آسرا _________صوفیہ کاشف

کون کہتا ہے وہ کملائی نہیں؟ کملا گئی وہ! کچھ ہی ماہ نے اسکے چہرے کی نرمی سے لیکر اسکے پاؤں کی نزاکت تک چھین لی تھی۔وہ چہرہ جو کبھی دھوپ میں بھی نکلا نہ تھا آفتاب کی زمین پر بے سایہ اتر گیا تھا۔وہ پاؤں جو پھولوں کی پنکھڑیوں پر چلتے تھے،وہ سنگدل کٹھن راستوں پر ننگے پاؤں اتر گئے تھے۔سب کہتے تھے وہ ناداں تھی مگر میں جانتی ہوں اسے محبت کھا گئی تھی!

تمھیں کیا پتا محبت کیا ہے۔نوجوانی کے ایام کی روز رنگ بدلنے والی محبت دیکھنے والو تمھیں کیا پتہ محبت کی خاطر کیسے ذندہ جسم سر کے بل لڑکھتے قبلے کی طرف بڑھتے ہیں۔ تم بدن سے محبت کی اوقات رکھنے والے کعبے کی دیوار کو چومنے چاٹنے والو!کبھی دیکھا ہے کسی نے محبوب کو سامنے بٹھا کر اسے چھوئے اسے چومےبغیر؟ کہاں سے دیکھو کہ یہ الہام ہو کر کسی کسی در پر اترتی ہے۔ہر راہ چلتے کو محبت نہیں ملتی! ہر چولا پہننے والا فقیر نہیں ہوتا! اور ہر محبت محبت کرنے والا محبت کو جانتا ہی کہاں ہے بھلا!

اسے دیکھا تھا میں نے جب کوٹھریوں میں چھپ کر روتی تھی تو باہر آ کر ہنستی تھی۔تب میں نہیں تھی وہاں مگر میں نے اسے دیکھا ہے۔دیواروں سے سر مارتی تھی اور اپنے رب سے صبر صبر مانگتی تھی۔اسے خبر نہ تھی مگر مجھے سب خبر تھی! اسے دیواروں سے سر پھوڑتے دیکھا تو اسی لمحے وہ اس کا ہو گیا تھا۔میں جان گئی اب اس کی مراد کبھی نہ بھرے گی۔ اس در والے کو اس کا رونا بھا گیا ہے۔اب یہ روئے گی سدا،ایسے ہی،کبھی کمرے کی دیوار سے لگ کر ،کبھی چھم چھم برسات میں چھپ کر ،کبھی کسی ندی کنارے بیٹھی اکیلی، کبھی پہاڑوں میں آوارہ پھرتی یہ روئے گی!

پھر دنیا نے اس کے اردگرد پھول کھلتے رنگ بکھرتے دیکھے۔وہ آگے کو چلتی رہی یہاں تک کہ ہواؤں میں اڑنے لگی۔دیکھنے والے پیچھے رہ گئے وہ اوپر کو اٹھتی رہی۔کوئی رشک اور کوئی حسد سے اس کو دیکھتا رہا۔جو نہ دیکھ سکتا تھا وہ میں تھی۔مجھے خبر تھی کہ باہر کے چمکتے قمقموں کے اندر بسا اندھیرا ہے۔مجھے خبر تھی ان روشنیوں میں اجالا بن کر پھرتی وہ دیکھنے والوں کے لئے ایک دھوکہ ہے۔میں شمع کی طرح اسے روز جلتا دیکھتی رہی۔خود کو جلا کر آگے کا رستہ ڈھونڈتی تھی۔دو قدم پر پھر اندھیرے بڑھنے لگتے تو پھر اپنا کچھ حصہ جلا کر چراغاں کر دیتی۔خود کو جلاتی رہی وہ اور اپنا راستہ بناتی رہی ۔

پھر میں نے اس کا آسمانوں سے اترنا دیکھا بادلوں پر بیٹھ کر وہ پہاڑوں پر اتری اور ایک جھرنا بن کر وادی در وادی بہتی چلے گئی۔ہے کس طرف راہ اور کس سمت رستہ اسے کچھ خبر نہ تھا۔نہ ہاتھ میں کوئی عصا تھا نہ کوئی معجزوں کی طاقت مگر پھر بھی سر سے پتھر پھوڑ دیتی تھی۔وہ ان کچے پکے لوگوں کے بیچ میں جیسے اک سنگ مرمر سے بنی ہستی تھی۔اس کے ساتھ آسرا اس کے ہاتھ کا تھا جو چاہے تو ساری عمر کو پتھریلی راہگزر بنا دے چاہے تو نخلستان سے بھرا سفر کر دے۔اور وہ نخلستانوں سے نکالتا اسے پتھروں میں گھماتا پھرتا تھا۔

تم کہتے ہو کملا گئی ہے وہ۔تمھیں لگتا ہے کھارا ہوا اس ندی کا پانی۔میری بات سمجھنا یہی گدلا پانی ایک روز سمندر میں اترے گا اور سمندر بن جائے گا۔میں جانتی ہوں کہ اس کے ساتھ محبت کا آسرا ہے جو اسے کبھی رکنے کبھی ہارنے نہ دے گا۔میں جانتی ہوں کیونکہ میں ہی تو وہ محبت ہوں۔

____________

تحریر/فوٹوگرافی/کور ڈیزائن:

صوفیہ کاشف