جمعہ کے بعد، امام صاحب نے نمازِ استسقاء کا اعلان کیا۔

“ابو! یہ نمازِ استسقاء کیا ہوتی ہے؟”

“بیٹا! یہ اللہ جی سے بارش مانگنے کے لئے پڑھتے ہیں۔ آپکو پتا ہے نا، دو ماہ سے بارش نہیں ہوئ۔ اس لیے ہم سب نماز کے بعد دھوپ میں یہ نماز پڑھیں گے اور اللہ سے بارش کی دعا کریں گے۔۔”

“میں بھی یہ نماز پڑھ سکتا ہوں؟۔۔”

“جی بالکل ۔ پر آپ نے مسجد کے اندر پڑھنی ہے ۔ باہر دھوپ سخت تیز ہے۔۔”

اِدھر باپ نماز میں مشغول ہوا۔

اُدھر بچے نے نظر بچا کر ، مسجد کے صحن میں اکیلے ہی تیز دھوپ میں ننگے فرش پہ دو نفل ادا کئے۔

باپ کی نظر پڑی تو فوراً بیٹے کی طرف لپکا۔ اس کا ہاتھ پکڑا، اور گھر کی راہ لی۔

کسی نے باپ کو یاد دلایا کہ نمازِ استسقاء کی صفیں بن رہی ہیں۔۔۔

“اس نے جواب دیا، “نماز ادا ہو چکی، دعا قبول ہو گئی۔۔ اب بس تیز بارش آنے کو ہے۔۔۔

گھر پہنچنے تک باپ بیٹا بُری طرح بھیگ چکے تھے۔

_____________

تحریر: عمر

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف