جل تھل____________عمر

جمعہ کے بعد، امام صاحب نے نمازِ استسقاء کا اعلان کیا۔

“ابو! یہ نمازِ استسقاء کیا ہوتی ہے؟”

“بیٹا! یہ اللہ جی سے بارش مانگنے کے لئے پڑھتے ہیں۔ آپکو پتا ہے نا، دو ماہ سے بارش نہیں ہوئ۔ اس لیے ہم سب نماز کے بعد دھوپ میں یہ نماز پڑھیں گے اور اللہ سے بارش کی دعا کریں گے۔۔”

“میں بھی یہ نماز پڑھ سکتا ہوں؟۔۔”

“جی بالکل ۔ پر آپ نے مسجد کے اندر پڑھنی ہے ۔ باہر دھوپ سخت تیز ہے۔۔”

اِدھر باپ نماز میں مشغول ہوا۔

اُدھر بچے نے نظر بچا کر ، مسجد کے صحن میں اکیلے ہی تیز دھوپ میں ننگے فرش پہ دو نفل ادا کئے۔

باپ کی نظر پڑی تو فوراً بیٹے کی طرف لپکا۔ اس کا ہاتھ پکڑا، اور گھر کی راہ لی۔

کسی نے باپ کو یاد دلایا کہ نمازِ استسقاء کی صفیں بن رہی ہیں۔۔۔

“اس نے جواب دیا، “نماز ادا ہو چکی، دعا قبول ہو گئی۔۔ اب بس تیز بارش آنے کو ہے۔۔۔

گھر پہنچنے تک باپ بیٹا بُری طرح بھیگ چکے تھے۔

_____________

تحریر: عمر

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.