شاید اس لیے بھی کہ یہ نام مجاہدین کے القابات تھے ۔ وہ مُلا تھا اور مُلا بن کر رہنا چاہتا تھا ۔ ہمیشہ پردہ نشین ، پھونک پھونک کر قدم رکھنے والا محتاط مُلا ۔ جلد ہی کابل کے عوام کو مجاہدین کے جبر سے نجات ملنے والی تھی ۔ مُلا گاؤں کے گاؤں فتح کرتا آگے بڑھتا چلا آ رہا تھا ۔ چونکہ وہ خود ہر اوّل دستے کا سالار نہیں تھا بلکہ اس کے شاگرد ہی آگے بڑھ رہے تھے تو وہ جہاں بھی جاتے عوام خوشی سے یہی نعرے لگاتے کہ
“ طالبان آ گئے ۔۔۔۔۔۔طالبان آ گئے “ ۔
ادھر اختیار کے نشے میں چورایک دوسرے سے گتھم گُتھا مجاہدین دنیا و مافیا سے نے خبر آپس میں لڑ مر رہے تھے کہ طالبان ان کی گردنوں تک آ پہنچے ۔ بربریت ختم کرنے والے دستے نے آخرکار کابل فتح کر لیا ۔ یوں مُلا وہ کانا راجہ بن گیا جس نے تیمور لنگ کی طرح دنیا کو تھرا کے رکھ دیا ۔ ارزگان گاؤں کا یہ مُلا کوئی اور نہیں اکوڑہ خٹک کے مدرسے سے سند یافتہ مُلا عمر ہی تھا ۔ تخت کابل کو پچھاڑنے والا پہلے پہل ایک نجات دھندہ بن کر ابھرا ۔ لوگوں نے ان کی آمد پہ خوشیاں منائیں ۔ عوام کو لگا اُن کی زندگی اور زندگی سے جڑی ہر قیمتی شے محفوظ ہو گئی ہے ۔ مُلا عمر نے کابل کے بجائے کندھار کو دارالحکومت بنایا ۔ شاید اس لیے کہ کندھار اس کا وطن تھا یا اس لیے کہ کندھار پشتونوں کا تاریخی شہر ہے ۔ یا اس لیے کہ احمد شاہ ابدالی بابا نے بھی کندھار کو ہی دارالحکومت بنایا تھا ۔ پر غضب یہ ہوا یہاں کابل فتح ہوا ادھر کندھار میں مُلا عمر نے وہاں احمد شاہ ابدالی بابا کے مزار میں رکھا خرقہ مبارک نکال کر سارے شہر میں پھرایا اور خود کو امیرالمومنین کا خطاب خود ہی دے دیا ۔ یہ خرقہ مبارک حضور پاک کا چغہ ہے جسے باہر نکالنے کیاجازت صرف وبا یا شدید ابتلاء کے عالم میں صرف بادشاہ کے پاس ہے ۔ تاکہ خرقہ مبارک کی حرمت کا پاس رہے ۔ اسے پہننے کا اختیار کسی کو بھی نہیں ۔ مُلا عمر نے اس دن قسم کھائی اگر وہ جھوٹا نکلے تو خدا اسے غارت کر دے ۔وہاں موجود سبھی طالبان نے یک زبان آمین کہا اور افغانستان کی تاریخ کا نیا دور شروع ہوگیا ۔ طالبان کے آتے ہی اندھا دھند فائرنگ ، اغواء ، ڈکیتی ، قتل و غارت ، بھتہ ، کرپشن ، بچہ بازی ، جنسی ذیادتی ، منشیات اور خانہ جنگی کا بدترین دور ختم ہو گیا ۔ عوام کو وقتی طور پہ لگا کہ ان کو ایک sedative مل گیا ہے مگر وہ اس کے side effects سے واقف نہیں تھے ۔تب انھیں اس بات کی بھی غرض نہ تھی کہ طالبان بھی اُسی فیکٹری کی پیداوار ہیں جنھوں نے مجاہدین کو سانچوں میں ڈھالا تھا ۔ مگر وہ سانچے روسی انخلاء کے بعد بغاوت پہ اتر آئے تھے ۔ آٹھ جہادی تنظیمیں ایجاد کر کے انھیں تربیت دینے والے تب سر پکڑ کر بیٹھ گئے جب سبھی کے مجاہدین سربراہ کرسی اور اقتدار کی چاہت میں ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار نکال کر کھڑے ہو گئے ۔ وہ اب امریکہ اور آئی ایس آئی کے ہاتھوں سے نکل چکے تھے ۔ گلبدین حکمت یار کے بارے میں مشہور تھا وہ انتہائی مطلبی انسان ہے ۔ دوسری طرف شیر پنج شیر احمد شاہ مسعود اپنے مفاد کی جنگ لڑ رہا تھا ۔ دونوں میں کوئی بھی عوام اور امن کی خاطر سمجھوتے پہ تیار نہیں تھا ۔ ایسے میں طالبان ہی ایک نیا متبادل تھے ۔ سچ تو یہ تھا کہ ارزگان کے کسی بھی واقعے سے قبل طالبان کا خاکہ جی ایچ کیو کی میز پہ کب کا بن چکا تھا ۔ بس موقعے پہ چوکا لگانے کے لیے عمل درآمد باقی تھا ۔ طالبان کی آمد کے بعد افغانستان کے وہ علاقے جہاں ان کا تسلط تھا وہ اخلاقی برائیوں اور جرائم سے تو محفوظ ہوگئے مگر مذہبی سختیوں نے عوام کا جینا دو بھر کر دیا ۔ زندگی ماچس کی ڈبیا کی طرح تنگ ہو چکی تھی ۔ واحد تفریح سونا تھا ۔ تالی ، چٹکی ، سیٹی بجانے پہ پابندی تھی کیونکہ یہ غیر اسلامی تھے ۔ فنون لطیفہ پہ مکمل پابندی تھی ۔ مصوری کے شاہکار فن پارے ضائع کر دیے گئے ۔ موسیقی جرم قبیح قرار پانے کے بعد سارے گلوکار ، ادکار ، رقاصائیں اور سازندے اور آہنگ سے جڑے افراد دربدر ہوگئے ۔ بیشتر پشاور اور کوئٹہ کوچ کر گئے جہاں انھیں ریڈیو پاکستان نے خوش آمدید کہا ۔ افغانستان میں موسیقی کا کاروبار ٹھپ ہو چکا تھا۔ ان کے آلات اگر طالبان کے ہاتھ لگتے تو انھیں جلا دیا جاتا ۔ حتیٰ کہ گھروں میں گھس کر ریڈیو اور ٹی وی جیسے آلات جلا دیے گئے تھے پھر بھی انھیں کبھی کسی گھر ایسی کوئی آواز سنائی دیتی تو کڑی سزا ملتی ۔ لڈو ، قمار بازی ، تاش بازی ، کیرم بورڈ ، پرندے پالنا ، کبوتر بازی ، کتوں کی لڑائی ، مرغوں کی لڑائی حتی ٰ پتنگ بازی جیسے تمام مشاغل پہ پابندی لگ چکی تھی ۔ اگر کوئی اس جرم کا مرتکب ملتا تو بانس کے بھیگے ڈنڈوں سے ان کی تواضع کی جاتی جو مجرم کے جسم کو چاقو کی طرح کاٹ کر رکھ دیتے ۔ اس زمانے میں بھی سب سے ذیادہ عورتیں متاثر ہوئیں ۔ سبھی خواتین کو نا صرف نیلے رنگ کے برقعے اوڑھا دیے گئے بلکہ سبھی آرائشی اشیاء پہ پابندی لگا دی گئی ۔ ایڑی والے جوتے ، بھڑکیلی شلواریں ، خضاب سرخی پاوڈر سب حرام صرف مسواک اور مہندی کی اجازت تھی ۔ کھلی پائنچوں والی شلوار پہنے کوئی عورت دیکھائی دیتی تو اس کے ساتھ خواہ بیٹا ، باپ یا شوہر ہو کہتے پائنچے کے اندر سر گھسا کر دیکھو ۔ پائنچوں کا ایک مخصوص سائز تھا ۔ لڑکیوں کے سارے سکول بند ہوگئے تھے جب تک کہ وسائل اجازت دیں اور ان کے لیے الگ سے تعلیمی ادارے بنیں ۔ اکثر خواتین کی نوکریاں جاتی رہیں ۔ انھیں سیاست اور دفتری انتظام و انصرام سے دور کر دیا گیا ۔ ساری خواتین گھروں میں نظر بند ایک دوسرے سے الجھتیں ، چخ چخ پخ پخ کے بعد رگڑ رگڑ کر برتن مانجھتیں یا کپڑے دھوتے وقت انھیں کوٹ کوٹ کر اپنی فرسٹریشن نکالیتیں اور پھر گھر کے کسی کونے میں بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ روتیں ۔ اگر کسی لڑکی کو کسی طریقے سے سمگل ہو کر سرخ لپ اسٹک یا نیل پالش مل جاتی تو وہ ایسے خوش ہوتی جیسے اسے پارس کا پتھر مل گیا ہو ۔ گاؤں میں لڑکیوں کے الگ دکھ تھے ۔ وہ پہلے سماجی ، ثقافتی پابندیوں میں جکڑی ہوئی تھیں ان پہ نئی افتاد آن پڑی ۔ ایک تو انھیں چادری ( نیلا ٹوپی والا برقع ) پہنا دیا جو انھوں نے کبھی نہ پہنا تھا بس بڑی سے چادر اوڑھ کر ایسے نکلتی تھیں کہ ایک آنکھ نظر آتی باقی چہرہ چھپا رہتا دوسرا طالبان نے انھیں دریا کے کنارے کپڑے دھونے اور پانی بھرنے سے منع کر دیا تھا ۔
ہائے گودر ( پنگھٹ )۔۔۔۔۔

اور ان کے لیے الگ سے تعلیمی ادارے بنیں ۔ اکثر خواتین کی نوکریاں جاتی رہیں ۔ انھیں سیاست اور دفتری انتظام و انصرام سے دور کر دیا گیا ۔ ساری خواتین گھروں میں نظر بند ایک دوسرے سے الجھتیں ، چخ چخ پخ پخ کے بعد رگڑ رگڑ کر برتن مانجھتیں یا کپڑے دھوتے وقت انھیں کوٹ کوٹ کر اپنی فرسٹریشن نکالیتیں اور پھر گھر کے کسی کونے میں بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ روتیں ۔ اگر کسی لڑکی کو کسی طریقے سے سمگل ہو کر سرخ لپ اسٹک یا نیل پالش مل جاتی تو وہ ایسے خوش ہوتی جیسے اسے پارس کا پتھر مل گیا ہو ۔ گاؤں میں لڑکیوں کے الگ دکھ تھے ۔ وہ پہلے سماجی ، ثقافتی پابندیوں میں جکڑی ہوئی تھیں ان پہ نئی افتاد آن پڑی ۔ ایک تو انھیں چادری ( نیلا ٹوپی والا برقع ) پہنا دیا جو انھوں نے کبھی نہ پہنا تھا بس بڑی سے چادر اوڑھ کر ایسے نکلتی تھیں کہ ایک آنکھ نظر آتی باقی چہرہ چھپا رہتا دوسرا طالبان نے انھیں دریا کے کنارے کپڑے دھونے اور پانی بھرنے سے منع کر دیا تھا ۔
ہائے گودر ( پنگھٹ )۔۔۔۔۔
ایک گھڑا کولہے ایک سر پہ رکھ کر وہ گودر پہ جا کر پانی بھرا کرتی تھیں اب یہ عیاشی بھی گئی ۔ گودر کہ جہاں پہ سب سے ذیادہ ٹپے لکھے گئے ، جو سکھیوں کے ملنے کا مرکز تھا ، جہاں راستے میں کبھی کبھار تاڑنے والے منچلے بھی مل جاتے ۔ ٹپے گواہ ہیں گودر کی راہوں پہ عاشقی معشوقی کی زمین ہمیشہ سے زرخیز رہی ہے ۔ ایسے ہی موقع پہ ایک ٹپہ ہے

