پاداش(7)_________شاذیہ خان

تحریر: شاذیہ خان

کور ڈیزائن: طارق عزیز

__________________

قسط نمبر 7

آج صبح سے اماں بہت پرجوش تھیں ِ۔ اپنابڑا سابکسہ کھولے اس میں موجود کپڑے نکال کر دھوپ لگا رہی تھیں۔کچن میں چا ئے بناتی سا معہ نے ایک نظر کھڑکی سے اماں کو دیکھا۔ ٹرے میں چائے کے ساتھ بسکٹس کا جار رکھ کر ان کے پاس آگئی۔ پورا ارادہ تھا کہ آج ایک بار اماں سے اپنے دل کی بات ضرور کرے گی۔۔۔ انہیں بتائے گی کہ وہ کبیر علی سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔
” لو دیکھو! یہ میری شادی کا جوڑ اکتنے سال ہو گئے۔ مگر اس کی چمک بالکل ماند نہیں پڑی۔۔۔ آپا نے شہر کے سب سے اچھے درزی سے بنوایا تھا۔۔۔” وہ ململ میں لپٹے جوڑے کو نکال کر پرانے دنوں کو یاد کر رہی تھیں۔۔۔ ” اماں آپ نے اتنا سنبھال کر بھی تو رکھا ہے۔ آج کل تو لڑکیاں ایک بار پہن کر دوبارہ جسم پر لگانا بھی پسند نہیں کرتیں۔۔۔” اس نے دوپٹے پر لگی زری پر ہاتھ پھیراآف وائٹ اور اورنج چٹاپٹی کا غرارہ ساتھ آف وائٹ شرٹ تھی۔ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ پرانا ہے۔ اتنے سال گذر گئے مگر جوڑا بالکل نیا تھا۔۔۔ اماں تھیں بھی بہت سگھڑ۔ ان کی الماریاں ہر ہفتے صاف ہوتیں۔۔۔ اور دوبارہ کپڑوں کو ترتیب دے کر ایک ایک جوڑا ہینگر میں لٹکا تیں۔۔۔ اس کے مقابلے میں خود سامعہ کی الماری میں کپڑوں کے ساتھ گھمسان کارن پڑا رہتا تھا۔۔۔ اور اُسے اماں سے اکثر ڈانٹ سُننے کو ملتی۔۔۔ پہلے جب ان کی طبیعت ٹھیک تھی۔ تو وہ اکثر اس کی الماری بھی ٹھیک کر دیا کرتی تھیں مگر اب وہ صرف اُسے ڈانٹ کر اپنی الماری کو درست کرنے کی تلقین کرتیں۔۔۔ جسے اگر موڈ ہوتا تو وہ مان لیتی۔ ورنہ اگلے وقت پر ڈال دیتی۔۔۔
” شادی کے جوڑے سے لڑکی کی بہت سی خوب صورت یادیں جڑی ہوتی ہیں۔۔۔ ہمارے دور میں زرق برق کپڑے روز روز نہیں بنتے تھے۔ جیسے آج کل تھوک کے بھاؤ تم لوگ اپنی پسند کے کپڑے سلواتے ہو۔۔۔ کبھی کبھار بنتے تھے اور وہ بھی ہم انتہائی سنبھال کے استعمال کرتے۔۔۔ دیکھو ابھی تک اس کی زری کالی نہیں ہوئی۔۔۔ تم لوگ تو پرفیوم لگا لگا کرجوڑے کا اصل رنگ ہی اُڑا دیتے ہو۔۔۔میرا دل ہے کہ یہ جوڑا تم اپنی مایوں کے دن پہنو۔۔۔۔۔” انہوں نے بڑی آس سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔ ” اماں آپ سے ایک بات کرنی تھی۔۔۔” اس نے چائے کا کپ ان کی طرف بڑھایا اور ٹھنڈی سانس لے کر انہیں ساری بات بتانے کا فیصلہ کیا۔۔۔ اس کے چہرے پر سجی سنجیدگی دیکھ کر وہ فوراً بولیں۔۔۔” کوئی بات نہیں اگر تم نہیں پہننا چاہتیں تو اپنی پسند کا بنوا لو۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔ آپا کا فون آیا تھا۔۔ وہ بھی مایوں جوڑے کے بارے میں پوچھ رہی تھیں۔ اسی لیے یہ نکال لیا۔۔۔ ” انہیں لگا اسے ان کی بات اچھی نہیں لگی۔ تو فوراً وضاحت کی۔۔۔” تم میری اکلوتی اولاد ہی تو رہ گئی ہو۔۔۔ اور میں تمہاری ہر خوشی پوری کروں گی۔۔۔ مجھے معلوم ہے تم نے ہمیشہ میرا اور اپنے باپ کی عزت کا خیال رکھا۔۔۔ اور اب بھی رکھو گی۔ تم دیکھنا جو بچے اپنے ماں باپ کو خوش رکھتے ہیں اور ان کی عزت کا پاس رکھتے ہیں۔ ان سے رب بھی بہت خوش ہوتا ہے۔۔۔” وہ جذباتی ہو کر رونے لگیں۔۔۔ اسے احساس ہو گیا۔۔۔ کہ اس لمحے انہیں ظفر یاد آگیا۔۔۔ کاش آج ظفر ہی زندہ ہوتا تو وہ اسے ہی اس صورت حال میں ایسا ساتھی بنا لیتی۔۔۔ اب اماں سے کیا بات کرے۔ ” مجھ سے ایک وعدہ کرو سامعہ۔” انہوں نے سامعہ کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔۔”بولیں اماں۔” سامعہ نے ان کے بہتے آنسوؤں کو دیکھا۔ دوسرے ہاتھ سے ان کے آنسو صاف کر دئیے۔۔” تم آپا کو بالکل اپنی ماں جیسی عزت دو گی۔۔۔ میری اس بہن کے مجھ پر بہت احسانات ہیں۔۔۔ یہ سمجھو مجھے میری ماں کی طرح عزیز ہے۔۔۔ اُسے اپنی ساس نہ بننے دینا۔۔۔اتنے رشتے کھونے کے بعد مجھے اپنی بہن کھونے کا حوصلہ نہیں۔۔” اس شادی سے جتنی وہ خوش تھیں۔ اس سے زیادہ ڈر بھی ان کے اندر سرائیت ا کر چکا تھا۔۔۔ بہن کا تو معلوم تھا۔۔۔۔ اس کی فطرت میں پور پور محبت بھری ہے لیکن سامعہ کی عادتیں بھی پوشیدہ نہیں تھیں۔۔۔ انہیں معلوم تھا کہ وہ ہمیشہ سے ایک بڑے گھر اور خوب صورت شوہر کی خواہش مند تھی۔۔۔ اور اس وقت یہ دونوں چیزیں اُسے نہیں مل رہی تھیں۔۔۔ بڑا گھر تو شاید اللہ نصیب کر دے گا لیکن کبیر علی قبول صورت تھے۔۔۔ انہیں کسی طور بدلنا ممکن نہ تھا۔۔۔ لیکن انہیں معلوم تھا کبیر علی اتنے سلجھے ہوئے اور محبت کرنے والے تھے۔۔۔۔ کہ چند دنوں میں ہی وہ اپنی ان دونوں خواہشات پر خود ہی ہنسے گی۔۔۔۔ سامعہ یک ٹُک اماں کا چہرہ تک رہی تھی۔۔۔ اب وہ اپنی ماں سے کیا کہے؟ کہ وہ یہ شادی کرنا ہی نہیں چاہتی۔۔۔ اُسے کبیر علی نہیں قبول۔۔۔اُسے عمر آفندی جیسے شخص کی ہمراہی کی خواہش ہے جس کے ساتھ چل کر زندگی خوب صورت ہو جائے۔ دن عید اور رات شبِ رات ہو جائے۔۔۔ مگر بہت مجبور تھی۔۔۔”اماں چائے پیئیں ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ اس نے ماں کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھمایا۔۔۔ اتنے میں فون کی بیل بج اٹھی۔ خالہ کا فون تھا۔۔۔ اماں ان کے ساتھ مصروف ہو گئیں۔۔۔ دونوں بہنیں جب تک روزانہ ایک گھنٹہ باتیں نہ کر لیں۔کھانا ہضم نہیں ہوتا۔۔۔ وہ نہایت بد دلی سے اُٹھ کر کمرے میں آگئی۔۔۔ عمر کا میسج آیا ہوا تھا۔۔۔ وہی تکرار کہ پلیز ایک بار مل لو۔۔۔ مل کر اس شادی کو رکوانے کا کوئی حل نکالتے ہیں۔۔۔ اس نے خاموشی سے فون ایک طرف ڈال دیا اور خود بیڈ پر ترچھی لیٹ گئی۔۔۔ چھت پر لگے پنکھے کو تکتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی۔۔۔ کتنی بیٹیوں کے ارمانوں کا خون ہوتا ہے۔ جب انہیں اپنی ماں یا باپ کی عزیزی رشتوں کی بھینٹ چڑھنا پڑتا ہے۔۔۔ کوئی ان سے نہیں پوچھتا کہ آیا تمہارے اندر بھی کوئی ارمان ہیں اور اللہ نے تمہارے اندر بھی کوئی دل انسٹال کر کے بھیجا ہے۔۔۔ بس اپنے بہن بھائیوں کے احسانوں کا بدلہ اس طرح چکا یا جاتا ہے۔۔۔ جیسے بیٹی نہیں کوئی زر خرید ہو۔۔۔ قرضہ لوٹا یا جا رہا ہے۔۔۔ اس کے کیا ارمان ہیں، اس کی پسند نا پسند کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔۔۔ وہ رونا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ لیکن آنسو نکل آئے۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ عمر آفندی سے ملنے کس طرح جائے۔۔۔ شاید مل کر ہی کوئی حل نکالا جا سکے۔۔۔ شادی میں بہت کم ٹائم رہ گیا تھا۔۔۔ اسے جلد از جلد کچھ کرنا ہوگا۔۔۔۔ لیکن اماں اور ابا۔۔۔ ان کا سوچا ہے۔۔۔ تم پر کتنا اعتماد ہے۔انہیں کتنا دُکھ ہوگا۔۔۔ دل میں ملال کے بادل اُمنڈنے لگے۔ لیکن اس نے ان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے عمر کو دوسرے دن صُبح گیارہ بجے کا میسج کر دیا۔ وہ اسے گلی کے نکڑ سے پِک کر لے۔۔۔ اس نے یہ بھی سوچ لیا تھا کہ اماں کوکیا کہہ کر منائے گی۔۔۔مگر ا س کا موقع ہی نہ ملا۔ دوسرے دن جب ساڑھے گیارہ بجے سارے کاموں سے فارغ ہو کر تیار ہوئی۔اماں کے پاس پارلر کے بہانے باہر جانے کا کہنے آئی۔تو ان کے پاس ثنا اور کبیر علی پہلے سے موجود تھے۔ جو سامعہ کو بازارلے جانے آئے تھے۔۔۔ کبیر علی کو کمرے کے لیے بیڈ روم سیٹ اور چند دوسری ضروری اشیاء لینی تھیں۔۔۔ اور ان کا خیال تھا کہ سب کچھ سامعہ کی پسند کا ہو۔۔۔ اسی لیے دونوں بہن بھائی اُسے لینے آگئے۔۔۔ اماں نے خوشی خوشی اجازت دی اور وہ ہکاّ بکاّ سی ثنا کو دیکھ رہی تھی۔ جو اُسے تیار دیکھ کر پوچھ رہی تھی کہ کیا اُسے واقعی کوئی الہام ہو اتھا کہ کبیر علی آرہے ہیں۔۔۔ اس نے بے زاری سے اس کی طرف دیکھا۔اُسے ثنا کا بھونڈا مذاق پسندنہیں آیا۔۔۔ لیکن کبیر علی زیرِ لب مُسکرا دئیے۔ وہ بہت فریش لگ رہی تھی۔۔۔ سرخ اور سفید پولکا ڈاٹس کی شرٹ پر اس نے ایک بڑ اسا سفید دوپٹہ سر پر لیا ہوا تھا۔۔۔ ساتھ ہی سفید ہی ٹراوزر تھا۔۔۔ کندھے پہ بیگ لٹکائے۔وہ قاتلانہ حد تک خوب صورت لگ رہی تھی۔۔۔۔ ” نہیں دراصل میں اماں سے اجازت لینے آئی تھی۔ میری ایک دوست کا پارلر ہے اسی کے پاس جا رہی تھی۔۔۔” اس نے وضاحت کی۔۔۔ اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ سب اتنا اچانک ہو جائے گا۔۔۔۔ اب تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا کہ اماں اُسے اکیلے جانے کی اجازت دیں۔۔۔۔” مگر تمہاری پارلر کی دونوں دن کی بکنگ بھائی نے کروادی ہے۔۔۔” خالہ آپ نے بتایا نہیں۔ کل ہی تو اماں نے آپ کو بتایا تھا۔۔۔ثنا نے حیرت سے پہلے اُسے اور پھر خالہ کو دیکھا۔۔۔۔ ” نہیں کل ہی تو آپا کا فون آیا تھا میں بھول گئی۔۔۔۔” ناہید بیگم نے مُسکرا کر وضاحت کی۔۔۔ “اس وقت تو ہمارے ساتھ چلو۔ شہر کے سب سے بڑے فرنیچر ڈئزائنر کے پاس۔بھائی تمہاری پسند کا بیڈ روم سیٹ لینا چاہتے ہیں۔۔۔” اماں کا خیال تھا۔جسے استعمال کرنا ہے اُسی کی پسند کا سیٹ ہو۔۔۔ ” ثنا نے شوخی سے آنکھیں نچائیں تو ا س نے اماں کی طرف دیکھا کہ شاید وہ اس کی جان بچا لیں اور کہہ دیں کہ شادی میں چند دن رہ گئے ہیں۔ تمہارا ا س طرح لڑکے کے ساتھ جانا ٹھیک نہیں۔۔۔ لیکن وہ تو اس وقت ثنا کی بات پر اتنا نہال تھیں کہ فوراً بولیں۔۔” ہاں ہاں جاؤ جا کر پسند کر لو۔۔۔۔”آپا جیسی ساس تو تمہیں کہیں نہیں ملے گی جو ابھی سے تمہاری پسند اور ناپسند کا اتنا خیال رکھ رہی ہے۔۔۔۔” ان کاقصیدۂ آپا شروع ہو گیا۔۔۔ اُسے لگا کہ اماں اپنی بہن سے جتنی محبت کرتی ہیں۔ ایک دن اپنی بہن کے لیے بیٹی سے بھی لڑ بیٹھیں گی۔۔۔ نا جائے رفتن نہ پائے ماندن۔ وہ چُپ کر کے ان دونوں کے ساتھ نکل آئی۔گلی کے چوک پر اس نے عمر کی کار کھڑی دیکھی تو اس کا خون خُشک ہو گیا۔۔۔ چوک مُڑتے ہوئے اس نے اپنا موبائل نکال کر عمر کو ساری صورت حال Textکر دی۔۔۔ کہ کس طرح اچانک ان دونوں کے آنے سے پروگرام کا بیڑہ غرق ہو گیا۔ جواباً۔۔ عمر کا کوئی replyنہ آیا۔۔۔ اُسے سمجھ آگئی کہ وہ شدید ناراض ہے۔۔۔ اس کی ناراضگی کا خیال سامعہ کا موڈ آف کر گیا۔۔۔
جھلملاتے شو روم میں سجے فرنیچر کی قیمت لاکھوں مالیت کی تھی۔ایک سے ایک مہنگے بیڈ روم فرنیچر پر ہاتھ رکھ کر وہ اس سے رائے لے رہے تھے۔ لیکن اس کا دل اس وقت صرف عمر آفندی میں اٹکا ہوا تھا۔۔۔ کیا مصیبت ہے؟ سامعہ مزید برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ جیسے تیسے ثنا اور کبیر علی کے پسند کردہ ایک سیٹ کو اس نے بھی بے دلی سے سر ہلا کر اوکے کیا۔۔۔ اور واپسی کی راہ لی۔۔۔ راتے میں ثنا نے اسے ایک آدھ چیزوں کے بارے میں بتایا۔ جو وہ اس کے لیے تیار کر رہی تھی۔۔ اس نے بے دھیانی سے ثنا کی ساری بات سُنی۔۔۔ اور ہوں ہاں کرتی رہی۔۔۔ ثنا کو بھی اس کی بے دلی شدت سے محسوس ہوئی لیکن وہ نظر انداز کر گئی۔۔ لڑکیاں تو اپنی شادی کی شاپنگ خوشی خوشی کرتی ہیں اور یہاں کپڑے جیولری سے لے کر فرنیچر تک اس نے بے دلی سے لیا تھا۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ سامعہ بہت لئے دئیے رہنے والی طبیعت کی مالک تھی لیکن یہاں تو اس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی کی بات تھی۔۔۔ او روہ اس طرح ظاہر کر رہی تھی کہ ثنا اس سے کسی اور کی شادی کی بات کر رہی ہو۔۔۔عمر نے اس کا میسج پڑھا تو شدید غصّے میں آگیا۔ آج کا اس کا سارا پلان بُری طرح فلاپ ہو گیا تھا۔۔۔ اس کا موڈ سخت آف تھا۔۔۔ اس نے اپنی کار واپس آفس کی طرف موڑ لی۔۔۔ جہاں سے اُٹھ کر وہ سامعہ کو لینے آیا تھا۔۔۔ آج سیما نے بھی چھٹی کی تھی۔ نانو کی طبیعت خراب تھی۔۔۔ اور وہ ان کی تیمارداری میں مصروف تھی۔۔۔ صُبح ہی اس نے عمر کو میسج کر دیا تھا کہ آج وہ نہیں آسکے گی۔ بلکہ جب تک نانو ٹھیک نہیں ہو جاتیں وہ گھر سے ہی کام کرے گی۔۔۔ پلیز اپنی میلز چیک کر لینا۔۔۔ اس نے گھڑی کی طرف دیکھا بارہ بجنے والے تھے کہ اچانک فون کی بیل ہوئی۔۔۔ سکرین پر” ایمان “کالنگ بلنک کر رہا تھا۔۔۔ عمر نے مسکراتے ہوئے ایمان کی کال لی۔۔۔ او بے بی! اس وقت میں اللہ سے کچھ بھی مانگتا تو مجھے مل جاتا۔۔۔۔” وہ واقعی ایمان کی آواز سُن کر بہت خوش ہوا۔۔۔ سامعہ کی وجہ سے موڈ آف تھا لیکن اس کا متبادل مل جانے پر وہ خوش ہو گیا۔۔۔
” قسم کھاؤ کہ اس وقت تم مجھے یاد کر رہے تھے۔۔” دوسری جانب ایمان کو عمر کی بات پر بالکل یقین نہیں آیا۔۔۔ کیوں کہ وہ اب تک اس پر کھُل نہیں سکا تھا۔۔۔ اکثر نظر انداز کردیتا جس کی وجہ سے ایمان کو دُکھ ہوتا۔۔۔ وہ پہلا شخص تھا ایمان کی زندگی میں جسے ایمان نے ہمیشہ بغیر کسی مطلب کے فون کیا تھا۔۔۔ اور لگا تار کر رہی تھی۔ لیکن اب تک عمر کی طرف سے سامعہ کی وجہ سے مقدور کامیابی نہ ہو سکی۔۔۔
” خدا کی قسم میں اس وقت بہت بُرے موڈ میں تھا اور تمہارا نمبر دیکھ کر میرا موڈ یکدم chillہو گیا۔۔۔” اس نے بھی پوری ایمان داری سے کہا۔۔۔ ” کیا ہوا تمہارا موڈ کیوں آف تھا۔۔۔” ایمان نے پوچھا۔۔” او چھوڑو یا ریہ بتاؤ اس وقت کیا کر رہی ہو۔” عمر نے اس کی بات نظر انداز کی۔۔۔ میں رات ہی دبئی سے ایک شوٹ کر کے آئی ہوں۔ آج فری تھی اس لیے تمہیں فون کر لیا۔۔۔ تھوڑا تھکی ہوئی ہوں۔ سوچا تم سے بات کر کے تھکن اتارتے ہیں۔۔۔” ایمان نے انگڑائی لے کر جواب دیا۔۔۔ “ہم صرف فون پر بات کر سکتے ہیں۔۔” عمر نے مایوسی سے کہا۔” نہیں اگر چاہو تو میرے فلیٹ پرآجاؤ اپنے ہاتھوں سے بنا کر اچھا سالنچ بھی کرواؤں گی۔۔۔ بتاؤ کیا کھاؤ گے۔ ” اس نے عمر کو آفر دے ڈالی۔۔۔ اندھے کو دو آنکھیں چاہیے ہوتی ہیں، عمر کو وہ مل گئیں۔۔” فون بند کرو اور مزے دار سے چان چاؤمن بناؤ میں بس دس منٹ میں تمہارے پاس پہنچ رہا ہوں۔۔۔” اس نے گھڑی دیکھ کر اندازہ لگایا کہ وہ دس منٹ میں اس کے پاس پہنچ جائے گا۔۔۔ اور کار ایمان کے فلیٹ کی طرف موڑ لی۔۔۔ ”
x۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
ایمان بہت عام سے حلیئے میں ٹراوزر اور شرٹ میں ملبوس تھی۔ اس کا سادہ سا انداز عمر کو بھا گیا۔۔۔ عمر کے لیے اس نے بھاری میک اپ نہیں تھوپا تھا۔۔۔ وہ پہلی بار اس کے فلیٹ آیا تھا۔۔۔ اور اس کے جدید اندازکے انٹیرئیرز سے سجے فلیٹ کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔۔۔ کوریڈور سے کچن تک فلیٹ کے ہر قدم پر خوب صورت آرٹ پیسیز سجے ہوئے تھے۔۔۔جس سے اس کے ذوق کا اندازہ ہو رہا تھا۔۔۔ وہ اوپن کچن میں کھڑی اس کے لیے نوڈلز بنا رہی تھی۔۔۔” یار تمہارا ذوق تو بہت زبردست ہے یہ پینٹنگ کہاں سے لی؟۔۔ ایک تجزیدی اندازکا شاہکار عمر کو ٹھہرنے اور پوچھنے پر مجبور کر گیا۔۔۔
” یہ میں پچھلے سال پیرس سے لائی تھی۔۔۔” اچھا خاصا مہنگا ہوگا۔۔ اس نے نیچے ایک جانب مصّور کے نام کو پڑھتے ہوئے قابل داد نظروں سے اُسے دیکھا۔۔۔” میری زیادہ تر شاپنگ اچھے بیگس، شو پیس اور پینٹنگز کی ہوتی ہے۔۔۔ ” پاکستان سے یہ چیزیں میں بہت کم خریدتی ہوں۔ معلوم ہے یہاں اکثر دو نمبر چیزیں ملتی ہیں۔۔۔” ایمان نے منہ بناتے ہوئے چاؤ من میں سویا ساس ملایا۔۔۔ تو عمر مسکرادیا۔ ایک لمحے اُسے حیرانی ہوئی۔۔۔ اسے بالکل اندازہ نہ تھا کہ وہ اتنا مہنگا life styleرکھتی ہو گی۔۔۔ وہ اُسے پاکستان کی ایک نئی اور ابھرتی ہوئی ماڈل میں شمار کر رہاتھا۔۔۔ لیکن اس وقت اس کے رہن سہن سے کافی متاثر ہو چکا تھا۔۔۔
ایمان نے چاؤمن کے ساتھ ریڈی میڈ سوپ بھی بنا لیا۔۔۔ جو بس ایک باؤل میں ڈال کر مائکرو ویو کرنا تھا۔۔۔ اکیلے رہنے کی وجہ سے اُسے اس طرح کا ریڈی میڈ فوڈ اس کے کیبنٹ میں ہمیشہ رہتا۔۔۔ ساتھ فش کریکرز۔۔۔ ٹرے میں لوازمات پوری طرح سجے دیکھ کر عمر کی بھوک چمک گئی۔۔۔ ورنہ وہ سوچ رہا تھا کہ آفس جا کر کافی کے ساتھ چند کوکیز لے لے گا۔۔۔ مگر انسان جو کچھ سوچتا ہے۔ اسے کیا پتا کہ اللہ اس کے لیے اس سے پہلے سوچتا ہے۔۔۔ اور اگر اللہ کو ہماری سوچ پر اختیار نہ ہوتا بندہ خدا بن بیٹھتا۔۔۔ آج وہ جو کچھ سامعہ کے لیے سوچ کر آیا تھا۔۔۔ اس کی سوچ اللہ کی سوچ کے تابع نہ تھی۔۔۔۔ اس لیے اُسے مایوسی ہوئی۔۔۔۔ ” ہاں اب بتاؤ تمہارا موڈ کیوں آف تھا۔۔” کھانے کے بعد وہ کافی کا کپ لے کر ایل سی ڈی کے آگے پڑے خوبصورت ایل شیپ برانڈڈ صوفے پر آبیٹھی۔ اس نے عمر کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس ہی بٹھا لیا۔۔۔ ” کچھ نہیں بس آج کادن ہی خراب تھا۔۔ ایک بنی بنائی ڈیل کینسل ہو گئی۔۔۔ اسی لیے موڈ آف ہو گیا۔۔۔” عمر نے بات بنائی۔ کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ اگر اس بار اس نے جواب نہ دیا تو وہ جان کو آجائے گی۔۔۔ ” تم کھانے کے ساتھ ساتھ کافی بھی بہت اچھی بناتی ہو۔۔۔” عمر نے کافی مگ میں ایک سِپ لیا اور اسے مزہ آگیا۔۔۔
” St. Helena دنیا کی پانچ بہترین کافی برانڈز میں سے ایک ہے۔ اس میں میرا کوئی کمال نہیں۔۔” وہ شرارت سے مُسکرائی۔ کیوں کہ وہ جب سے آیا تھا مسلسل اس کے گھر،اس کے کھانوں اور اب اس کے ہاتھ کی بنی کافی کی تعریف کر رہا تھا۔۔۔ وہ واقعی اس سے متاثر تھا یا مَسکا لگا رہا تھا۔۔۔ ایمان دنیا کی بہترین جگہوں سے شاپنگ کرتی تھی اور اسی بہانے آدمیوں سے میل ملاقات بھی ہوتی۔۔۔ اُسے ان کے مزاج کاپوری طرح اندازہ تھا۔۔۔ محدود ذہن رکھنے والی عورت نہیں تھی۔۔۔ اس کی زندگی میں اب تک بہت سے مرد آئے تھے لیکن عمر آفندی! جس نے اس کے دل کا دروازہ دھڑاک سے کھولا اور غڑاپ سے اندر داخل ہو گیا۔۔۔ بے شرم نے اس سے اجازت بھی نہ لی۔۔۔ کہ میں اندر آجاؤں۔۔۔ بس گھس گیا۔۔۔ تو گھُس گیا۔۔۔ وہ اس کی کشادہ پیشانی کے نیچے حسین آنکھوں سے پوری طرح متاثر ہو چکی تھی۔۔۔ پہلی ملاقات میں اس کی آنکھوں کی ایک سمجھ نہ آنے والی پہیلی حل ہو چکی تھی یہ وہی دروازہ تھا جس کے ذریعے وہ خود عمر کے دل میں پہنچ چکی تھی لیکن۔اب تک غوطے کھا رہی تھی۔۔۔ وہ بہت چالاک تھا۔۔۔اُسے صرف دوستی میں رکھا ہوا تھا۔۔۔ اس سے آگے بڑھنے ہی نہیں دے رہا تھا۔۔۔ ” کیا دیکھو گے؟” ایمان نے ریموٹ سے سامنے لگا ہوا پچپن انچ کا ویوارگیر ایل سی ڈی آن کر دیا۔۔۔ جہاں بہت کچھ بے ہنگم سا آرہا تھا۔۔۔ عمر نے اس کے ہاتھ سے ریموٹ لے کر ٹی وی آف کر دیا۔۔۔” چھوڑو ٹی وی۔ بھی کوئی دیکھنے کی چیز ہے۔۔۔ باتیں کرتے ہیں۔۔۔” وہ دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔ ایمان نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔” توکرو باتیں میں سن رہی ہوں۔۔”کافی کا کپ ایک طرف رکھ کر اس نے پاس پڑی سیگریٹ اٹھائی اور عمر کو آفر دی۔ جسے اس نے قبول کرلی۔۔۔ لائٹر سے سیگریٹ جلانے کے بعد ایمان نے دھواں اوپر چھت کی طرف پھینکا۔۔ ایک چھلّا سا بنا اور گم ہو گیا۔۔۔ ” نہیں آج تم اپنے بارے میں بتاؤ میں اب تک ایمان کے بارے میں کچھ نہیں جانتا کہ وہ کون ہے؟۔۔۔ اس کے پیرنٹس siblingsاور دوسرے لوگ۔۔۔” عمر نے بھی ایک کش لیا۔۔۔ کوئی امپورٹڈ برانڈ کا سیگریٹ تھا۔۔۔ بہترین تمباکو۔۔۔ اسے سرور آگیا۔۔۔ اسی دوران ایمان کا فون بج اُٹھا۔۔۔ ایکس کیوزمی۔۔۔کہہ کر ایمان نے کال ریسیو کی۔۔۔ دبئی سے کسی تاجر کا فون تھا۔۔۔ دونوں کے درمیان انگریزی میں گفت گو ہوئی۔۔۔ جس کا لبّ لباب یہ تھا کہ وہ اُسے اگلے ہفتے دوبارہ دبئی بلا رہا تھا۔۔۔ کسی انٹرنیشنل برانڈ کی شوٹنگ کے لیے۔۔۔ ایمان نے معذرت کر لی۔۔ کہ اتنی جلدی ممکن نہیں وہ کسی اور ماڈل کا انتظام کر لے۔۔ اُسے بڑی آفر کی لالچ دی گئی۔ جو اس نے مسترد کر دی۔۔ کہ وہ اس ہفتے بہت مصروف ہے۔آنا مشکل ہوگا۔۔۔ او رکال بند کر دی۔ ساتھ فون آف کر دیا۔۔۔اب وہ پوری طرح عمر کی جانب متوجہ تھی۔۔۔ “ہاں تو تم میرے پیرنٹس اور میرے بچپن کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔۔۔ تو وہ اتنا رنگین نہیں تھا۔ جتنی اب میری یہ زندگی ہے۔۔۔ اور اپنی زندگی میں یہ رنگ میں نے خود بھرا ہے اپنی کوششوں سے۔۔۔ میں نے تمہیں بتایا تھا نا کہ میری ماں کسی زمانے میں ایک بی کلاس ایکٹرس تھیں۔۔ اور میرا باپ ان سے چمٹی ہوئی ایک جونک۔۔۔ جو سوائے میری ماں کی کمائی کھانے اور ان کو بچوں کا تحفہ دینے کے اور کوئی کام نہیں کرتا تھا۔۔ جب بھی میری ماں کو ڈرامے کا کوئی چیک ملتا۔ نہ جانے میرے باپ کو کس طرح معلوم ہو جاتا۔۔۔ اور وہ اُسے کیش کروا کر ایٹھنے کے چکر میں رہتا۔۔۔ اور اگر اماں نہ دیتیں تو پھر بے تحاشا مارتا۔۔۔ میری ماں مار کھا کر بھی اس کے ساتھ رہنے کو فوقیت دیتی۔۔۔ کہ دنیا والوں کی نظر میں میرے سر کا سایہ تو سلامت ہے۔۔۔۔ جب میں سمجھ دار ہوئی تو یہ ڈرامہ زیادہ دیر برداشت نہ کر سکی۔۔۔ ایک بار میری چھوٹی بہن کی فیس کے پیسے۔جو دو مہینوں کے بعد دئیے جا رہے تھے میرے باپ نے ماں کی الماری سے چُرا لیے۔ جب اماں نے ان کے بارے میں پوچھا، تو ان پر تھپڑوں کی بارش کر دی۔ میں نے اس وقت پہلی بار اپنے باپ پر ہاتھ اُٹھایا۔۔۔ اسے ہاتھ اٹھانا ہی کہا جائے گا۔ورنہ میں نے تو اپنی پٹتی ہوئی ماں کو بچانے کے لیے باپ کو دھکا دیا۔۔۔ اور اس کے پیٹ پر دو لاتیں جڑ دیں۔۔۔ میں اس وقت اٹھارہ سال کی تھی اور اپنی عمر کی لڑکیوں سے زیادہ اچھی اور صحت مند جسامت رکھتی تھی۔۔۔ میرا باپ چوں کہ drunkتھا اسی لئے میری دو لاتیں بھی نہ سہہ سکا۔۔۔ بے ہوش ہو گیا۔۔۔”
عمر آفندی آنکھیں پھارے اس کی ساری کہانی سُن رہا تھا۔۔اس کی بات پر کچھ دیر کے لیے عجیب سی کیفیت کا شکار ہو گیا۔۔۔ اس معاشرے میں عورت پر ہاتھ اٹھانا ایک معمولی سی خبر ہے۔ لیکن ایک مرد اور خاص طور پر اپنے باپ پر جوابی حملہ ایک بڑی خبر تھی۔۔۔ اور ایسی ہمت کوئی معمولی لڑکی نہیں کر سکتی۔۔۔ اوراس کے سامنےبیٹھی لڑکی واقعی غیر معمولی تھی۔۔۔
” ہوش میں آتے ہی اس نے سب سے پہلا کام جو کیا۔وہ میری ماں کو طلاق دینا تھا۔۔۔ اس کا خیال تھا۔۔۔۔ کہ میں یا ہم چاروں قطعاً اس کی اولاد نہیں ہیں۔۔۔ نہ جانے ڈراموں کے بہانے کس کس کے ساتھ منہ کالا کیا ہے، جو ایسی اولاد پیدا کی۔ جس نے اپنے باپ پر ہاتھ اُٹھایا۔۔۔
” عمر! مجھے ایک بات بتاؤ۔ مرد کی انا کی مٹی کہاں سے لی جاتی ہے۔۔ میں نے اکثر مردوں کو انا کے جوابی وارپر اپنی انتہاؤں کو جاتے دیکھا۔۔۔اپنی ہار پر وہ ہر کھیل بگاڑ دیتا ہے۔۔۔ ایسا کیوں ہے؟ میں نے سوچا تھا کہ اس کا جواب میں کسی نہ کسی مرد سے ضرور لوں گی۔۔۔ ” وہ بڑی آس سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ خود اس کی انا کی مٹی کہاں سے لی گئی ہے۔۔۔ کیوں کہ وہ بھی ایسے ہی ایک کھیل میں مکمل گھِ چکا تھا۔۔۔ سامعہ نے اس کی انا کو ملیا میٹ کیا تھا۔۔۔ اور اب وہ اس کی آگے کی زندگی کو ملیا میٹ کرنے کے درپے تھا۔۔۔ وہ تو خود عجیب سے مخمصے کا شکار تھا۔۔۔ کہ اتنی شدت اس کے اندر پہلے تو کسی لڑکی کو پانے کے لییے نہیں ابھری۔ جتنی سامعہ جیسی معمولی لڑکی کو برباد کر دینے کا خیال اس پر حاوی ہو رہا تھاوہ خود پریشان تھا۔۔۔ وہ کیا جواب دیتا۔۔۔اسے خود سمجھ نہیں آیا لیکن ایک لمحے کو وہ خود چُپ سا ہو گیا۔۔۔ مگر شر مندہ نہیں تھا۔۔۔ شرمندگی تو انا کے آتے ہی دماغ سے کہیں بہت دور چلی جاتی ہے۔۔۔ اور اس سے بھی دور جا چکی تھی۔۔۔ اُسے ذرا احساس نہ تھا کہ سامعہ کو برباد کرنے کے بعد سامعہ کے لیے آگے کیا ہوگا؟۔۔ وہ تو مر دتھا۔۔ اور مرد پر تو سات خون معاف ہوتے ہیں۔۔ کیوں کہ اس کا گناہ کبھی نہیں کھُلتا۔۔ مگر عورت کے قدموں کی ڈگمگاہٹ کو تو قدرت بھی معاف نہیں کرتی۔۔۔ کچھ عرسے میں ہی گٹھڑی کا پھل سب کی نظر کے سامنے ہوتا ہے۔۔۔
” یار واقعی بہت مشکل لائف گذاری ہے تم نے۔۔۔” اس نے سر ہلایا۔۔۔ مگر تمہارے باقی بہن بھائی اور ماں کہاں ہیں۔۔ سب یہیں ہیں۔۔۔ بھائی آکسفورڈ میں پڑھ رہا ہے۔۔ باقی دو بہنیں بھی میڈیکل کالج میں ہیں۔ وہ بھی ماڈلنگ کر کے اپنا خرچہ خود اٹھاتی ہیں۔۔۔ اماں کو میں نے ڈرامے چھڑوا دئیے” وہ ویسے بھی اب کچھ بیمار رہنے لگی ہیں۔۔ تو ماموں کے پاس رہتی ہیں. میں خود انہیں اپنے پاس نہیں رکھتی۔۔۔ ہزار قسم کے کلائنٹ آتے ہیں۔۔” وہ بے دلی سے مسکرائی اور سگریٹ بجھا دی۔۔ اسے بہت اچھالگ رہا تھا۔۔ عمر کے ساتھ اس طرح وقت گذارنا۔۔ وہ اس کے آنسو پونچھ رہا تھا۔۔۔ ایمان کا اپنا خیال تو یہی تھا لیکن بے وقوف یہ نہیں جانتی تھی کہ دراصل وہ اس کی صحبت میں اپنے دکھوں کو کم کر رہا تھا۔۔۔ یہ مرد ذات بھی عجیب ہے جب تک پہلی عورت سے کوئی دُکھ نہ ملے دوسری عورت کی طرف کم ہی دیکھتا ہے۔۔۔ لیکن یہاں دُکھ توصرف بہانہ تھے۔ وہ تو واقعی کئی بار صحبتوں کو بدل کران کا مزہ چکھنا چاہتاتھا۔۔۔ اور ا س بار عمر کو بھی ایمان کی صحبت میں عجیب سی راحت مل رہی تھی۔۔ وقتی طور پر وہ سامعہ کو بھول گیا۔۔ اس کا دیا ہوا دُکھ بھول گیا۔۔ جو اس کے خیال میں ایک دُکھ ہی تھا۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
سامعہ گھر پہنچی تو کافی ٹائم ہو چکا تھا کھانے کا دل بالکل نہ تھا۔۔۔ چائے بنائی اور ساتھ ایک سینڈوچ بنا لیا۔۔ پھر خیال آیا کہ ابا کی دوائی تو رہ گئی۔۔۔ دوبارہ چولہے پر چائے چڑھائی کہ اگر وہ جاگ رہے ہوں۔ تو انہیں بھی چائے کے ساتھ دوپہر کی دوائی دے دی جائے۔ وہ چائے اور ایک دو بسکٹس لے کر ان کے پاس آئی۔ ان کی حالت اب قدرے بہتر تھی۔ بات بھی صحیح طریقے سے کر رہے تھے۔۔۔ چائے ان کے پاس رکھی میز پر رکھ کر انہیں اٹھایا۔۔۔ اور پانی کے ساتھ گولیاں دیں۔۔۔”اماں تمہاری سو گئیں۔ورنہ اس وقت میرا چائے کا بہت موڈ تھا۔۔۔” وہ تھوڑا ہکلا کر بول رہے تھے۔۔۔ فالج سے ان کا دایاں حصّہ متاثر ہوا تھا۔۔ جس سے زبان میں بھی لکنت سی آگئی تھی۔۔۔ ” تم چلی جاؤ گی تو بہت یاد آؤ گی۔۔۔”اس کا ہاتھ ایک لمحے کو لرزا۔۔ ایسی بات ابا نے پہلے کبھی نہیں کی تھی۔۔۔ وہ تو کبھی اس سے آرام سے بھی بات نہیں کرتے تھے آج کتنے مجبور تھے۔۔۔ اُسے ان پر ترس آگیا۔۔۔ سامعہ نے اُن کا ہاتھ پکڑ کر تھاما اور پشت پر پیار کیا۔۔۔”ابا میں کہیں نہیں جا رہی آپ کو چھوڑ کر۔۔۔” نفی میں سر ہلا کر انہوں نے دیکھا اور بولے!۔۔۔” ہر بیٹی کو اپنے گھر جانا پڑتا ہے۔۔۔ مگر میرا تو بیٹا بھی چلا گیا۔۔۔” یہ بات کہتے کہتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔۔۔ انہیں چپ کروانے میں اُسے کافی وقت لگ گیا۔۔ ظفر گھر میں جب بھی یاد کیا جاتا۔۔۔ بڑی شدتوں سے سب کو اس کی یاد آتی تھی۔۔ “ابا آپ مت روئیں۔ پلیز!آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔۔۔بی پی ہائی ہو جائے گا۔۔۔” وہ ان کے آنسو پونچھتے ہوئے پریشان ہو اٹھی۔ ایک لمحے کو خیال آیا تھا کہ ابا سے کہہ دے کہ وہ یہ شادی نہیں کرنا چاہتی لیکن ان کی حالت کے پیش نظر کچھ نہ کہہ پائی۔ وہ کافی دیر اس سے باتیں کرتے رہے۔۔۔ اس کی باتیں ظفر کی باتیں۔۔۔ اور سامعہ کے اچھے مستقبل کی دُعائیں۔۔۔ وہ ان کی باتوں پر صرف ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئی۔۔ کہ کتنی مشکل زندگی ہےہم مڈل کلاس لڑکیوں کی دل میں کچھ اور زندگی میں کچھ اور۔ تمام عمر خواب کسی اور کے دیکھیں اور زندگی کسی اور کے ساتھ گذاریں۔۔۔ سب سے زیادہ منافقانہ زندگی ہم مڈل کلاس لڑکیاں گذارتی ہیں۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔x
“سر یہ کباب لیجئے۔ آج خاص طو رپر آپ کے لیے بنوائے ہیں۔” کبیر علی نے ٹفن بکس ان کی طرف بڑھایا۔۔۔ تو رضوان نے ٹفن کھول کر دو کباب اپنی پلیٹ میں رکھ لیئے۔ ساتھ ہی املی کی چٹنی پلیٹ میں ڈالی۔۔۔ وہ کبھی کبھار اسٹاف کے ساتھ کھانا کھا لیا کرتے تھے مگر جب سے کبیر علی کے گھر سے بنے کباب کھائے تو اکثر وہ ان کے ساتھ لنچ میں شامل ہو جاتے۔۔۔ پتا نہیں ان کبابوں میں کیا مزہ تھا کہ انہیں لگتا کہ اس سے پہلے انہوں نے ایسے شامی کباب نہیں کھائے۔۔۔ خود گھر میں ان کا کک ایک ماسٹر شیف تھا۔ کانٹی نینٹل، چائنیز اور دیسی ہر طرح کے کھانوں کا ماہر۔لیکن اس سے بھی اتنے ذائقہ دار کباب نہیں بنتے تھے۔۔۔ کبیر علی اور چیزیں بھی کھانے میں لاتے اور انہیں آفر کرتے لیکن وہ صرف کباب کو ہی رغبت سے کھاتے۔۔۔” بھئی اپنے کک کو کچھ دن تک ہمارے کُک کے پاس بھیج دو۔وہ اُسے بھی ٹرینڈ کر دے۔۔۔ کانٹے سے شامی کباب کا ٹکڑا انہوں نے چٹنی میں ڈبویا اور منہ میں رکھ لیا۔۔۔” “سر ہمارے گھر کا کھانا خواتین ہی تیار کرتی ہیں اور یہ میری بہن نے بنائے ہیں۔۔۔” کبیر علی نے مُسکراتے ہوئے وضاحت کی۔۔۔۔” اوہ سوری! میرے گھر کوئی عورت نہیں ہے۔ اس لیے اندازہ نہیں تھا کہ کک کے علاوہ گھر کی خواتین بھی اتنے مزے کا کھانا پکا سکتی ہیں۔۔۔” وہ قدرے شرمندہ ہوئے۔ ماں بچپن میں ہی گذر گئی تھی اور کچن میں ہمیشہ ملازم ہی کھانا پکاتے تو انہیں لگا کہ کبیر علی نے بھی کوئی کُک رکھا ہو گا۔۔۔ ” سسٹر کا شکریہ اد اکیجئے گا۔۔۔ واقعی اتنا ذائقہ مردوں کے ہاتھوں میں کہاں آسکتا ہے۔۔۔”رضوان نے سر ہلایا۔۔۔” سر صحیح بات تو یہ ہے کہ مرد کُک عورت سے اچھا کھانا پکاتا ہے۔۔۔ لیکن عورت کے ہاتھ میں اپنے گھر والوں کے لیے پکانے کا بے لوث جذبہ او رمحبت بے مول ہوتی ہے۔۔۔ کتنے ایسے مرد ہیں جو صُبح سخت سردی میں اُٹھ کر بچوں اور بیوی کے لیے ناشتہ تیار کریں گے۔۔۔ یا بھری گرم دوپہر میں بچوں کو اسکول سے آنے کے بعد کھانا پکا کر اپنے ہاتھوں سے کھلائیں گے۔۔۔ یہی جذبہ عورت کے کھانوں میں محبتوں کا ذائقہ پیدا کر دیتا ہے۔۔۔ اب دیکھیں میں نے اس سے فرمائش کی اور اُس نے اپنے باقی کاموں کو ایک طرف ڈال کر میرے لیے آج ٹفن بھر کرکباب تیار کر دئیے۔۔۔” وہ واقع صحیح کہہ رہے تھے۔۔۔ رضوان بہت حسرت سے ان کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔” کبیر صاحب آپ بہت خوش نصیب ہیں کہ آپ کو ماں اور بہن جیسا خوب صورت رشتہ ملا ہے۔ ورنہ کتنے بد نصیب لوگ ان محبتوں کوترستے زندگی جیئے جا رہے ہیں۔۔۔”ایک عجیب سی آس تھی ان کے لہجے میں جو کبیر علی نے فوراً محسوس کر لی۔۔۔ وہ جانتے تھے کہ اس وقت ان کے پاس کوئی نہیں کوئی ایسا اپنا جو ان کو محبت دے سکے۔۔۔
” سر کسی دن گھر تشریف لائیے گا۔میری اماں آپ سے مل کر بہت خوش ہوں گی۔۔۔” ان کی حسرت دیکھ کر فوراً انہوں نے آفر دے ڈالی۔۔۔ ” ضرور بلکہ یہ بتائیں شادی کی تیاریاں کیسی جا رہی ہیں۔۔۔ آپ کا لُون مل گیا۔۔” انہیں یاد آیاکہ کچھ دنوں کے بعد کبیر علی چھٹیوں پر جا رہے ہیں اور ان کی شادی کی dateبھی قریب ہے۔۔۔ ” جی سر بہت شکریہ! ا س میں تو کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔۔۔” “اگر اور ضرورت ہو تو مجھ سے پرسنلی لے لیجئے گا۔۔۔” آپ اس کمپنی کے اُن لوگوں میں سے ہیں۔۔۔ جن کی وجہ سے کمپنی چل رہی ہے۔۔۔ اور آپ نے جو خدمت بابا کی، کی اس کا تو کوئی مول نہیں۔۔۔ بابا کہتے تھے ایمان دار شخص کا کوئی مول نہیں ہوتا۔۔۔ اور آپ کی ایمان داری واقعی بے مول ہے۔۔۔” وہ واقعی کبیر علی سے بہت متاثر تھے۔۔۔ جس طرح وہ کمپنی کی ضرورت بن چکے تھے۔۔ وہ ہر قیمت پر انہیں کمپنی میں دیکھنا چاہتے تھے۔۔۔
متاثر تو کبیر علی بھی ان سے بہت تھے۔۔۔ اپنے باپ کے مرنے کے بعد اتنی کم عمر ی میں کمپنی کو پوری طرح سنبھال لیا۔۔۔ بلکہ کچھ نئے پراجیکٹس پر کام شروع کیا تھا۔۔۔ جس میں دن رات کی محنت نظر آرہی تھی۔۔۔ نئے پراجیکٹ رِسکی تھے لیکن ان کے خیال میں رِسک لینا کسی بھی بزنس مین کے لیے کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔۔۔ جو رِسک لینے کی ہمت نہیں رکھتا۔ وہ بزنس کرنے کا حوصلہ ہی نہیں رکھتا۔۔۔ایک اچھا بزنس مین اپنی نا کامیوں کو سیڑھی بنا کر آگے بڑھتا ہے۔ وہ آگے بڑھ رہے تھے۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
عمر آفندی نے سامعہ کے میسج کا کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اپنی ناراضی کو پوری طرح ظاہر کرنا چاہتا تھا۔۔۔ ہاتھ آئی چڑیا اس کے ہاتھ سے نکل گئی۔۔۔ لیکن وہ بھی اتنی جلدی ہار ماننے والوں میں سے نہ تھا۔۔۔ ذہن مسلسل سامعہ سے دوبارہ کہیں ملنے کا پلان بنا رہا تھا۔۔۔وہ اب ایسا فول پروف پلان تیار کرنا چاہتا تھا کہ چڑیا کسی طرح بھی اس کے ہاتھ سے نہ نکلے۔۔۔ اسی لئے وہ سامعہ سے فی الوقت کوئی بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ خود سامعہ کی بے تابیاں اس کے لیے کتنی بڑھتی ہیں۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x

سیما نے نانو بی کی طبیعت ٹھیک ہوتے ہی دوبارہ کام شروع کر دیا۔۔۔ عمر بھی ایک شام انہیں دیکھنے گیا۔۔۔ تو وہ اُسے تھو ڑی بہتر لگیں۔۔۔”ہائے سوئیٹ ہارٹ! آپ تو بالکل ٹھیک ہیں۔۔”عمر نے ان کے گالوں پر پیار کیا۔ تو انہوں نے بھی عمر کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر ماتھے پر پیار کیا۔۔۔ اور ساتھ ہی شکوہ کیا۔۔۔ ” اب آئے ہو۔ جب میں ٹھیک ہو گئی۔۔۔” آپ کی تو طییعت آپ کی نواسی سے روز پتا چل ہی جاتی تھی۔۔۔ اللہ کا شکر ہے کہ اب آپ ٹھیک ہیں۔۔۔” اس نے بھی بات گھما دی۔۔۔”تم ویسے بہت چالاک ہو۔۔۔ اپنے پَروں پر پانی نہیں پڑنے دیتے۔۔۔” وہ اس کی چالاکی پر مسکرائیں۔۔۔ “آخر نواسا کس کا ہوں۔۔۔” اس نے بھی بیڈ کے پاس رکھے جار سے کاجو نکال کرمنہ میں ڈالے۔۔۔”سنو لڑکی! تمہارے گھر میں مہمانوں کی خاطر مدارات کرنے کی اوایت نہیں ہے۔۔۔
” سنو لڑکے! تم جب آتے ہو بھوکے ہی آتے ہو تمہارے گھر میں کچھ نہیں بنتا۔۔۔” وہ بھی پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں تھی۔ اسی طرح شوخی سے بولی۔ تو عمر نے اسے گھورا۔ ” ارے واہ! ہماری بلّی اور ہم کو میاؤں۔۔ ” ” خبردار اگر مجھے بلّی کہا۔۔۔” وہ چڑ گئی۔۔۔ ” اچھی سی چائے کے ساتھ کچھ لے آؤ ورنہ تہارا اصلی نام لے لوں گا۔۔۔” اس بار اس نے دھمکی لگائی۔۔۔تو سیما باہر کی طرف لپکی کہ واقعی کہیں وہ ایسا کر گزرتا تو وہ پھر شرمندہ ہو جاتی۔۔۔ نانو بی ان دونوں کی نوک جھوک سے محفوظ ہو رہی تھیں۔۔۔” عمر بیٹا تم اس کے کام سے مطمئن تو ہو۔۔۔” نانو بی نے کاجو کھاتے عمر سے پوچھا۔۔۔” جی نانو! میں اسے اتنا ذمہ دار نہیں سمجھتا تھا۔۔۔ یہ تو بڑی اچھی طرح پراجیکٹس کو سنبھال رہی ہے۔۔۔” عمر نے بھی دل کھول کر تعریف کی۔۔۔ کچھ ہی دیر مین ملازم لوازمات سے بھری ٹرلی لے کرآگیا۔ اس کے پیچھے پیچھے سیما بھی تھیں۔۔۔ اب وہ خاموش تھیں کہ کہیں عمر دوبارہ نہ شروع ہو جائے۔۔۔بڑے اچھے ماحول میں چائے پی گئی۔۔۔ نانو بی کو وہ دونوں ایک فریم میں بیٹھے بہت اچھے لگ رہے تھے۔۔۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ جلد از جلد ان دونوں کو نکاح کے بندھن میں باندھ دیں۔۔۔ اور اس بار وہ تہیہ کر چکی تھیں کہ شاد ی کی آخری اور حتمی بات آفندی صاحب سے کر کے رہیں گی۔۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
سامعہ کا آج سارا دن بہت تھکا تھکا سا گذرا۔ شادی کارڈ ز تیار ہو کر آگئے تھے۔ اس نے اپنی ساری سہیلیوں اور رشتہ داروں کے لیے کارڈز لکھے۔۔۔ سیما کا کارڈ جان بوجھ کر نہیں لکھا۔ وہ اسے نہیں بلانا چاہتی تھی۔۔۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ سیما کو اس کی شادی کے بارے میں علم ہو۔ او ریہ بات عمر کو بھی معلوم ہو جائے گی۔۔۔ اپنی سی ہر کوشش کے بعد وہ اماں اور اباکی عزت کے لیے خاموش ہو گئی۔ کبیر علی اور اپنی شادی کو اللہ کی مرضی سمجھ لیا۔۔۔ اور چیدہ چیدہ اس کے علاوہ وہ کر بھی کیا سکتی تھی۔۔۔چند سہیلیوں کے کارڈز لکھ کر اس نے دکان پر کام کرنے والے لڑکے کے سپرد کئے او ر۔۔۔ سب کا ایڈریس بھی سمجھا دیا۔۔ جانتی تھی کہ وہ یہ کام بہ خوبی کر لے گا۔۔۔ باقی رشتہ داروں کے کارڈز کی ذمہ داری کبیر علی نے اُٹھا لی تھی۔۔۔ کہ اپنے کارڈز کے ساتھ ساتھ وہ لڑکی والوں کے شادی کے کارڈز بھی دے دیں گے۔۔۔ وہ تقریباً روز ہی خالہ کو فون کر کے ضروری کاموں کے متعلق پوچھتے۔ اور شادی سے متعلق کوئی بھی ضروری کام ہوتو۔۔۔ اپنے کاموں کے علاوہ وہ اس گھر کے کام بھی بہ خوبی نبھا رہے تھے۔۔۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ خالہ یا خالو کو کسی بھی طرح ظفر کی کمی محسوس ہو۔۔۔ وہ خود کو اس گھر کا داماد نہیں بیٹا ثابت کرنا چاہتے تھے۔بلکہ ایک طرح سے ثابت کر چکے تھے۔۔۔ خالہ اور خالو بہت خوش تھے کہ اتنا فرماں بردار داماد ملا تھا۔۔۔ لیکن وہ خود اندر سے کتنے خوش تھے کوئی اُن سے پوچھتا۔۔ وہ سامعہ کے گریز کو اس کی حیا سمجھ رہے تھے۔۔۔ ایک بار شادی ہو جائے تو اتنی خوشیاں دوں گا کہ تم خود مجھ سے محبت کرنے کے لیے مجبور ہو جاؤ گی۔۔۔ اماں سے انہوں نے یہی سُنا تھا کہ اس رشتے میں اللہ پاک نے اتنی محبت ڈال دی ہے کہ دو اجنبی بھی شادی کے بعد ایک دوسرے کے لیے خونی رشتوں سے بڑھ کر ہو جاتے ہیں۔ اور ایسا صرف قدرت کی رضا سے ہوتا ہے۔۔۔ کبیر علی کو بھی قدرت کی رضا پر پورا یقین تھا کہ وہ اور سامعہ ایک اچھی اور محبت بھری زندگی گذاریں گے۔ ان کی زندگی میں سامعہ سے پہلے اور سامعہ کے بعد کسی اور لڑکی کی کوئی گنجائش نہ تھی۔۔۔ جب سے ہوش سنبھالا تھا سامعہ کو ہی اپنے سامنے پایا۔۔۔ وہ اکثر خالہ کے گھر اماں کے کسی کام کے بہانے صرف سامعہ کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے جاتے۔۔۔ اور دل میں سکون پڑ جاتا۔۔۔۔ ان کی خاموش محبت نے کبھی اظہار نہیں کیا تھا۔۔۔ اور وہ کرنا بھی نہیں چاہتے تھے۔۔۔ وہ چاہتے تھے کہ شادی کے بعد وہ سامعہ کو اپنی ایک ایک بے تابی کے بارے میں بتائیں۔۔۔ کہ کس طرح وہ صرف اس کی ایک جھلک کے لیے خالہ کے گھر دوڑے دوڑے آتے۔۔۔ منگنی کے بعد انہوں نے اس سے فون پر بات کرنے کی کوشش بھی کی لیکن سامعہ کے انکار اور گریز پر چُپ ہو گئے۔۔۔ اب چند دنوں کی ہی بات ہے پھر وہ اُسے اپنے دل کا پورا حال بتائیں گے۔۔۔ ان کو یقین تھا کہ وہ اُسے اتنی محبت دیں گے کہ وہ خود بھی اس سے محبت کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔۔۔ محبت کو محبت سے ہی زندگی دی جا سکتی ہے۔۔۔ اور وہ اپنے تیئں سامعہ کی بے روح محبت میں جان ڈالنے کے لیے بالکل تیار تھے۔۔۔ اس کی ہر خوشی کو پورا کرنے کا ایمان لے کر وہ اس زندگی کو نیا آغاز دینا چاہتے تھے۔۔۔ پرُ یقین تھے کہ سامعہ کی محبت کو جیتنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
پوریکمرے میں کپڑوں کے ساتھ ساتھ کارڈز بھی پھیلے ہوئے تھے۔۔۔ ثنا بری کے جوڑوں کی پیکنگ کر رہی تھی۔وقت بہت کم رہ گیا تھا۔۔۔ مہمانوں کے کارڈزکی لسٹ تیار تھی۔۔ پیکنگ کے بعد اس نے شادی کارڈز پر سب کے نام بھی لکھنے تھے۔۔۔ وہ بہت تیزی سے ہاتھ چلا رہی تھی کہ سلمیٰ بیگم فروٹ باسکٹ لئے اندر داخل ہو ئیں۔۔۔ ” تم نے کھانا نہیں کھایا۔ چند فروٹس ہی کھالو۔۔” انہوں نے فروٹ باسکٹ اس کے آگے رکھی۔۔۔ ” ارے اماں! دیکھیں یہ پیکنگ قریباً اختتام پر ہے پھر کارڈز بھی لکھنے ہے۔۔۔” اس نے سامنے پڑے ڈھیر سارے کارڈز پر نظر ڈالی۔۔۔ اور ساتھ ہی تیزی سے ہاچھ چلاتے ہوئے جوڑے کو ایک خوب صورت ڈبے میں ڈالا۔۔۔ تو سلمیٰ بیگم نے مسکرا کر ایک کیلا چھیلا اور اس کی طرف بڑھا دیا۔۔۔ جو اس نے ماں کی طرف محبت سے دیکھتے ہوئے تھام لیا۔۔۔ اس کی ماں محبت کے ریشم سے بنی وہ گڑیا تھی،جو اپنے پرائے سب کو ہی نرماہٹ کا احساس دیتی۔۔۔ وقت کے تھپڑوں نے انہیں اور نرم کر دیا تھا۔۔۔ انہیں ہر وقت اپنے ارد گرد موجود رشتوں کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے کا خبط سا تھا۔۔۔ اپنی بیماری کے باوجود وہ حتی المقدور کوشش کرتیں کہ جہاں تک ہو سکے، وہ سامنے والے بندے کو اس کی ضرورت کے مطابق چیز فراہم کر دیں۔۔۔ صُبح سے کام میں مصروف بیٹی جس نے ناشتے میں صِرف ایک سلائس اور چائے کا کپ لیا تھا۔۔۔ ان کی ہزار کوششوں کے باوجود کام ختم ہونے سے پہلے کچھ بھی کھانے کو تیار نہ تھی۔۔۔ وہ پھل لے آئیں تاکہ کچھ نہ کچھ تو معدے میں جائے شام کے چار بج چکے تھے۔۔۔ او روہ بھوکی تھی۔۔ جلدی جلدی سیب اور امرود کاٹ کر ان پرنمک چھڑکا۔ پلیٹ اس کے آگے رکھ دی۔۔۔ وہ ماں کی محبتوں پر مُسکرا دی۔۔۔ پلیٹ سے سیب کی قاشیں اُٹھاکر کھانے لگی۔۔۔ وہ سارے کام کبیر علی کے آنے سے پہلے ختم کرنا چاہتی تھی تاکہ بھائی کو اپنی سہیلیوں اور رشتہ داروں کے کارڈز دے سکے۔ وقت کم رہ گیا تھا۔ کل سے کبیر علی کی چھٹیاں بھی شروع ہونے والی تھیں۔جس کے بعد انہوں نے کارڈز بانٹنے اور دیگر ضروری کاموں کو مکمل کرنا تھا۔۔۔ کبیر علی کے آنے پر وہ اپنا آخری کارڈ لکھ رہی تھی۔۔۔ وہ کافی تھکے ہوئے نظر آرہے تھے۔” السلام علیکم بھائی۔” ” وعلیکم السلام” انہوں نے جواب دیا۔۔” السلام علیکم اماں۔” ماں کو سلام کرتے ہوئے وہ ان کے پاس ہی صوفے پر لیٹ گئے۔ وہ خالہ کے گھر سے ہوتے ہوئے آئے تھے۔۔۔ ان کے کارڈز بھی لے آئے، تاکہ اگلے دن سے کارڈز بانٹنے کا ضروری کام شروع کر دیا جائے۔۔۔ ثنا نے بکھرا ہوا سامان سمیٹا اور چائے بنانے کے لیے اُٹھ گئی۔ جتنی دیر میں وہ چائے بنا کر لائی۔ وہ اماں سے کافی باتیں کرچکے تھے۔۔۔ سلمیٰ بیگم محسوس کر رہی تھیں کہ جیسے وہ کافی دباؤ میں ہیں۔۔۔ انہوں نے پوچھ ہی لیا۔” کیا ہوا خیر ہے؟” جی اماں سب خیر ہے۔۔۔ بس تھک گیا ہوں۔” “ابھی تو زندگی کی شروعات ہیں اور تم کہہ رہے ہو کہ تھک گئے۔۔ مجھے دیکھو تمہارے ابا کے ساتھ اور پھر ان کے بغیر بھی محنت کرتے ہوئے پوری زندگی گذاری۔۔۔ مگر خود کو تھکنے نہ دیا۔۔۔” انہوں نے مسکراتے ہوئے انہیں دیکھا۔ ” اماں ایک بات بتائیں گی۔۔” انہوں نے دل میں کافی عرصے سے دبی ہوئی بات نکالنے کی کوشش کی۔۔۔ آج انہیں موقع مل گیا تھا۔۔۔
” ہاں پوچھو۔” اس بار انہوں نے کبیر علی کے سرپر ہاتھ پھیرا ” اماں ہم ساتھ بھی تو رہ سکتے تھے۔آپ نے الگ ہونے کا حکم کیوں دیا۔۔” ہماری کوئی لمبی چوڑی فیملی نہیں ہے۔ تین افراد ہیں پھر بھی آپ نے الگ کھانا پکانے کا کہا۔۔۔” وہ جوبات پوچھنا چاہ رہے تھے۔ وہ اچھی طرح سمجھ رہی تھیں۔۔۔” دیکھو بیٹا!جب میری شادی ہوئی تو میں بہت کم عمر تھی۔ بیاہ کر ایک لمبی چوڑی سسرال میں گئی تھی۔۔۔ تمہارے ابااس وقت اتنا اچھا نہیں کماتے تھے۔ آمدنی کم تھی۔۔۔ تمہارے تایا گھر کے سربراہ تھے۔۔۔ کیوں کہ گھر کا سربراہ اگر اچھی تنخواہ رکھتا ہو تو۔۔۔ اس کے بیوی بچوں کو کافی ایڈوانٹیج مل جاتا ہے۔۔ میری اور تمہارے ابا کی حیثیت دو کوڑی کی تھی۔۔ کیوں کہ بہ قول تمہارے تایا کہ جتنی تنخواہ تمہارا باپ کما کر لاتا تھا۔۔۔ اس میں تو خود ہم دونوں کا گذارہ مشکل تھا۔۔۔تو مجھے وہاں نوکروں کی طرح کام کرنا پڑا۔۔۔ تمہارے ابّامیری اس حالت پر بہت کُڑھتے تھے۔مجبور تھے۔۔۔ پھر میں نے تمہارے ماموں سے ان کی اچھی نوکری کے لیے کہا تو انہوں نے قدرے بہتر نوکری کا انتظام کر دیا۔۔۔ مگر گذارہ اس میں بھی مشکل تھا۔۔۔روزانہ طعنے سہہ سہہ کر میں نے فیصلہ کیا کہ کچھ نہ کچھ کام کیا جائے۔ تاکہ اپنے شوہر کا ہاتھ بٹایا جا سکے۔۔۔ پاپڑ کا کام شروع کیا۔ تو سب سے پہلے تمہارے تایانے اعتراض اُٹھایا۔۔۔ کیوں کہ ان کی بیوی نہیں چاہتی تھیں کہ میرے ہاتھ میں چار پیسے آئیں اور ہم لوگ ان کی چاکری سے نجات پائیں۔۔۔ وہ کسی نہ کسی بہانے روز مجھ سے لڑتی تھیں۔۔۔ اور ایک دن تو تمہارے ابّا نے مجھے فوراً وہاں سے کسی کرائے کے مکان میں لے جانے کا فیصلہ کیا۔۔۔ اور میں بھی ان کو نہ روک سکی۔۔ ” لیکن اماں آپ نے آج تک تایا اور تائی کے بارے میں ہمیں یہ سب نہیں بتایا تھا۔۔۔” وہ حیران تھے۔۔۔ اس کی ماں ہمیشہ بہت اچھے لفظوں میں تایا تائی کا ذکر کرتی وہ لوگ بھی اچھی طرح سے اُن سے ملتے تھے۔ بلکہ ثنا کے رشتے کے لیے تایا جان نے کئی بار دبے دبے لفظوں میں ان سے کہا تھا۔ جو وہ ٹال گئیں۔۔۔
” میں تمہارے باپ کے اکلوتے رشتے سے تمہیں محروم نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ خونی رشتوں کی محبتیں کسی بھی بچے کی پرورش میں کھاد کا کام کرتی ہیں۔۔۔ بہت مظلوم ہوتی ہے وہ اولاد جس کی ماں اس کے دل میں ددھیال یا ننھیالی رشتوں کا زہر بھر دیتی ہے۔ ان سے ملنے سے محروم کر دیتی ہے۔۔۔۔” کبیر علی نے بہت عقیدت سے اپنی ماں کو دیکھا۔۔۔ اور پوچھا “لیکن اس بات کا ہماری بات سے کیا تعلق۔ “تعلق ہے بیٹا۔۔۔ دیکھو ہر عورت کو اسلام نے بھی ایک الگ گھربنا کر دینے کی ذمہ داری مر د پر رکھی ہے۔۔جس میں وہ اپنی نئی زندگی بلکہ بہتر زندگی کا آغاز کر سکیں۔۔۔ ہمارے جوائنٹ فیملی سسٹم میں جہاں بہت سی اچھائیاں ہیں۔وہاں ایک کمی بھی ہے۔ کبھی کبھی سسرال آنے والی لڑکیاں غلام بنا دی جاتی ہیں۔۔۔ وہ سسرال جہاں کا نظام اس لڑکی کے آنے سے پہلے بہت ساری گھر کی خواتین مل کرچلاتی تھیں۔۔ بہو کے آنے پر سب اپنے اپنے کاموں سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔۔ او رآہستہ آہستہ اُسے ساری ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے۔۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جس شخص کے لیے اُسے اس گھر میں لایا جا رہا ہو۔۔ وہ صرف اس کی ہی ذمہ داری اٹھائے۔۔ لیکن ہوتا برعکس ہے۔وہ شوہر کے آنے پر اتنا تھک چُکی ہوتی ہے کہ اس بیچاری سے توٹھیک طرح سے بات بھی نہیں کی جا رہی ہوتی۔۔۔ اور پھر ان دونوں کے درمیان دوریاں بڑھ جاتی ہیں۔۔۔ اس میں بھی قصور وار عورت ہی ٹھہرائی جاتی ہے۔۔۔ کہ نہ تو وہ سسرا ل کو خوش رکھ سکی اور نہ ہی شوہر کو۔۔۔ہر عورت میں ایک اچھا مینجر چھُپا ہوتا ہے۔۔۔۔ لیکن سسرال کے کاموں سے فرصت ہی نہیں ملتی کہ وہ اپنا یہ جوہر اپنی زندگی یہ پوری طرح آزما سکے۔۔۔ وہ کبھی کبھی بالکل پِس کر رہ جاتی ہے۔۔۔ او رپھر دونوں کے درمیان لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔۔۔” وہ ان کی دور اندیشی کے قائل ہو گئے۔
تمہارے ابّا اور میرے درمیان بھی ابتدا میں ایسا ہی رشتہ تھا۔۔۔ میں اتنا تھک جاتی تھی کہ مجھ سے ان سے ٹھیک طرح سے بات بھی نہ ہو پاتی۔۔۔ وہ تو اللہ بھلا کر ے بھابھی کا کہ ایک دن انہوں نے تمہارے ابّا کے سامنے ہی طوفان کھڑا کیا۔ ہم الگ ہو گئے۔ میں نے بھی الگ ہو کر اپنے کاروبار پر پوری طرح دھیان دیا۔۔۔ تم لوگوں کے اسکول جانے کے بعد میں اپنا وقت دوسری عورتوں کی طرح سونے میں نہیں گذارتی بلکہ پاپڑ بناتی اور خود دکانوں پر دے کر آتی۔ پھر تم نے دیکھا کہ اسی کاروبار نے تمہارے باپ کے بعد بھی گھر کو کتنا سہارا دیا۔۔۔ میں اگر اس ماحول میں رہتی تو کبھی کچھ نہ کر پاتی۔۔۔ اور دل میں گھر والوں سے بغض الگ رہتا کہ انہوں نے مجھے غلام بنا لیا۔۔۔” خیر اس بات کا تومجھے یقین ہے کہ آپ نے یا ثنا نے سامعہ کو غلام بنانے کا کوئی پلان نہیں بنا۔ بلکہ اگرہم اپنا کچن بھی ساتھ رکھتے تو شایدآپ یا ثنا ہی کہ اس کے آگے ڈشز بنا بنا کر رکھتیں۔۔۔” وہ شوخی سے بولے۔۔۔ “اس میں برائی بھی کیا ہے؟کیا وہ ہماری اپنی بہن نہیں۔۔۔بہو کو بیٹی کی جگہ دینا کوئی غلط بات تو نہیں۔ اگر بیٹی کے آگے پلیٹ رکھی جا سکتی ہے تو بہو بھی تو آپ خودلاتی ہیں۔۔۔ اس کے ناز اُٹھانے میں کیا قباحت ہے۔ ابتدا میں بہو کے ناز اُٹھا کر تو دیکھیں اگر آہستہ آہستہ وہ آپ کی گرویدہ نہ ہو جائے اور آپ کے ناز نہ اٹھانے لگے تو کہیے گا۔۔۔” انہوں نے بیٹے کو سمجھایا۔۔” اماں آپ کس مٹی کی بنی ہیں۔۔” وہ ان کے ہاتھ چومنے لگے۔اب ان کے دل میں ماں کی قدر کئی گنا بڑھ چکی تھی۔۔۔ ہر عورت کے دل میں اپنا گھر بنانے اور اُسے خود چلانے کا ارمان ہوتا ہے۔ میں اگر اپنی بیٹی کے ارمانوں کی قدر کروں گی تو بہو کے ارمان بھی مجھ پر واجب ہو جاتے ہیں۔تب ہی میری بیٹی بھی خوش رہے تھی۔۔۔”
” لیکن ایک اور بات جو میں تمہیں سمجھانا چاہتی ہوں۔۔” قدرے توقف کے بعد وہ بولیں۔۔۔ میں اپنی بھانجی کو بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔۔۔ وہ میری بہن سے بہت مختلف ہے۔۔۔ میری بہن ہر حال میں خوش رہنے والی روح ہے۔ لیکن سامعہ میں اپنے باپ کا اثر بھی موجود ہے۔۔۔ اس نے اپنی زندگی میں بہت سی چیزیں نہیں دیکھیں۔ لیکن وہ ان لوگوں میں سے نہیں کہ جو صبر کر کے بیٹھ جائے۔۔۔ شادی کے بعد کوشش کرنا کہ اس کی ہر جائز خواہش کو پورا کر سکو۔۔۔ زیادہ تر شادیاں عورتوں کی وجہ سے کامیاب رہتی ہیں۔۔ لیکن کچھ شادیوں میں مرد کا کمال ہوتا ہے۔۔۔ اس کی ہمت کا کمال ہوتا ہے۔۔۔ اور مجھے یقین ہے تم اپنی پوری ہمت سے اپنی بیوی کی خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش کرو گے۔۔۔” وہ جہاں دیدہ تھیں۔ انہیں اپنی بھانجی کے سارے ناز و انداز سے آگاہی تھی۔۔ ایک بہترین ماں کی طرح انہوں نے اپنے بیٹے کو عورت دبانے کے گُر نہ سکھائے۔ بلکہ ایک دوسرے کا لباس بن کر رہنے کا ہنر دیا۔۔۔ جوکہ ایک اچھی اور مستحکم شادی کا بڑا ہتھیار تھا۔۔ اتنی دیر میں ثنا چائے بنا کر لے آئی۔۔۔ اور دونوں بہن بھائی چائے پیتے ہوئے آگے کی پلاننگ کرنے لگے۔ کیوں کہ اب وقت بہت کم رہ گیا تھا۔ کام بہت زیادہ۔۔۔ جسے انہوں نے کبیر علی کی شادی کے موقع پر لی گئی چھٹیوں میں نمٹانا تھا۔۔۔ سلمیٰ بیگم مُسکرا کر ان دونوں کی باتیں سُن رہی تھیں۔۔ اور دعا کر رہی تھیں کہ اللہ آگے بھی ان کے گھر میں خوشیوں کی ایسی ہی بہاریں اتارے۔۔۔ انہیں اُمید تھی کہ ان کا بیٹا بہت سمجھ دار ہے۔۔۔ وہ ماں اور بہن کے رشتے میں بیوی کی وجہ سے کوئی دراڑ نہیں آنے دے گا۔۔ دیگر باتوں علاوہ یہ بات انہیں اسے سمجھانے کی قطعی ضرورت نہیں۔۔۔ بس آنے والی سمجھ داری سے سب کے مزاج سمجھ لے۔۔۔ بلکہ صرف شوہر کے مزاج سے ہی آگاہی حاصل کر کے اس کے دل کو جیت لے۔۔۔ یہی کسی بھی کامیاب شادی شدہ زندگی کا راز ہوتا ہے۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔ x
اگلے دن کبیر علی ثنا کے ساتھ اس کی سہیلیوں اور رشتہ داروں کے گھر کارڈز دینے گئے۔۔۔ سیما گھر پہ نہ تھیں۔۔ نانوبی نے انہیں یقین دلایا کہ وہ اور سیما شادی میں ضرور آئیں گی۔۔۔ پھر دونوں کو کارڈز بانٹتے بانٹتے شام ہو گئی۔۔۔ اور وہ گھر لوٹ آئے۔۔۔ لکڑی والا اوپر کے پورشن کا کام کر رہا تھا۔۔ جو کہ اپنے آخری مراحل میں تھا۔۔۔اوپر کا پورشن اپنی نئی لُک کے ساتھ بہت خوب صورت لگ رہا تھا۔ بیڈ روم سیٹ اور دیگر فرنیچر ایک دو دن میں آجانا تھا۔۔۔ جس کے بعد کمرے کی قسمت چمک جائے گی۔۔۔ یہ سوچ کر کبیر علی خوش ہو گئے۔۔۔ ثنا نے پردوں اور بلائنڈز والا بھی بلوا لیا تھا۔۔ وہ اس کمرے کو اپنی دوست کے لیے خود تیار کر وا رہی تھی۔۔۔ چھوٹے چھوٹے شو پیس وہ پہلے ہی لا کر رکھ چکی تھی۔ کا رپٹ بھی ڈلوانا تھا۔ جو وہ بھائی کے ساتھ جا کر پردوں کے ہم رنگ لے چکی تھی۔۔ کمرہ سیٹ ہوتے ہی وہ بھی ڈال دیا جائے گا۔۔۔ شادی کی تقریبات سے پہلے ہی گھر کا کام تقریباً مکمل ہو چکا تھا۔۔۔ ماموں جان بھی ایک دو بار آکرکام دیکھ چکے تھے اور مطمئن تھے۔ وہ دونوں طرف کے بڑے کا رول بہ خوبی نبھا رہے تھے۔۔ ناہید بیگم کی طرف سے شادی کے کھانے کی ذمہ داری انہوں نے اُٹھائی تھی۔۔ وہ اس طرح ایک بڑا بوجھ بہن کے کندھوں سے ختم کرنا چاہتے تھے۔ حالاں کہ بہنوئی نے انہیں بہت منع کیا کہ اللہ کا شکر ہے ان کے پاس اتنی گنجائش ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو اچھی طرح رخصت کر سکیں۔لیکن وہ نہ مانے اور شہر کے ایک بہترین کیئٹر کی خدمات حاصل کر لیں۔۔۔ وہ جانتے تھے بہنوئی کی گنجائش ون ڈش سے زیادہ نہیں اور وہ خود بہت آسانی سے مہمانوں کو بہترین کھانا کھلا سکتے ہیں۔۔ فرنیچر کی ذمہ داری تو کبیر علی نے خود ہی اُٹھائی تھی۔۔۔ اس لئے وہ کھانے کے معاملے میں اچھے سے اچھا انتظام کر نے کی خواہش رکھتے تھے۔۔۔ وہ اس طرح اپنی بہنوں کے آگے اپنی شرمندگی کو کم کرنا چاہتے تھے جو وہ شدت سے محسوس کرتے تھے۔۔۔ اتنے دن اُن سے لاتعلق رہ کر اب انہیں لگتا کہ انہوں نے بہنوں سے بہت زیادتی کی ہے۔اب اس زیادتی کے احساس کو ختم کرنے کا وقت اور موقع انہیں پوری طرح مل رہا تھا۔جسے وہ کھونا نہیں چاہتے تھے۔۔۔ انہوں نے بہن کو فون کیا کہ وہ کل ان سے اورکبیر علی سے ملنے آرہے ہیں۔ایک ضروری معاملے پر بات کرنی ہے۔۔۔ انہوں نے دوسرے دن ماموں جان کا پیغام کبیر علی کو دے دیا کہ آج کہیں مت جانا۔تو وہ رُک گئے۔۔
ماموں جان نے دوپہر کا کھانا ان کے ساتھ ہی کھایا۔۔۔ اور پھر فارغ ہو کر اپنی بات شروع کی۔۔۔ “اگر بھائی جان ٹھیک ہوتے تو شاید وہ خود آکر اس معاملے پر بات کرتے لیکن چوں کہ مجھے انہوں نے یہ ذمہ داری سونپی ہے تو پھر میں ہی بات کروں گا۔۔۔” ” بھائی صاحب آپ کھُل کر بات کریں۔۔۔” اس بار سلمیٰ بیگم کو ان کی ہچکچاہٹ عجیب سی لگی کہ وہ کیا بات کرنا چاہتے ہیں۔۔”تم نے مہر کے بارے میں کیا سوچا ہے۔۔” “آپ حکم کریں۔۔۔” انہوں نے سکون کی سانس لی۔یہ کوئی بڑی بات نہ تھی۔ ورنہ وہ سمجھ رہی تھیں۔۔۔ کہ شاید کوئی بڑا معاملہ ہے۔۔۔۔ ” کیا تم نے کچھ نہیں سوچا اس بارے میں۔۔”اس بار انہوں نے حیران ہو کر پوچھا۔۔۔ بھائی جان یہ تو لڑکی کا حق ہوتا ہے۔۔ ا س کی زندگی بھر کا معاملہ۔اگر لڑکی والے خود بتائیں۔تو زیادہ بہتر رہتا ہے۔۔۔” انہوں نے بہت آرام سے جواب دیا۔۔۔” میں بھائی جان سے مشورہ کر کے آیا ہوں۔۔۔”پھر آپ ہی بتا دیں۔۔۔ آپ جو کہیں گے ہمیں قبول ہو گا۔۔” اُن کے خیال میں پانچ لاکھ جس میں ڈھائی لاکھ معجل اور ڈھائی لاکھ ہی غیر معجل۔۔۔” بالکل ٹھیک ہے۔ بلکہ میری بھانجی کو دیکھتے ہوئے یہ مہر بھی بہت کم ہے۔۔۔” انہوں نے بہت پیار سے سامعہ کا ذکر کیا۔۔۔ ” تم بتاؤ کبیر میاں تمہیں تو کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔” اس بار انہوں نے کبیر علی کی طرف دیکھا۔۔۔ “اعتراض کیسا ماموں جان!میری اور اماں کی بات اس پر پہلے ہی ہو چکی ہے۔۔۔ اور ان کے خیال میں کم ازم کم اتنا مہر تو ضرور ہونا چاہیے۔۔” انہوں نے بھی ماں کی بات کو بہت آرام سے نبھایا۔۔ کیوں کہ وہ دونوں پہلے ہی اس ٹاپک پر بات کر چکے تھے۔۔۔ بلکہ ان کا خیال تھا کہ انہیں بھی نکاح سے پہلے یہ ساری باتیں طے کر لینی چاہیے۔۔ اچھاہوا کہ ماموں جان نے سامعہ کا ولی بن کر یہ بات پہلے ہی طے کر لی۔۔۔ سلمی بیگم جانتی تھیں یہ مہر ان کی خوب صورت اور پڑھی لکھی بھانجی کے لیے ابھی بھی کم ہے۔۔ وہ مہر کی اہمیت سے بہ خوبی واقف تھیں۔۔۔ مہر کسی بھی اسلامی نکاح میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔ لیکن اُن کے معاشرے میں جہاں فضول رسومات کی ادائیگی میں لاکھوں روپے خرچ کر دئیے جاتے تھے۔۔۔ بیٹی کی مستقبل کومحفوظ رکھنے کا خیال کبھی سگے ماں باپ کو بھی نہیں آتا۔۔۔ وہ بھی سسرال والوں کے دباؤ میں اپنی بیٹی کی شایانِ شان مَہر نہیں لکھواتے۔۔۔ بلکہ کبھی کبھی تو سنتِ نبوی پر عمل کرتے ہوئے اُس زمانے کا مہر لکھواکر بیٹی کو دو کوڑی کا کر دیا جاتا۔ یہ بات کسی کے ذہن میں کبھی نہیں آتی۔اگر خدانخواستہ یہ رشتہ برقرار نہ رہ پایا تو ان کی بیٹی کیا کرے گی۔۔۔اسی طرح کے چند اور ضروری نکاحی امور کو نپٹا کر ماموں جان رخصت ہو ئے۔۔۔ ابھی انہوں نے چھو ٹی بہن کی طرف بھی جانا تھا۔۔ جس مقصد کے لیے آئے تھے۔ وہ پورا ہو چکا تھا۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
سامعہ نے فون کی طرف دیکھے بغیرپاس پڑا فون اٹھا لیا۔۔۔ دوسری جانب سیما کی آواز سُن کر خودکو کوسنے لگی کہ کم از کم نمبر تو چیک کر کے اُٹھاتی مگر جو غلطی ہو چکی تھی۔ وہ لوٹائی نہیں جا سکتی تھی۔۔۔ اب بات تو کرنا پڑے گی۔۔۔ سلام دُعا کے بعد سیما نے پہلی بات ہی شادی کے کارڈ کے بارے میں کی۔ ” مجھے ثنا کی طرف سے اس کے بھائی کی شادی کا کارڈ ملا ہے۔۔” وہ بہت کچھ نہ کہتے ہوئے بہت کچھ جتا گئی۔۔۔۔ ” ہاں تمہارا کارڈ میرے پاس بھی لکھا پڑا ہے۔۔ بس ٹائم ہی نہیں ملا کہ بھجوا سکتی۔۔۔۔” اس نے کمزور سی وضاحت دی۔۔۔” ٹائم نہیں ملایا بھیجنا نہیں چاہتیں۔ کلاس کی دو تین لڑکیوں نے بہ طور خاص مجھے فون کر کے پوچھا کہ مجھے تمہاری طرف سے شادی کا کارڈ ملا۔۔ انہیں تو مل چکا ہے۔۔۔” وہ ابھی بھی بہت کچھ جتا رہی تھی۔۔۔ اُس کا اپنی عقل پر ماتم کرنے کا دل چاہنے لگا۔۔ اسے یہ خیال کیسے نہیں آیا کہ اگر وہ کارڈ نہیں بھیجے گی تو کسی اور نے اُسے بتایا نہیں ہوگا۔۔۔ یا ثنا اُسے کارڈ نہیں دے گی۔۔۔ اور بات چھُپی رہ جائے گی۔۔۔۔
” بلانا کیوں نہیں چاہتی؟۔۔۔ ایسا کیوں سوچا تم نے۔۔۔ تم سے میری کیا لڑائی ہے؟” اس بار ا س نے سر سری سے انداز میں پوچھا۔”یہ تو تم کو معلوم ہو گا کہ کیا لڑائی ہے۔۔۔؟ لیکن کتنے عرصے سے میں تمہارے رویے میں ایک گریز سا محسوس کر رہی ہوں۔۔۔ مجھے بتاؤ گی کہ ایسا کیوں ہے؟”
” نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں۔ تم خوامخواہ ایسا سوچ رہی ہو۔۔۔ معلوم تو ہے تمہیں کچھ عرصے سے میرے حالات کیسے ہیں؟ بس بہت مشکل سے دوبارہ ٹھیک ہوئی ہوں۔۔۔ اس نے وضاحت کی۔۔۔ حالانکہ پوچھنا تو وہ چاہتی تھی کہ تم خود بھی عمر کے بعد اُس سے گریریاکیوں تھیں۔۔۔ اور رابطوں میں توقف کیوں آگیا تھا۔۔۔ لیکن کچھ پوچھ نہ پائی۔۔۔ کیا فائدہ اس بات کا احساس دلانے کا۔۔۔ غلطی توخود اس سے خود ہوئی تھی۔۔۔ اور اس غلطی پر وہ خود سیما سے بھی پشیمان تھی۔۔۔ عمر کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان جو کھیچاؤ آگیا تھا۔۔ وہ اب ختم ہونے والا نہیں تھا۔۔ ” تمہارا کار ڈلکھا رکھا ہے۔ جلد بھجواتی ہوں۔۔” اس نے بات بدلی۔۔۔” نہیں اس کی ضرورت نہیں ثنا کی طر ف سے کارڈ مل گیا ہے۔ایک ہی بات ہے۔ بس میں تو اس بات کا احساس دلا رہی تھی کہ ہم بھی کبھی اچھے دوست تھے۔اور شاید اچھے دوستوں کا اتنا حق تو ہوتاہے کہ اپنے دوستوں کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔۔۔” وہ چبا چبا کر بول رہی تھی۔۔ لیکن سامعہ کو قطعاً شرمندگی نہ تھی۔۔۔ ان دونوں کے درمیان دوستی کا وہ رشتہ تو نہ جانے کب کا ختم ہو چکا تھا۔۔۔ اس شخص کی وجہ سے جو شاید ان دونوں کے نصیب میں نہیں لکھا تھا۔۔۔
” ویسے تم سب سے یہی کہنا کہ تم نے بھی مجھے کارڈ بھیج دیا تھا اور میں تمہاری طرف سے ہی شریک ہونا چاہتی ہوں۔ ورنہ کلاس فیلوز خوامخواہ باتیں بنائیں گی۔۔” وہ ایک بار پھر طنز کر رہی تھی اور وہ طنزسہہ رہ تھی۔۔ کیوں کہ وہ سیما سے بات بڑھانے کے قطعی موڈ میں نہ تھی۔۔ اور پھر چند اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد اس نے فون بند کر دیا۔۔ اُسے سیما کا طنز بالکل اچھا نہیں لگا۔۔ لیکن وہ اس پوزیشن میں نہ تھی کہ سیما کو جواب دیتی۔ وہ خود سیما کو اس کے پچھلے رویے یاد نہیں دلانا چاہتی تھی۔ورنہ کہنے کو تو ا س کے پاس بھی بہت کچھ تھا۔۔ صرف ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئی۔۔۔ اور ایک بار پھر خود ترسی کا ایک شدید احساس اس کے اگ و پے میں سرائیت کر گیا۔۔۔ یہی احساس اس کو کبھی کبھی غلط راہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیتا تھا۔۔ اُسے لگتا قسمت نے اس کی شکل و صورت کے شایان شان کچھ نہیں دیا۔۔ اور یہ محرومی کبیر علی کے ساتھ کے احساس کی وجہ سے اور پختہ ہو رہی تھی۔۔۔ کبیر علی کسی دن دل میں جگہ بنا لیتے اور کسی دن دل سے بالکل اُتر جاتے۔۔۔ سیما کے فون کے بعد عمر کا خیال اُسے خود ترسی میں مبتلا کر گیا۔۔ کیا تھا اگر اللہ میری قسمت میں عمر آفندی جیسا شخص لکھ دیتا۔ اس کی اتنی بڑی کائنات میں سے صرف ایک شخص ہی تو مانگا تھا میں نے۔۔۔ اسے میرے نصیب میں لکھنے سے کیا کمی آجاتی۔۔۔ وہ اللہ سے پھر شکوہ کناں تھی۔۔۔ اور یہ دورہ اس وقت پڑ ا۔ جب اس کی زندگی میں ایک اور شخص کی ہم راہی قریب تھی۔۔۔ کبیر علی کی ہم راہی کی وہ کبھی خواہش مند نہ تھی۔ لیکن اللہ کا حکم سمجھ کر دل پر پتھر رکھ لیا تھا۔۔۔ اپنے دل سے عمر آفندی کو بھلانے کی ناکام کوشش کی۔۔ لیکن یہ وہ زخم تھا، جو بھرنے کی کوشش میں اُبھر اُبھر کر آرہا تھا۔۔۔ اس نے موبائل فون اُٹھا کر عمر کو بھیجا ہوا اپنا آخری میسج پڑھا میسج کے جواب میں عمر کا کوئی میسج نہیں تھا۔وہ سچ مُچ خفا تھا۔۔ لیکن وہ مجبور تھی۔۔۔ بھلا کیا کر سکتی تھی؟۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
آج نانو بی بہت دنوں کے بعد سیما کے آفس آئیں۔ اس کا کام دیکھنے کے بعد بہت خوش ہوئیں۔۔۔ وہ کافی محنت سے ان کے سارے پراجیکٹس بہ خوبی چلا رہی تھی۔۔۔ عمر بھی اُن کو دیکھ کر آفس میں آگیا۔آج اتفاق سے آفندی صاحب بھی آفس میں موجود تھے۔ساس کی آمد کی خبر سُن کر وہ بھی آگئے۔۔ کافی منگوالی اور ان سب کے درمیان کافی دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔۔۔ سیما نے کوئی میل چیک کرنے کے لیے عمرکو اپنی میز پر بُلایا۔۔۔ اور پھر کسی بات پر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر قہقہہ لگایا۔۔۔ اگلی نظر انہوں نے آفندی صاحب کی طرف ڈالی۔۔۔ ” میرے خیال میں وہ وقت آچکا ہے کہ جب ان دونوں کے درمیان بہترین دوستی ڈیویلپ ہو چکی ہے۔۔۔ اب آپ کا کیا خیال ہے؟ عمر سے بات کرنے کا وقت آچکا ہے۔۔” جی آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ میں بھی دیکھ رہا ہوں سیما کو آفس بھیجنے والی سٹریٹجی بالکل ٹھیک رہی۔۔۔ دونوں کے درمیان باؤنڈنگ ڈیولپ ہو چکی ہے۔۔۔ مجھے جلد ہی عمر سے بات کرنی ہو گی”۔۔ انہوں نے بھی ہنستے ہوئے بیٹے کو دیکھااور ان کی بات پر سر ہلایا۔۔۔”بس اب میں سیما کو زیادہ دیر تک گھر نہیں بٹھا سکتی۔۔۔ اس کی ساری کلاس فیلوز اپنے گھروں کی ہو رہی ہیں۔۔۔میں چاہتی ہوں جلد سیما بھی رخصت ہو کر اپنے گھر چلی جائے۔۔۔ پھر دونوں مل جل کر اپنا گھر اور یہ کاروبار سنبھالیں۔۔۔” وہ بہت محو ّیت سے نواسا اور نواسی کو تک رہی تھیں۔ انہیں لگ رہا تھا کہ اس طرح وہ اپنی بیٹیوں کے خون کو دوبارہ زندگی دے سکیں گی۔۔۔ عمر یا سیما کی شادی کسی اور جگہ ہو نے کی صورت میں یہ رشتہ بھی ٹوٹ جائے گا۔۔۔ “آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں میں خود بھی یہی چاہتا ہوں۔۔۔ کہ یہ دونوں مل جل کر اپنی زندگی کا آغاز کریں۔۔۔ میں عمر سے آخری بار اس موضوع پر جلدہی کھل کر بات کروں گا۔۔۔ اور مجھے یقین ہے جو حالات اس وقت میرے سامنے ہیں۔ عمر انکار نہیں کرے گا۔۔۔” وہ بڑی خوش دلی سے بولے۔ تو انہوں نے بھی مُسکر اکر کافی آخری سِپ لیا۔ ” بچو! یہ میلز بعد میں دیکھنا پہلے آکر اپنی نانو بی کے ساتھ ایک کپ کافی کا پی لو “۔۔۔ وہ دونوں ایک فریم میں جُڑے انہیں بہت اچھے لگ رہے تھے۔۔۔ مگر ان کی کافی ٹھنڈی نہ ہو جائے۔اسی خیال سے کو آواز دے ڈالی۔۔۔ پھر بہت اچھے ماحول میں کافی پی گئی۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
سامعہ جب اماں کے کمرے میں آئی تو وہ آنکھیں بند کئے بے آوازرو رہی تھیں۔۔۔ اس نے محسوس کیا اورگھبرا کر انہیں پکارا۔۔۔ ” اماں کیا ہوا۔ خیر تو ہے۔۔۔ آپ رو رہی ہیں۔۔۔”سامعہ نے ان کو اُٹھا کر بٹھا دیا۔۔۔ اور خود آنکھوں سے آنسو پونچھنے لگی۔۔۔
” پہلے ظفر چلا گیا تھا۔۔۔ اور اب یہ گھر تو بالکل ویران ہو جائے گا۔۔” “اماں میں کون سااس دنیا سے جارہی ہوں۔ جب آپ کا دل چاہے اپنے بھانجے کو فون کر دیجئے گا۔ وہ لے آئیں گے ملوانے۔۔” اس نے اُن کے ہاتھ چومے۔۔۔ تو وہ بلک بلک کر رونے لگیں۔۔۔” وہ جو دنیا سے چلا گیا۔اگر زندہ ہوتا تو آج یہ گھر شادی والاگھر ہوتے ہوئے موت کے گھر کا نقشہ پیش نہ کرتا۔۔۔ خوب شغل میلا لگاتا۔ تجھے کوئی کام نہ کرنے دیتا۔۔۔ دیکھ کل تیرا تیل پانی ہے اور تو سارے گھر کے کاموں کے بعد ہم دونوں کی خدمتوں میں لگی ہے۔۔۔” میں نے بھائی صاحب سے کہا تھا۔ ردا کو چند دن گھر میں چھوڑ جائیں۔ کچھ شور و غل ہی کر لے گی۔ لیکن انہوں نے اپنی بیوی کی مجبوری بیان کر دی۔ وہ کبھی راضی نہ ہوگی۔۔۔” وہ تاسف سے کہہ رہی تھیں۔۔ ” آپ نے ماموں جان سے کیوں کہا؟۔۔۔ وہ کس طرح ممانی سے چھُپ کر شادی کے انتظامات کر رہے ہیں۔آپ نے دیکھا نہیں۔۔۔” اُسے سخت بُرا لگا کہ اس کی خاطر ماں اپنے رشتہ داروں سے منتیں کر رہی تھیں۔۔۔ ہمارا کام تو ویسے بھی چل رہا تھا۔۔۔ اور ویسے بھی اب یہ ابٹن اور تیل پانی والی رسمیں کہاں رہ گئی ہیں۔۔۔ لڑکیاں شادی کے آخری دن تک اپنی شاپنگ کرتی پھرتی ہیں۔۔۔ پلیز آپ آئندہ کسی رشتہ دار سے رُکنے کا مت کہیے گا۔۔۔” اس نے ماں کو سمجھایا۔۔۔ تو وہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئیں۔۔۔ ان کے زمانے میں ابٹن لگا کر سات دن دلہن کو سارے کاموں سے چھوٹ دے دی جاتی تھی۔ وہ دن بھر آرام کرتی اور اس کی سہیلیاں اُسے ابٹن ملتیں۔ آج تو اُبٹن کی بو ہی لڑکیوں کو اچھی نہیں لگی۔۔۔ نجانے کیسے کیمیکل سے بنی اشیاء سے یہ پارلر والیاں دلہن کو سروسز دیا کرتیں۔۔۔ لیکن روپ پھر بھی نہیں چڑھتا تھا۔۔۔ آج تو مہندی اور مایوں کی دلہن بھی پارلر میں جا کر تیار ہوتی۔۔۔ ان کے زمانے میں سات دن تک سر میں تیل کی مالش ہوتی۔۔ ہلدی اور تیل ملا ابٹن روزانہ پورے جسم پر ملاجاتا۔ جب نکاح والے دن دلہن نہا دھو کر سامنے آتی تو اس کا روپ دیکھا نہیں جاتا تھا۔۔۔ انہیں اپنے دو رکی بہت سی باتیں یادآرہی تھیں۔۔۔ لیکن اپنی بیٹی کے وقت میں وہ مجبور تھیں۔۔ کچھ کر نہیں سکتی تھیں۔ کل آپا اور خاندان والے بری لے کر آرہے تھے۔۔۔۔انہوں نے بھی اپنی سسرال سے چند لوگوں کو بلا لیا تھا۔۔۔ ایک ہلکی پھلکی تقریب میں دونوں جانب سے رسوم ادا کی جانی تھیں۔۔۔ لیکن اس وقت گھر کی خاموشی سی فضا ان کے اندر ہو ل سے اُٹھا رہی تھی۔۔۔ وہ چاہتی تھیں کہ کچھ شور شرابا تو ہو۔۔ اسی لیے انہیں ایک دم ہی بیٹا یاد آیا۔ اگر وہ زندہ ہوتا تو یقینا گھر کا ماحول اتنا اُداس نہ ہوتا۔۔۔
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
شام کے سات بج چکے تھے۔ خالہ جان کے گھر والے آنے والے تھے۔۔۔ اس نے بے دلی سے ماں کی شادی کا غرارہ پہن لیا۔ جس پر زیادہ کام نہیں تھا اور ساتھ ہی ہلکا سا میک اپ۔۔۔جوڑادیکھنے میں نہایت نفیس لگ رہا تھا۔۔ اس کی اماں کی خواہش تھی۔۔۔وہ انہیں خوش کرنا چاہتی تھی۔ اسی لیے درزی سے اپنے ناپ کے مطابق بنوالیا۔۔۔ لیکن اماں کو اس کی خبر نہ ہونے دی۔۔۔ واقعی وہ اس وقت اپنی ماں کی جوانی کا روپ لگ رہی تھی۔۔۔ ناہید بیگم جب کمرے میں آئیں۔ تو اسے اپنے جوڑے میں ملبوس دیکھ کر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔۔ انہوں نے آگے بڑھ کر اُس کے ماتھے پر پیار کیا۔۔۔ اور گلے سے لگا لیا۔۔۔” تو بہت اچھی ہے۔ تو نے میرا مان رکھ لیا۔۔ اللہ تجھے اس کا اَجر دے گا۔ تو بہت خوش رہے گی۔۔۔” وہ بہت خوش تھیں۔اس نے اُن کا مان رکھ لیا تھا۔۔۔ مہمان آنے شروع ہو گئے تھے۔ سارا انتظام صحن میں کیا گیا تھا۔۔۔ ماموں جان نے صحن کو پھولوں سے ڈیکور کروایا تھا۔۔۔ تخت پر زرد رنگ کے گاؤ تکیے اور سفید چادریں بہار دے رہی تھیں۔۔۔ زرد ہی گیندے کے پھول سے بنی لڑیاں اور زرد اور سفید بجلی کے قمقمے۔۔۔ اسے لا کر تخت پر بٹھا دیا گیا۔۔۔ اس کی رسوم پہلے ہونی تھیں۔ ممانی نے کہا کہ دولہا میاں کو بھی ساتھ لا کر بٹھا دو۔۔ ایک ساتھ ہی رسمیں ہو جائیں گی۔۔۔ پہلے خالہ جان اور ان کی طرف کی خواتین نے اس کے ہاتھ پر پان کا پتا رکھ کر اس پر مہندی رکھی۔ مٹھائی کھلائی اور سر سے پیسے اتار کرر سمیں کیں۔۔ اس کے بعد اماں اور ممانی نے اپنے داماد کو اسی طرح کی رسوم کے بعدسر سے پیسے اتارے۔۔۔ وہ ہلکے سے میک اَپ میں بھی قاتل لگ رہی تھی۔۔۔ کبیر علی کی نظر نے ایک پل میں ہی اُسے دل میں بٹھا لیا۔۔۔ آج وہ خود بھی ہلکے کریم رنگ کے کرتے میں قبول صورت لگ رہے تھے۔۔۔ لیکن سامعہ کی سہیلیوں کو ان میں او رسامعہ میں کوئی جوڑ نظر نہ آیا۔ ان کے خیال میں سامعہ کے لیے اس سے زیادہ خوب صورت بندہ ہونا چاہیے تھا۔۔۔اور اس کا اظہار انہوں نے سامعہ کے کان میں سرگوشی کی صورت کر بھی دیا۔۔۔ سامعہ نے ٹھنڈی سانس لی۔ اس وقت شور سے سامعہ کا دم گھُٹ رہا تھا۔۔۔ وہ اپنے کمرے میں جانا چاہتی تھی۔ کھانا شروع ہوتے ہی اس نے ثنا سے کہاکہ اُسے کمرے تک پہنچا دے۔۔ اور ثنا اُسے لے کر کمرے تک آگئی۔۔۔اُسے اب اپنے اور کبیر علی کے موازنے کا احساس قدم قدم پر دلایا جائے گا۔۔۔ یہ اس معاشرے کا اصول ہے۔ بندے کی ساری اچھی عادتیں ایک طرف صرف اس کی ظاہری شکل صورت کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی کم صورتی کا احساس دلایا جا نا ضروری ہوتا تھا۔۔۔ اور وہ بھی اسی احساس کے بوجھ تلے تمام عمر دبائی جائے گی۔۔۔اس نے ہاتھوں سے گجرے اتار کر ایک طرف پھینکے اور واش روم میں گھُس گئی۔وہ ایک آخری بار کھُل کر رونا چاہتی تھی اور ایسا سب کے سامنے اس کے لیے مشکل تھا۔۔۔
باقی آئندہ
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.