ادھورا آدمی___________طیب عزیز ناسک

اُسے آفس سے گھر آ تے ہوئے محسوس ہوا، بائیک میں پٹرو ل ختم ہو گیا ہے۔ ہائی وے پر تیز رفتار ٹریفک سے بچتے بچاتے اس نے بائیک روک لی اور ٹینکی کو ہلانے لگا۔
پھر موبائیل نکال کر اس کی روشنی میں اندر جھانک کر دیکھنے لگا۔پٹرول تو ہے،لیکن کم ہے؟
وہ صحیح اندازہ نہیں کر پایااور پھر بائیک پہ سوار ہو گیا۔
تھوڑی دیر میں جب اگلے اشارے کے قریب پہنچاتو محسوس ہوا جیسے انجن بہت گرم ہورہا ہے۔
اس نے پاؤں سے حرارت کو محسوس کیا۔اس کے ساتھ ہی اس کی نظر دھویں پر پڑی جو بائیک سے نکل کر ہوا میں بلندہو رہا تھا،وہ گاڑیوں کی روشنی میں اس دھویں کو ٖفضا میں پھیلتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ اسی دوران اشارہ کھل گیا اور وہ آگے بڑھنے لگا۔وہ سامنے والی مارکیٹ تک آ گیا تھا، اسے محسوس ہوا جیسے اس میں انجن آئل ختم ہو گیا ہے۔اس کے بارہا یاد کرنے پر بھی اسے یاد نہ آیا کہ اس نے آئل کب ڈلوایا۔اس نے خیال کی تہہ لگائی اور مارکیٹ کی طرف دیکھنے لگا۔
اسے کچھ چیزیں بھی خریدنی تھیں، اس کے زہن کے پردے پر مختلف اشیاء چلنے لگی۔ وہ مارکیٹ میں داخل ہو گیا۔ا سے لگا جیسے مارکیٹ سے تمام چیزیں غائب ہو گئی ہیں۔وہ ناموں اور بڑے بڑے اشتہاروں اور فرنیچر سے دکانوں کا اندازہ کرنے لگا۔اس نے ایک دکان دار سے پوچھا، یہ مارکیٹ اشیاہ سے خالی کیوں ہو گئی ہے؟اس نے اپنی دکان کی طرف دیکھا اور کہا بھائی کیا خریدنا ہے آپ کو؟؟؟
وہ مختلف اشیاہ کے نام لینے لگا۔۔۔۔ ”آگے جاؤ“
اس نے دکان دار کی طرف حیرت سے دیکھا اور آگے چل دیا۔
آگے دکانیں تو تھیں لیکن ان میں کوئی چیز موجود نہیں تھی۔گاہک خالی دکانوں میں مٹرگشت کر رہے تھے۔وہ دیکھ رہا تھا کہ دکانداروں کے پیٹ بیٹھے بیٹھے پھول گئے تھے اوروہ دکانوں سے باہر نہیں نکل سکتے تھے۔
اسے فکر ہونے لگی کہ اشیاء نہ ملی تو کیا ہو گا۔۔۔۔!!!
اس نے ایک بار پھر مارکیٹ کی طرف دیکھا اور دیکھ کر حیران رہ گیا کہ دکانوں میں چیزیں موجود ہیں اور گاہک کہیں غائب ہو گئے ہیں، ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟؟وہ سامنے والی دکان پر گیا، مختلف چیزوں کو دیکھتا رہا اور پھر کوئی چیز اٹھانے لگا تو اسے محسوس ہوا یہ تو پتھر ہیں، وہ انہیں پوری قوت سے کھینچنے لگا۔
بھائی کیا چاہیے آپ کو؟
دکان دار نے قریب آتے ہوئے پوچھا۔۔۔”یہ گھی، چاول اور آٹا دے دو“
دکان دار نے اس کی طرف دیکھا”بھائی یہ تمہارے لیے نہیں ہیں!!!“
کیوں؟؟
”یہ سب کوئی پہلے خرید چکا ہے، تم کہیں اور جاؤ۔“
ایسا کیوں کر ممکن ہے؟؟
ساری دکان ہی کوئی خرید چکا ہے!!!
اس نے خیال کی تہہ لگائی اور اسے محسوس ہوا وہ اپنے گھر کے پاس آ چکا ہے۔۔۔۔
گلی سنسان اور گھروں کا کوڑا کرکٹ کے شاپر جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں۔وہ بائیک سے نیچے اترا اور دروازے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
دروازہ نہیں تھا!!!
وہ دیکھنے لگا کہ دروازہ کہاں غائب ہو گیا ہے!!!
اسے یاد آیا شاید دروازہ اس طرف نہیں دوسری طرف ہے۔وہ ابھی بائیک سٹارٹ کر ہی رہا تھا کہ اس کی بیوی باہر آ گئی اور اس کی طرف دیکھنے لگی۔ وہ بائیک سے نیچے اترا اور کہا”ابھی تو دروازہ یہاں موجود نہیں تھا“
اندر آ جائیں۔۔۔ کیا ہو گیا ہے آپ کو۔۔۔؟ کیوں بہکی بہکی باتیں کر رہے ہیں؟
وہ اندر آیا تو بیوی نے چیزوں کا تقاضہ کیا۔۔۔کب تک ایسے چلے گا۔ اس نے بتایا کہ آج مارکیٹ چیزوں سے خالی تھی اور جو چیزیں مل رہی تھیں وہ پتھر۔
وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔
آج بھی پیسوں کا بندوبست نہیں ہوا۔آفس والوں نے بھی کچھ نہیں دیا؟؟؟
بیوی اس کی خاموشی کو بھانپ گئی۔
وہ اپنے بھاری ہوتے سر کے ساتھ لیٹ گیا۔ وہ دیکھ سکتا تھا کہ آہستہ آہستہ چیزیں گھر سے غائب ہو رہی ہیں،۔۔۔صرف چیزیں نہیں دیواروں سے پلستر اور ایک ایک کر کے اینٹیں بھی غائب ہو رہی ہیں۔اور وہ چٹیل میدان میں لیٹا ہوا ادھر اُدھردیکھ رہا ہے!!
اتنے میں اسے ایک خوفناک جھٹکالگتا ہے اور زمین پھٹ جاتی ہے اور وہ خود کو ایک گڑھے میں پاتا ہے۔
کچھ ہی دیر میں وہ گٹھ جوڑ کر کے خیال کی تہ لگانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے سنا۔۔۔

اس کے کمرے کے دروازے پر مسلسل دستک ہو رہی ہے۔۔۔۔
”خدا کے لیے باہر نکل آؤ ہمارا نہیں۔۔۔ تو ان معصوم بچوں کا ہی خیال کر لو۔۔۔“
”بیٹا تیرے سوا ہمارے بڑھاپے کا سہارا کون بنے گا۔۔۔“اسے اپنی ماں کی آواز سنائی دی
مسلسل دستک ہوتی رہتی ہے۔۔۔
خیال کی تہہ دوبارہ سے کھلتی ہے۔
وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ آدھے دھڑ کے ساتھ اسی گڑھے سے نکل رہا ہے۔ دروازے کی طرف بڑھتا ہے اور کنڈی کھولتا ہے۔قریبی لوگ اس سے خوف کھانے لگتے ہیں۔

______________

تحریر:طیب عزیز ناسک

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.