خاونده ما د ګودر ګل کړې

‎چې جینکۍ مې شکوي سر کې مې ږدینه
ترجمہ : خدایا مجھے گودر ( پنگھٹ ) کا پھول بنادے
کہ لڑکیاں مجھے توڑ کر بالوں میں سجا لیں ۔
وہ زرخیز زمین بھی ان کلموہے طالبان کی وجہ سے ہاتھ سے نکل گئی ۔ اب ان کے ناک میں چمکتا سونے کا پیزوان کس کے لیے لشکارے مارے ۔ اور جھانجروں کا جوڑا پہن کر کس کے سامنے کھنکائیں؟
سچی ! بجنے والے زیورات پہ بھی تو پابندی تھی ۔ گھر سے باہر نکلتے وقت عورتیں چوڑیوں پہ رومال باندھ دیتیں تاکہ ان کی کھنّک سے جان کے لالے نہ پڑ جائیں ۔ طالبان تو اس وقت بھی کھینچ کر ڈنڈا مار دیتے جب دیکھتے عورت ہاتھ ہلا ہلا کر چل رہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا یہ بدمعاش عورتوں کے تیور ہیں ۔ عورت بس سکڑی سمٹی رہا کرے ۔ بس ہو سکے تو مرونڈا بن کر لڑھکا کرے ۔ ویسے تو معاشرہ مرد کی میراث ہوتا ہے جہاں وہ اپنی لاٹھی جہاں چاہیں جیسے چاہیں گھما سکتے ہیں ۔ مگر طالبان نے مردوں کے گرد بھی حصار کھینچ لیا تھا گو کہ اس کا دائرہ کافی دراز تھا ۔سنت کے مطابق داڑھی ، ٹخنے کے اوپر شلوار ، سر پہ لازمی ٹوپی پہنا کر اسلام کا بول بالا ہو رہا تھا ۔ مغربی لباس پہ مکمل پابندی تھی ۔ لڑکا لڑکی جو ایک دوسرے کو پسند کرتے اگر گھر سے بھاگ کر طالبان کے پاس چلے جاتے تو وہ ان کا فوری طور پہ نکاح کروا دیتے ۔ والدین سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ۔ طالبان کا کہنا تھا اسلام پسند کی شادی کی اجازت دیتا ہے ۔ البتہ ایسی شادیوں نے بعد میں بڑے خمیازے بھگتے ۔ کئی لڑکیاں ہاتھ اٹھا اٹھا بدعائیں دیتیں اس وقت کو مگر تب تک ہاتھ سے طوطے اڑ چکے تھے ۔ عوام مذہب کے نام پہ اس خرافات سے ایسے عاجز آ چکے تھے جیسے منہ میں لسہوڑا ڈال لیا ہو ۔
ایک دن کسی نے ملا عمر سے پوچھا کہ آخر عوام تفریح کے لیے کیا کریں ؟ تو اس نے جواب دیا :
“باغوں میں گھومیں ، پھول سونگھیں ۔ “

کیا خاک کوئی پھول سونگھتا ، پھول رہے کہاں تھے ۔ اکال نے دھرتی بنجر کر دی تھی ۔ خزاں تھی کہ چھٹنے کا نام نہیں لیتی تھی ۔ بارش کی بوند بوند کو ترسے لوگ نفسیاتی مریض ہونے لگے تھے ۔ جب سے ملک میں اسلامی سخت سزاؤں کا نفاذ ہوا تھا اور ان پہ فوری طور پہ عمل درآمد کی وجہ سے خوف و ہر اس پھیل گیا ۔ چند لوگوں کے ہاتھ چوری کرنے کی وجہ سے کیا کٹے کہ ملک میں یہ حال ہو گیا تھا کہ وزارت مالیہ کے نوٹوں سے بھرے ٹرک کندھار سے کابل جاتے مگر مجال ہے کوئی لوٹنے کا سوچ بھی لے ۔ بس ایک ڈرائیور اور ڈنڈہ بردار طالب رات کو ٹرک لے جاتے ۔ سنار بنا تالا لگائے دکان کھلی چھوڑ کر نماز پڑھنے جاتا تو کسی کی مجال کہ تنکا بھی چوری کر لے ۔ کسی کا رومال سٹرک پہ گر جاتا تو ہوا اڑا کے جاتی تو لے جاتی خاکروب بھی اسے اٹھا کر جھاڑو لگاتا اور واپس سڑک پہ رکھ دیتا۔ چوری چاہے تنکے کی ہوتی یا پہاڑ کی سزا ہاتھ کاٹنا ہی تھی ۔ البتہ ان دنوں بڑے پیمانے پہ آثار قدیمہ کے نوادرات ، مورتیاں سمگل ہو کر پڑوسی ملکوں سے ہوتی ہوئی آج دنیا بھر کے عجائب خانوں میں سجی ہیں ۔ جس دن سے بدچلنی کی مرتکب کچھ عورتوں کو سر عام سنگسار کیا گیا ساری عورتیں آدم بُو سے بھی ڈرنے لگیں ۔ گلی میں کوئی بانکا ، گھبرو آ نکلتا تو تڑاخ پڑاخ کھڑکیاں دروازے بند کر دیتیں ۔ جیسے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو ۔ چوک پہ سنگسار شدہ لٹکتی لاش کی بے حرمتی بھلا کسے پسند تھی ۔ ان دنوں عوام کے لیے مجرموں کی سزا کا تماشا دیکھنا بھی ایک تفریح تھی ۔ طالبان باقاعدہ گلی گلی قریہ قریہ جا کر لاؤڈ سپیکر پہ اعلان کرتے “ فلاں دن ، فلاں بندے کے ہاتھ کاٹے جائیں گے/ پھانسی یا سنگسار کیا جائے گا۔ لوگ جوق در جوق اس بڑے میدان میں جمع ہوتے ۔ سزا کا لائیو نظارہ کرتے اور ہفتوں اس پہ تبصرے کرتے ۔ اور تو اور طالبان نے لوگوں سے تہوار چھین لیے تھے نوروز چھوڑ محرم منانا معیوب ٹھہرا ۔ تبھی فارسی بان طبقہ طالبان سے ذیادہ چڑتا تھا کیونکہ پشتون قوم سو فیصد کٹر سنی ، حنفی مکتب فکر کی حامل ہے ایسے میں سرکاری مکتوب سے اشرفیہ کی زبان فارسی ہٹا دی گئی تھی صرف پشتو کا بول بالا تھا ۔ ستمُہائے ستم کی فہرست طویل ہونے لگی کہ خارج سے ایک ٹیم جا پہنچی ملا عمر کے پاس مدعا یہ تھا کہ عظیم بدھا کے مجسمے کو سویت جنگ میں جو نقصان پہنچا ہے ہم اس کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں ۔ مُلا عمر نے تنک کر کہا :
” ہیں ں ں ں ۔۔۔۔۔ ہم یہاں بھوک اور افلاس سے مر رہے ہیں اور تمھیں بے جان مجسمے کی پڑی ہے ۔ ”
سن دو ہزار ایک اس نے طالبان کو حکم دیا کہ مجسمہ مسمار کر دو ۔ عظیم گندھارا تہذیب کو روندنے والے طالبان نے جب گوتم بدھ کا عظیم مجسمہ توڑا تب اس مجسمے کے ساتھ بہت سے دل ٹوٹے ۔ ان مجسمے کے ٹکڑوں میں ایک ٹکڑا میرے دل کا بھی تھا جو کرچی کرچی ہو گیا ۔ طالبان 170 فیٹ اونچے جہازی سائز دنیا کے سب سے بڑے شاہکار کو مہینوں میزائل سے داغتے رہے وہ روز چھلنی ہوتا اور ہوتے ہوتے جس دن اس کا آخری ٹکڑا بھی فنا ہو گیا اس دن گیان کے مہان گوتم نے ہاتھ کھڑا کر کے طالبان اور اس کے بانیوں کو شڑاپ دیا ۔ یہ شڑاپ گوتم بدھ کی تذلیل کے لیے نہیں تھا بلکہ اُن محنتی ہاتھوں کی محبت کے دکھ میں تھا جنھوں نے گوتم کو سالہاسال ایک پہاڑ پہ تراشتے میں گزار دیے ۔ وہ سارے ہاتھ جوڑ جوڑ کر دُہائی دیتے رہے مگر توڑنے والوں نے ایک نہ سنی ۔ اب بامیان میں گوتم بدھ کا خالی سانچہ طالبان کا منہ چڑاتا ہے ۔ ادھر چھٹی صدی کا عظیم شاہکار گرا ادھر شڑاپ کی پہلی قسط نائن الیون کے بعد ادا ہوتے ہی طالبان کی حکومت گری ۔ ہوا کچھ یوں کہ ان کو اسلام اور شریعت گھول کے پلانے والے بھول گئے کہ منشیات بھی اسلام میں حرام ہے ۔ پھر ہوا یہ کہ طالبان کے دور میں منشیات پہ مکمل پابندی لگا دی گئی تھی ۔ سرکاری اداروں میں سگریٹ نوشی پہ بھی پابندی تھی البتہ نسوار کا شغل جاری و ساری رہا ۔ جیسے بھنگ پینے والے کہتے ہیں :
“ اے ساوی نئیں گھاہ ہیے ، عاشقان نوں روا ہیے “
( یہ بھنگ نہیں گھاس ہے اور عاشقوں کے لیے جائز ہے )
ایسے نسوار بھی روا تھی کیونکہ یہ طالبان بھی رکھتے تھے ۔ ہاں پہاڑوں پہ اگنے والی پوست کی فصلیں جلا دی گئیں ۔ سو فیصد پوست کا خاتمہ ہوتے ہی دنیا کی چیخیں نکل گئیں ۔ افغانستان جو منشیات کے لیے گولڈن کریسنٹ روٹ تھا سائیں سائیں کرنے لگا ۔ یہ نام افغانستان ، پاکستان اور ایران کے نقشے پہ بننے والے چاند سے مشابہ ہونے کی وجہ سے دیا گیا ۔ سمگلروں کے لیے اب اس چاند پہ گرہین لگ گیا ۔ پوپی کے پھول جو پہاڑوں پہ خود رو اگتے اور ساری دنیا کی ہیروئن میں نوے فیصد کا کریڈٹ خود لیتے ، مرجھا گئے تھے ۔ کہتے ہیں لاطینی امریکہ میں اتنی زمین کوکو اگانے کے لیے مختص نہیں جتنی زمین پہ افغانستان میں پوست اگتی ہے ۔ جیسے میکسیکن کہتے ہیں “ تمباکو ایک سبزی ہے ویسے ہی پوست یہاں ایک فصل ہے ۔ اب جائے ماندن نہ پائے رفتن ۔ منشیات کے ایندھن سے تو جنگ کے آلاؤ جلتے ہیں ۔

مجاہدین دور میں پوست ہی آمدنی کا بڑا ذریعہ تھی ۔ اس کے بدلے ان کو ہتھیار ملتے تھے ۔ کیونکہ دنیا میں کچھ بھی مفت نہیں ملتا ۔ قدرتی وسائل ، پوست اور گزرگاہیں وہ سینگ ہیں جن پہ دنیا کی گائے نے جنگ کو اٹھا رکھا ہے ۔ گولڈن کریسنٹ کا روٹ ویران ہوا تو منشیات کا دھندہ کرنے والوں نے اس کا متبادل برما سے گولڈن ٹرائی اینگل روٹ ڈھونڈ لیا مگر منشیات کی طلب پھر بھی پوری نہیں ہو پا رہی تھی۔ اب سوال یہ تھا کہ امریکہ اور اس کے حواریوں نے اسلام کے نام پہ مقدس جنگ لڑنے والوں کو تربیت اور اسلحہ اس لیے تو نہیں دیا تھا کہ روس سے جنگ جیتنے کے بعد ان کا حقہ پانی ہی بند ہو جائے ۔ یوں عظیم نقصان سے بچنے کے لیے چھوٹے نقصان کا پلان بنا ۔ نائن الیون کے بعد جب اسامہ بن لادن ایک انتہائی خوفناک عفریت کی طرح میڈیا پہ روشناس ہوا تو مُلا عمر نے اس کو امریکہ کے حوالے کرنے سے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ “ یہ اسلام اور ہماری پشتون روایات کے منافی ہے کہ کسی پناہ گزین مہمان کو دشمن کے حوالے کر دیا جائے “ ۔ مُلا عمر نے پہاڑوں میں مرنا پسند کیا لیکن اسامہ کا معمہ حل نہ کیا ۔ تورا بورا کے پہاڑ امریکی حملوں سے چھلنی ہوگئے ۔ بالکل ایسے جیسے قرآن میں ذکر ہے کہ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح ہوا میں بکھر جائیں گے ۔ تورا بورا اور اس کے گرد و نواح میں رات ، ریت ، راکھ کا عبرتناک نظارہ تھا ۔ ان میں چھپے بیشمار طالبان ہمیشہ کے لیے نابود ہو گئے ۔ پہاڑوں پہ طالبان سمیت درخت ، پنکھ پکھیرو اور نایاب جانور بھی ہمیشہ کے لیے روٹھ گئے جن کا کبھی کسی نے کسی جگہ زکر تک نہیں کیا ۔ دور دور تک کئی گاؤں ناحق اس زد میں آئے ۔ سینہ ، گلا ، پھیپھڑے سے منسلک امراض میں یک دم اضافہ ہوا ۔ کینسر وبا کی طرح پھیلنے لگا حتیٰ کہ ماں کی کوکھ میں پلنے والے بچے بھی متاثر ہوئے ۔ طالبان مرتے مرتے اپنے ساتھ لشکر عظیم لے کر مرے ۔ جو طالبان زندہ پکڑے گئے وہ گوانتاناموبے کی اذیت ناک جیل میں روز جیتے ، روز مرتے ۔ گوانتانامو بے جیل کم قبر ذیادہ تھی ، جو سلوک وہاں طالبان قیدیوں کے ساتھ ہوا عذاب قبر اور جہنم میں دی جانی والی سزائیں بھی شرما جائیں ۔ ان سزا یافتہ قیدیوں میں سے کوئی قیدی سزا پوری کر کے جب وطن لوٹا تو اس کی حالت ایسی تھی جیسے پاگل خانے میں مریض کو بجلی کے جھٹکے دے کر باہر نکالا جاتا ہے ۔ سر ایک طرف لڑھکا ہوا ، قدم الگ لڑکھڑاتے ہوئے ،منہ سے جھاگ بہتی ہوئی ماں باپ بہن بھائیوں کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ دیکھتے اور سوچتے ان کو پہلے کہیں تو دیکھا تھا ۔ ان کی الگ داستانیں ہیں جو پھر سہی ۔ جب طالبان کابل سے کوچ کر رہے تھے یہاں جشن کا ایک سماں تھا ۔ عورتوں نے اپنے برقعے اتار کر ہوا میں اچھالے اور تالیاں بجاتی ہوئی گھروں سے باہر نکل آئیں ۔ مردوں نے ڈھول پیٹے ۔ رقص و سرور کی محفلیں سجیں ۔ وہ ہلہ گُلہ اور موج مستی مانو جیسے جیل سے قیدی آزاد ہو گئے ہوں ۔ ہر کوئی ایک دوسرے کو گلے سے لگا لگا کر مبارک بادیں دے رہا تھا ۔ یہاں تبریک تبریک کے شادیانے بج رہے تھے ادھر افغانستان سے باہر دوسرے مسلمان ملکوں کے بھولے بندے افغانستان پہ امریکہ کے حملے کے ردعمل میں احتجاج کر رہے تھے ۔ ہائے یہ فاصلے ، ہائے یہ بے خبر یاں ، کم بخت یہ دوریاں ۔۔۔۔۔۔
سنا ہے عورتیں دوپٹوں میں منہ چھپا کر روتیں اور ہاتھ اٹھا اٹھا کر صدر بش کو بدعائیں دیتیں ۔ ان بیچاری عورتوں کو کیا پتہ طالبان کون تھے ۔ مگر رونے والوں کا جذبہ صادق تھا ۔ ماتم کرنے والوں اور امریکہ کے خلاف نعرے لگانے والوں نے سینے پہ گولیاں بھی کھائیں ، وہ اپنی جگہ سچے تھے انھیں خبر نہ تھی کہ یہ آدھا سچ ہے ۔ افغانستان میں طالبان کے دور کو آج بھی عوام ایک نا بھولنے والا خوف سمجھتے ہیں ۔ گو کہ اب ملکی سطح پہ کرپشن بھی ہے ، جھوٹ بازاری ، چوری چکاری ، اندر خانے بچہ بازی ، اغواء و غیرہ و غیرہ مگر لوگ جب رات کو سوتے ہیں تو انھیں یہ ڈر نہیں ہوتا کہ صبح ہوتے ہی کوئی ان سے گلابی سپنے چھین لے گا ۔ وہ کھل کر رو سکتے ہیں ، جی بھر کے ہنس لیتے ہیں ۔ نوروز کے میز پہ مچھلی سجا کر گیت گا سکتے ہیں ، محرم میں امام بارگاہ کے ماتھے پہ سلام یا ابا الفضل کے بینر لگا کر شامِ غریباں منا سکتے ہیں ۔ اور سب سے بڑھ کر پھول سونگھ سکتے ہیں ۔ کیونکہ طالبان اپنے ساتھ سارا اکال بھی لے گئے ۔ اس کے بعد کابل میں پھر کبھی ایسا جاڑہ نہیں آیا جب سنو کوئین نے اپنا آنچل لہرا کر وادی کو سفید آغوش میں نہ ڈھکا ہو ۔ البتہ بامیان میں عظیم بدھا کا خالی سانچہ آج بھی اداس کھڑا ہے کیونکہ وہ ہاتھ جنھوں نے اسے تخلیق کیا تھا دوبارہ کبھی جنم نہیں لے سکتے ۔
اب پہاڑوں پہ پوست اور قدرتی وسائل والے سبھی علاقوں پہ برانڈ نیو قسم کے طالبان کا قبضہ ہے ۔ اب کے فیکٹری نے ان کے نظریے update کر کے اس طرح برین واش کیا کہ وہ اب زور و شور سے پوست کاشت کرتے ہیں ۔ فخر یہ اسے بیچ کر اسلحہ خریدتے ہیں اور امریکہ کے انخلاء کے نام پہ شہرِ کابل میں آئے روز اپنے ہی شہریوں پہ دھماکے کرتے ہیں ۔ آج ان طالبان کی بدولت افغانستان ایک بار پھر دنیا کو سب سے ذیادہ ڈرگ سپلائی کرنے والا ملک بن چکا ہے ۔ طالبان بڑی تعداد میں قیمتی پتھر آس پڑوس ممالک میں سمگل کرتے ہیں اور اس کے بدلے ان کو ملنے والے دھماکہ خیز مواد کی گونج سے آئے دن افغانستان کے بڑے شہروں کو لرزا کر وہ دنیا کو یہ بتاتے ہیں کہ “ امن کے نام پہ لڑی جانے والی جنگ کا مقصد دراصل مقدس سفوف کی روانی تھا ۔ جس کی خاطر بہت سے بوٹ اور چپلیاں تاراج ہو گئیں ۔اب امریکہ اور طالبان پوپی کے پودے ایک دوسرے سے چھیننے کے لیے لنگوٹ کس کے کھڑے ہیں ۔ اور اخبار روز شہ سرخیوں سے بھرے عوام کو شش و پنج کے کنوئیں دھکیلتے رہتے ہیں ۔

سے آئے دن افغانستان کے بڑے شہروں کو لرزا کر وہ دنیا کو یہ بتاتے ہیں کہ “ امن کے نام پہ لڑی جانے والی جنگ کا مقصد دراصل مقدس سفوف کی روانی تھا ۔ جس کی خاطر بہت سے بوٹ اور چپلیاں تاراج ہو گئیں ۔اب امریکہ اور طالبان پوپی کے پودے ایک دوسرے سے چھیننے کے لیے لنگوٹ کس کے کھڑے ہیں ۔ اور اخبار روز شہ سرخیوں سے بھرے عوام کو شش و پنج کے کنوئیں دھکیلتے رہتے ہیں ۔
شاید اس بار طالبان سے مزاکرات کِرکِرے نہ ہوں شاید امریکہ واپس چلا جائے ، شاید امن آ جائے ۔ مگر اس کی ضمانت کون دے گا کہ مُلا پہلے کی طرح مسجد کی گدی سنبھالیں گے مورچے نہیں ، نا ہی شریعت کے نام پہ تخت شاہی کے مزے لوٹنے کے لیے کابل کو محبس بنائیں گے ؟
افسوس کہ میرے پاس اس دور کی کوئی تصویر نہیں کہ میں آپ کو دیکھا سکوں ، عکاسی اور فلمبردرای بھی تو حرام تھی ۔ تب افراط زر کا یہ عالم تھا کہ بوریاں بھر کے پیسے لے کر نکلتے اور چند کلو چاول ملتے ۔ غربت ایسی کہ چند کلو چاول خریدنے کے لیے بھی لوگوں کے پاس پیسے نہ تھے ۔ آٹا ایسے غائب ہو چکا تھا جیسے گدھے کے سر سے سینگ ۔ ایسے میں ریل والے کیمرے جن اکا دُکا لوگوں کے پاس تھے وہ بھی صندوق میں چھپا چھپا کر رکھتے ۔ اگر کیمرے طالبان کے ہاتھ لگ جاتے تو ان سے بھی ہاتھ دھونے پڑ جاتے ۔ البتہ صحافی حضرات کے کی بدولت کچھ تصویریں دنیا نے دیکھیں ۔ عوام کے پاس صرف تلخ یادیں کسی ڈراونے خواب کی طرح ذہن میں باقی رہ گئی ہیں ۔ جنھیں وہ دوبارہ تصور بھی نہیں کرنا چاہتے ۔
دنیا میں لڑی جانیوالی ہر جنگ کا انجام امن ہی ہوتا ہے مگر افسوس پھر بھی جنگیں ہوتی ہیں پر یہاں امن کے نام جنگ کی ابتداء ہوئی ہم سوچتے ہیں اس کا انجام کیا ہوگا ؟
بے بسی کا یہ عالم ہے ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ :
“ خدا جانے ؟ “
کیونکہ اس جنگ کے بہت سے خدا ہیں ۔ آپس کی بات ہے سارے آپس میں سرد جنگ لڑ رہے ہیں ۔ ان کی صلح ہونے تک کہیں چائے ٹھنڈی نہ ہو جائے ۔تب تک ہم امید کا ایک گیت گا لیتے ہیں ۔ سوکھی شاخوں پہ جمی برف سے عشق فرما لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
اور دعا کرتے ہیں دوبارہ کبھی خشک سالی نہ آئے!۔
اُس نے کہا تھا: اگر گارسیا مارکیز خفا نہ ہو تو میں نے اپنی چائے کے پیالے کا نام “ تنہائی کے سو سوال “ رکھا ہے ۔ تم جس دن شیرین دانی اٹھائے پیالے سے پیالہ ٹکراؤ گی تو سارے سوال حل ہو جائیں گے ۔
اُس نے کہا تھا : “ تم مجھے برستی برف میں بجتے رُباب کے ساتھ رکھی بھاپ اٹھتی چائے کی طرح عزیز ہو “
_______________

تحریر و فوٹوگرافی: ثروت نجیب

7 Comments

  1. This is such a beautiful piece of writing….
    A narrative of dilemmas of realities versus wishes versus love versus dues………versus tragedies of wars and politics.

    My two cents…. + Best regards to writer.

    اُس نے کہا تھا: اگر گارسیا مارکیز خفا نہ ہو تو میں نے اپنی چائے کے پیالے کا نام “ تنہائی کے سو سوال “ رکھا ہے
    تم جس دن شیرین دانی اٹھائے پیالے سے پیالہ ٹکراؤ گی تو سارے سوال حل ہو جائیں گے ۔
    اُس نے کہا تھا : “ تم مجھے برستی برف میں بجتے رُباب کے ساتھ رکھی بھاپ اٹھتی چائے کی طرح عزیز ہو

    خوبصورت۔ اعلیٰ بیان۔

    بہت ہی مکمل تحریر۔ بہت ہی باکمال لکھا ہے۔
    ماضی کی پیوستگی کو حال کی وارفتگی اور مستقبل کی بے مائیگی سے جوڑ نا آسان نہیں۔

    اللہ آسانیاں، ہمت ، حوصلہ دینے کی قوّت اور فنِ گویائی سلامت رکھیں۔
    ثروت نجیب۔ جیتی رہیں۔

    Liked by 1 person

    1. بہت شکریہ عمر صاحب ثروت نجیب ہمارے بلاگ کا فخر ہیں! انکی زبان دانی،اعلی بیانیہ ،مطالعہ اور مشاہدہ اور پھر ان سب کا فی البدیہ رواں اظہار اور ہم پر اعتماد بے مثال ہیں۔ہم سب دعاگو ہیں کہ خدا اس کے نام اور کام کو بلند کرے!آمین!

      Liked by 1 person

      1. شکریہ بہت بہت صوفیہ کاشف ۔ مجھ پہ اعتماد کرنے کے لیے اور مجھے بخوشی بنا ایڈیٹ کئیے پبلش کرنے کے لیے ۔

        Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.