آرٹ اور اورحان پاموک

سوال:آپ کے لئے آرٹ کیا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟

میں سمجھتا ہوں آرٹ دراصل آپ کے اندر دبی ہوئی ایسی طلب ہوتی ہےجو آپ کو آرٹ کی تخلیق پر آمادہ کرتی ہے۔ایک بچے کے طور پر آپ تصاویر بناتے ہیں،بغیر کسی مقصد،کسی تعلیم یا کسی تربیت کے ہم یہ کام محض ایک کھیل کی طرح کرتے ہیں۔آرٹ بغیر کسی مقصد کے آپ کے اندر سے آتا ہےہم انسان جیسے جیسے شعور حاصل کرتے ہیں ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے لگتے ہیں… جیسے خوبصورتی خود اپنے اندر ایک مقصد ہوتا ہے،جیسے دنیا کو دیکھنا گھومنا پھرنا بذات خود ایک مقصد ہوتا ہے اور اس طرح بہت سی دوسری چیزوں کی طرح آرٹ بھی خود اپنے اندر ایک مقصد ہوتا ہے۔

۔اس لئے ہم آرٹ کو اس کے مقصد کے تحت نہیں پرکھتے یا کرتے بلکہ یہ بذات خود ایک کام ہوتا ہے ایک اہلیت ہوتی ہے۔ اس کو ایک لائف سٹائل بنا کر کیا جاتا ہے۔

میں خود بھی پینٹر بننا چاہتا تھا۔سات سے بارہ سال کی عمر تک مجھے میری فیملی نے ایک پینٹر اور ایک آرکیٹیکٹ کے طور پر پروان چڑھایا۔میں انجینیئرز کے خاندان سے تھا۔میرے دادا ترکی میں سول انجینئرنگ پڑھنے والے پہلے اشخاص میں سے تھے پھر میرے والد اور چچا بھی سول انجینئر تھے اسی لئے ہمارے ہاں انجینئر بننے کا رحجان تھا۔ہمارے دادا دادی سب بچوں کے لئے یہی سوچتے تھے کہ ہم بھی انہیں سکولوں میں جائیں گے اور وہی مضامین پڑھیں گے۔اور میں انجینئرنگ کالج گیا بھی اور آرکیٹیکٹ پڑھنا بھی شروع کر دیا تھا مگر پھر بائیس سال کی عمر میں میرا دل اس سے اچاٹ ہو گیا اور اچانک میں نے اسے مکمل طور پر چھوڑ کر ناول لکھنے کا فیصلہ کیا۔میں نے اپنی کتاب استنبول میں اس بارے میں لکھا بھی ہے۔بائیس سال کی عمر میں میں نے دادی کو بتا دیا کہ میں آرکیٹیکٹ نہیں رائیٹر بنوں گااور میں نے خود کو اس کے لئےتیار کیا۔

میں Self imposed discipline

کے تحت ناول نگار بنا جبکہ اس وقت ترکی میں پبلش ہونا انتہائی مشکل تھا۔پھر کچھ پندرہ بیس سال گزرنے کے بعد جب میں ترکی میں ایک مشہور رائیٹر بن گیا تو لوگ مجھ سے ہر انٹرویو میں پوچھنے لگے کہ میں رائیٹر کیوں بنا۔چناچہ میں نے اپنی بائیو گرافی استنبول میں اس کی وضاحت کی کہ کچھ اور بھی کام ایسا تھا جو میں دراصل کرنا چاہتا تھا جب میں بچہ تھا اور وہ تھا پینٹنگ۔پینٹنگ ایک احساس ہے جسے آپ محسوس کر سکتے ہیں آپ اس کا مزا لیتے ہیں لیکن پینٹنگ کرتے میری انگلیاں مصروف ہوتی تھیں مگر میرا دماغ آوارہ پھرتا تھا۔ تو میں کچھ ایسا کرنا چاہتا تھا جس میں آپکا پورا احساس فٹ ہو سکے۔میں نے ایک ناول لکھنا چاہا جو اس وقت کے مصوروں کے بارے میں تھا مگر پھر اس میں بھی کچھ تحفظات تھے۔پھر میں نے مائی نیم از ریڈ لکھا جو سولیوں صدی کی آٹومن ایمپائر کے بارے میں تھا۔

___________

(بک فئیر شارجہ میں گفتگو)

تلخیص و ترجمعہ و فوٹوگرافی:

صوفیہ کاشف

1 Comment

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.