• رشتوں کی ابتدا (خلوص، میل ملاپ، تعلق) سے انتہا (اعتماد، آسانی، ہم آہنگی) کے بیچ صرف محبت ہی ہوتی ہے۔
  • اگر نہیں ہوتیں تو ناجائز توقعات، اذیت ناک رت جگے، ناتمام حسرتیں، ملامت زدہ لمحے، درد بھری یادیں، شکوے شکایتیں، مایوسیاں اور پریشان کن سوچیں نہیں ہوتیں۔۔۔
  • محبت اگر آزاد کرنا، آسانی دینا ، مجبوریاں سمجھنا اور خیال رکھنا نہ سِکھا سکی، تو وہ محبت نہیں، خود غرضی تھی۔
  • رشتہ اگر ٹوٹتے ٹوٹتے ، جْڑنا نہ سِکھا سکا، تو وہ کُچھ بھی تھا ، رِشتہ بہر حال نہیں تھا۔
  • تعلق اگر “ایکسپائری ڈیٹ” کے ساتھ آیا تھا، یا ضرورتوں اور مصلحتوں کے تحت قائم تھا، تو وہ تعلق نہیں تھا ، کاروبار تھا۔
  • یادیں اگر آج بھی سونے نہیں دیتیں، بے چین رکھتی ہیں، حال میں خوش رہنا نہیں سکھا سکتیں، تو وہ یادیں نہیں، ڈراؤنے خواب ہیں۔
  • کوئی بھی چیز، لفظ، عمل، رشتہ، تعلق۔۔۔ اگر آخرت میں (یا کم از کم دنیا میں ہی) فائدہ مند نہیں رہا، تو وہ خسارہ تھا۔۔۔ وہ، وہ تھا، جو اپنی لفظی و اصطلاحی تعریف پر پورا نہیں اْترتا۔۔۔ ایک سراب۔۔۔
  • اور سراب تو سراب ہی ہوتے ہیں۔ طبعیات کا مضمون پڑھتے وقت، دسویں جماعت کا ایک طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ وہ اصل نہیں ہوتے۔۔۔۔۔پر ،خمیدہ کمریں اور سفید بال نہ جانے کیوں اْس دنیا میں رہنا پسند کرتے ہیں، جہاں خوشی بھی اصل نہیں ہوتی۔۔
  • جِیا ، صرف حال میں جاتا ہے۔۔ ماضی کا صرف اسیر ہوا جاتا ہے۔۔ مستقبل صرف ایک اُمید کا نام ہے۔۔۔۔
_____________

تحریر: عمر

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف