مات____________زارا رضوان

تحریر:زارا رضوان

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

_______________

عورت کی سب سے بڑی دُشمن کوئی اور نہیں عورت ہوتی ہے۔ اُسکو ہرانے کیلئے، مات دینے کیلئے، بدلہ لینے کیلئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔۔ نادان عورت یہ نہیں جانتی مکافاتِ عمل بھی کوئی چیز ہے۔۔ کرما گھوم کرواپس پلٹتا ہے اور شدت سے وار کرتا ہے۔ مات اُسکا مقدر نہیں جو ہار گئی، اُسکا مقدر بنتا ہے جس نے مات دی۔
*************

موسموں کی دستک پہ یوں مزاج برہم کیوں
آنکھ میں نمی کیسی
ساتھ جب اضافی تھا ساتھ چلنے والوں کا
تو پھر اب کمی کیسی؟
جیسے جیسے شام ڈھل رہی تھی خنکی بڑھتی جا رہی تھی۔ ۔ آفس سے باہر نکلا تو ٹھنڈ اُسے پسلیوں کو چیرتی ہوئی آر پارمحسوس ہو رہی ہے۔۔
“اُف اِتنی سردی۔ کچھ زیادہ ہی وقت لگ گیا آج”۔۔ اُس نے خود کلامی کی۔ گھر پہنچنےمیں کم سے کم ایک سے ڈیرھ گھنٹہ لگ جاتا ۔۔
گاڑی میں بیٹھ کرلمبا سانس لیا، ہاتھوں کو مسلا اور ہاتھ اسٹئیرنگ پر رکھ دیئے۔
“چل یارحوصلہ کر۔ ہمتِ مرداں مددِ خدا”۔۔ تھوری دیررُک کر وہ اپنی منزل پر رواں ہو چکا تھا۔ تھوڑا ہی آگے گیا تھا کہ ایک لڑکی گاڑی کے سامنے آ کر رُکی۔ بہت مشکل سے بریک لگاتے لگاتے اُسے بچایا۔
” دماغ خراب ہے جو گاڑی کے آگے مرنے کیلئے آ گئی”۔ شیشہ نیچے کرکے اُسے اچھی خاصی باتیں سنا دیں۔
“معاف کیجئے گا۔ میں سڑک پار کر رہی تھی پتہ نہیں کیسے آپکی گاڑی آ گئی حالانکہ سڑک بالکل صاف تھی”۔ لڑکی نے معذرت کرتے ہوئے کہا۔
“اِٹس اوکے”۔ وہ کہہ کر شیشہ اوپر کرنے کو ہی تھا کہ لڑکی نے یکدم پکارا۔
“سنیئے”۔
“جی فرمایئے”۔ شیشے سے دوبارہ گردن نکال کر تنک کر کہا۔۔ آفس سے لیٹ نکلا اوپر سے سردی اور اب یہ لڑکی پارہ ہائی کرنے کو کافی تھی۔
” ٹھوکرنیاز بیگ بس ٹرمینل تک ڈراپ کر دیں گے پلیز ۔ مجھے اِسلام آباد جانیوالی بس پر سوار ہونا ہے”۔ لڑکی نے اِلتجا کی۔ اُس نے ایک نظر گھڑی پر ڈالی جو رات کے ساڑھے آٹھ بجا رہی تھی۔ پھر مشکوک نگاہوں سے لڑکی کو غور سے دیکھا۔ وہ انیس بیس سال کی تھی ۔ رات کے اِس پہر اکیلے سفر چہ معنی دارد!
“میں ایک شریف خاندان کی لڑکی ہوں۔ یہاں ہاسٹل میں رہ رہی ہوں۔ والد کی طبیعت ناساز ہے۔ شام کو ماما نے اِطلا ع دی۔ مجھ سے رہا نہیں گیا تو نکل پڑی”۔ لڑکی کو صفائی دینی پڑی۔
“آیئے”۔ دوسری طرف دروازہ کھولا اور بیٹھ گئی۔
“شکریہ مسٹر؟”۔۔ہینڈ بیگ گود میں رکھتے ہوئے بولی۔
“احد۔۔ احد صدیقی”۔
“ہمم۔ اچھا نام ہے۔ میرا نام کشمالہ ہے۔ کشمالہ زبیر”۔ وہ خاموش رہا۔ وہ بھی کانوں میں ہینڈ فری لگا کر گانے سننے میں مصروف ہو گئی۔
“رات کے اِس پہر اِتنا طویل سفر کیسے کریں گی؟”۔ احد نے خاموشی کو توڑا۔
“طویل کہاں۔۔ دو ڈھائی گھنٹے کا سفر ہے۔ آرام سے میوزک سنتے گزر جائے گا”۔ ایک کان سے ہینڈ فری نکال کراُس نے جواب دیااور واپس کان میں لگا لی۔ یعنی مزید باتوں کے موڈ میں نہ تھی۔
احد نے کوئی بات نہ کی۔ وہ بھی چپ چاپ ہینڈ فری کانوں میں لگائے گانے سنتی رہی۔آواز اِس قدر تیز تھی کہ احد کو میوزک کی جھنکار باہر تک سنائی دے رہی تھی۔ ساتھ ساتھ میسج پرکسی سے بات کر رہی تھی۔ تھوڑی دیر میں ٹھوکر نیاز بیگ بس ٹرمینل آگیا۔
“رُکئے۔ ساتھ چلتا ہوں۔ بس چلے گی تو چلا جاؤنگا”۔ شکریہ اَدا کرکے وہ جانے کو تھی کہ احد نے کہا۔
“ارے اِسکی ضرورت نہیں۔ میں چلی جاؤنگی۔ یہاں تک چھوڑنے کیلئے بہت بہت شکریہ”۔۔ لڑکی نے ہینڈ بیگ کندھے پر لٹکایا اورچلی گئی۔ احد نے دور تک جاتے دیکھا۔ پیلے رنگ کی ٹائٹس کیساتھ سرخ شرٹ اور جینز کی چھوٹی سی جیکٹ جو سردی کو شاید ہی روک سکتی۔۔گردن پر براؤن رنگ کاسکارف لپیٹا ہوا تھا۔ حلیئے سے وہ ماڈرن بلکہ الٹرا ماڈرن گھرانے کی لڑکی لگ رہی تھی۔ اُس نے کندھے اُچکائے اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔
************
گھر پہنچا تو ساڑھے نو ہو رہے تھے۔ بیگم درخشاں جو پریشان بیٹھی تھیں اُسے دیکھ کر ایکدم اُٹھ کھڑی ہوئیں۔
“کہاں رہ گئے تھے؟ اِتنی دیر کبھی نہیں ہوئی آج تک؟ پھر آج تاخیر کیوجہ”۔۔ اُنہوں نے آتے ہی سوالات شروع کر دیئے۔
“مما مما سانس تو لینے دیں۔ آتے ہی شروع ہو گئی ہیں”۔۔ احد صوفے پر گرتے ہوئے بولا۔
“صاب پانی”۔۔ صفیہ نے پانی کا گلاس آ گے کیا تو احد تپ گیا۔
“اِتنی سردی میں اِس وقت پانی کی طلب کس پاگل ہو گی؟ “۔۔
“آپکو صاب”۔۔ صفیہ نے کہا فوراً زبان دانتوں تلے دبا لی۔
“مم میرا مطبل آپ پانی پئیں۔ تب تک میں کھانا لگاتی ہوں”۔۔
“جاؤ تم کھانا لگاؤ”۔۔ درخشاں نے کہا۔
“نہ نہ۔۔صرف کافی اور کچھ نہیں۔ مما شام کو آفس میں سینڈوِچ اور پیسٹری کھا لی تھی ابھی بالکل بھی بھوک نہیں ہے”۔۔ صفیہ کوہاتھ کے اِشارے سے منع کرتے ہوئے کافی کا کہاپھر ماں کو تفصیل بتائی تاکہ اُنکی تسلی ہو جاتی۔ احد جانتا تھا وہ اُس کے معاملے میں کافی پوزیسیو تھیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہو جاتی تھیں۔ اِس دوران وہ اُس لڑکی والی بات ماں کو بتانے بیٹھ گیا۔
“کیا ضرورت پری تھی لفٹ دینے کی؟ کوئی اونچ نیچ ہو جاتی تو؟ نہ جانے کون تھی، کہاں سے آئی تھی، کہاں جانا تھا؟”۔۔ پوری بات سننے کے بعدوہ شروع ہو گئیں تو احد تپ گیا۔
“شکل سے اچھے گھرانے کی لگ رہی تھی۔ البتہ تھوڑی بلکہ کچھ زیادہ ہی ماڈرن تھی”۔۔ احد نے لہجہ نارمل رکھا۔
“لگتا ہے بہت غور سے دیکھاہے تم نے”۔ اُنہوں نے شکی نظروں سے بیٹے کو دیکھا۔
“اوہ کم آن! اب ایسی بھی بات نہیں مما”۔۔
“دیکھو احداچھے گھرانے کی لگنے اور ہونے میں فرق ہوتا ہے ۔ ضروری نہیں فیملی اچھی ہے تو لڑکی بھی “۔۔
” ممایار اپ بھی نہ۔ بال کی کھال نکالنے بیٹھ جاتی ہیں۔ ہر کسی میں خامی نکالنے کا موقع چاہیے ہوتا ہے”۔۔ درخشاں کی بات کاٹ کر کہا۔
اُسے اپنی ماں کی یہی بات ناپسند تھی کہ وہ منفی سوچتی تھیں۔ ہر بات کو منفی رُخ پر لیجاتیں۔ کسی میں خوبی نظر بھی آتی تو مطلب کی بنیاد پر ورنہ اُنکی نظر میں ہر بندہ مطلبی، خود غرض اور لالچی ہے۔
**********
وہ ایسی نہیں تھیں ۔حالات نے اُنکو شکی اور بدمزاج بنا دیا تھا۔ دراصل کامران اور درخشاں ایکساتھ کالج میں پڑھتے تھے۔ دوستی کب محبت میں بدل گئی دونوں کو خبر نہ ہوئی۔ کامران صدیقی کی نسبت بچپن سے ہی اپنی چچا زاد انعم سے طے تھی اور وہ اِس بات سے واقف تھے۔ کامران کے چچا معظم صدیقی نیچے والے پورشن میں اپنی بیوی ایک بیٹی انعم اور دو بیٹوں مہران اور نعمان کے ساتھ رہتے تھے۔ جبکہ اوپر کا پورشن کامران کے والد کاظم صدیقی کے پاس تھا۔ کامران اُنکی اکلوتی اولاد تھے۔ انعم کیلئے کامران کے دِل میں محبت جیسی بات تو نہ تھی لیکن یہ بات تھی کہ وہ اُنکی ہونیوالی شریکِ حیات ہے مگر درخشاں کا زندگی میں آنا کیا ہوا وہ سب بھول گئے۔ کہتے ہیں جب کسی کی محبت کی کونپل دِل میں کھلتی ہے تو اُسےپھول بننے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ یہاں بھی یہی معاملہ ہوا۔ وہ کسی بھی طرح اپنی محبت سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھے۔ والدین کی ناراضگی مول لیکر درخشاں سے شادی کر لی۔ معظم اور کاظم کے رِشتوں میں دراڑ نہ آئی کیونکہ معظم جانتے تھے کہ اولاد جب اپنی مرضی پر آجائے تو کسی کی نہیں مانتی۔ کسی نہ کسی موڑ پر والدین کو ہتھیار ڈالناپڑتے ہیں، اولاد کی خوشی کے آگے سر خم کرنا پڑتا ہے۔۔
کامران نے درخشاں کو ماڈل ٹاون والے مکان میں رکھا تھا جہاں پہلے کرائے دار تھے۔ کچھ ماہ بعد جب اُسکے اُمید سے ہونی کی خبر سنی تو معظم نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بھائی کاظم اوربھابھی کو منایا کہ اکلوتا بیٹا ہے اور یہ پورے گھر کی پہلی خوشی ہے اِسلئے مان جانا چاہیے ۔ وہ دونوں مان گئے اور اُسے اپنی بہو تسلیم کر لیا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ اُمید سے ہیں ندرت اپنا وقت نیچے گزارتیں۔کاظم بینک میں اوڈٹ ڈیپارٹمنٹ میں ہوتے تھے وہ صبح نو بجے جاتے تو شام پانچ بجے آتے۔ درخشاں اوپر اکیلی بیٹھی رہتی۔سارا دِن بور ہوتی رہتی۔ طبیعت اوازار ہوتی تو لیٹ جاتی ۔ کچھ کرنے کو نہ ہوتا تو سو جاتی۔ جیسے ہی کامران کے آنے کا وقت ہوتا اُس سے پہلے دونوں اوپر آ جاتے اور ایسے ظاہر کرتے جیسے سارا وقت اوپر ہی رہتے ہوں۔۔
جیسے بھی تھا وقت اچھا گزر رہا تھا۔آہستہ آہستہ درخشاں کو گڑبڑ کا احساس ہونے لگا۔اُسے شک گزرا کہ کامران انعم میں دِلچسپی لینے لگے ہیں۔ پہلے تو وہم سمجھ کر جھٹک دیا پرکامران کے رویے میں آنیوالی تبدیلی نے اُسکا شک یقین میں بدل چکا تھا۔ ۔ اُنکا زیادہ وقت معظم صدیقی پورشن میں گزرنے لگ گیا۔ اکثر کھاناوہیں کھا کرآتے ۔ ساس سسر کا رویہ وہ سمجھ سکتی تھی کہ اُنکے لئے اَن چاہی بہو تھی مگر کامران اُسکے ساتھ ایسا کیوں کر رہے تھے وہ سمجھنے سے قاصر تھیں۔ اُسکی خاطر ماں باپ تک سے ٹکرا گئے مگر اب وہ کچھے کچھے سے رہنے لگے تھے۔ درخشاں کوئی بات کرتی تو بلاوجہ تپ جاتے، بحث شروع کر دیتے۔ وہ خاموش ہو جاتیں۔۔ جتنی بھی بحث ہوتی وہ بھولے سے بھی انعم کو بیچ میں نہ لاتی تھی وہ کوئی ایسی بات نہ کرنا چاہتی تھی جو کامران کے دِل میں بیٹھ جائے کیونکہ جو بات مرد کے دِل میں بیٹھ جاتی ہے پھر وہ کرکے ہی چھوڑتا ہے۔۔ کامران کی جھکی نظریں، بدلتا رویہ سب بتا رہا تھا کہ وہ انعم کے حصار میں آ رہا ہے۔ درخشاں کی محبت کہہ لیں یا ساتھ جو اُسے قبول کرنے سے روکے ہوئے تھا۔
“کامران آپ مجھ سے دُور ہوتے جا رہے ہیں۔ کچھے کچھے سے رہتے ہیں۔ کوئی بات ہے؟ کوئی ناراضگی؟ مجھے بتایئے میں آپکی شکایت دُور کرونگی”۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی ایکدن شکوہ کردیا۔
“ایسی کوئی بات نہیں۔ تمہارا وہم ہے”۔۔ کوٹ اُتارتے ہوئے کہا۔
“وہم ؟ آپ جسے میرا وہم کہہ رہے ہیں وہ یقین ہے۔ آپکا رویہ ، آپکی باتیں، آپکا زیادہ وقت نیچے گزارنا، مجھ سے کترانا۔۔ یہ سب وہم تو نہیں ہو سکتا؟ آپ بدل گئے ہیں کامران”۔ وہ شکوہ کناں تھی۔
” میں ویسا ہی ہوں پر تم بدل گئی ہو۔ بہت دعوے کئے تھے مما پاپا کو منانے کے۔۔ یہ۔۔ یہ منا رہی ہو۔میں نے کہا بھی تھا کہ سب کیساتھ گھل مل کر رہنا مما پاپا کے دِل میں جگہ بنانامگر تم۔۔ تم سارا دِن اپنے کمرے میں گزارتی ہو۔۔سوتی رہتی ہو۔ مجبوراً اُنہیں نیچے اپنا وقت گزارنا پڑتا ہے”۔۔کامران کا لہجہ اُسکے دِل کو چیر گیا۔ حالانکہ یہ اُسکی باتوں کا جواب نہیں تھا۔
“یہ غلط ہے کامران۔ میں اُنکو کمپنی دینا چاہی۔ کتنی بار اُنکے پاس گئی بات چیت کی کوشش کی لیکن اُنہوں نے کبھی سیدھے منہ بات نہ کی۔ اِس حالت جب کہ اپنوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ پاس نہیں ہوتے۔ مجھے تو انکل نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ کامران کی بیوی ہو، بیوی بن کر رہو۔ بدقسمتی سے ہماری بہو بن گئی ہو لیکن ہم اِس رِشتے کو تسلیم نہیں کرتے۔ میں اُنکو کہیں جانے سے روک تو نہیں سکتی اگر روکوں بھی تو کس حق سے”۔
“واٹ۔۔ تم ہوش میں ہو؟ پاپا نے یہ سب تم سے کہا؟ ہرگز نہیں۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔۔ مما پاپا خود تمہیں اِس گھر پر لائے ہیں اور وہ تمہیں ایسے کہیں۔۔ نا ممکن”۔۔ ۔ نائیٹ ڈریس بستر پر پھینکا اور راکنگ چئیرپربیٹھ کر جھولنے لگا۔
“آپ کہنا چاہتے ہیں میں جھوٹ بول رہی ہوں؟”۔۔ اُس نے تصدیق چاہی
” کہنا نہیں چاہتا میں یہی کہہ رہا ہوں۔میرا نہیں خیال پاپا ایسی کوئی بات کر سکتے ہیں”۔۔ وہ ماننے کو تیار نہ تھا۔
“میں قسم کھانے کو”۔۔ اُس نے درخشاں کی بات کاٹ دی
” اکیلے رہ کر تم نفسیاتی ہوتی جا رہی ہو درخشاں۔ کچھ بھی کہہ دیتی ہو، سمجھ لیتی ہو۔ ٹھیک بات نہیں ہے۔ بالکل بھی نہیں”۔۔
“صحیح کہہ رہے ہیں میں نفسیاتی ہوتی جا رہی ہوں کیونکہ مجھے نفسیاتی اور ذہنی مریض بنایا جا رہا ہے ۔ بنانے والے کوئی اور نہیں آپکے والدین ہیں”۔ اُس نے خود پر اُنگلی سے اِشارہ کرتے ہوئے کہا اور بستر پر گر سی گئی۔۔ وہ سسک رہی تھی رو رہی تھی۔ کامران کو پروا نہیں تھی۔
“تمہاری اِنہی حرکتوں کی وجہ سے میرا دِل تم سے اوب گیا ہے”۔۔ وہ کمرے سے باہر چلا گیا۔۔ درخشاں حیران پریشان دیکھتی رہی۔ وہ سوچ رہی تھی اسکو چپ کروائے گا مگر اُس نے پروا تک نہ کی۔ یہ بھی نہ سوچا وہ کس حال میں ہے۔
**********
بازی پلٹ چکی تھی۔۔ بال مسٹر اور مسزکاظم صدیقی کے کورٹ میں جا چکی تھی۔کیسے کھیلنا ہے اُن سے بہتر کون سمجھ سکتا تھا۔ بیٹے کی پیدائش کا سن کر پورے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئ۔ ہر کوئی خوش تھا۔ سب کی متفقہ رائے پر موحد صدیقی نام رکھا گیا۔ درخشاں کے دِل میں امید کی کرن جاگی کہ اب سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔ وہ لوگ اُسے دِل سے تسلیم کر لیں گے۔ مگر خوش فہمی کا کوئی علاج نہیں ۔
موحد کو ندرت کاظم ہر وقت اپنے ساتھ ساتھ چمٹائے رکھتیں۔۔ پیمپرتک وہ خود تبدیل کرتیں۔ دودھ پلانا ہوتا تو درخشاں کے پاس لیجاتیں جتنی دیر وہ دودھ پلاتی وہ کسی انسپکٹر کی طرح سر پر سوار رہتیں۔ آہستہ آہستہ موحد کو ڈبے کے دودھ پر لگا دیا اِسطرح موحد درخشاں سے مزید دُور ہو گیا۔سارا دِن وہ نیچے پورشن میں رہتا۔۔ندرت، معظم اور انعم کیساتھ وہ کافی اٹیچ ہو گیا تھا ۔ رات گیارہ بارہ بجے اُسے دے دیتیں تاکہ کامران تھوڑی دیر اُس سے کھیل سکے۔ فجر کی نماز پڑھ کر موحد اُسکے کمرے سے لیجاتیں۔۔درخشاں ہر وقت جلتی کڑھتی رہتی مگر کسی کو پروا نہ تھی۔ ایکدن کامران کو کہا تو وہ اُلٹا اُس پر برس پڑا۔
” تمہارا مسئلہ میری سمجھ سے باہر ہے”۔ شوز اُتار کر تقریباً پھینکتے ہوئے کہا۔
” وہ دادی ہے اُسکی اگر وقت گزارلیتیں ہیں تو کیا ہوا؟ اس عمر میں کوئی کام بھی تو نہیں جو وہ کر سکیں۔ اگر موحد کیساتھ خوش ہیں تو تمہیں کیا پرابلم ہے؟ ویسے بھی ہر دادا دادی یہی کام کرتے ہیں۔ اُنکا کام ہی اولاد کی اولاد کیساتھ وقت بیتانا ہوتا ہے”۔۔ درخشاں نے سوالیہ نظروں سے دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو کیا غلط کہہ دیا۔۔
“کامران میں نے کب کہا وہ اُسکے ساتھ ٹائم سپینڈ نہ کریں۔ مجھے بھلا کیوں اعتراض ہوگا۔۔ اُنکا حق ہے وہ کریں پیار۔ اِن فیکٹ مجھے خوشی ہوتی ہے اُنکو پیار کرتا دیکھ۔ پر میرا بھی حق ہے۔۔ موحد ساڑھے تین ماہ کا تھا جب امی نے ڈبے کا دودھ لگا دیا ۔ مجھے اِس پر بھی اعتراض نہیں ہوا۔حالانکہ پہلے دودھ پینے کیلئے صحیح کچھ وقت پاس ہوتا تھاپر اب تو ترس جاتی ہوں۔ایک سال دو ماہ کا ہو گیا ہے مگر میری پہچان تک نہیں۔۔ سارا دِن امی کے پاس ہوتا ہے اور امی نیچے۔۔ رات کو دے جاتیں ہیں جب میں خود تھکن سے چور نیند کی طلبگار ہوتی ہوں۔ کامران میں سارا دِن ا،دھر اُدھر بھٹک رہی ہوتی ہوں مگر امی اُسے مجھ سے۔۔ اُسکی ماں سے یوں چھپائے چھپائے پھرتی ہیں جیسے میں کوئی بلا ہوں۔آخر تو ماں ہوں ۔۔ دِل تڑپتا ہے اپنے بچے کو گود میں لینے کیلئے۔۔ یہ سزا کا کونسا طریقہ ہے؟”۔ وہ رو پڑی۔۔ کامران کا دِل پسیج گیا۔۔
“درخشاں درخشاں۔ میں بیچ منجدھار پھنس گیاہوں۔ مانتا ہوں وہ غلط کر رہے ہیں لیکن جو تم کر رہی ہو وہ بھی تو ٹھیک نہیں”۔۔
“میں؟ میں کیا کر رہی ہوں۔۔ بتایئے ایسا کیا کر رہی ہوں سوائے برداشت کرنے کے جو غلط ہے؟”۔ اُسکی برداشت جواب دے گئی،۔
“سارا سارا دِن کمرہ بند کرکے بیٹھے رہنا، کسی سے گھل مل کہ نہ رہنا، سیدھے منہ بات نہ کرنا۔۔ کیا ہے یہ سب؟”۔۔اِس اِلزام پر وہ حیران رہ گئی۔۔
“یہ یہ بات غلط ہے۔ اِلزام ہے مجھ پر۔۔ آپکو کئی بار بتا چکی ہوں میں نے ہمیشہ کوشش کی انکل آنٹی کو کمپنی دینے کی لیکن اُنہوں نے ضرورت محسوس نہیں کی بلکہ مجھے منع کر دیا کہ۔چہ۔ چھوڑیں میں پھر سے تفصیل کیوں بتا رہی ہوں۔۔ کونسا کوئی یقین کرے گا یہاں”۔۔صفائی دیتے دیتے خاموش ہو گئی۔ جہاں سننے والا کوئی نہ ہو وہاں بات چیت بیکار جاتی ہے۔۔ تاویلیں، صفائیاں، بحث لاحاصل رہتی ہے۔
“مجھے لگا تھا جیسے جیسے وقت گزرے گا وہ تمہیں قبول کر لیں گے لیکن نا جانے وہ کیوں قبول نہیں کر پا رہے۔ میں پریشان ہو کر رہ گیا ہوں۔۔ اُلجھ سا گیا ہوں”۔۔
“آپ اُلجھے نہیں ہیں آپکو اُلجھایا جا رہا ہے۔ مجھ سے بدگمان کیا جا رہا ہے جسکی وجہ سے آپ کا وقت نیچے گزرتا ہے، کھانا آپ وہیں سے کھا کر آتے ہیں، مجھ سے ضرورت کے تحت بات کرتے ہیں ورنہ موحد کیساتھ کھیل کر سو جاتے ہیں”۔۔ وہ پھر سے شکوہ کناں ہو گئی۔
“میں جان بوجھ کر ایسا نہیں کرتا۔ مما پاپا کی باتیں، چاچی کا اُنکے کیلئے رونا کہ تم اُنکے ساتھ اچھا نہیں کرتی وغیرہ۔میرا دِل عجیب سا ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ مجھے لگتا ہے میں نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے شادی کرکے”۔۔ کامران ایکدم خاموش ہوگیا۔۔ درخشاں دیکھتی رہ گئی۔
“واقعی غلطی کی آپ نے شادی کرکے”۔۔
“میرا مطلب یہ نہیں تھا۔۔ تم شاید کہیں نہ کہیں کوئی تو کوتاہی کر رہی ہو جو تم سے اب تک بدگمان ہیں”۔۔
“کوتاہی تو ہوئی ہے۔ بہت بڑی کوتاہی”۔ وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا۔
” آپ سے شادی کسی کوتاہی سے کم نہیں کامران۔اِسی کی سزا مل رہی ہے”۔۔ اُسکا لہجہ نمناک ہو گیا۔
“رہی بات بدگمان کی تو ٹھیک ہیں رہیں بدگمان ۔۔مجھے پروا نہیں اور نہ شوق کہ اُنکو منانے میں زندگی گزار دوں۔ میرے بچے کو قریب رہ کر مجھ سے دُور کرنے کی کوئی تک نہیں بنتی۔ مجھے اپنا بچہ اپنے پاس چاہیے۔ ہر وقت”۔۔ وہ بغاوت پر اُتر آئی۔
“درخشاں ایسے وہ اور بدظن ہو جائیں گے”۔۔ کامران پریشان ہو گیا۔
“مجھے پروا نہیں۔۔ اب کسی کی پروا نہیں”۔۔ وہ ڈٹ گئی۔۔
“میری بھی نہیں؟”۔۔ اُس نے جذباتی بلیک میل کیا۔ درخشاں نے ایک نظر اُسکی آنکھوں میں دیکھا۔ سوائے مطلب کے کچھ نظر نہ آیا۔
“پہلے تھی اب نہیں۔۔ کیونکہ۔۔ کیونکہ آپکو میری پروا نہیں رہی۔۔ جی کو جی ہے”۔
“یہ کیا کہہ رہی ہو کہ مجھے تمہاری پروا نہیں؟”۔۔ کامران کو حقیقتاً برا لگا۔۔ جب بات مرد پر آتی ہے تو وہ یونہی بلبلاتا ہے۔۔
” ہوتی تو آج میں مجبور نہ ہوتی۔ اُنکو سمجھانے کی بجائے ، اُنکا ساتھ دینے کی بجائے آپ میرے ساتھ وہی کر رہے ہیں جو آپکے والدین کر رہے ہیں۔ حمل سے تھی جب رات کو دیر سے آتے تھے یہ تک نہیں پوچھتے تھے کہ آپکے اِنتظار میں جاگ رہی ہوں کھانا کھایا یا نہیں۔ ۔ بس اِتنا کہہ دیا میں نیچے سے کھا کر آیا ہوں۔اُس حالت میں ڈاکٹر کے پاس اپنی ماما کیساتھ جاتی رہی ہوں ۔ وہ بحث، وہ جھگڑے سب یاد ہیں۔ اب جبکہ موحد ہے تو بھی میں بن اولاد کی طرح یہاں وہاں پھر رہی ہوتی ہوں۔ پروا ہوتی تو میرا بچہ۔۔آہ میرا سر “۔ بات کرتے کرتے سر تھام کر بیٹھ گئی ۔۔ ایکدم بیہوش ہو گئی۔
“درخشاں درخشاں”۔۔ اُسکو اُٹھانے کیلئے اُس پر پانی ڈالا لیکن وہ بے حس پڑی تھی۔۔ کامران ڈر گیا۔۔جلدی سے ڈاکٹر کو کال کی۔۔
ڈاکٹر نے اُمید سے ہونے کی خبر دی تو کامران کا خوش ہو گیا۔ معظم نے درخشاں کے سر پر ہاتھ رکھ کر مبارکباد دی۔ اُسکی بیوی شبانہ نے جھوٹے منہ سے کچھ نہ کہا۔ انعم نے ماتھا چوم کر مبارکباد دی۔اُسکا لہجہ بتا رہا تھا وہ حقیقتاً خوش تھی۔۔ ندرت اور کاظم کے چہرے سے وہ اندازہ نہ لگا پائی کہ خوش تھے یا نہیں۔ دونوں میں سے کسی نے اُسکے سر پر پیار سے ہاتھ نہ رکھا۔۔ درخشاں کے چہرے پر خوشی نام کی کوئی چیز نہ تھی۔اُسکا چہرہ بالکل سپاٹ تھا۔
” موحد کے پاس ہوتے ہوئے بھی دُور کر دی گئی ہوں۔ وہ میرے لمس سے ناآشنا ہے۔ کیا ایک بار پھراِمتحان سے گزرنا ہوگا؟ ایکبار پھر اولاد کی خاطر بے چین پھرنا ہوگا؟ نہیں نہیں اب نہیں۔۔ اب کی بار میں ایسا کچھ نہیں ہونے دونگی۔ موحد کوبھی چھین لونگی اِن سے”۔۔ وہ اپنے خیالوں میں گم تھی۔۔ پتہ نہ چلا سب باہر چلے گئے۔ انعم وہیں بیٹھی رہی۔ درخشاں نے آنکھوں سے بازو ہٹا کر دیکھا جیسے پوچھنا چاہتی ہو تم کیوں نہیں گئی۔ انعم سمجھ گئی۔
“آپ سے بات کرنی تھی”۔ انعم نے کہا تو درخشاں کو غیر معمولی پن کا احساس ہوا۔ وہ کسی جانے انجانے خدشے کے تحت بیٹھ گئی۔
“ارے ارے آپ لیٹی رہیے۔۔ ڈاکٹر نے کہا ہے آپکو کمزوری بہت ہے۔ احتیاط کریں”۔۔ انعم نے اُسکو سہارا دے کر بیٹھاتے ہوئے کہا۔ پھر دروازہ بند کرنے چلی گئی۔
“میں۔۔ میری نسبت”۔۔ وہ سمجھ نہ پائی کیا بات کرے کیسے کرے۔ درخشاں نے اُسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ۔ انعم کو حوصلہ ہوا۔
“آپ۔۔ آپ یہاں سے چلی جائیں درخشاں”۔۔ وہ اِتنا کہہ سکی۔درخشاں حیرانگی سے اُسے دیکھتی رہ گئی۔ شادی سے اب تک انعم کی اُس سے تفصیلاً پہلی ملاقات تھی اور انعم کا ماتھے پر بوسہ دینا اِس بات کا ثبوت تھاکہ وہ مخلص ہے۔ مگر اِس بات نے اُسکی نفی کر دی۔
“واٹ۔ کیا کہا؟”۔ انعم کی ڈھٹائی پروہ حد درجہ حیران رہ گئی۔ کتنی آسانی سے اُسکا پتہ صاف کرکے وہ اپنا راستہ بنا رہی تھی۔
“وہی جو آپ نے سنا”۔
“تم نے کہا اور میں نے مان لیا “۔۔وہ طنزیہ ہنسی۔
“ماننا پڑے گا”۔ انعم نے کہا۔
“ہنہ۔۔ اچھا۔۔ تم ہو کون جو مجھے حکم دے اور جسکی بات ماننا خود پر فرض سمجھوں؟ “۔
“درخشاں یہاں آپکا کوئی نہیں ہے۔ کوئی نہیں۔ بڑے پاپا اور تائی ماں نے ڈیڈ کے کہنے پر آپکو قبول کیا تھا۔ ہمیں لگا اُنہوں نے دِل سے قبول کیا ہے۔ مگر یہ ہماری بھول تھی۔ بڑےپاپا ، تائی ماں نےاب تک آپکو قبول نہیں کیا جسکا فائدہ بد قسمتی سے میری مامااُٹھا رہی ہیں”۔۔ وہ خاموش ہو گئی۔ درخشاں اُسے دیکھتی رہی۔
“تمہارے ڈیڈ؟”۔ درخشاں نے پوچھا
“آپکو بتا چکی ہوں کہ ڈیڈ نے ہی بڑے پاپا اور تائی ماں کو راضی کیا تھا۔بڑے پاپا شاید قبول کر لیتے لیکن جب عورت کی فطرت میں دوسری عورت کیلئے خلوص، نیک نیتی شامل نہ ہو تو مرد کچھ نہیں کر سکتا۔تائی ماں اور ماما کی وجہ سے بڑے پاپا آپ سے تلخ ہو جاتے ہیں۔ وہ جیسے ہی آفس سے آتے ہیں بڑی ماما اور ماما جانے کیا کیا کہتی ہیں۔ ایموشنلی بلیک میل کرتی ہیں اور وہ آپ سے بدگمان ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی کامران کے معاملے میں ہے”۔
” میرے چلے جانے سے کیا ہوگا؟ کامران مجھ سےمزید دُور ہو جائیں گے۔ بھلے آفس سے آکراُنکا سارا وقت نیچے گزرتا ہے لیکن رات کو میرے پاس آنے کی اُمید ہوتی ہے کیونکہ منزل بہرحال میں ہی ہوں”۔ درخشاں نے کہا۔
“اِس بھول میں مت رہیے گا کہ اُنکی منزل آپ ہیں۔ مرد کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔ایک کہاوت ہے کہ مرد عورت کے سرہانے کا سانپ ہوتا ہے کب”۔۔ اُسکی بات پوری ہونے سے پہلے درخشاں بول پڑی۔
“انعم تمہیں جو کہنا ہے کھل کر کہو۔ میں تمہاری باتوں کو سمجھ نہیں پا رہی۔۔ اگر سمجھ بھی رہی ہوں تو مطلب غلط نکلتا ہے ۔۔یعنی تمہارے خلاف اور فی الوقت میں تمہارے بارے میں غلط نہیں سوچنا چاہتی”۔۔
“چلیں میں کھل کر بات کر لیتی ہوں۔۔ کامران مجھ میں ضرورت سے زیادہ دِلچسپی لے رہے ہیں۔ پہلے پہل مجھے وہم لگا مگر اُنکی ذو معنی باتیں، اُنکا رویہ، اُنکا میرے لئے روز کچھ نہ کچھ لانا، زیادہ وقت ہمارے گھر پر گزارنا۔۔ سب عجیب سا ہے۔ حالانکہ ہماری نسبت بچپن سے طے تھی وہ میری طرف دیکھتے تک نہیں تھے۔ کبھی بھولے سے بھی عید کا یا سالگرہ کا تحفہ تک نہ دیا اور اب۔۔ ہنہ”۔۔ ہاتھوں کو مسلتے ہوئے انعم چپ ہو گئی۔ درخشاں کا جسم بے جان ہو رہا تھا۔۔ اِتنی محبت دینے والا جب ایکدم اجنبی و بیگانہ بن جائے تو تکلیف ہوتی ہے۔ بہت ہوتی ہے۔۔ درخشاں بھی ایسے کرب سے گزر رہی تھی۔
“بڑے پاپا اورتائی ماں نے میری مام سے بات کی کہ اگر دوبارہ”۔۔
“بس تمہیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ میں جانتی ہوں اُنہوں نے کیا کہا ہوگا اور کس کے کہنے پر کہا ہوگا”۔ انعم کی بات کاٹ کر درخشاں ٹوٹے لہجے سے بولی۔ چاہت، مان، اعتماد، وفاکی دھجیاں بکھر گئیں۔
“بڑے پاپا تائی ماں کی بات سمجھ میں آتی ہے مگر کامران تو آپکو بہت زیادہ چاہتے ہیں۔ وہ یہ سب کیوں کر رہے ہیں سمجھنے سے قاصر ہوں”۔
“ہنہ۔۔ اُس وقت اُن کی آنکھوں میں پٹی بندھی ہوئی تھی۔۔ محبت کی پٹی۔عشق کا بھوت سر پر سوار تھا۔ شادی کرکےمحبت حاصل کر لی عشق کا مزا بھی چکھ لیا ۔۔ محبت کی پٹی بھی اُتر چکی ہے اور عشق کا بھوت بھی بھاگ گیاہے ۔۔ کچھ کرنے کو بچا نہیں تو ایک شادی اور سہی” ۔ وہ اِستہزائیہ ہنسی۔ دُکھ، ملال، پشیمانی!!!
“اِس لئے کہہ رہی ہوں آپ یہاں سے چلی جائیں۔ اللہ ایک اور اولاد سے نواز رہا ہے کیا پتہ کامران کا دِل واپس مڑ جائے ۔ اِس سے پہلے کہ کچھ غلط ہو آپ کامران کو لیکر یہاں سے چلی جائیں”۔۔ انعم نے اُسکا ہاتھ تھام کر کہا۔
“جاؤنگی ضرور جاؤنگی انعم لیکن کامران کیساتھ نہیں۔ مجھے ایسے مرد کا ساتھ نہیں چاہیے جسکی محبت پل پل روپ بدلتی ہو۔ جس نے ایکدم ہی اپنا روپ دِکھا دیاہو۔ کم از کم تھوڑا وقت تو گزرنے دیتے تاکہ میں شکوہ کر سکتی، گزرے ماہ و سال کا واسطہ دے سکتی۔۔ اُس نے گنجائش ہی نہیں چھوڑی”۔۔ وہ اذیت بھرے لہجے میں بولی۔
“ایسے کیسے چھوڑ سکتی ہیں اپنی جگہ؟ کیسے اُن سب کی ناجائز خواہش کو پورا کرنے کیلئے راستہ ہموار کر سکتی ہیں؟ یہ تو ہار ہے سراسر ہار”۔۔ انعم حیران رہ گئی۔
“میں نے جگہ بنائی کب تھی انعم؟ یہ تو خانہ پری تھی اور خانہ پری ہمیشہ وقتی ہوتی ہے۔رہی بات ہارنے کی تومیں جیتی کب تھی؟ ہار میں اُسی وقت گئی تھی جب کامران نے تمہیں اپنی زندگی میں بسانے کا خواب دیکھاتھا۔ تمہیں اپنانے کی خواہش کی تھی۔ ہار میں اُسی وقت گئی تھی جب اُس نے مجھ سے کہا کہ اُسکا دِل مجھ سے اوب گیا ہے۔ میں ہار اور جیت کے درمیان والی سیڑھی پر کھڑی تھی جس پر کامران نے اپنی مہر ثبت کرنی تھی سو کر دی”۔ وہ اُسکے کندھے پر سر رکھ کر رو پڑی۔
“انکل آنٹی کا رویہ جھیلا، اُنکی چبھنے والی باتیں برداشت کیں صرف کامران کی خاطر۔۔ میرے بیٹے کو مجھ سے دور کر دیا میں ایک لفظ نہ کہاکہ کبھی تو میری خاموشی اُن پر اثر کرے گی۔۔ نہیں جان پائی کہ کامران بھی۔ ہنہ۔۔ سوچ سوچ کر دَم گھٹ رہا ہے، نفرت ہو رہی ہے”۔ وہ لمحے بھر کیلئے خاموش ہوئی۔
“میں آپکے ساتھ نا اِنصافی نہیں ہونے دونگی۔۔ ہرگز نہیں۔ کامران دوسرے بچے کا سن کر بہت خوش ہے۔ ابھی آپ بات کریں گی تو وہ مان جائے گا”۔
“مجھے کسی کو کسی کام کیلئے نہیں منانا۔۔۔ ویسے بھی رِشتے جب گلے کا طوق بن جائیں تو اُنہیں اُتار دینا ہی بہتر ہوتا ہے۔ ساری زندگی سولی پر لٹک کر گزارنا عقلمندی ہے نہ بہادری”۔۔
“کامران سے الگ ہوکر آپ عقلمندی کا ثبوت نہیں دے رہیں درخشاں۔ بچوں کو ماں باپ دونوں کی ضرورت ہوتی ہے”۔۔ انعم نے آخری کوشش کی۔
” میں فیصلہ کر چکی ہوں انعم۔ مزید بحث کی گنجائش نہیں “۔ اُس نے حتمی فیصلہ دیا۔
“پھر بھی۔۔ میں یہ شادی نہیں کرونگی۔ اِتنی ارزاں نہیں کہ جب چاہا ٹھکرا دیا اور جب دِل چاہا اپنا لیا۔میں جذبات و احساسات رکھنے والی لڑکی ہوں موم کی گڑیا نہیں”۔۔ انعم نے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
**********
درخشا ں نے علیحدگی اِختیار کر لی۔ کامران نے سمجھایا پر وہ نہ مانی۔موحد کو لیجانے پرکامران سمیت ندرت اور کاظم نے کافی ہنگامہ کیا ۔۔ معظم اور انعم نے سمجھایا کہ بچے کو ماں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اِسلئے اُسکو دے دیا جائے۔
“اِس پر آپ کا حق ہے جسے میں ختم نہیں کر سکتی۔ اِسلئے جب آپ لوگوں کا دِل چاہے ملنے کیلئے آجایئے گا۔ میں منع نہیں کرونگی۔ جانتی ہوں اِسے میرے ساتھ اٹیچ ہونے میں وقت لگے گا، ایڈجسٹ ہونے میں مشکل ہو گی کیونکہ آپ کی گہری چھاپ ہے۔ پر میں ہینڈل کر لونگی”۔ درخشاں نے موحد کو سنبھالتےہوئے کہاجو اُسکی گود سے نکل کر ندرت کے پاس جانے کیلئے مچل رہا تھا۔۔ کامران نے آخری بارمنانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے فیصلے پر قائم تھی۔
“ہمارے بچے ذہنی طور پر اپ سیٹ ہو جائیں گے۔ الگ رہنے والے والدین کی اولاد احساسِ کمتری میں مبتلا رہتی ہے۔ اکیلی عورت یا اکیلا مرد بچوں کی تربیت کر بھی لے تو کہیں نہ کہیں کوئی کمی رہ جاتی ہے۔ کیا تم چاہتی ہو ہمارے بچے اِس احساس میں رہ کر زندگی گزاریں؟ دو کشتیوں میں سوار ہونیوالے بچے کامیاب شہری بن سکتے ہیں نہ مکمل اِنسان۔۔ کیا تم چاہتی ہووہ ایسی ادھوری، نا مکمل اور اپ سیٹ لائف گزاریں؟”۔۔
“یہ سب آپکوپہلے سوچنا چاہیے تھاکامران۔ آپ بچوں کے دو کشتیوں میں سوار ہونے کی بات کر رہے ہیں؟ آپ؟ جب آپ دوسری کشتی کی سواری کی تیاری میں مصروفِ عمل تھے تب آپ نے یہ سب کیوں نہ سوچاکہ آپکے اِس اِقدام کا کیا انجام ہوگا؟ آپ نے کیوں نہ سوچا کہ آپ قدم رکھ کہاں رہے ہیں؟ کیا سوچنا صرف عورت کا کام ہے؟ سمجھوتا عورت ہی کرتی ہے۔۔میں کر رہی تھی سمجھوتہ ۔۔ ہر طرح سے کیا۔ آپکے مماپاپا کی باتیں سنیں،اُنہیں منانے کیلئے ہر وہ کام کیا جو وہ چاہتے تھے مگر وہ خوش نہ ہوئے۔ میری اولاد کو مجھ سے دُور رکھا گیا خاموش رہی کڑھتی رہی مگر شکوہ نہ کیا۔۔ آپ نے میرا ساتھ دینے کی بجائے اپنے پیرنٹس کیساتھ مل کر مجھے احساس دِلایا کہ یہ شادی نہیں وہ غلطی تھی جو آپ سے سرزد ہوئی۔اب جبکہ میں آپکی غلطی سدھار رہی ہوں کامران پھرآپکو کیوں اعتراض ہو رہا ہے۔ آپ جائیں دوسری کشتی کی سواری کا اہتمام کریں۔ میں بیچ میں سے نکل رہی ہوں تاکہ آپکےگرنے کا اندیشہ نہ ہو”۔ درخشاں نے کہا اور بیگ لیکر باہر نکل گئی۔
“اچھا ہوا اللہ نے آپکو بیٹی سے نہیں نوازا۔۔ ورنہ مکافاتِ عمل کا مزا ضرور چکھتے”۔۔ جاتے جاتے وہ کاظم اورندرت کو بات کرنا نہیں بھولی تھی۔
“آؤ بیٹی تمہیں گھر تک چھوڑ آؤں۔ حالانکہ یہ ذمہ داری اِس برخوردار کی تھی جو اِس ووقت فرمانبرداری کا علم بلند کئے بیٹھے ہیں”۔۔ معظم کی بات نے کامران کو اندر تک کاٹ کر رکھ دیا۔ اُسکا سر جھک گیا۔۔ معظم نے اُس کے ہاتھ سے بیگ لے لیا۔ انعم نے موحد کو پکڑ کر سنبھالا۔ وہ چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گئی۔ آنسوؤں کو پلکوں کی باڑ سے باہر نہ آنے دیا۔۔ اُس نے سوچ لیا تھا اب نہیں روئے گی۔ ایسی محبت کیلئے رونے کا فائدہ جو وقتی ثابت ہو۔ ایسے شخص کیلئے آنسو بہانا بیکار تھا جسے کوئی احساس نہ ہو۔
ممکناں فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا
ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کردیا !
************
ادھوری رات،ادھوری محبت!
تمہاری یاد اور میں!!
تکیہ اُسکے آنسوؤں سے بھیگ رہا تھا۔ جو نہ رونے کا عہد کر چکی تھی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ وہ کامران کیلئے یا اُسکی خاطر نہیں رو رہی تھی، وہ اپنی قسمت پر آنسو بہا رہی تھی، شکوہ کناں تھی۔ اُس نے سوچا تھا شوہر کے گھر سے نکل کر والدین کے گھر پرپناہ لے لی گی لیکن یہ اُسکی خام خیالی ثابت ہوئی۔ ۔ عورت کی کوئی پناہ گاہ نہیں ہوتی۔ ماں باپ کا گھر ہو یا شوہر کا۔۔ وہ کہیں بھی اپنی مرضی سے نہیں رہ سکتی۔
“دیکھیں کچھ دِن کی بات تو ٹھیک ہے لیکن ساری زندگی کیلئےہم اِسے رکھ سکتے ہیں نہ اِسکے بچوں کا خرچہ برداشت کر سکتے ہیں”۔ اُسکے سب سے چھوٹے بھائی کی بیوی نے کہا جو اُسکی دوست رہ چکی تھی۔ وہ کچن میں موحد کیلئے دودھ بنانے جا رہی تھی جب اُس نے اپنی بھابھی کو کہتے سنا۔
“وہ یہاں صرف رہے گی نیلم۔۔ خرچہ اُسکا کامران ہی اُٹھائے گا ۔ اُس نے خلع لینی ہے نہ کامران نے طلاق دینے کی بات کی ہے”۔ وہ اپنی بیوی کو سمجھا رہا تھا ۔
“واہ واہ کیا بات کہی آپ نے۔ وہ بچوں اور درخشاں کو خرچہ دے گا نہ کہ اُنکے کھانے پینے کا۔ گرمیوں میں اے سی چلے گا، سردیوں میں ہیٹر، بل تو بنے گا۔۔ راشن میں زیادتی کرنی ہوگی۔ البتہ وہ اپنے لئے خود سے بندوبست کرے تو الگ بات”۔۔
نیلم کا یہ روپ درخشاں کیلئے بالکل نیا تھا۔ نیلم اُسکی بیسٹ فرینڈ تھی۔ دونوں سکول کے زمانے سے ساتھ تھے ۔ نیلم کا گھر آنا جانا لگا رہتا تھا وقاص نے کبھی خاص توجہ نہ کی۔ جانے کیسے وقاص کو وہ اچھی لگنے لگی حالانکہ وقاص کی نسبت اپنے والد کے دوست کی بیٹی سے دو سال پہلے طے ہوچکی تھی۔ ۔ پر نیلم کی محبت نے اِس قدر گہرے پنجے گاڑھے کہ اُسے کوئی نظر نہ آیا۔۔ ۔درخشاں کے والد خوشاب کسی بھی طرح اس رِشتے سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھے۔ اِسطرح بچپن کی دوستی ختم ہوجاتی ۔ایسے میں درخشاں نے وقاص کی منگیتر ایمان کو اعتماد میں لیکر بات کی۔ سمجھدار تھی درخشاں کی بات سمجھ گئی اور خود کو اِس رِشتے سے آزاد کردیا ۔ اُس نے اپنے والد مظہر قریشی سے بات کی اُن کو سمجھایا کہ وقاص شادی تو کر لے گا لیکن وہ اعتماد، محبت، خوشی نہیں دے سکے گا جسکی ایک بیوی حقدار ہو ہوتی ہے۔ نیلم اُسکی پہلی اور آخری چاہت تھی۔۔اِسطرح مظہر قریشی نے خوشاب کو قائل کرکے راہ ہموار کی۔۔ وقاص اور نیلم دونوں درخشاں کے شکرگزار تھے جس نے ہمت و کوشش کرکے اِس رِشتے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
“نیلم نیلم کیا ہوگیا ہے تمہیں۔ کس قسم کی باتیں کر رہی ہو؟ میں تم سے یہ توقع نہیں کر رہا تھا۔آئی مین نند سے پہلے وہ تمہاری دوست پہلے ہے۔ ایسے وقت میں ہمیں اُسکا ساتھ دینا چاہیے، اُسکی ڈھارس بندھانی چاہیے ۔۔اللہ کرےیہ جدائی وقتی ہو۔ جب دونوں اِس رِشتے کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو سوچو آج نہیں تو کل کیا پتہ درخشاں اپنے گھر واپس چلی جائے یا کامران کواُسکی کمی کا احساس ہو جائے”۔۔ وہ مزید کچھ سنے وہاں سے چلی گئی۔ وہ نہیں جانتی نیلم نے کیا کہا ہوگا ۔۔ وہ جاننا بھی نہیں چاہتی تھی نیلم کی سوچ، اُسکی نیت، اُسکااِرادہ عیاں ہو گیا تھا اب وہ جو بھی کہے جو بھی سوچے درخشاں کو پروا نہیں تھی۔
موحد نے اُسکو تنگ کرکے رکھا ہوا تھا۔ یہاں آئے آج پانچواں تھا۔۔ وہ اِنتہا کا چڑچڑا ہو گیا تھا۔۔ کسی پل سکون سے بیٹھ رہا تھا نہ اُسکو بیٹھنے دے رہا تھا۔۔ توتلی زبان سے دادو کی رَٹ لاگئی ہوئی تھی۔ وہ زچ ہو گئی تو اُسے روتا چھوڑ واش روم جا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ گئی۔
“ارے ارے موحد میرے بیٹے کیا ہوا؟ ارے رے چپ کر جاؤ نانو کی جان میرا چاند”۔۔ قدسیہ خوشاب اُسے پکڑ کر چپ کروانے لگ گئیں۔ وہ ہاتھوں سے نکلے جا رہا تھا۔۔
“درخشاں بیٹا جلدی باہر آجاؤ۔ دیکھو تو ہلکان ہو گیا ہے رو رو کر”۔ اُسے چپ کرواتے ہوئے درخشاں کو کہا۔
“مجھ سے نہیں سنبھل رہا۔ جب سے آیا ہے ناک میں دم کر رکھا ہے۔۔ دادو دادو۔۔ کہاں سے لاؤں دادو”۔۔ وہ تنک کر بولی۔ لہجے میں دُکھ نمایاں تھا۔ قدسیہ خاموش ہو گئیں۔ تھک کر وہ خود ہی سو گیا۔
“مام آپ بھی جا کر سو جائیں”۔ اُس نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
“جنکی بیٹیاں اُجڑ کر بیٹھ جائیں وہ مائیں سکون کی نیند کیسے سو سکتی ہیں؟”۔۔ وہ خاموش ہو گئی کیا کہتی اُجڑنا اُسکا نصیب تھا، بھٹکنا اُسکا مقدر۔
“مام ۔۔ میں موحدکامران کو دے دونگی”۔
“موحد کامران کو دے دونگی مطلب؟”
“مام مجھ سے سنبھل نہیں”۔
“نہیں مطلب کیاہے اِس بات کا؟ موحد نہ ہو گیا کوئی شے ہوگیا سنبھالی نہ جائے تو کسی کو بھی اُٹھا کر دے دو”۔ اُسکی بات کاٹ کر درشتگی سے بولیں۔
” مجھے ماں سمجھے تب نہ۔ آپ دیکھ نہیں رہیں پچھلے پانچ دِن سے کتنا تنگ کر رکھا ہے جیسے کسی غیر کے پاس ہو۔ بھابھیاں الگ پریشان ہیں شور شرابے سے۔ اِسکو سنبھالتے سنبھالتے میری اپنی طبیعت خراب ہو جاتی ہے”۔
” موحد تمہارا بیٹا ہے درخشاں کوئی چیز نہیں جو ایسے ہی اُٹھا کر دے دی جائے۔ کچھ دِن لگیں گے تم سے اٹیچ ہونے میں”۔
“اور کتنے دِن مام کتنے دِن۔ تھک گئی ہوں اب تو”۔
“ابھی سے تھک گئی ہوں؟ آگے پوری زندگی پڑی ہے کیسے گزارو گی؟ تم پر دو دو ذمہ داریاں ہیں بیٹا۔ موحد اور آنیوالی اولاد کو تم نے ہی پالنا ہے۔ اکیلے چلو گی تو تھک جاؤ گی۔ کامران سے طلاق لے لو اور دوسری”۔ درخشاں نے عجیب نظروں سے ماں کو دیکھا تو وہ خاموش ہو گئیں۔
“موحد ایڈجسٹ ہو جائےتو میں جاب کیلئےاپلائی کروں۔ ایک دو کو بولا ہے۔ شاید کہیں بات بن جائے”۔۔
“میرا مطلب ہرگز وہ نہیں جو تم نے اخذ کیا۔ تم ہم پر بوجھ نہیں ہو۔ بیٹیاں ماں پر بوجھ نہیں ہوتیں”۔
” والدین کیلئے بیٹی بوجھ نہیں ہوتی ۔۔ مگر باقی رِشتے ایسا نہیں سوچتے۔۔شادی کے بعد کچھ لوگوں کی نظر میں بیٹیاں بوجھ ہوتی ہیں جنکو اُتار پھینکا جاتا ہے، اُتار کر پھینکنا ہی بہتر ہوتا ہے خصوصاً وہ بیٹیاں جو اُجڑ کر بیٹھ جائیں یا بیوہ ہو جائیں”۔ لمبا سانس لیتے ہوئے کہا۔
“مام اِس گھر میں میرے لئے گنجائش نہیں بن پائے گی۔ چاروں بھائی ماشاء اللہ آباد ہیں اُنکی اپنی لائف ہے اپنی ذمہ داریاں ہیں بلا وجہ بوجھ بنوں اچھا نہیں لگے گا۔ کامران بچوں کا خرچ بھیجیں گے۔ میں جاب کرونگی۔ کہیں بھی ایک کمرے کا مکان کرائے پر مل جائے گا۔ اچھے سے گزارا ہو جائے گا”۔ قدسیہ خاموش رہیں۔ کیا کہتیں اپنی دو بہوؤں کے تیور وہ دیکھ رہی تھیں۔ باقی دو تلملا رہی تھیں مگراپنے آپکو کنٹرول کیا ہوا تھا۔ قدسیہ جانتی تھیں وہ چاروں زیادہ دیر تک خاموش نہیں رہیں گی۔
“یہاں آکر والدین بے بس ہو جاتے ہیں۔ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ وہ خود بیٹوں پر انحصار کرتے ہیں، اُنکا دارومدار بیٹوں پر ہی ہوتا ہے۔چار بھائی ماشاء اللہ۔ ۔مجھے پتہ ہے ایک وقت آئے گا جب کوئی بھائی تمہاری تمہارے بچوں کی ذمہ داری لینے کیلئے تیار نہیں ہوگا بلکہ ابھی بھی سب کو یہی ٹینشن ہےکہ کامران خرچہ دے گا بھی کہ نہیں۔”۔۔ درخشاں نے ماں کو دیکھا۔ وہ بھی محسوس کر چکی ہیں جو اُس نے کیا۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ میں سب جانتی ہوں درخشاں۔ اُنکی بیگمات کے بدلتے تیور، زبان کے نشتر، آنکھوں آنکھوں میں باتیں کرنا “۔۔ قدسیہ کا سر جھکا ہوا تھا۔
“ایک بار پھر سوچ لو بیٹا۔ یہ مرحلہ اِتنا کٹھن نہیں تھا جتنا وہ راستہ دُشوار ہے جسکا اِنتخاب تم کرنے جا رہی ہو۔ اکیلی عورت کا بچوں کو پالنا بھلے مشکل نہ ہو لیکن اکیلے رہنا بہت مشکل ہے۔ بہت زیادہ۔ ایک بار پھر سوچ لو”۔
” سوچوں؟”۔۔ اُس نے سوال کیا۔ وہ خاموش رہیں۔
“کیا سوچو؟”۔۔ وہ کچھ نہ بولیں۔
“بتایئے نہ مام کیا سوچوں؟ یہی کہ کامران کے پاس واپس چلی جاؤں؟ایک ایسے شخص کے پاس جس نے شادی سے پہلے محبت کے دعوے کئے، قسمیں کھائیں، چار سال ایکساتھ میں پڑھے، ہر پل ساتھ گزارا۔ مان ، وفا، اعتماد کی دھجیاں بکھیر دیں جس نے۔ایسے اِنسان کے پاس جاؤں جو مجھ سے شادی کو بھول سمجھتا ہے؟ جس نے چار سالوں کی پروا کی نہ ساتھ گزرے ماہ کی۔ جس نے میری پروا کی نہ اولاد کی۔ کیا لینے جاؤں ایسے اِنسان کے پاس جسکے پاس میرے لئے کچھ نہیں بچاشادی کے کچھ ماہ بعد ہی اُسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔کیا دے گا وہ شخص مجھے سوائے۔۔ سوائے سوتن کے؟”۔۔درخشاں ہانپ گئی۔۔ قدسیہ نے اُسکو ساتھ لگا لیا۔ دونوں ایک دوسرے کیساتھ مل کر رو رہی تھیں۔
“مجھے معاف کر دو میری بچی۔ میں تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکتی۔ اپنی ماں کو معاف کر دو”۔۔
آج اُس نے دَرد بھی اپنے علیحدہ کر لئے
آج میں رویا تو میرے ساتھ وہ رویا نہ تھا!!
************
دسویں روز کامران موحد کوملنے گیا۔ کامران اندر گیا تو اپنا آپ مجرم لگاجیسے کسی کٹہرے میں کھڑے ہونے کیلئے پیش ہونا ہو۔ درخشاں کی سب سے بڑی بھابھی صبوحی کو سلام کرکے آنے کی وجہ بتائی۔ اُسکو بٹھا کر وہ درخشاں کو بلانے چلی گئیں۔
“کامران آیا ہے موحد کو لینے”۔ صبوحی نے موحد کو لینے پر زور دے کر کہا اور چلی گئی۔ درخشاں جو موحد کو سیریلیک کھلانے میں گھل رہی تھی فوراً اُٹھ کھڑی ہوئی۔
“شاید کامران کا دِل واپس مڑ گیا ہو؟ اُسے احساس ہو گیا ہو اپنی بات کا؟”۔ ایک موہوم کی اُمید کے سہارے اُٹھی۔ موحد کو گود میں لیا اور ڈرائنگ روم کی طرف قدم بڑھا دیئے۔ کامران کو دیکھتے ہی موحد مچلنے لگا ۔
” شام تک چھوڑ دونگا”۔ اُس نے فوراً آگے بڑھ کر اُسے پکڑا اوریہ کہہ کر چلا گیا۔ درخشاں بے یقینی سے دیکھتی رہ گئی جو ایک پل اُسکے بغیر نہیں رہتا تھا دس روز گزارنے کے بعد درخشاں کو لگا اُسکی کمی محسوس نہیں ہوئی ۔ بے گانگی، اجنبیت، لا تعلقی!!
وہ کمرے میں آکر رونے لگ گئی۔ نہ رونے کا عہد کرکے اِن دس دِنوں میں وہ کئی بار روئی، کئی بار ٹوٹی۔ کم مائیگی کا احساس بڑھ گیا۔
“میں اِتنی غیر اہم ہو گئی؟ میرے بارے میں نہ صحیح پر اُس نے تو اپنے ہونیوالے بچے کے بارے میں بھی نہ پوچھا جیسے اُسے کوئی فرق نہ پڑتا ہو”۔ وہ خود سے اُسکی شکایت لگا رہی تھی۔
” محبت نہ ملے تو ہیرا ہوتی ہے اور اگر مل جائے توبے مول ہو جاتی ہے”۔ کلاس میٹ کاشف کی بات یاد آئی۔
” بے مول محبت نہیں ہوتی اِنسان ہو جاتا ہے اُس اِنسان کی دسترس میں آکر جو اپنی محبت کو پانے خاطر سب کر گزرنے کے وعدے کرتا ہے،ا ُمید، یقین، وفا کی قسمیں کھاتا ہے۔ ایک بار محبت کا مزہ چکھ لیتا ہے تو وہی مزہ بد مزہ لگتا ہے “۔ کامران نے جواباً کہا۔
“کیا فضول لاجکس ہیں دونوں کی۔۔ محبت تو محبت ہے پاکیزہ، خالص، انمول۔اِسے بے مول وہی کرتا ہے جو محبت کے اصل مفہوم سے ناآشنا ہو”۔ نیلم نے کہا۔
“دِل جیت لیا۔ کسی کو دسترس میں کرکے بے مزہ ہونیوالے محبت نہیں کرتے دِل لگی کرتے ہیں جو وقتی ہوتی ہے۔ وقت گزر جاتا ہے تو دِل کی لگی بھی ہوا ہو جاتی ہے”۔۔ درخشاں نے نیلم کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا۔۔
وہ خیالوں سے باہر آئی۔
“تم نے صحیح کہا تھا کامران۔ تم نے محبت کے نام پر شادی نہیں غلطی کی تھی تبھی مجھے بے مول کر کے رکھ دیا۔ میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرونگی۔ کبھی نہیں۔ تم حقیقی محبت کیلئے تڑپو گے مگر نہیں پاؤ گے۔ کسی سے بھی نہیں پاؤ گے”۔۔ وہ تقریباً چیختے ہوئے بولی جیسے کامران سے مخاطب ہو۔ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے وہ رو رہی تھی جب نیلم کو کمرے سے گزرتے ہوئے کہتے سنا۔
“اِس گھر میں ہمارے علاوہ ملازم بھی ہیں۔ رونا ہی ہے تو دروازہ بند کر کے رو۔ اِس طرح تماشہ نہ بناؤ”۔۔ درخشاں نیلم کا یہ روپ دیکھ کر چپ رہی۔۔ کچھ کہنا سننا بیکار تھا۔
شام کو کامران موحد کو چھوڑنے آیا تو ندرت اور کاظم ساتھ تھے۔ موحد اُن سے کسی بھی طرح الگ ہونے کو تیار نہ تھا۔درخشاں کے ہاتھوں میں ایسے مچل رہا تھا جیسے پانی کے بغیر مچھلی۔
“میری مانو تو موحدکو اِن لوگوں کے پاس رہنے دو ۔ اِنکو ہفتے بعد ملنے کی ضرورت نہیں بلکہ تمہیں ضرورت ہے کیونکہ وہ تمہارے وجود اور لمس سے اٹیچ ہے نہ کمفرٹ ایبل”۔ منجھلی بھابھی تسلیم نے کہا تو صبوحی نے ہاں میں ہاں ملائی۔ کامران سمیت ندرت اور کاظم نے اثبات میں سر ہلایا جیسے اُنکی بات سے متفق ہوں۔ درخشاں نہ مانی اور وہ لوگ چلے گئے۔۔ اُنکے جانے کے بعد موحد پہلے سے زیادہ تنگ کرنے لگ گیا۔۔ دادو دادو کی رٹ نے درخشاں کے سر میں درد کر دیا۔ رات گئے تک اُسے بخار ہو گیاپیناڈول سیرپ دے کر مشکل سے سلایا۔ صبح اُٹھتے ساتھ ہی دادو بابا کی رَٹ شروع ہو چکی تھی۔ درخشاں پریشان ہو گئی۔ بخار کسی طرح کم نہ ہوا۔
“درخشاں۔۔ بیٹا۔۔ضد میں آ کر اپنی زندگی تو خراب کر رہی ہو بچے کو ضد کی بھینٹ کیوں چڑھا رہی ہو؟ پیدائش سے اب تک اُسکو ندرت آنٹی نے سنبھالا ہے۔ وہ اُنکا عادی ہو چکا ہے ۔ دس دِن تمہارے ساتھ رہ کر بھی وہ تمہارے ساتھ اٹیچ نہیں ہوا اور کتنا وقت لگے معلوم نہیں۔ لیکن ہر ہفتے دس دِن بعد وہ لوگ آئیں گے ملیں گے موحد پہلے سے زیادہ تنگ کرے گا۔ مسئلہ تمہیں ہی ہوگا۔ اِسلئے بہتر ہے ضد چھوڑ دو اور موحد اُن کو سونپ دو۔ بلا وجہ کی ضد بچے کیلئے نقصان دہ ہے”۔۔ اُس کے بڑے بھائی ارقم نے رسان سے سمجھایا۔۔
“موحد کی شخصیت مسخ ہو جائے گی۔ ندرت آنٹی سے دوری اچھے اثرات مرتب نہیں کرے گی اُسکے ذہن پر”۔ صبوحی نے شوہر کی ہاں میں ہاں ملائی۔ درخشاں نے دونوں کو زخمی نظروں سے دیکھا۔۔ صبوحی کا دِل پگھل گیا۔۔ آخر وہ بھی ماں تھیں۔۔
“میں جانتی ہوتمہارے لئے یہ مرحلہ کٹھن اور تکلیف دہ ہے لیکن اُس سے زیادہ تکلیف تمہیں اُس وقت ہو گی جب موحد کی شخصیت بگڑ جائے گی۔ وہ نامکمل ، ادھورا اور غمگین رہے گا۔ وہ تمہارے لمس سے واقف نہیں کیونکہ اُسے واقف ہونےنہیں دیا گیا۔ اب وہ اُنکے ساتھ کی خواہش کر رہا ہے تو کیا غلط ہے۔ ممکن ہے شعور آئے تو سمجھ جائے”۔۔ پہلی بار صبوحی نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو وہ ہاں میں سر ہلا کر رہ گئی۔
“خیریت مجھے بلایا؟”۔۔ کامران کے سوال پر وہ اُسے دیکھتی رہ گئی۔ اُسکے چہرے پر کوئی پشیمانی تھی نہ ملال۔
“موحد کو اپنے ساتھ لے جائیں کیونکہ اُسےاپنی ماں کی نہیں باپ کی ماں کی ضرورت ہے۔”۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی اُسکا لہجہ تلخ اور طنزیہ ہوگیا۔ کامران نے دیکھا اِن بارہ دِنوں میں وہ کملا گئی تھی۔ ہر وقت بننے سنورنے کی شوقین اُسکے سامنے خستہ حال کھڑی تھی۔
” یہ رہا بیگ۔ میں اُسے لاتی ہوں”۔ وہ وہاں سے چلی گئی۔
بس اب کچھ نہیں کہنا ، خاموشیاں سمجھ لو تو ٹھیک
ورنہ لفظوں کو مزید بےمول نہیں کرنا!!
اُس نے کہیں پڑھا تھا کہ کسی بھی عزیز چیز سے دستربردار ہونا نہایت تکلیف دہ، کٹھن اورمشکل ہوتا ہے۔پھر بات چاہے رِشتوں سے دستبردار ہونے کی ہو، محبتوں سے یا پھر خواہش سے۔۔ وہ کسی ایک شے سے نہیں بلکہ تو اِن تینوں چیزوں سے دستبردار ہو چکی تھی۔ تہی داماں، خالی ہاتھ،غیر گنجان آباد آبادی کی مانند وہ اُسے اُجڑی بستی لگی۔ موحد اُسکے ہاتھ سے لیا اورتیزی سے باہر نکل گیا۔ ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ درخشاں نے خواہش کی کہ کاش وہ ایک بار مڑ کر دیکھ لیتا۔۔ نہیں دیکھا۔۔جانتا تھی وہ پتھر ہو جائے گا۔
**********
درخشاں نے مختلف جگہ جاب کیلئے اپلائی کیا۔ ایک یونیورسٹی سے لیکچرار کیلئے اِنٹرویو کال آگئی۔ اُسکی خوش قسمتی کہ جاب مل گئی۔ اُسے نفسیات کے مضمون کیلئے لیکچرار رکھا گیاتھا۔ گھر آ کر اُس نے قدسیہ اور خوشاب کو یہ خبر دی ساتھ ہی کرائے کا مکان دیکھنے کی ریکویسٹ کی۔
“کرائے کا مکان مگر کس کے لئے؟”۔۔ خوشاب نے اخبار ایکطرف رکھتے ہوئے کہا۔
“اپنے لئے ڈیڈ”۔
“آر یو اِن سینسس۔کیا ہو کیا گیا ہے تمہیں؟ چار چار بھائیوں کے ہوتے میرے ہوتے تم کرائے کے مکان میں رہو گی؟”۔۔ وہ خفا ہو گئے۔
“حالات اور عقل کا یہی تقاضا ہے خوشاب۔ بھائی اچھے ہیں اُنہیں شاید اعتراض نہ ہو۔ لیکن جنکو ہم بیاہ کر لائے ہیں وہ شاید اِس بات کو پسند نہ کریں کہ شادی شدہ ہوتے ہوئے یہ ہمارے ساتھ رہے”۔
“تو؟ اِس میں کیا مسئلہ ہے؟ اِسکے والد کا گھر ہے، بھائیوں کا گھر ہے کیسے دربدر ہونے کیلئے چھوڑ سکتے ہیں؟ بجائے اِسکو سمجھانے کے تم بھی اِسی کی طرفداری کر رہی ہو قدسیہ”۔
“میں طرفداری نہیں کر رہی۔ وہ بات کر رہی ہوں جو ہے۔ آپ نے اپنی بہوؤں کا رویہ نہیں دیکھا میں نے دیکھا ہے۔ آپ نے اُنکے طنز بھرے طعنے نہیں سنے ہم نے سنے ہیں۔ عقلمندی یہی ہے کہ یہ یہاں سے چلی جائے اِس سے پہلے کہ بھائیوں کا مان ٹوٹ جائے اور وہ خود اِس کو رخصت کریں”۔ خوشاب کی نظریں قدسیہ کی جانب تھیں لیکن ذہن کسی اور نقطے پر پہنچا ہوا تھا۔
“مجھے سب سے بات کر لینے دو۔ پھر حتمی فیصلہ ہو گا”۔ دونوں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
شام میں سب کو ایکساتھ چائے پینے کا کہا گیا۔ سب جانتے تھے خوشاب شاہ نے جب کوئی ضروری بات کرنی ہو وہ اِسی طرح چائے کا اہتمام کرتے تھے۔
“درخشاں کا معاملہ تم سب کے سامنے ہے”۔ بغیر تمہید باندھے وہ بات کی جانب آئے۔ سب نے باتیں چھوڑ کر اُنہیں دیکھا۔
“کامران کیساتھ وہ رہنا نہیں چاہتی یہاں وہ رہ نہیں سکتی۔میرے بعد تم سب اِسکے بڑے ہو مجھے بتاؤایسی صورتحال میں اِسے کیا کرنا چاہیے؟”۔ چاروں میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس نے اپنی بیوی کو نہ دیکھا ہو۔ خوشاب شاہ جہاندیدہ شخص تھے وہ سمجھ گئے کہ اُن نظروں میں چھپے پوشیدہ سوال کا جواب دینے کیلئے وہ اپنی اپنی بیگمات کی رضامندی لینا چاہتے تھے۔ اُنکے چہرے کے تاثرات سے صاف ظاہر تھا ایسے وقت کیلئے وہ ذہنی طور پر آمادہ کر دیئے گئے تھے۔
“ڈیڈ میرے خیال میں درخشاں کو کامران کے پاس چلے جانا چاہیے۔ دیکھیں نہ دوہری سزا جھیل رہی ہے۔ شوہر کے ہوتے ہوئے تنہا اور بیٹے کے ہوتے ہوئے اکیلی ہے۔ ابھی ایک اور اولاد آنیوالی ہے آخر کو اُسکو بھی پالنا ہے، تربیت کرنی ہے جو اکیلی عورت نہیں کر سکتی”۔بات بڑے بھائی ارقم نے شروع کی۔ خوشاب نے باری باری سب بیٹوں کو دیکھا جو متفق نظر آ رہے تھے۔
“میں ارقم کی بات سے متفق ہوں ڈیڈ۔ جوش، غصے اور جذبات میں کئے گئے فیصلے ہمیشہ غلط ثابت ہوتے ہیں۔ درخشاں کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے”۔ ارقم سے چھوٹے ارصم نے کہا۔
“میرے خیال میں درخشاں نے نہ غصے میں فیصلہ کیا نہ جوش و جذبات و سحر میں آکر۔ پورے ہوش و حواس میں اُس نے اپنے آپکو کامران سے الگ کیا ہے۔۔ چلو تم لوگوں کی بات مان لو کہ یہ فیصلہ جوش و غصے کا نتیجہ ہے۔ موحد کے بارے میں کیا خیال ہے؟”۔۔ خوشاب شاہ نے سوال کیا تو سب نے سوالیہ نظروں سے دیکھا جیسے بات سمجھنے سے قاصر ہوں۔
“کیا کوئی ماں اپنے بچے سے دستبردار ہو سکتی ہے؟”۔ سب خاموش رہے۔
“تم بتاؤ صبوحی تم الگ ہو سکتی ہو اپنی اولاد سے؟ چھوڑ سکتی ہو خواہ وجہ کوئی بھی ہو؟ تسلیم تم؟ تم ریحانہ بیٹی؟ نیلم؟ تم تو تخلیق سے مراحل سے گزرنے کے قریب قریب ہو۔ تصور کر سکتی ہو اپنی اولاد سے کسی بھی وجہ سے دور ہونے کا؟”۔۔ چاروں خاموش رہیں۔
“یقیناً نہیں ڈیڈ۔ مگر اِسطرح اپنی جگہ خالی کر دینا بھی تو عقلمندی نہیں”۔۔ ریحانہ نے کہا۔
“اچھا تمہارے نزدیک جگہ خالی کرنا عقلمندی نہیں۔۔ایک بات بتاؤ جگہ نہ ہونے کے باوجود مرد اگر دوسری عورت کی گنجائش نکال لے تو؟ چلو چھوڑو یہ بھی۔ یہ بتاؤ تمہارے ہوتے ہوئے ارحم کسی اور کیساتھ کمٹڈ ہو جائے تو کیا تم اپنی جگہ چھوڑ دو گی؟ شاید نہیں کیونکہ مرد کو چار شادیوں کی اِجازت ہے اورمرد جب اپنی مرضی پر آجائے تو کوئی بیوی اُسکو روک سکتی ہے نہ منع کر سکتی ہے۔ تم بھی نہیں روک سکو گی اور کمپرومائز کرو گی، کرنا پڑے گا جیسے ہر عورت کرتی ہے۔میری بیٹی بھی یہی کرتی۔۔ یہ بھی سمجھوتہ کرتی اگر بات اِسکی ذات پر، عزتِ نفس اور غیرت پر نہ آ تی۔ وہ اَن چاہی بہو تھی اور ہمیشہ رہنے والی تھی کیونکہ بہو ایک بچہ پیدا کرکے اگر ساس سسر کے دِل میں جگہ نہیں بنا سکتی تو پھرکبھی نہیں بنا سکتی۔کبھی بھی نہیں”۔۔ خوشاب شاہ کی بات سب کے دِل کو لگی تھی۔
“ڈیڈ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ اِس نے غلط کیا۔ مگر خلع نہ لیکر تو یہ غلطی کر رہی ہے نہ۔ آئی مین طلاق لیکر یہ کسی اور سے شادی کر سکتی ہے یا ہم کسی اور جگہ شادی کروا سکتے ہیں”۔ ارصم نے دلیل دی۔
“ویل دن بیٹا۔ بہت اچھی بات کہی۔ وہی محدود سوچ۔ ایک طلاق ہوئی تو دوسری جگہ شادی کروا دو۔۔ یار آجکل کنواریوں کو کوئی نہیں پوچھ رہا۔ دو بچوں کی ماں سے کوئی شادی کر ہی نہ لے جب تک کسی قسم کا لالچ نہ ہو”۔ وہ ہمیشہ سے حاضر جواب تھے لیکن آج بچوں کو لاجواب کرتے جا رہے تھے۔ اُن سب کی ہر دلیل مفصل جواب دے کر رَد کر رہے تھے۔
“ڈیڈ معذرت آپ پلیز اصل بات کی طرف آ جائیں۔ میرا مطلب آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ ہم اِس سلسلے میں درخشاں کی کیا مدد کر سکتے ہیں۔ کھل کر بتایئے”۔۔ ارقم نے مختصراً بات ختم کرنے کا عندیہ دیا۔
” اگلے مہینے فیصل ٹاؤن والا گھر خالی کروا کر میں اور تمہاری ماں وہاں شفٹ ہو رہے ہیں۔ درخشاں ہمارے ساتھ رہے گی۔ اکیلی نہ ہوتی تو شاید ہم نہ جاتے لیکن بیٹی کو ہماری ضرورت ہے اِسلئے بہت سوچ بچار کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے”۔ درخشاں حیرت سے باپ کو تک رہی تھی جس نے آج بھی بیٹی کا مان رکھا۔ اُسکی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ اب کی بار آنسو خوشی کے تھے۔ والدین کی بیٹی کو سمجھنے کی خوشی، اُسکا ساتھ دینے کی خوشی۔ اور کوئی والدین ہوتے تو شاید طلاق دِلوا کر جیسے تیسے دوسری شادی کروا دیتے چاہے خوشی سے چاہے بغیر مرضی کے۔
“یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ آپ لوگ کیسے جا سکتے ہیں؟ میرا مطلب مام اور آپ؟”۔۔ ارقم نے کہا توارصم، ارحم اور راحم نے ایکساتھ اثبات میں سر ہلایا۔
“ہمیں ایسی چار دیواری میں نہیں رہنا جہاں بیٹی اور بہن کیلئے جگہ نہیں”۔ ۔
” بیٹی کی خاطر آپ ہمیں چھوڑسکتے ہیں “۔ تسلیم بولی۔
“اگر بیٹے اپنی بیویوں کی وجہ سے یا اُنکی خوشی کی خاطر اپنی بہن کو گھر میں نہیں رکھ سکتے تو میں ایسے بیٹوں کی خاطر اپنی بیٹی کو کیوں چھوڑوں؟ کل کو ہم دونوں بھی تم لوگوں کو کھٹک سکتے ہیں۔ بہتر ہے پہلے ہی الگ ہو جائیں”۔۔
“کھٹک سکتے ہیں؟ یہ کیا کہا آپ نے خوشاب۔۔ ہم کھٹک رہے ہونگے ۔ پنشن کی بھاری رقم اور مکان کے کرائے نے منہ بند کر رکھا ہے اِنکا ورنہ کہاں برداشت کرتے”۔ قدسیہ نے پہلی بار زبان کھولی ۔۔ لہجہ تلخی و کڑواہٹ سے بھرا ہوا تھا۔ بیٹوں کی سوچ نےدونوں کو اندر تک دُکھی کر دیا تھا۔ وہ یہ تک بھول گئے کہ اِس حال میں وہ اکیلی کہاں رہے گی ہم اِس گھر میں گنجائش نکال لیتے ہیں مگر کسی نے ایسا کچھ نہ کہا یعنی وہ کسی طرح درخشاں کو رکھنے کیلئے تیار نہ تھے۔ اُن سب کے نزدیک شادی کرکے فرض پورا کر دیا گیا تھا۔۔ خوشاب کو قدسیہ کے خدشات ٹھیک لگے تو اُنہوں نے یہ فیصلہ لیا۔
“ایسی بات نہیں ماما۔ آپ بلاوجہ ہمیں شرمندہ کر رہی ہیں”۔۔ ارصم کا لہجہ تھوڑا سخت ہوگیا۔ ارقم نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کرآنکھوں آنکھوں سے خاموش رہنے کا اِشارہ دیا۔
“ڈیڈ رہنا مسئلہ نہیں اور بھی اِخراجات ہیں بل، راشن، دیگر ضروریات۔۔ اِسکے اولاد ہو گی تو ذمہ داریاں بڑھ جائیں گی۔ یہ اکیلی آپ دونوں کا خرچہ کیسے اُٹھائے گی؟”۔۔ راحم نے اپنے طور ایک اور مسئلہ بیان کیا۔ یعنی وہ چاروں ہر طرح کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو رہے تھے۔ اُن دونوں کے خرچے کو بند کرنے کی بات کرکے خوشاب کا رہا سہا مان بھی توڑ دیا۔
“یہ تم لوگوں کا سر درد نہیں”۔ وہ تلخ ہو گئے۔ بیٹوں سے ایسے رویے کی اُمید ہرگز نہ تھی۔
“پھر بھی ڈیڈ؟”۔۔ صبوحی نے پوچھا۔
” میری پنشن تمام اِخراجات کیلئے کافی ہو گی ۔ پنشن اِتنی ہے کہ گھر کا راشن ڈال کر، بل کی ادائیگی کرکے بھی پیسے بچ جائیں بلکہ اچھے خاصے پیسے بچ جائیں گے جس سے میں اپنی بیٹی کی اور اِسکی اولاد کی ضروریات بھی پوری کر سکوں۔ درخشاں بھی جاب کر رہی ہے۔ ہم بہتر زندگی گزار سکتے ہیں”۔ ۔
“آپ اپنے بیٹوں کو چھوڑ کر جا سکتے ہیں؟”۔۔ نیلم حیران تھی۔ پہلی بار زبان کھولی۔
“جا سکتے نہیں ہیں بیٹا۔ ہم جا رہے ہیں۔مجبوری کہہ لو یا مصلحت۔ چلو اِسی بہانے دیکھ تو لیا کہ بیٹوں کی نظر میں کیا اہمیت ہے ہماری۔ میں نے شفٹنگ کی بات کی مگر یہاں۔۔ یہاں بیٹوں نے خرچہ بند کرنے کی نوعید سنا دی۔
“ایسی بات نن”۔۔ارحم کہتے کہتے رُک گیا۔
“بہرحال ایک بات کیلئے تم سب کو مطمئن کر دوں کہ یہ بنگلہ، اِقبال ٹاؤن اور ملتان ہاؤسنگ سوسائٹی والی زمینیں تم بھائیوں میں تقسیم کر دی ہیں۔ فیصل ٹاؤن والا گھر درخشاں کے نام کر دیا ہے۔ کچھ دِن میں کاغذات بھی مل جائیں گے۔ تم سب جا سکتے ہو۔ اگلے مہینے ہم فیصل ٹاؤن شفٹ ہو جائیں گے۔ کرائے داروں کو آج کہہ دونگااپنا کوئی اور بندوبست کر لیں “۔ اُسکو ہاتھ کے اِشارے سے بات مکمل کرنے سےروکتے ہوئے حتمی فیصلہ دیا اور اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔
************
بہت گنوا لیا خود کو
چلو اب سمیٹا جائے!
زندگی عجیب ڈگر پر چل پڑی۔ درخشاں نے یونیورسٹی جوائن کر لی۔ خوشاب شاہ گھر میں بچوں کو ٹیوشن دینے لگے۔ قدسیہ اِدھر اُدھر کاموں میں خود کو مصروف رکھتی۔ احد کی پیدائش پر وہ اُسکے ساتھ مصروف ہو گئی۔ ندرت، کاظم اور کامران ملنے آئے تو درخشاں نے بچے کو اپنے سے الگ کیا نہ اُنکو ملنے کی اجازت دی۔دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ وہ بھی دودھ کی جلی تھیں۔ موحد کی جدائی کا ڈر، غم، دُکھ کم ہوکر نہیں ہوتا تھا کیسے احد کو ملوانے کیلئے تیار ہو جاتیں۔وہ سمجھدار تھے اُس دِن کے بعد نہ اسکے گھر گئے نہ احد سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔البتہ درخشاں مہینے میں دو بار وہ موحد کو ملنے لازمی جاتیں۔ ۔ وہ اب تک اُس سے مانوس نہیں ہوا تھا البتہ یہ سمجھ چکا تھا کہ وہ اُسکی ماں ہے۔ آہستہ آہستہ خوف دور ہوا تو احد کوساتھ لیجانے لگ گئیں۔ اُسے کامران ، ندرت اور کاظم کی پہچان کروائی کہ اُس سے کیا رِشتہ ہے۔
خوشاب شاہ اور قدسیہ خود جا کر بیٹوں اور بہوؤں کی خیریت دریافت کرآتے۔ پوتے پوتیوں کیلئے کپڑے کھلونے لیکر جاتے جس میں ہزاروں روپے لگ جاتے مگر درخشاں نے کبھی برا نہ منایا۔وہ اُسکے ساتھ تھے اِتنا کافی تھا ورنہ وہ اکیلی کیا کرتی۔حمل کے دوران اور بچے کی پیدایش کے بعد کے مراحل اور ذمہ داریاں وہ اکیلی تن تنہا نہیں نبھا سکتی تھی۔ ایسے میں والدین کا ساتھ غنیمت تھا۔ وہ نہ صرف اُنکی احسان مند تھی بلکہ جی جان سے خدمت بھی کرتی تھی۔
بھائی بھابیوں میں سے کسی کے پاس وقت نہ تھا کہ اُن کا حال احوال دریافت کر لیتے۔ بیٹوں اور بہوؤں کا رویہ دیکھتے ہوئےجہاں وہ اپنے فیصلے کہ صحیح ہونے پر مطمئن تھے وہیں اُنکے رویوں نے اُنکو دُکھی کیا تھا۔ چاربھائیوں میں سے کسی ایک نے بھی آکر درخشاں کا حال نہ پوچھا۔ کھڑے کھڑے آتے ماں باپ سے مل کر چلے جاتے۔ عموماً اُس وقت آتے جب وہ گھر ہی نہ ہوتی۔ خوشاب شاہ اُنکے رویو ں اور دوغلے معیار سے سخت نالاں تھے۔ ایکطرف تو اُنہوں نے والدین کو خرچہ بھیجنے سے منع کیا دوسری طرف اپنی بہن کو موردِ اِلزام ٹھہرا رہے تھے کہ اُسکی وجہ سے والدین گھر سے گئے۔ اپنی خود غرضی، زیادتی نظر نہیں آتی جو ایک بہن اور اُسکے بچے کوبوجھ سمجھتے ہوئے کی۔یہی بات خوشاب اور قدسیہ کے دِل میں پھانس بن کر چبھی تھی۔
معظم نے کاظم کو انعم کا رِشتہ دینے سے اِنکار کر دیااور جلد از جلد اُسکی شادی کسی اچھی جگہ کروا دی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ اُسکے بڑے بھائی بھابھی بار بار انعم کیلئے سوال کریں۔انعم کی شادی کے بعد وہ لوگ مایوس ہو گئے اور کامران کی اپنی پسند سے کسی اور جگہ شادی کروا دی۔ یہ اور بات آنیوالی کامران کی بیوی بن کر آئی نہ کہ اُنکی بہو۔ اولاد کے نہ ہوتے ہوئے بھی موحد کی ماں بنناگوارا کیا نہ اچھی بہو۔ وہ اپنے حساب سے چل رہی تھی ۔
“دیکھو کامران میں جیسی ہوں ویسی رہنا چاہتی ہوں نہ کہ وہ بننا چاہتی ہوں جو تمہارے مما پاپا چاہتے ہیں۔ میں اچھی بہو بننے کی ایکٹنگ نہیں کر سکتی”۔ کامران کے ایک روز سمجھانے پر اس نے کرارا جواب دیا۔
“کامران میں کوشش کر رہی ہوں کہ کسی طرح ویسی بن جاؤں جیسے انکل آنٹی مجھے دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ جیسا کہتے ہیں میں وہی کرتی ہوںتاکہ مجھے اپنا لیں۔ میں اُنکو منانے کی ہر طرح سے کوشش کر رہی ہوں”۔۔ درخشاں کی آواز سنائی دی۔
“ٹھیک ہے فرح مت بنو ویسی جو ماما پاپا چاہتے ہیں۔ کم اَز کم موحد کا خیال تو رکھ سکتی ہو نہ؟”۔۔ بہت آس سے بولا۔
“ہرگز نہیں۔ کل کو ہمارے بچے ہو گئے تو؟”۔۔
“ابھی ہوئے تو نہیں نہ۔آئی مین جب ہونگے تو مینج کر لینا۔ ماں باپ ایکساتھ دو دو تین تین بچوں کو سنبھالتے ہیں”۔
“وہ ایک ہی ماں باپ کے بچے ہوتے ہیں۔ جبکہ یہ حقیقت ہے کہ موحد میرا بیٹا نہیں ہے۔ہمارے بچے ہوئے تو میں اِنصاف نہیں کرپاؤنگی۔ موحد زیادہ ہرٹ ہوگا اِسلئے میں اُسکو اپنا عادی نہیں بنانا چاہتی اور ویسے بھی وہ تمہاری مما کا عادی ہے۔ بہت چاہ سے لیکر آئی تھیں نہ ۔ اب سنبھالیں”۔ کامران کو کچھ کہنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔ باہر کھڑی ندرت نے سب سن لیا تھا۔
فرح کچن سے اپنے کمرے اور کمرے سے کچن تک محدود تھی۔ باقی کا سارا دِن میوزک سنتی، موویز دیکھتی۔ کبھی اُسکی ماں آجاتی تو کبھی وہ اپنی ماں کی طرف چلی جاتی۔۔ ندرت اور کاظم کامران کو کچھ کہتے تو اُلٹا باتیں سننے کو ملتیں کہ آپکی پسند تھی وغیرہ ۔۔ تئیس سال پلک جھپکتے گزر گئے۔
موحد اب تک اپنی ماں سے مانوس ہوا تھا نہ احد سے۔ وہ غیروں کی طرح ملتا۔آپ جناب کا تکلف رہتا حالانکہ اُنکی عمر میں زیادہ فرق نہیں تھا۔ بہت کم ایسا ہوتا وہ احد کیساتھ ہنستا کھیلتا مگر درخشاں کے سامنے ایک بت بنا رہتا۔ درخشاں کا دِل کٹ کر رہ جاتا ۔ درخشاں حال احوال پوچھتی، روزمرہ کی روٹین، ادھر اُدھر کی باتیں اوربس۔۔ وہ خود سے نہ کچھ پوچھتا نہ بتاتا۔
گھر آکر روتی تو خوشاب اور قدسیہ اسکو سمجھاتے کہ اُس میں موحد کا قصور نہیں بلکہ اُس عورت کا ہے جس نے بیٹے کو ماں سے دور کیاجسکی وجہ سے وہ ماں کے لمس سے ناآشنا رہا۔ ہوش سنبھالنے کے بعد یہ ذمہ داری احد نے سنبھال لی۔ وہ ہر وقت ماں کو تسلی دیتا، دِلاسہ دیتا۔
“اُس نے بے شک آپکا دودھ تین ماہ ہی پیا ہے مگر پیا تو ہے نہ۔۔ جوش مارے گا۔۔ ضرور جوش مارے گا ماما۔ دیکھئے گا وہ خود آپکے پاس آئے گا ملنے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے آپکے رہنے۔ آپکی ساری زندگی کی تشنگی، حسرت، آرزو۔۔ سب مٹ جائے گا۔ وہ دِن جلد آئے گا”۔
“اِن شاء اللہ ۔ اللہ تمہاری زبان مبارک کرے۔ وہ دِن جلدی آئے”۔ دونوں نے ایکساتھ آمین کہا۔
“مما ایک بات یاد رکھئے گا”۔ احد نے درخشاں کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا تو اُس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
” محبت خواہ کسی سے بھی ہو۔۔ یقین بہت ضروری ہے۔ محبت میں یقین بہت ضروری ہے مما بہت ضروری۔۔ آپکو اپنی ممتا پر، خلوص پر، محبت پر ، نیت پر یقین ہونا چاہیے۔ باقی سب اللہ پر چھوڑ دیں۔ کامیابی آپکی منزل ہو گی”۔ اُس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ اُس روزسمجھانے کے بعد سے احد نے درخشاں کو روتے نہیں دیکھا۔ وہ سمجھ چکی تھی اُسکا دِل اور نیت صاف ہے تو موحد کے دِل میں جمی بدگمانی کی برف ضرور پگھلے گی۔
***********
“مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے”۔۔ آرام دہ کاؤچ پر بیٹھی وہ ناخنوں پر نیل پالش لگا رہی تھی جب موحد نے اُسے مخاطب کیا۔
“کہو۔ سن رہی ہوں”۔ ناخنوں پر پھونک مار تے ہوئے بولی۔
“وہ۔ میں نے آپ سے “۔۔ وہ کنفیوز ہو گیا کہ کیا بات کرے۔ آج تک فرح نے اُس سے سیدھے منہ بات نہ کی تھی۔
“کیا یہ وہ۔۔ جو بات ہے کرو اور جاؤ۔ مجھے پارٹی میں بھی جانا ہے”۔ فرح کے لہجے نے ہمیشہ کی طرح اُسکے اندرکڑواہٹ بھر دی۔ وہ بنا کچھ کہے وہ سے چلا گیا۔ فرح نے حیرانگی سے دیکھا اور سر جھٹک کر دوبارہ ناخنوں کی طرف متوجہ ہو گئی۔
“دادو آپ نے پاپا سے بات نہیں کی؟ “۔ موحد کے کہنے پر اُنہوں ے سر پر ہاتھ مارا۔
“بھول گئی ۔ آج کرونگی۔ لازمی کرونگی”۔ اُنکا لہجہ اُنکی بات کی چغلی کھا رہا تھا۔موحد نے عجیب نظروں سے دیکھا تو ندرت نے نظریں جھکا لیں۔
“مجھے سمجھ نہیں آتی آخر مسئلہ کیا ہے؟ پاپا کی کزن کی بیٹی ہےپھر اعتراض کیوں؟”۔موحد تپ گیا۔
“سحر کی ضد چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ تمہارے لئے لڑکیوں کی کمی ہے کیا؟ ایک سے ایک اچھی لڑکی موجود ہے “۔ ندرت بھی تڑخ گئیں۔
“دادو ایک بات سن لیں سحر نہیں تو کوئی نہیں”۔۔ اُس نے دھمکی دی۔
“یہ دھمکی اپنے باپ کو دینا بلکہ اُسکو دینے کا فائدہ۔ وہ تو کہے گا مت کرو”۔ ندرت نے کہا
” کاش کہ میں اکیلا رِشتہ لیکر جا سکتا۔ اِتنے لوگوں کے ہوتے ہوئے تنہا ہوں۔ بالکل تنہا، اکیلا، لاچار ، بے بس و مجبور”۔ اُسکا لہجہ بھر گیا۔
“آئے ہائے اکیلا کیوں ہونے لگے۔ ہم لوگ ہیں نہ”۔ ندرت تڑپ گئیں۔ اُس سے پیار بہت کرتی تھیں۔
“یہی تو دُکھ ہے کہ آ پ سب کے ہوتے ہوئے بھی تنہا ہوں۔۔ پاپا اپنی اَنا کا جھنڈا بلند کئے بیٹھے ہیں”۔
“میں چلی جاؤں بیٹے لیکن وہ لوگ بھی تو ضد پر اڑے ہیں کہ ماں یا باپ میں سے کسی کو لاؤ رِشتے کیلئے۔ باپ تو جائے گا نہیں۔ ماں رہ جاتی ہے”۔۔ ندرت نے کہاتو موحد نے نفی میں سر ہلایا جیسے ہر بات کی نفی کر رہا ہو۔
“موحد”۔اُنکے کہنے پر اُس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“تم درخشاں کو ساتھ لے جاؤ”۔
“کبھی نہیں۔ ماں کی ممتا تو دے نہ سکیں یہ خوشی کیا دِلائیں گی۔ ہنہ”۔ وہ تلخ ہوا۔
“بات مانتے ہیں بیٹا۔ سو فیصد گارنٹی دیتی ہوں کہ وہ لوگ منع نہیں کریں گے”۔۔ نفی میں سر ہلا دیا۔
“سحر کی محبت کی خاطر چلے جاؤ۔ کامران کبھی اِس رِشتے کیلئے نہیں مانے گا۔ تمہارے دادا ہوتے تو الگ بات تھی اب میری پوزیشن اِتنی مضبوط نہیں۔ بڑی ہوں تو عزت و احترام کرتے ہیں لیکن جو شرط رکھی ہے وہ درخشاں ہی پوری کر سکتی ہے۔ تمہیں تمہاری محبت سے وہی ملوا سکتی ہے۔ بات مان لو بیٹے ورنہ کامران کی اَنا ، ضد جیت جائے گی اور تم۔۔ تم اپنی محبت ہار دو گے”۔
“میں ایسا نہیں ہونے دونگا”۔ وہ تڑپ گیا۔
” پھر جاؤ۔ درخشاں تمہیں کبھی منع نہیں کرے گی۔ وہ لوگ بھی اُسکو دیکھتے ہی ہاں کر دیں گے”۔ موحد نے اثبات میں سر ہلایا اور ندرت کے ہاتھ چوم کر وہاں سے چلا گیا۔
فرح کے آنے کے بعد سارے بل نکل چکے تھے۔ وہ کسی پر زور نہیں چلا سکتی تھیں نہ بیٹے پر نہ بہو پر۔ موحد کو اُنہوں نے جس طرح پالا وہی جانتی تھیں۔کاظم یہ دُکھ لئے دنیا سے چلے گے کہ درخشاں کو اِس حال پر پہنچانے والے وہ دونوں تھے۔وہ سوچتے تھے اُنہوں نے جو کیا سو کیا۔ کامران کی محبت کہاں چلی گئی تھی اگر وہ دونوں اُسکو بھڑکاتے تھے تو کامران کیوں اُنکی باتوں میں آتا تھا؟ سوائے پچھتاوے کے کچھ باقی نہ بچا تھا۔ سوال تھے جواب تھے، جواب تھے سوال تھے حاصل وصول صفر تھا۔
محبت میں یقین، اعتماد اور مان نہ ہو تو محبت خالی برتن جیسی ہے۔ کامران کی محبت بھی خالی برتن کی طرح تھی اور خالی برتن کچھ نہیں دیتا سوائے حسرت، آرزو اورناآسودہ خواہشوں کے۔
**********
وہ اسائنمنٹ چیک کر رہی تھی جب موحد سامنے آن کھڑا ہوا۔۔ وہ حیران رہ گئی۔۔ ہکا بکا اُسکو دیکھتی رہ گئی۔
“موحد۔۔ یہ ۔۔ یہ تم ہو؟”۔۔ اُسکو کندھے سے پکڑ تے ہوئے بولی۔ اُسکو لگا اُس کا وہم ہے کیونکہ اِن چوبیس سالوں میں آج پہلی بار موحد اُسکے گھر آیا تھا۔ ہمیشہ وہی ملنے جاتی تھی۔
” نہیں آنا چاہیے تھا؟”۔۔ وہ تلخ ہو گیا۔
“ایڈریس کہاں سے ملا؟ اوہ ہو میں کتنی پاگل ہوں۔ آنٹی نے دیا ہوگا۔ آؤ بیٹھو”۔۔ ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی۔ صوفے پر بٹھا کر وہ مسلسل موحد کو دیکھ رہی تھیں۔
“صفیہ بی۔۔ جلدی سے اچھی سی چائے بنایئے”۔ وہیں سے بیٹھے بیٹھے ملازمہ کو کہا۔
“ساتھ کچھ بنانا ہے”۔ ڈوپٹے سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے وہ کچن سے نکلی۔
“آں ہاں کباب۔۔ سوجی کے سموسے پڑے ہیں وہ بھی تل لوبلکہ رہنے دو۔ اِسے میٹھا پسند نہیں ہے۔ فرینچ فرائز موحد شوق سے کھاتا ہے”۔۔ اُنکا لہجہ بتا رہا تھا وہ کس قدرخوش اور پر جوش تھیں۔ ملازمہ جو کچن میں جا رہی تھیں نام سن کر واپس پلٹیں۔
” یہ موحد ہے؟ اپنا موحد؟ میں بھی کہوں یہ احد جیسا کیوں لگ رہا ہے۔ بہت نام سنا۔ آج دیکھ بھی لیا”۔۔ صفیہ اُسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔
“مجھے کچھ کھانا پینا نہیں۔ میں ضروری بات کرنے آیا تھا”۔۔ موحد نے منع کیا۔ لہجے میں اُکتاہٹ واضح تھی۔
“صفیہ بی آپ جایئے چائے لائیں۔ چائے بھی پی لیں گے بات بھی کر لیں گے”۔۔ صفیہ خوشی سے سر ہلاتی چلی گئی۔
“آپ بلاوجہ تکلف”۔
“مام۔۔ مام دیکھیں کون آیا ہے”۔۔ موحد کی بات پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ درخشاں نے قدسیہ کو آواز دیتے ہوئے کہا جو ساتھ والےکمرے میں صفیہ کی بیٹی سے صفائی کروانے میں مگن تھیں۔
“موحد”۔۔ اُسکو دیکھتے ہی قدسیہ نے گلے سے لگالیا۔ برسوں بعد دیکھ رہی تھیں۔ وہ اور خوشاب دونوں موحد کیلئے تڑپتے تھےلیکن اُنہوں نے کبھی موحد سے ملنے کی خواہش ظاہر نہیں کی تھی ۔اُنکی ساری توجہ احد پر تھی۔ البتہ جب بھی درخشاں اور احد جاتے موحد کی تصاویر موبائل میں محفوظ کر لیتے تاکہ نانا نانی دیکھ سکیں۔
“موحد یہ تمہاری نانو ہیں”۔ وہ اُسکی بیزاری، اکتاہٹ کو نظرانداز کرتے ہوئے بول رہی تھیں۔ اُنکا ہر انداز بتا رہا تھا وہ بہت خوش ہیں، بے حد، بے تحاشا!! موحد اُنکی گرمجوشی کے آگے کمزور پڑگیا۔ اور صوفے پر بیٹھ کر الفاظ ترتیب دینے لگا۔اُس کے نزدیک وہ مطلب اور مقصد کے تحت آیا تھا۔ وہ نہیں جانتا تھاماں کی ممتا، اُسکی دُعائیں یہاں تک کھینچ لائی ہیں۔
“مجھے بات کرنی تھی آپ سے۔ تبھی آیا ہوں”۔
“ہاں ہاں بولو۔ کیا بات ہے”۔
“میں اور سحر ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔ شادی کرنا چاہتے ہیں”۔ اِتنا کہہ کہ وہ خاموش ہو گیا۔درخشاں نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔
“پاپا اِس رِشتے کیلئے راضی نہیں ۔ دادو گئی تھیں بات کرنے مگر”۔
“مگر؟”۔۔ درخشاں نے پوچھا،
“آنٹی کہتی ہیں تمہارے والدین یا دونوں میں سے کوئی ایک رِشتہ لیکر آتے ہیں تو ٹھیک بصورت دیگر اِنکار سمجھیں”۔
“او۔ اچھا۔ یعنی تم چاہتے ہوں میں تمہارا رِشتہ لیکر جاؤں؟”۔۔ درخشاں نے خوشی سے پوچھا۔۔ لہجے میں حیرت نمایاں تھی۔
“جج جی”َ۔۔ وہ اپنی ماں کی خوشی دیکھ کر حیران رہ گیا۔۔ کس قدر خوش تھیں وہ۔
“کون لوگ ہیں؟ کہاں رہتے ہیں؟ میں بھی نہ۔۔اچھا یہ سب چھوڑو۔ بتاؤ جانا کب ہے؟ آج چلیں شام کو؟”۔ وہ ایک بار پھر خوشی میں بہک گئیں۔ کیا کرتی ماں تھیں۔ زندگی میں پہلی بار بیٹے نے مان و اعتماد سے کچھ کہا تھا، کچھ مانگا تھا۔ وہ کیسے منع کرتی بھلا ۔
“کیا ہو گیا ہے درخشاں۔ شام گزر چکی ہے ۔ کل شام کا وقت رکھ لو”۔۔ قدسیہ نے کہا۔ اِتنے میں صفیہ چائے لے آئی۔
“اوہ۔ تم بھی نہ۔ اِتنا دیر سے کیوں آئے۔ دوپہر کو آجاتے”۔درخشاں بولی۔
“آفس سے سیدھا یہیں آیاہوں “۔ موحد حیران رہ گیا۔ ندرت نے کہا تھا مان جائیں گی مگر ہتھیلی پر سرسوں جمائیں گی یہ نہیں پتہ تھا۔
“اچھا چھا۔ چلو کل صحیح۔ یہ لو”۔۔ کباب اور فرینچ فرائز کی پلیٹ آگے کرتے ہوئے بولی۔ وہ چاہتے ہوئے بھی منع نہ کر سکا۔ چپ چاپ چائے پیتا رہا۔
“تم نے بتایا نہیں سحر کون ہے؟ کیا کرتی ہے؟ کہاں رہتی ہے؟”۔۔ قدسیہ نے پوچھا۔
“جی وہ پاپا کی کزن کی بیٹی ہیں”۔۔ درخشاں نے حیرت سے دیکھا۔
“کس کزن کی بات کر رہے ہو؟”۔ اُس نے پوچھ ہی لیا۔
” دادو معظم کی بیٹی “۔
“انعم ؟ تمہارے پاپا کی وائف ؟”۔۔ موحد نے حیرانگی سے ماں کو دیکھا۔وہ سوچ رہا تھا کچھ زیادہ ہی بہکی بہکی باتیں کر رہی ہیں۔
” پاپا کی وائف؟ یہ کیا بات کہی”۔۔ حیرت سے بولا۔
” اُنکے شوہر کا نام سعد ہے۔ انجینئر ہیں۔ تین بچے ہیں سحر سب سے بڑی ہے۔ جبران اورافان ٹوئنز ہیں”۔
درخشاں اور قدسیہ نے ایک دوسرے کا منہ دیکھا۔ دونوں کے دماغ میں ایک ہی بات چل رہی تھی کہ اگر انعم کی شادی کسی اور سے ہوئی ہے تو پھر کامران نے کس سے شادی کی؟
“تمہارے پاپا نے دوسری شادی کس سے کی؟”۔۔ لہجہ دھیما ہو گیا جیسے سوال پوچھنے پر شرمندہ ہو رہی ہو۔
“ظاہر ہے عورت سے۔ جو اُنکی بیوی ہے۔۔ صرف بیوی”۔ تلخی سے بولا۔
“اوہو۔ تم لوگ کیا باتیں لیکر بیٹھ گئے۔ یہ بتاؤکل کب کا وقت رکھنا ہے؟ایک بات صاف صاف بتا دوں میں اور تمہارے نانا ساتھ جائیں گے”۔ قدسیہ نے موضوع بدلا۔
” میں آپکو چھوڑ کر جا سکتی ہوں مام۔ آپ دونوں کے بغیر میری ہر خوشی ادھوری ہے”۔۔ درخشاں نے ماں کو محبت سے کہا۔ موحد دونوں کی خوشی محسوس کر سکتا تھا۔ اُنکا ہر انداز بتا رہا تھا وہ کس قدر پرجوش ہیں۔
“میں چلتاہوں”۔
“ابھی بیٹھو۔ تمہارے نانا آنیوالے ہیں مل کر جانا۔۔ واک کرکے تھوڑا وقت دوستوں کیساتھ بیٹھتے ہیں۔ آتے ہونگے”۔
“پھر کبھی صحیح۔ آفس سے یہیں آیا ہوں گھر جاتے وقت لگ جائے گا۔ دادو پریشان ہو جائیں گی”۔۔
” فون کرکے بتا دو کہ دیر ہو جائے گی۔ مل لو نہ ایکبار۔اُنہیں بہت حسرت ہےتمہیں دیکھنے کی۔ میں تب تک تمہیں کچھ دِکھاتی ہوں”۔۔ قدسیہ نے کہا اورجواب کا اِنتظار کئے بغیر فوراً اُٹھ گئیں مبادا وہ چلا ہی نہ جائے۔درخشاں اُسے دیکھ رہی تھی۔ احد نے ٹھیک کہا تھا وہ خود آپکے پاس آئے گا۔
“بے شک مطلب کیلئے پرآیا تو صحیح۔ ایک دن آئے گا جب ماں کی ممتا کھینچ لائے گی”۔ وہ دِل ہی دِل میں خود سے کہہ رہی تھیں۔
موحد اُنکی آنکھوں میں خوشی صاف دیکھ سکتا تھا۔ یہاں کے لوگوں کا رویہ اُسے حیران و پریشان کر رہا تھا۔ حتیٰ کہ اِس گھر کی ملازمہ بھی اُس سے واقف تھی۔ یہ سب لوگ اِتنا ہی چاہتے تھے تو اُسے کیوں چھوڑا ؟ کیوں اُسکی ماں نے ایک دوسری عورت کی چھاؤں میں جلنے کیلئے چھوڑ دیا؟ اُسکی زندگی کو ادھورا جینے پر مجبور کرنا پڑاکہ ماں کے ہوتے ہوئے بھی بن ماں کی طرح زندگی گزاری؟ یہ سوالات ہتھوڑے کی طرح ذہن پر پڑ رہے تھے۔
“یہ دیکھو کیسا ہے؟”۔۔ جیولری کے بڑے بڑے چار باکس لا کرٹیبل پر رکھے۔ایک باکس میں سے جیولری سیٹ نکال کر موحد کو دِکھانے لگی۔
“اچھا ہے۔ بلکہ بہت خوبصورت اور دِلکش”۔ اُس نے دِل سے تعریف کی۔
“یہ میری ماں نے بنائے تھے میری شادی پر۔ اُس زمانے میں انارکلی میں باہو جی جیولرز بہت مشہور ہوتے تھے۔ اُن سے بنوائے وہ بھی سُچے موتی اور سونے کے”۔ موحد ابھی تک اُنہیں غور سے دیکھ رہا تھا۔
“زبردست۔۔ یہ تو پرانے زمانے کالگ ہی نہیں رہا”۔
“تبھی تو سنبھال لیا۔ جب تم پیدا ہوئے تھے میں تب ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ یہ دوسیٹ تمہاری بیوی کو دونگی”۔ اُنہوں نے دوسرا باکس آگے کیا جس میں ایک اور قیمتی سونے کا سیٹ پڑا تھا۔
“باقی یہ دوسیٹ ہیں۔ سوچا تھا درخشاں کی بیٹی کو دونگی ۔ اللہ نے احد دیا تو سوچا اُسکی بیوی کیلئے رکھ لوں “۔ درخشاں چپ چاپ اُسے دیکھی جا رہی تھی کبھی اپنی ماں کو۔ جو ایسے خوش تھیں جیسے اُنہیں کوئی خزانہ مل گیا ہو۔
“ایک کام کرو۔ تم اپنی پسند کے دو سیٹ رکھ لو جو تمہیں لگتا ہےسحر پر سوٹ کریں گے۔ باقی احد کی ہونیوالی بیوی کیلئے رکھ دونگی”۔ قدسیہ نے چاروں سیٹ کھول کر اُس کے سامنے رکھ دیئے۔
“ارے نہیں نہیں۔ سحر کیلئے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں زیور بنوا لونگا”۔۔ اُس نے فوراً منع کر دیا۔ موحد کے منع کرنے پر قدسیہ کا منہ اُتر گیا۔ ۔ زبردستی کی قائل نہیں تھیں سو خاموش ہو گئیں۔
“تمہیں اچھے نہیں لگے تو میں نئے ڈیزائن کے بنوا دونگی”۔ درخشاں نے کہا۔
“ایسی کوئی بات نہیں۔ آپ یہ سب احد کی وائف کیلئے رکھ چھوڑیں”۔ مزید کچھ کہے وہ کھڑا ہو گیا۔
“بیٹا یہ نہیں رکھنے تو مت رکھو۔ مگر اپنے نانا کا اِنتظار کر لو۔ اُن سے مل کر چلے جانا”۔ قدسیہ نے جس لہجے میں کہا وہ منع نہ کر سکا اور جی اچھا کہہ کر بیٹھ گیا۔ درخشاں عشاء کی نماز پڑنے چلی گئی اور قدسیہ باکس اُٹھا کر کمرے میں لے گئی۔
جیسے ہی ساڑھے چھ ہوئے موحد کو لگا کہ ندرت کوبتا دینا چاہیے۔اُس نے فون کرکے بتا دیا کہ اُسے دیر ہو جائے گی پھر سکون سے صوفے کی پشت پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔۔ اِتنے میں خوشاب شاہ آ گئے۔
“فرمایئے کس سے ملنا ہے؟”۔۔ اُسکی پشت کو دیکھ کر مخاطب ہوئے۔ موحد نے گردن گھما کر دیکھا تو خوشاب کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔
“موحد۔ میرے چاند”۔ فوراً پاس جا کر اُس سے لپٹ گئے۔
“بہت دیر کر دی یار آنے میں۔ اِنتظار کرکر کے تھکنے لگے تھے۔ لگتا تھا ٹوٹ جائیں گے، دُنیا سے تجھ سے ملے بغیر پردہ کر جائینگے”۔ وہ روتے ہوئے کہہ رہے تھے۔ موحد کے کندھے خوشاب کے آنسوؤں سے بھیگ رہے تھے۔ کیا نہیں تھا اِن آنسوؤں میں جدائی کا دُکھ، حسرتیں، دُکھ۔ اُسکا دِل عجیب ہو گیا۔ یہ سب لوگ اِتنا چاہتے ہیں، اِتنی محبت کرتے ہیں پھر دور کیوں رہے؟
“مجھ سے اتنی محبت تھی تو آپ اور نانو کبھی ملنے کیوں نہیں آئے؟”۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی شکوہ ہونٹوں پر آ گیا۔
ڈرتے تھے۔۔ ڈرتے تھے کہ کہیں ٹوٹ نہ جائیں”۔ اُسکو الگ کرتے ہوئے کہا۔
” اپنی بیٹی کو سمیٹنے کیلئے ہمارا سمٹے رہنا ضروری تھا۔ ہم بھی کمزور پڑ جاتے تو اِسکو کبھی مضبوط ہونے میں مدد نہ دیتے۔ جب بھی تم سے ملنے جاتی واپسی پر ٹوٹی، بکھری، کرچی کرچی درخشاں سامنے ہوتی جس کو سنبھالنا مشکل ہو تا تھا۔ اگر ہم سب ہی بکھر جاتے، ٹوٹ جاتے تو کون کسکو سنبھالتا”۔ بوڑھا ہاتھ موحد کے کندھے پر ہی رکھا ہوا تھا۔
“تم خود سوچو اگر ہم بھی ساتھ ہوتے اور ہمارا حال بھی ایسا ہوتا تو کون کسکو دِلاسہ دیتا؟ کون کس کی ڈھارس بندھاتا؟ یہی سوچ کر آج تک تم سے ملنے نہیں گئے”۔ قدسیہ نے خوشاب کی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
“مما مجھے چھوڑ کر کیوں گئیں؟ کیوں اپنے ساتھ نہ رکھا؟ کیوں ممتا کی چھاؤں سے دُور رکھا”۔۔ موحد کھڑا ہوگیا۔
“یہ سوال تم ندرت بیگم سے پوچھنا۔ اُن سے بہتر تمہیں کوئی نہیں بتا سکتا”۔ خوشاب نے کہا۔
“اُن سے آج تک یہی سنا کہ ذمہ داریوں سے “۔
“بہت اچھے۔ یہ کب کی بات ہے بھلا؟”۔۔ اُنہوں نے جان بوجھ کر پوچھا۔
“جب چھوٹا تھا ۔ جب تھک جاتییں تو یہی کہتی تھیں۔ خود آرام سے ہے اور ہمیں بے سکون کر کے رکھا ہوا ہے۔ ذمہ داری سے بچنے کیلئے ہمارے حوالے کر گئی وغیرہ وغیرہ۔ سوتیلی ماں کی جلی کٹی باتیں بھی کم و بیش ایسی ہی سننے کو ملتیں۔۔ بلکہ اُنکی باتیں آج تک سن رہا ہوں”۔ جانے کیوں شکوہ کر بیٹھا۔ برف پگھلنے کا وقت قریب تھا۔
“ایک بار پھر پوچھنا۔ پوچھنا کیوں ایک بیٹے کوماں سے الگ کیا؟ کیوں ایک ماں کو بیٹے کی جدائی کا صدمہ دیا؟ کیوں اُن دونوں کو دوری کا روگ دیا جس میں وہ آج تک جھلس رہے ہیں۔ پوچھنا۔۔ ضرور پوچھنا۔۔ باقی تم سمجھدار ہوں بہتر فیصلہ کر سکو گے کون ٹھیک تھا کون غلط”۔ خوشاب نے کہا اور اپنے کمرے میں چلے گئے۔ درخشاں جو نماز پڑھ کر آئی ہی تھی روتے ہوئے واپس چلی گئی۔
“پوچھوں گا۔ ضرور پوچھوں گا لیکن کسی اور دِن”۔ وہ بڑبڑاتے ہوئے بولا۔
“تم جاؤ بیٹا۔ ندرت اِنتظار کر رہی ہو گی۔ کل شام کو لینے آجانا۔ ہم تیار رہیں گے”۔۔ قدسیہ نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ اُس نے گاڑی کی چابی اُٹھائی اور چلا گیا۔۔
***********
اگلی شام ندرت کو سحر کے گھر چھوڑ کر پانچ بجے وہ درخشاں کے گھر موجود تھا۔ موحد کی بے چینی دیکھ کر اُسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔
“اللہ اللہ اِتنی بے چینی۔ لگتا ہے شادی کی تاریخ اگلے ہفتے کی رکھنی پڑے گی”۔۔ احد نے چھیڑا تو نہ چاہتے ہوئے بھی اُسے مسکرانا پڑا۔ سحر کے نام سے ہی اُسکا دِل کھل جاتا تھا۔
“نانو۔۔ نانو سنیئے انگوٹھی بھی ساتھ رکھ لیں۔ آج بات کرنے نہیں کریں گے ڈائریکٹ رسم کریں گے”۔۔ احد تقریباً چلاتے ہوئے بولا۔ موحد ہنس پڑا۔ اُسے احد کاسحر کے حوالے مذاق کرنا اچھا لگ رہا تھا۔
“کیا ہے کیوں چلا رہے ہو؟ ارے موحد بیٹے۔ تم بیٹھو چائے پیو۔ جب تک ہم تیار ہو جائیں”۔۔ قدسیہ ہاتھوں میں کنگن پہنتے ہوئے بولیں۔
“صفیہ موحد کیلئے چائے لاؤ بھئی”۔ صفیہ کو کہا اور واپس کمرے میں چلی گئیں۔ موحد حیران ہو رہا تھا کہ رِشتہ مانگنے جا رہے ہیں تو اِتنی تیاری۔ شادی میں کیا کریں گے؟
“کہیں وہ اِنکار نہ کر دیں؟”۔۔ دِل میں اب بھی وسوسے آ رہے تھے۔
“اِنکار کا جواز نہیں بنتا۔ پاپا نہ صحیح مما تو جا رہی ہیں نہ۔۔ ہاں اب اِنکار کی گنجائش نہ ہو گی”۔۔ وہ مطمئن ہو گیا۔
“میں تو کہتا ہوں قاری بھی ساتھ لئے چلتے ہیں”۔۔ احد نے اُسکے کانوں میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا تو موحد اُسے مکا مار کر رہ گیا۔
“توبہ توبہ۔ لڑکیوں کی طرح شرما رہے ہیں۔ محبت کیسے کر لی جناب؟”۔۔ وہ اُسے فل ٹائم چھیڑنے کے موڈ میں تھا۔ اُسکی زندگی کی پہلی خوشی تھی بلکہ درخشاں، خوشاب اور قدسیہ تینوں بھی اُسی چکور میں آتے ہیں جنہیں پہلی خوشی اب ملی۔
“احد باز آ جاؤ۔ ورنہ پٹ جاؤ گے”۔۔ موحد کا رویہ ایکدم دوستانہ ہوگیا۔ احد نے حیران ہو کر دیکھا۔۔
“پیٹو نہ۔ بہت دِل کرتا ہے بھائی سے مار کھانے کا، لاڈ اُٹھوانے کا اور سنو کبھی کبھی اُسکے پیسوں سے ڈنر کرنے کا بھی”۔۔ احد کے لہجے میں حسرت تھی۔ موحد نے اُسے گلے لگا لیا۔
“وہ اپنی بھابھی سے اُٹھوانا”۔۔ موحد نے کہا تو وہ ہنس پڑا۔
“ضرور”۔
تھوڑی دیر میں سب ڈرائنگ روم میں جانے کیلئے تیار ہو گئے۔ موحد اُنہیں دیکھ کر حیران رہ گیا۔ دونوں دِلکش اور جاذب نظر تھے۔ قدسیہ پر کشش شخصیت کی مالک تھیں تو خوشاب بارعب تھے ۔ تیار ہونے کے بعد دونوں کی شخصیت کومزید چار چاند لگ گئے۔ درخشاں بھی کم نہ تھیں مگر بیٹے سے دُوری اور جدائی کا غم اُنکو گھن کی طرح چاٹ گیا تھالیکن اُنکی شخصیت بھی اپنی ماں کی طرح پر کشش تھی۔
“یامیرے اللہ! یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟ آپ سب لوگ؟ واؤ بہت پیارے لگ رہے ہیں۔۔ ماشاء اللہ۔ اپنی پوری زندگی میں آپ لوگوں کو تیار ہوتے نہیں دیکھا۔ عید تہوار گزرے، ماموں کے بچوں کی شادی ہوئی پر آج تو بھئی کمال ہو گیا۔ اللہ نظرِ بد سے بچائے نانو۔ اور نانا آپ تو اِس عمر میں بھی”۔۔ احد نے کہا اور آنکھ مار کر ادھوری بات کی۔ خوشاب نے کندھے پر مکا مارنے پر اِکتفا کیا۔
“میرے بچے کی خوشی ہے تو کیوں نہ تیار ہوتے”۔۔ قدسیہ نے موحد کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
“اب باتیں چھوڑو اور جانے والا کام کریں۔ مجھ سے صبر نہیں ہو رہا”۔ درخشاں بولی۔
“اللہ اللہ!! اپنی بہو کو دیکھنے کی بہت جلدی ہے”۔ احد سب کیساتھ باہر نکلتے ہوئے بولا تو موحد مسکرا کر رہ گیا۔
***********
وہاں پہنچے تو سب راہداری میں کھڑے تھے۔ تین لڑکیاں ہاتھوں میں پھولوں کی پتیوں کی پلیٹ لئے کھڑی تھیں۔ جیسے ہی وہ اندر جانے لگے پھولوں کی برسات نے اِستقبال کیا۔ موحد کیلئے سب نیا اور حیران کن تھا۔
“یہ لوگ تو بات کرنے آئے ہیں اِس قدر آؤ بھگت؟” اُسے یقین ہو گیا کہ آنٹی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا رِشتہ دینے میں۔یہ سوچ کر وہ مطمئن ہو گیا۔
اندر جاتے ہی انعم نے درخشاں کو گلے لگا لیا۔ ندرت نے آج چوبیس سال بعددرخشاں کو دیکھا تھا۔ ویسی کی ویسی تھی لیکن ماہ و سال نے چہرے پر اِتنے اثرات نہیں چھوڑے جتنے اولاد سے دُوری کے غم نے۔ ندرت نے دیکھا اُس کی ہنسی میں دُکھ کی پر چھائیاں واضح تھیں۔ اُسکی آنکھوں میں حسرتوں کا ایک جہاں آباد تھا۔ ناچاہتے ہوئے بھی درخشاں کو سلام کرنا پڑا۔ آخر وہ کو بڑی تھیں۔ قدسیہ ہاتھ ملا کر ایک طرف صوفے پر بیٹھ گئیں۔
“انعم وہ گاڑی کی ڈگی میں کچھ سامان ہے اگر کسی ملازم سے کہہ کر”۔۔ احد کے ہاتھ میں سامان دیکھ کر اُس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
“بولیں”۔ انعم نے اُسکو چپ دیکھا تو کہا۔
“نہیں وہ احد لے آیا سامان”۔
موحد نے دیکھا جیولری کے سیٹ منع کرنے کے باوجود وہ لوگ ساتھ لائے تھے۔ مٹھائی کا ٹوکرا،پھولوں کے گجرے، ایک شاپر میں سوٹ ساتھ میں میچنگ چپل، چوڑیاں تھیں۔ وہ نہیں جانتے تھے گھر میں کتنے مرد اور عورتیں ہیں اِسلئے اندازے سے پانچ زنانہ اور پانچ مردانہ سوٹ پیک کروا لئے تھے۔۔ موحد حیران ہو کر سب دیکھ رہا تھا۔ ندرت بھی کافی متاثر ہوئیں۔ واقعی یہ کام مائیں ہی کر سکتی ہیں۔
“آپکو منع کیا تھا جیولری کیلئے”۔ ندرت کے پاس سے اُٹھ کرقدسیہ کے پاس جا کر کانوں میں کہا تو وہ گھور کر رہ گئیں۔
” آپ اِتنا کچھ اُٹھا کر لے آئیں۔ ہم تو صرف رِشتہ لینے آئے ہیں نہ کہ رسم کرنے۔ کیا پتہ یہ لوگ راضی”۔
“افوہ۔ تم خاموش نہیں رہ سکتے۔ بولے جا رہے ہو۔ اِستقبال دیکھ کر بھی تمہیں اندازہ نہیں ہوا کہ انعم راضی ہے رِشتے کیلئے”۔ قدسیہ نے بات کاٹ کر کہا تو موحد اُنکے اندازِ مخاطب پر ہنس پڑا۔دوستانہ، اپنائیت سے بھرا۔
“ایک بات یاد رکھنا تمہاری ماں کی وجہ سے ہمیں یہ رِشتہ مانگنا نہیں پڑے گا۔۔ آج ہم رسم کرکے ہی جائیں گے”۔۔ قدسیہ کے یقین پر وہ حیران ہوتا لیکن جو کچھ ہوا اُس سے واضح تھا کہ اب کوئی رُکاوٹ نہیں۔
“کہو تو نکاح کر والیں”۔۔ احد نے چھیڑا۔
“نیکی اور پوچھ پوچھ”۔ موحد کے چہرے پر محبت کے رنگ بکھر گئے۔
تھوڑی دیر میں انعم کا شوہر بھی آگیا۔ احد موحد سے ہاتھ ملا کر خوشاب کے پاس بیٹھ گئے۔ اِتنے میں ملازم نے چائے اور ریفریشمنٹ کا سامان لے آیا۔۔
“یہ سب لانے کی کیا ضرورت تھی؟ آپکا اپنا گھر تھا ایسے ہی آ جاتے “۔ انعم کی ساس قدسیہ اور خوشاب کی شخصیت سے کافی متاثر نظر آ رہی تھیں۔ درخشاں بھی اُنکو کافی سوبر اور اپنی اپنی لگی۔
“گھر بھی اپنا ہے اور لوگ بھی تو تکلف کیسا آنٹی”۔درخشاں نے کہا۔
“ہمیں اندازہ نہیں تھا کتنے لوگ رہتے ہیں۔ مطلب یہ پتہ تھا جوائنٹ فیملی ہے لیکن کتنے افراد یہ نہیں تھا۔ اور یہ کل جلدی میں آیا تو پوچھ بھی نہ سکے۔ اِسلئے اندازے سے کپڑے لئے سب کے”۔ قدسیہ نے کہا۔
“پھر بھی درخشاں۔ یہ بہت بلکہ بہت زیادہ ہو گیا ہے”۔ انعم شرمندہ ہو رہی تھی۔
“اچھا بھئی سب باتیں چھوڑو۔ یہ پکڑو اور بیٹی سحر کو تیار کر کے لے آؤ۔ ہم اُسے دیکھنے کیلئے کل سے بے چین ہیں”۔۔ قدسیہ سحر کےلئے لائے گئے کپڑوں کاشاپنگ بیگ انعم کی طرف کرتے ہوئے بولی۔
“یہ جیولری بہن جی۔ ہے تو میری شادی کی پر اسٹائل پرانا نہیں لگتا”۔ جیولری کے باکس انعم کی ساس پروین رحمٰن کو دیکھاتے ہوئے بولیں۔ دو بیش قیمت سیٹ دیکھ کر انعم تو انعم اُسکی ساس کیساتھ ندرت بھی حیران رہ گئیں۔
“آنٹی معاف کیجئے گا پر بہت زیادہ ہو گیا ہے”۔ انعم کے شوہر سعدرحمٰن نے قدسیہ سے کہا۔
“کیا زیادہ سعد بھائی۔ یہ سب ہماری بیٹی کے آگےکم ہے۔ بہت کم ہے۔ ہم آپ سے ہیرا مانگنے آئے ہیں اور آپ اِس گولڈن رنگ کے زیورات میں اُلجھ رہے ہیں”۔ درخشاں نے چاہت سے کہا۔
“سحر آپکی بیٹی ہے درخشاں بہن۔ جب چاہیں اپنی امانت لے جائیں۔ یہ زیور آپ شادی میں دے دیجئے گا “۔ سعد نے کہا۔
“آج بھی اُس کا ہے، کل بھی اُسکا۔ پھر آج کیا تو کل کیا”۔ درخشاں کے کہنے پر سعدخاموش ہو گیا۔ بے لوث، سچی اور خالص محبت کے آگے خاموش ہونا پڑتا ہے خواہ وہ کسی بھی حوالے سے ہو، کسی بھی رِشے سے ہو۔
سحر کیلئے اُن سب کی محبت دیکھ کرموحد کا دِل بھر گیا۔ وہ سمجھا تھا انعم وقت مانگے گی سوچنے کا لیکن اُن سب کا یقین جیت گیا۔ سحرآج اُسکے نام کی انگوٹھی پہنے گی یہ سوچ کر اُسکے چہرے میں محبت کے دھنک رنگ بکھر گئے۔ اُسکا دِل ارمانوں، اُمنگوں سے سرشار ہو گیا۔۔
افان اور جبران کے آتے ہی ماحول مزید خوشگوار ہو گیا۔ دونوں احد کیساتھ ایسے گھل مل گئے جیسے کافی پرانے دوست ہوں۔ وہ دونوں اُسے اپنے کمرے میں لے گئے ۔ انعم درخشاں کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگ گئی۔ قدسیہ پروین اور ندرت کیساتھ باتوں میں مگن ہو گئی۔ تھوڑی دیر میں معظم صدیقی آ گئے۔ درخشاں کیلئے وہ ایک محسن تھے۔ اُسکے سر پر ہاتھ پھیر کر پیار دیا۔ حال احوال پوچھ کر خوشاب شاہ اور سعد کے پاس بیٹھ گئے۔ سب نے گروپ بنا لیاتو موحد کو اپنا آپ مس فٹ لگا۔ وہ اُٹھنے کیلئے کھڑا ہی ہوا تھا کہ احد آگیا۔
“آپ یہاں ہیں۔ میں اکیلا وہاں بور ہو رہا تھا۔ آپکی کمی محسوس ہو رہی تھی۔ آجائیں افان اور جبران کیساتھ مستی کرتے ہیں۔ بہت اچھے لڑکے ہیں”۔
“ارے نہیں تم لوگ انجوائے کرو۔ میں ٹھیک ہوں”۔ اُس نے سہولت سے منع کیا۔
“آجائیں آ جائیں۔۔ ویسے بھی تھوڑی دیر بعد جو ذمہ داری آپ پر ڈالی جا رہی ہے اُسکے بعد آپکو سوبر اور میچور ہونا پڑے گا”۔ اُس کے گرد بازو حائل کرتے ہوئے مذاق سے بولا۔
“میچور تو بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ وقت اور حالات اِنسان کو وقت سے پہلے سمجھدار بنا دیتے ہیں”۔ نا چاہتے ہوئے بھی موحد تلخ ہو گیا۔
“پراب جو وقت آئے گا وہ پاگل بنا دےگا”۔۔اُسکی بات کو نظر انداز کرکے احد نے کہا تو اُس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“ارے بھئی ہماری بھابھی کے حسنِ سحر سے آپ بچ نہیں پائیں گے۔ گھائل ہو جائیں گے”۔۔ اُسکی بات سن کر موحد سر ہلا کر رہ گیا۔
************
تھوڑی دیر بعد انعم سحر کو لینے کیلئے اوپر آئی تو سحر نے اِشارے سے اپنی کزنز کو باہر جانے کا اِشارہ دیا۔
“مما ایک بات تو بتائیں”۔۔
“پوچھو”۔۔ ہونٹوں پر لپ اسٹک لگاتے ہوئے بولی۔
“آپ اِس رِشتے کیلئے رضامند نہیں تھیں۔ جو شرط رکھی تھی وہ میرے اور موحد کیلئے اِمتحان تھی۔ کامران انکل مان نہیں رہے تھے اور آنٹی کے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ آج یہ سب اچانک کیسے۔۔ مجھے یقین نہیں آرہا مما”۔ سحر کی خوشی اُسکے چہرے سے عیاں تھی۔
“یقین کر لو بیٹی۔ آج تمہیں موحد کے نام کی انگوٹھی پہنائی جائے گی۔ عزت اور مان کیساتھ وہ لوگ تمہارا ہاتھ مانگنے آ رہے تھے۔ میں نہیں چاہتی تھی اپنی بیٹی بھیک کی طرح اُنکی جھولی میں ڈالوں اِسلئے اُنکے سوال کرنے سے پہلے ہی تمہیں درخشاں کو چاہ کیساتھ سونپ رہی ہوں “۔ سحر کا ڈوپٹہ سیٹ کرتے ہوئے بولی۔
“ویسے تمہاری ساس اور نانی ساس کی پسند ہے بہت اعلیٰ”۔ انعم نے دِل سے ہر چیز کی تعریف کی۔
“یہ بات تو ہے مما۔ یہ سونے کے سیٹ کا ڈیزائن دیکھئے کتنا پرانا ہے مگراِنتہائی خوبصورت ہے۔ نئے ڈیزائن کو مات دے دی۔جیسے میرے لئے ہی بنا تھا”۔ سحر نے زیورات کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے کہا۔
” بہت وزنی ہے۔۔ کافی مہنگا ہوگانہ۔ ویسے یہ سب لانے کیا ضرورت تھی مما۔ وہ لوگ خود آ گئے کافی نہ تھا”۔ ۔
“سحر محبت میں مہنگا سستا کچھ نہیں ہوتا ۔ محبت صرف محبت ہوتی ہے شرطوں کی قید سے آزاد، ذات پات، برادری اوررنگ و نسل سے ماورا۔اُن لوگوں کا جوش وخروش اور خوشی بتاتی ہے وہ کس چاہ کیساتھ تمہیں موحد کیلئے مانگنے آئے ہیں”۔ سحر کھڑی ہو گئی۔
” جلد بازی میں کئے گئے فیصلے ہمیشہ ناپائیدار اورعموماً غلط ہوتے ہیں۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ جلد بازی میں تمہیں ایسے گھر میں بیاہ دوں جہاں تمہاری قدر کرنے والا کوئی نہ ہو، جہاں تم اَن چاہی ہو۔ عورت اُس وقت تک کمپرومائز کرتی ہے جب تک بات اُسکی ذات یا عزتِ نفس پر نہ آئے۔ اُس گھر میں تمہیں اِن میں سے کچھ نہ ملتا۔ پر اب وہ سب ملے گاجو ایک عورت چاہتی ہے عزت، مان اور اعتماد سب سے بڑھ کر من چاہی بہو ہونے کی حیثیت”۔ انعم نے اُسکا ماتھا چومااور باہرسے کزنز کو بلایا۔
“اِسکو نیچے لیکر آجاؤ۔ رَسم کرنی ہے”۔ وہ سب کی سحر کی طرح حیران تھیں کہ بات چیت کرنے آنا تھا پر یہاں تو معاملہ ہی اُلٹ تھا۔
“یار پہلے پتہ ہوتا تو تیار ہو جاتے۔ اب دیکھو ایسے اچھی لگیں گی اِن کپڑوں میں”۔۔ کپڑوں کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے حمنہ نے منہ بنا کر کہا۔
“ارے یار تم لوگ ویسے بھی بہت پیاری لگ رہی ہو۔ اب چلو بھی”۔ سحر نے کہا تو تینوں اُسکی جلدبازی پر ہنس پڑیں۔
یمنیٰ ، حمنہ، کائنات اُسکی کزن تھیں۔ اُن کے تایا حماد کی بیٹیاں۔ وہ لوگ ساتھ والے پورشن میں رہتے تھے۔ چھوٹی سی دیوار پھلانگ کر باآسانی آیا جاسکتا تھا۔ یمنیٰ ، حمنہ جڑواں تھیں۔ شکل و صورت و جسامت ایک جیسی تھی جبکہ کائنات سب سے بڑی تھی جسکی منگنی انعم کی نند فاطمہ کے بیٹے زاور سے سال پہلے ہوئی تھی۔
یمنیٰ ، حمنہ، کائنات اوراُسکو ڈرائنگ روم تک لائیں جہاں سب براجمان تھے۔ ڈرائینگ روم کافی کشادہ اور بڑا تھا جسکی وجہ سے اِتنے سارے لوگ باآسانی سما گئے۔ البتہ کائنات اور یمنیٰ کو جگہ نہ ملی تو وہ سحر کے صوفے کے پیچھے کھڑی ہو گئیں جہاں درخشاں اور قدسیہ کے درمیان سحر بیٹھی تھی۔
موحد نے دیکھا تو دیکھتا رہ گیا۔ آج پہلی بار اِتنا تیار ہوئی تھی۔ میک اپ نے اُس کی لک بدل دی ۔ درخشاں کی پسند کے کپڑے اُس پر نہ صرف جچ رہے تھے بلکہ اُسکے حسن کو مزید مہکا رہے تھے۔ ڈارک بلیو میکسی پر گولڈن ستاروں کا کام تھا جسکی چمک سے سحر کا چہرہ دمک رہا تھا۔ محبت حاصل کرنے کی خوشی اُسکے چہرے پر انوکھے رنگ بکھیر رہی تھی۔
تیری آنکھوں کی گہرائی ہے سمندر کی طرح
میرے لیے ان میں گرداب بہت ہیں!
تھوڑی دیر بعد جبران اور افان بھی احد کیساتھ آ گئے۔وہ صوفے پر بیٹھا ہی تھا کہ سحر کو دیکھ کر چکر گیا۔ اُنیس بیس کا بھی تو فرق نہ تھا۔ وہ ہو بہو وہی لڑکی تھی جسے اُس نے ٹھوکر نیاز بیگ بس ٹرمینل پر چھوڑا تھا۔
“یہ تو وہی ہے۔ نا ممکن۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ شایدمیرا وہم ہے ۔وہم کیسے ہوسکتا ہے۔ میں نے خود اُسے ڈراپ کیا تھا ۔ کیا اُلٹا سیدھا سوچ رہا ہوں۔ یہ تو بہت معصوم ہے جبکہ وہ کافی طرار لگ رہی تھی”۔ وہ سوچ رہا تھا جب موحد کے کہنی مارنے پر وہ خیالوں سے باہر آیا۔
“کیا ہوا؟ پسند آئی؟”۔۔ موحد نے اُس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔ احد اثبات میں سر ہلا کر رہ گیا۔ اُسکی نظریمنیٰ اور حمنہ پر پڑی۔ دونوں ایک جیسی تھیں۔۔ وہ دونوں جڑواں لگ رہی تھیں بس نین نقش کا فرق تھا لیکن زیادہ نہیں۔
“افان جبران۔۔ یہ دونوں۔۔ کیا پتہ سحر کی بھی کوئی جڑوا بہن ہو۔ پر مما نے تو کہا تھا اِکلوتی ہے۔ میرا وہم ہی ہوگا۔ ہاں وہم ہوگا ورنہ کوئی بہن ہوتی تو یہاں موجود نہ ہوتی”۔ وہ سوچے جا رہا تھا۔
“کیا بات ہے؟ تم پریشان لگ رہے ہو؟”۔۔ موحد نے پوچھ ہی لیا۔ وہ کافی دیر سے اُسے دیکھ رہا تھا۔ وہ اُلجھااُلجھالگا تو اُس نے پوچھ ہی لیا۔
“بھابھی کی کوئی جڑوا بہن نہیں؟ دیکھیں نہ افان جبران جڑواں ہیں۔۔ وہ سامنے دو لڑکیاں جڑواں لگ رہی ہیں”۔
“اچھا وہ۔۔ حمنہ اور یمنیٰ ہیں سحر کے تایا کی بیٹیاں۔ وہ میرون رنگ کے سوٹ میں ملبوس کائنات ہے۔ اِن کے ہاں جڑواں کافی ہیں۔ آنٹی کی نند کے ہاں بھی ٹوئنز ہیں زاور اورروشنی۔ زاور وہ سامنے کھڑی کائنات کا منگیتر ہے”۔ موحد نے دُور سے حمنہ اور یمنیٰ کا تعارف کروایا۔
“جس نے کالے رنگ کا لباس پہنا ہے وہ حمنی ہے یا یمنیٰ؟”۔۔
“یمنیٰ”۔۔ موحد نے کہا۔
“کیوٹ ہے بہت۔ مسکراہٹ بہت پیاری ہے”۔ بے اِختیاری میں تعریف کرکے جھینپ گیا۔۔ موحد گھور کر رہ گیا۔
“سعد اپنے پاپا کو لے آؤتاکہ رسم شروع کی جا سکے”۔ انعم کی ساس نے سعد کو آواز دیتے ہوئے کہا۔ وہ جی مما کہہ کر اُٹھنے لگے تو افان نے منع کر دیا۔
“میں لاتا ہوں ڈیڈ کو”۔
تھوڑی دیر میں رحمٰن صاحب کو لایا گیا۔ وہ ویل چیئر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ فالج کی وجہ سے دایاں بازو اور ٹانگ مفلوج ہو چکی تھی۔
تھوڑی دیر میں رسم شروع ہو گئی۔ چاروں طرف خوشیاں تھیں، قہقہے تھے، روشنیاں تھیں۔ موحد کا دِل خوشی سے بھر گیا اور یہ خوشی دینے والا کوئی اور نہیں اُسکی اپنی ماں تھی وہ ماں جسکے ساتھ کی خاطر وہ ساری زندگی ترستا رہا، ممتا کیلئے بے چین رہا۔ یہ تھوڑی سی خوشی اُسکی زندگی کے گزرے ترسے ماہ و سال کا ازالہ نہیں کر سکتی تھی لیکن موحد کیلئے اِس خوشی سے بڑھ کر کوئی اور خوشی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔
رسم کے بعد باتیں کرتے، کھانا کھاتے گیارہ بج گئے۔ خوشاب نے گھڑی کی طرف دیکھاتو اندازہ ہوا کہ کافی وقت گزر چکا ہے۔ جانے کی اِجازت لی ۔۔
“موحد تم رات وہیں رُک جانا۔ میں انعم کے پاس رُکونگی آج”۔۔ ندرت نے کہا تو موحد کا دل کھل اُٹھا۔۔ وہ بھی اپنی ماں کیساتھ وقت گزارنا چاہتا تھا۔ وہ مجبوری جاننا چاہتا تھا جسکی وجہ سے اُس نے بیٹے کی جدائی سہی پھر وہ اپنی دادو سے سوال کرنے کا مجاز ہوگا۔ آج موقع مل ہی گیا۔ صبح اِتوار تھا اور وہ جانتا تھا ندرت کا دِن انعم کے ہاں ہی گزرے گا۔۔ موحد کے پاس وقت ہی وقت تھا۔ وہ جی اچھا کہہ کر چلا گیا۔ باہر گاڑی میں چاروں اُسکا اِنتظار کر رہے تھے۔
“بہت دیر کر دی”۔ خوشاب نے پوچھا۔
“جی وہ دادو کہہ رہی تھیں رات آپ لوگوں کے پاس رُک جاؤں”۔۔ اُس نے کہا تو احد نے یاہو کا نعرہ لگایا۔
“آج کی رات بھائی کے نام”۔۔ سب دِل سے ہنس پڑے
********
چاروں طرف سناٹا چھا گیا، گہری خاموشی، ایسی خاموشی جس میں وحشت تھی۔ کمرے میں گھڑی کی سوئیوں کی ٹک ٹک کے سوا کوئی اور آواز نہ تھی۔ اِس خاموشی کو احد نے توڑا۔
“بھائی میں نے ماما کو پل پل تڑپتے دیکھا ہے، روتے دیکھا ہے۔ اپ سے ملنے کے بعد پورا ہفتہ جسطرح گزارتی تھیں ہم جانتے تھے۔پھر دادو نے منع کر دیا کہ ہر ہفتے مت آیا کرو۔ پاپا کی وائف کو اچھا نہیں لگتا۔ دونوں آپس میں جھگڑا کرتے ہیں اور وہ نہیں چاہتی کہ ماما کی وجہ سے گھر میں کوئی فساد برپا ہو وغیرہ وغیرہ۔ نانو اور نانا کے سمجھانے پر ماما نے مہینے میں دو بار ملنے کی حامی بھر لی ۔ دادو اور دادا کوشاید سکون نہ آیا اُنہوں نے پابندی لگا دی کہ بچہ ڈسٹرب ہو جاتا ہے اِسلئے ملنے کا گیپ بڑھا دو۔ بار بار کی تذلیل کے بعد ماما نے خود ہی جانا کم کر دیا”۔ موحد تڑپ گیا اور ماں کو بھینچ کر سینے سے لگا لیا۔
“میری ماما میری جان۔ جتنا آپ تڑپی ہیں اُس سے کئی زیادہ میں نے اذیت بھرے لمحے گزارے ہیں۔ ڈیڈ اور دادو نے مجھے بہت پیار دیا لیکن ماں کا پیار وہ نہیں دے سکے۔۔ دے ہی نہیں سکتے تھے جنہوں نے خود مجھے ماں سے الگ کیا۔پاپا نے اپنی الگ دُنیا بسا لی۔ اُنکی وائف نے اپنے بھائی کا بیٹا گود لے لیا اور ساری توجہ اُس پر لگا دی۔ میں ترستا تھا جب جب اُنکو ارسلان کو پیار کرتے دیکھتا تھا۔ دونوں کا رویہ میرے ساتھ ہتک آمیز تھا۔ ارسلان اِنتہائی بدتمیز اور بگڑا ہو لڑکا ہے۔ پاپا کچھ کہتے نہیں، فرح کامران کسی کی سنتی نہیں۔ ڈیڈ مرتے دَم تک کسی بات سے پشیمان تھے اب سمجھ آیا کیوں تھے۔ اُنہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے بیٹے کے گلشن کو اُجاڑا”۔
“ہرگز نہیں موحد۔ قصوروار صرف وہ نہیں”۔ اُسکے مزید بولنے سے پہلے ہی درخشاں بول پڑی۔
“گلشن کامران نے اُجاڑا۔ ماں باپ کی باتوں میں آکر اپنے ہاتھوں سے آشیانے کو بکھیرا۔ باغبان کامران تھے۔ آباد رکھنے کی ذمہ داری اُن پر تھی۔ سمجھدار، میچور، اپنا اچھا برا سمجھنے والے تھے کیوں ماں باپ کو اپنی زندگی کا اِختیار سونپا؟ کیوں اُنکوچار چار زندگیاں اُجاڑنے کا موقع دیا ؟ ایک بار بھی تمہارے بارے میں سوچا نہ آنیوالے بچے کے بارے میں اور مجھ پر سوتن لانے کا فیصلہ کر لیا۔۔ ہنہ۔۔ محبت جھاگ کی طرح بیٹھ چکی تھی مزید کام انکل آنٹی نے پانی بہا کر کر دیا۔ جھاگ کو بالکل ختم کر دیا۔۔ ختم کر دی جو تھوڑی سی چاہت بچی تھی”۔ درخشاں نے کہا۔
“بیٹاجب پودوں کی باغبانی ایسے اِنسان کے ہاتھ میں سونپ دی جائے جو پودوں سے ناواقف ہو تو کیسے گلشن بچ سکتا ہے؟ اُسے اُجڑنا ہی ہوتا ہے”۔ قدسیہ نے کہا۔
“تم فورس نہ کرتے تو ہم کبھی کچھ نہ بتاتے۔اِسی لئے میں نے کہا تھا اپنی دادو سے پوچھناکیونکہ ہمیں لگا کہ تم ہماری بات پر یقین نہیں کرو گے”۔
“شاید یقین نہ کرتا ۔ مگر آپ سب کی آنکھوں میں جہاں محبت کے رنگ دیکھے وہیں حسرتوں کا ایک جہاں دیکھا ایسا جہاں جو میری آنکھوں میں بھی آباد ہے۔ ویران، سنسان، ناآسودہ اور ادھورا۔ خلا ہے کہیں نہ کہیں”۔موحد کا لہجہ بھر گیا۔
“بھائی آپ چاہیں تو اِس جہاں کو آباد کر سکتے ہیں۔ اِس ویرانی میں محبت، اپنائیت اور چاہت کے رنگ بھر کر خلا کو پر کر سکتے ہیں۔ سناٹے کو دُور کر سکتے ہیں۔ بھائی بہت رہ لیا دُور۔ اب اور نہیں۔ اب اور نہیں یار”۔ احد اُس کے گلے سے لگ کر رو پڑا۔
“دادو نے ہمیشہ ماما کے بارے میں غلط باتیں بتائیں۔ کل رات میرا دِل کیا کہ پوچھوں۔۔ مگر جانتا تھاوہ جھوٹ بولیں گی، غلط بیانی کریں گی۔۔ چوبیس سال جھوٹ بولنے کے بعد ایک رات میں سچ کیسے بول سکتی ہیں”۔۔ موحد تلخ ہوا۔
” آپ لوگوں کو کیسے پتہ تھا کہ انعم آنٹی مان جائیں گی؟ میرا مطلب ہم تو رِشتہ لینے جا رہے تھے لیکن یہاں تو معاملہ ہی اُلٹ گیا۔ آپ اِتنی پریقین کیسے تھیں نانو؟”۔۔ اُس نے اپنی حیرت ظاہر کر ہی دی۔
“لو بھئی ساری بات جان کر بھی پوچھتے ہو میں پر یقین کیوں تھی۔ تم اب بھی نہیں سمجھ سکے کہ انعم نےتمہاری محبت کی بنیاد رضامندی کی اینٹ سے کیوں رکھی؟ وہ نہیں چاہتی تھی جو درخشاں کیساتھ ہوا وہی اُسکی بیٹی کیساتھ ہو۔اَن چاہی بہو جو بھی کر لے من چاہی نہیں ہو سکتی ۔کچھ مرد بہت جلد ہار جاتے ہیں جیسے کامران۔ جبکہ بعض کو ہارنے کیلئے ایک عرصہ چاہیے ہوتا ہے مگر ماں باپ کے آگے ہتھیار ڈال ہی دیتے ہیں”۔ قدسیہ کے جواب نے لاجواب کر دیا۔
“یعنی آنٹی کو لگا کہ میں وہی غلطی نہ کروں جو پاپا نے کی؟ اُنہیں مجھ پر بھروسہ نہیں تھا کیا؟نانو میں نہ اُن مردوں میں سےہوں جو وقت سے پہلے ہار جائیں نہ اُن میں سے جو وقت گزرنے کے ساتھ اپنے رِشتے کو مضبوط بنانے کی بجائے کمزور کر دیں”۔
“ہمیں تم پر فخر ہے ۔۔ پر سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے”۔۔ درخشاں نے اُسکا ماتھا چومتے ہوئے کہا۔
“بہت رات ہو گئی ہے میں سونے چلتی ہوں۔ تھک گئی ہوں”۔۔ قدسیہ نے اِجازت لی اور اپنے کمرے میں چلی گئیں۔
درخشاں، احد اور موحد نے رات باتیں کرتے گزاری۔ فجر کی اذان پڑھ کر دونوں سو گئے۔ درخشاں حسبِ معمول قرآن کی تلاوت میں مگن ہو گئیں۔
اُس پر جمی بدگمانی و غلط فہمی کی برف پگھل چکی تھی۔ ماضی کے بھیانک بھوت سے پیچھا چھڑا کردِل کے سنسان، ویران و بیاباں جنگل کو خوشیوں سے بھر دیا تھا۔ وہ مطمئن تھا، خوش تھا، آسودہ تھا۔
*********
اگلی صبح گیارہ بجے آنکھ کھلی تو جلدی جلدی ناشتہ کیا اور ندرت کو لینے چلا گیا۔ وہ سحر کو دیکھنا چاہتا تھا۔ اُس سے بات کرنا چاہتا تھا اپنی چاہت، خوشی کا اِظہار کرنا چاہتا تھا۔
“کیسے ہو؟وہاں سب کیسے ہیں؟”۔۔ انعم کی ساس نے سلام کا جواب دے کر حال احوال پوچھا۔
“الحمدللہ سب ٹھیک۔ وہیں سے آیا ہوں۔ رات اُدھر ہی گزاری”۔۔
“بہت اچھی بات ہے۔ درخشاں بہن بہت اچھی ہیں سوبر ، ڈیسینٹ۔ انکل آنٹی بھی ماشاء اللہ بہت اچھی شخصیت کے مالک ہیں”۔ سعد نے دِل سے تعریف کی ۔
“انکل میں آپ سب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ایسی کٹھن شرط رکھی جس نے میری زندگی بنا دے گی۔ مجھے لگتا تھا شاید آپ لوگ حیلے بہانے بنا رہے ہیں مگریہاں تو بازی کی پلٹ گئی۔ اللہ نے اپنا کرم کیا۔ ماں بیٹے کو ملا دیا۔۔ مجھے میرا بھائی مل گیا جسے میں اپنا سمجھتا ہی نہیں تھا۔ بدگمانی اور غلط فہمی کی دیوار ٹوٹی ہے تو پتہ چلا میں اُنکے لئے کیا ہوں”۔ موحد نے دِل سے اُنکا شکریہ اَدا کیا۔
“تم ایک اچھے لڑکے ہو موحد۔ سب سے بڑھ کر میرے دیکھے بھالے مجھے کوئی اعتراض نہ ہوتا پر میں جانتی ہوں جدائی کا غم بہت بڑا اور اُس سے کئی گنا برا ہوتا ہے۔ درخشاں کیساتھ جو ہوا میں اُسکی گواہ ہوں۔ میں کیسے چاہتی کہ میری بیٹی بھی”۔۔
“بس آنٹی مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ میں جانتا ہوں آپ نے یہ سب کیوں کیا”۔۔ انعم کی بات کاٹ کر بولا۔
“آج اُس شرط کی بنیاد پر سحر ہی نہیں بلکہ ماما ، بھائی، نانا نانو ملے ہیں۔الحمدللہ۔ ایک ساتھ اِتنے لوگوں کاساتھ آپ کی وجہ سے ممکن ہوا”۔
اِتنے میں ندرت آ گئیں۔
“چلیں دادو”۔ موحد کھڑے ہوتے ہوئے بولا۔
“بیٹھو مجھے کچھ بات کرنی ہے”۔۔ ندرت نے کہا اور بیٹھ گئیں۔ اُسے بھی بیٹھنا پڑا۔
اُسکے بعد ندرت نے وہی باتیں کیں جو وہ رات کو اپنی ماں کے منہ سے سن چکا تھا۔ مگر اِتنا دُکھ نہ ہوا تھا جتنا اپنی دادی کے منہ سے سن کر ہوا۔ بدلے کی آگ میں اُس عورت نے ایک نہیں چار چار زندگیاں برباد کیں ایک عورت کو مات دینے کے چکر میں اس بچے کا بھی خیال نہ کیا جو دُنیا میں آنیوالا تھا، اُنکی اولاد کی اولاد۔۔ موحد خاموش تھا۔ سحر، انعم، سعد، پروین سب کی نظریں موحد پر تھیں جو ضبط کرکے بیٹھا ہوا تھا۔
“عورت کی سب سے بڑی دُشمن عورت ہوتی ہے، یہ میں نے ثابت کر دیا۔ درخشاں سے دُشمنی کی اُسے بے یارومددگار چھوڑ دیا۔ اُسکو مات دینے کیلئے تمہیں اُس سے چھین لیا۔۔ کاظم یہ دُکھ لیکر دُنیا سے چلے گئے اور مجھے اکیلا چھوڑ دیاپل پل پشیمان ہونے کیلئے۔ ملال کم ہوتا ہے نہ پشیمانی۔ پچھتاوے کا ناگ ہر وقت ڈستا ہے”۔۔ ندرت کی آہوں میں اضافہ ہو گیا۔
“کیا ملا دادو۔ کیا ملا یہ سب کرکے؟ وہ گھر جہاں ہم رہتے ہیں گھر نہیں جہنم ہے جہنم جہاں پر پل مرتا ہوں، اَن دیکھی آگ میں جلتا ہوں۔بچپن سے آج تک اگر ماں کی ممتا کو ترسا تو باپ نے بھی کونسا دستِ شفقت رکھا؟ خود سے دُور کر دیا۔ آنٹی کے علاوہ اُنکے پاس وقت ہی کب ہوتا تھا جو مجھے دیتے۔ مہینے میں ایک بار پوچھ لیا بس۔اِتنی نظرِ کرم بس اِتنی سی”۔ وہ سسک اُٹھا۔۔
انعم نے اُسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔ سعد نے اُسکو گلے لگا لیا۔ وہ اُس بچے کو بچپن سے دیکھ رہے تھے۔ محرومیاں، اُداسیاں، تنہائیاں کیا نہیں تھا اُسکی زندگی میں۔ پھر بھی اُس نے اپنے آپکو کبھی ٹوٹنے نہیں دیا۔
” انعم کی شادی کے بعد کامران کی کہیں اور شادی کروا کہ تم نے غلطی کی۔ سارا کھیل یہیں سے شروع ہوا۔۔کیا تھا جو درخشاں کو دِل سے بہو مان لیتی”۔ پروین نے ندرت سے کہا۔
“امی جان اب اِن باتوں کا وقت نہیں کہ کہاں کیا غلطی ہوئی، ایسا کر لینا چاہیے تھا، یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ وہ سب تو ہو گیا نہ۔۔ اب؟ باتوں کو بار بار دہرانے کا فائدہ؟۔ اچھی بات تو یہ ہوئی کہ ماں بیٹا مل گئے۔ دوریاں دُور ہو گئیں۔ اُمید ہے درخشاں اِنکو دِل سے معاف کر دیں گی ۔۔ اگر نہیں تو کوشش ضرور کریں گی کہ دِل بڑا کرکے معاف کر سکیں۔ اچھی خاتون ہیں وہ”۔۔ سعد نے کہا تو سب نے اثبات میں سر ہلایا۔
“میں بہت چھوٹا ہوں کہنا نہیں چاہیے پر آپ لوگوں کو نہیں لگتا کہ اصل مجرم اور خطاوار کامران انکل ہیں؟”۔۔ جبران نے کہا جو کافی دیر سے اپنے کمرے کے باہر کھڑا اُنکی باتیں سن رہا تھا۔ سب نے اُسکی طرف دیکھا۔ آنکھوں میں سوال واضح تھا کہ وہ کہنا کیا چاہتا ہے۔
“مانتا ہوں دادو نے غلطی کی۔ یہ بھی سچ ہے کہ غلطی کی شروعات ہی اِن سے ہوئی مگر انکل تو آنٹی کو چاہتے تھے نہ؟ بہت پیار کرتے تھے پھر وہ کیسے پھسل گئے؟ کیسے بہکاوے میں آگئے؟ کیا درخشاں آنٹی سے اُنکی محبت وقتی تھی یا اُنکا جوش و جذبہ اِتنا کمزورتھا کہ پل میں ٹھنڈا ہو گیا؟ وہ چاہتے تو کچھ بھی نہ ہوتا۔ وہ چپ چاپ دوسرے گھر میں آنٹی کو لیکر چلے جاتے۔ دادو اور کاظم دادا خود ہی خاموش ہو جاتے۔ ساری بات مرد پر آتی ہے ایسے معاملات میں”۔۔ سب اُسکی بات سے متفق نظر آئے۔
“موحد، جبران اگرمحبت اور دولت میں سے کسی ایک شے کا اِنتخاب کرنے کو کہا جائے توتمہاری ترجیح کیا ہو گی؟”۔ ندرت نے پوچھا۔
“محبت”۔ دونوں نے بیک وقت کہا۔
“بدقسمتی!! کامران نے دولت کو ترجیح دی۔ اُس جائیداد کو فوقیت دی جو انعم کو ملنی تھی۔میں نے اور کاظم نے اُسکے دِل میں لالچ کا بیج بویا تھامگر اُسے تناور درخت کامران نے بنایا۔ یہ بات سچ ہے اگر کامران محبت پر ڈٹا رہتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ اُس کی خود غرضی کہہ لیں یا لالچ۔ وہ اندھا ہو گیا تھا۔ محبت کی عینک اُتر چکی تھی۔ سوائے دولت و جائیداد کے کچھ دِکھائی کہاں دینا تھا “۔ ندرت نے اعتراف کیا۔ انعم نے ملامتی نظروں سے دیکھا ۔یہ بات آج ہی معلوم ہوئی کہ کامران اُس سے شادی جائیداد کیلئے کرنا چاہتا تھا۔ ورنہ محبت تو اُسکو اپنی سگی اولاد سے بھی نہ تھی۔
“فرح تو آپکا اِنتخاب ہے تائی ماں۔ ڈپٹی کمشنر کی بیٹی اورچھ بھائیوں کی اکلوتی بہن ہے۔ مجھ سے زیادہ مالدار اور تگڑی پارٹی ڈھونڈی پر کیا ملا؟ تنہائی، دُکھ، ملال”۔ انعم نے دل کی بھڑاس نکالی۔ وہ شاید اور بھی کچھ کہتی سعد نے منع کر دیا۔
“موحدمجھے معاف کر دو۔ معاف کر دو میرے بچے۔ بدلے نے مجھے اندھا کر دیا تھا کہ میرا بیٹا کیسے میری مرضی کے خلاف شادی کر سکتا ہے۔میں سمجھتی تھی اُسے مات دے دونگی، مگردیکھو۔۔ مات میرا مقدر بن گئی۔ مجھے درخشاں کے پاس لے جاؤ۔میں معافی مانگوں گی۔ امید ہےوہ معاف کر دے گی۔ بہت ظرف ہے بچی کا”۔۔ ندرت نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔ موحد اُنہیں دیکھتا رہ گیا۔ بدلے کی آگ میں اُنہوں نے کتنی زندگیوں کوجھلسایا تھا۔
**********
گلے شکوے دُور ہو چکے تھے۔ نہ دُور ہوا تو احد کا شک۔ وہ جب بھی سحر کو دیکھتا وہ لڑکی آب و تاب کیساتھ نظروں کے سامنے آ جاتی۔ غلط فہمی کی گنجائش ہی نہ تھی۔ ایک دِن اُس نے موحد سے بات کر ہی لی۔ وہ ہنس ہنس کر دوہرا ہو گیا۔
“یار بھائی یہ کیا آپ ہنس رہے ہیں۔ میں ایک سیریس ایشو پر بات کر رہا ہوں۔ میں بھابھی کے بارے میں کچھ غلط نہیں سوچنا چاہتا پر جب جب اُنکو دیکھتا ہوں وہ لڑکی سامنے آ جاتی ہے”۔ احد تپ گیا۔
“ہمم یعنی تمہیں اُس لڑکی سے پیار ہو گیا ہے”۔۔ موحد نے چھیڑا۔
“پیار۔۔ ہنہ۔ کمال کرتے ہیں۔ پیار تو یمنیٰ سے”۔۔ زبان دانتوں تلے دبا لی اور چہرہ موڑ لیا۔
“بولو بولو۔۔ کیا یمنیٰ”۔ موحد نے مزید چھیڑا۔
“کچھ نہیں بھائی۔ بس اچھی لگتی ہے۔ دِل کرتا ہے اُسے دیکھتا جاؤ۔ دِل عجیب لے پر دھڑکتا ہے اُس کے نام سے”۔۔ احد نے قبول کیا۔
“تو کیا خیال ہے بات چلائی جائے؟”۔۔ اُس نے سرگوشی کے انداز میں کان میں کہا تو اُس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“آپ نے بتایا نہیں۔ کیا واقعی آپ ایسے کسی واقعے کو نہیں جانتے؟”۔۔
“احد وہ لڑکی سحر ہی تھی”۔ وہ پریشان ہو گیا۔۔ موحد نے پوری بات بتائی۔
“دراصل میں سحر سکول زمانے سے ایک دوسرے کے قریب آ گئے تھے۔ ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ جاب لگتے ہی میں نے رِشتے کیلئے دادو سے کہا۔ اُنہوں نے پاپا سے بات کی مگر وہ ہتھے سے اُکھڑ گئے کہ جو بھی ہو وہ یہ شادی نہیں ہونے دیں گے۔ کسی بھکارن سے شادی کر لو لیکن انعم کی بیٹی اُنکی بہو نہیں بنے گی۔ میں پریشان تھا کہ پاپا کی کزن ہیں پھر کیا اعتراض۔ دادو میرا رِشتہ لیکر گئیں مگر اُنکو یہ کہہ کر منع کر دیا کہ میرے پاپا یا مما میں سے کوئی ایک آ کر باقاعدہ رِشتہ مانگیں”۔۔ اِتنا کہہ کر وہ چپ ہوگیا۔ پانی پیا اور سلسلہ کلام جوڑا۔
“پاپا کبھی نہیں مانتے اور ماما ۔۔ تم جانتے ہو ہمارے درمیان فاصلے، دوریاں۔۔ ہمیں لگا ہم کبھی ایک نہیں ہو سکیں گے۔ میں نے کڑوا گھونٹ بھرلیا عادی تھا جدائی کا۔ سحر نہیں رہ سکتی تھی۔ اُس نے کہا یا تو اپنی ماما کو مناؤں یا کورٹ میرج کر لیں۔میں نے منع کر دیا کہ غلط کام ہرگز نہیں کرونگا۔ رہی بات ماما کی تو وہ کیوں مانیں گی جب پاپا نے ہی اِنکار کر دیا۔ اُس نے دھمکی دی کہ اگر میں نے اُسکی بات نہ مانی تو وہ جان دے دے گی۔ میں کمزور پڑ گیا۔ اُس رات وہ اپنے گھر سے دوست کی برتھ ڈے پارٹی کا کہہ کر نکلی تھی۔ پھر اپنی دوست کے گھر گئی جہاں وہ لباس پہنا جسکی تم نے ابھی نشاندہی کی ہے۔ وہ لباس اِسلئے پہنا تاکہ اُسے کوئی پہچان نہ سکے”۔ وہ خاموش ہو گیا۔لمبا سانس لیا۔۔
“پھر”۔۔ موحد نہ بولا تو احد نے ہلا کر پوچھا۔
“پھر کیا وہ ٹھوکر نیاز بیگ بس ٹرمینل پر آ گئی جہاں میں اُسکا منتظر تھا۔ میں نے کہاکہ آخری بار کوشش کرنے دو۔ اب کی بار اِنکار ہوا تو جیسا وہ چاہے۔ وہ مان گئی اور گھر واپس چلی گئی۔ پھر میں نے دادو سے بات کی اور دادو نے کہا کہ یہ کام تمہاری ماں ہی کر سکتی ہے”۔
“ہمم۔ تو دیکھ لیں کر دیا نہ کام۔ رِشتہ نہیں لیا باقاعدہ رسم کی ہم نے”۔۔ احد نے کالر اُچکاتے ہوئے کہا۔
“ہاں ہے تو سچ”۔۔موحد نے تسلیم کیا اور دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
“اُس نے اپنا نام کچھ اور بتایا تھا”۔
“ارے بیوقوف کیا اپنا اصل نام بتاتی”۔۔ موحد نے کہا تو سر پر ہاتھ مار کر اپنی کم عقلی پر ہنس پڑا۔
“مجھے ایک بات کی خوشی ہے کہ ماما بہت اچھی ہیں۔ اُنہوں نے نہ صرف دادو کو معاف کر دیا بلکہ میرے ساتھ ساتھ اُنکو بھی اپنے ساتھ رکھنے کی بات کی ہے۔سب سے اعلیٰ یہ کہ نانا اور نانو نے اعتراض نہیں کیا”۔
“بھائی اُس گھر میں تمہارے اور سحر کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ تم لوگوں کی منزل یہ گھر ہے ، خوشاب ہاؤس جہاں دِل کے پاک اور نیت کے صاف لوگ رہتے ہیں۔ نانا نے ٹھیکیدار کو بلوایا ہے تاکہ اوپر کے پورشن میں مزید دو کمرے بنوائے جا سکیں “۔۔ موحد نے حیران ہو کر دیکھا۔
“ارے بھئی ماشاء اللہ فیملی بڑھ رہی ہے بلکہ بن رہی ہے نیچے صرف تین کمرے ہیں جو ہم ماما، میرے اور نانا نانو کے استعمال میں ہیں ۔۔ جیسے ہی اوپر کا پورشن مکمل ہو گا آپ اور میں اوپر والے کمروں میں شفٹ ہو جائیں گے۔ میرا کمرہ دادو کو مل جائے گا۔۔ پھر ماما اور نانوآپکی شادی کیلئے تاریخ لینے چلی جائیں گی”۔
“دادو ہمارے ساتھ رہنے پر تیار ہیں؟”۔۔ موحد نے پوچھا۔ وہ آفس کے سلسلے میں تین دِن کیلئےاِسلام آباد گیا ہوا تھااِس دوران کیا ہوا وہ نہیں جانتا۔ وہ آج اُن سے ملنے آیا تھا۔
“بالکل۔ وہ تو کب سے تیار ہیں۔وہ کہہ رہی ہیں جلدی سے کمرے بن جائیں تو آپ دونوں آئیں گے ہمیشہ کیلئے”۔۔
“ناممکن۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ دادو اپنے بیٹے کو چھوڑ کر کیسے”۔۔
“آپ کچھ بھول رہے ہیں۔ہمارے پاپا یعنی اُنکے بیٹے کامران نام کے ہی بیٹے ہیں۔ کتنی عزت کرتے ہیں آپ جانتے ہی ہیں۔ آج تک اچھے شوہر بن سکے نہ اچھے باپ۔ اچھا بیٹا بننا دور کی بات ہے”۔ احد آج پہلی بار تلخ ہوا تھا۔
“تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ کوئی بات ہوئی ہے؟ کھل کر بتاؤ احد”۔۔ موحد کو تجسس ہوا کہ کوئی تو بات ہے جسکی وجہ سے اِتنا بڑا فیصلہ کیا گیا۔
” پاپا نے دادو سے کہا ہے کہ موحد اپنے لئے کہیں اور بندوبست کر لے یا ماں کے پاس چلا جائے۔ اُس گھر میں آپکے لئے کوئی جگہ نہیں۔ دادو نے کہہ دیا وہ بھی آپکے ساتھ جائیں گی۔ پاپا نے کہا جیسے اُنکی مرضی۔۔ باقی کی رہ گیا ؟”۔۔
“پاپا نے یہ سب کہا؟ ہرگز نہیں۔۔مجھے پاپا سے یہ اُمید نہیں تھی۔ اُنہوں نے توسب ختم کر دیا۔سب”۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ کم از کم اپنی ماں کیساتھ تو ایسا نہ کرتے۔۔
“لیکن ہم نے ابھی شروع کرنا ہے وہ سفر جو خوشیوں بھرا ہے۔ جہاں آپکی سحر ہے اور میری یمنیٰ”۔۔ احد نے ماحول خوشگوار بنانے کیلئے کہا تو وہ ہنس پڑا۔ ایسے لوگوں کیلئے اُداس رہنے کا کیا فائدہ بھی کیا جنکی نظر میں رِشتے بے وقعت ہوں۔ خوشیاں اُنکی منتظر تھیں۔
**********

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.