سچ تو یہی ہے… کہ محبت ماں سے نہ ملے تو کہیں سے.. کسی سے نہیں ملتی
وہ پریپ کلاس میں تھی جب اسکی ماں چلی گئ..وہ ماں کے فراق میں نیم پاگل .. کملایا ہوا پھول بن کر رہ گئ…
اسی سال.. اسکے ابا نے اسکا خیال رکھنے کو شادی کر لی.. مگر سب کچھ آ گیا پھر خیال نہ آ سکا… اسکے ابا کا خیال ہوا بس.. اور وہ *خیال* ہی ہو گۓ.. شاید بڑی بہنوں کی شادیاں کراتے.. نۓ رشتوں کو نبھاتے.. سلجھاتے وہ کھو گۓ….. توجہ بٹ گئ.. محبت…!! وہ تو ماں سے ملنی تھی.. ماں تو چلی گئ.. ابا کی محبت.. عجب انتشار کا شکار ہوگئ.. بہنوں کی شادیاں ہوتی رہیں.. نیا گھر.. نئ ذمہ داریاں.. نۓ رشتے.. _اب اسقدر وسیع محبت کیسے ہوتی.. کہ دوسرے شہروں سے پھیل کر اس تک پہنچتی…_ اور جو رہتی گئیں.. وہ سب اسی جیسی الگ الگ دنیائیں تھیں… جن تک رسائ عجیب معمہ.. *اب پہیلیاں کون بوجھتا..* محبت تو ماں سے ملنی تھی..باہر کہاں سے ملتی.. *گھر کے کمروں میں بھی محبت کی دھوپ ٹھیک نہ لگ سکی.. تو کڑھن.. گھٹن.. دوریوں..اور سمجھوتوں کی سیم درو دیوار کو چاٹنے لگی* ..

اوہ ہاں.. بھائ..!! ایک بھائ.. وہ بھی مبتلاۓ غم تھا..
بہنوں کا اکلوتا ماں کا لاڈلا.. اسکی بھی اکلوتی ماں گئ.. اسکا اپنا دکھ.. اور پھر ابا کی عجیب محبت…اسے بہت سی شخصیات بنانے کی کوشش میں اسکی ایک شخصیت بٹتی گئ.. محبت،؟ وہ تو ماں سے ملنی تھی.. اس سے کھو گئ تو وہ تلاشتا رہا.. جو خود تلاش میں تھا اسے.. چھوٹی کی تلاش اور جنگ کیسے سمجھ میں آتی…
وہ بھی اپنی تلاش میں دور نکل گیا..

عجب.. بکھرتے گۓ شیرازے سب کے.. تلاشی جانے لگی محبت گھر سے باہر… وہ تو ماں سے ملنی تھی.. مگر وہ تو گئ گھر کےاندر سے.. تو باہر ہی ڈھونڈنی تھی نا..
اندر والے بٹتے رہے باہر تلاش کرتے رہے..
وہ چھوٹی لڑکی بھی یہی دیکھتی.. جانتی رہی… کام دنیا کے اس سے چھوٹتے رہے.. مدرسے… سکول.. اکیڈمیاں سب کچھ… محبت تلاشی گئ وہاں بھی پر اسے نہ ملی…
مگر.. اسے اردگرد کے پرکشش رنگوں اور چمک نے شاید ہر جگہ تلاش کرنے میں محبت بخش دی… وہ بٹتی رہی.. اور بگڑ کر بنتی رہی…
اسے ہر رنگ پر کشش.. اور ہر بھنورا جگنو دکھنے لگا..
تو اس نے موقعے تلاشنے اور نہ کھونے کی ٹھان لی… ہر سیاہ بھنورے کو جگنو سمجھ کر.. ان سے ناپید محبت کشید کرنے کی کوشش میں.. اپنی ہی روشنی کھونے لگی…….
سیاہ بھنورے روشنی چھینتے رہے وہ محبت جانتی رہی… ہر اس ہاتھ کو تھامنے لگی کو اسے وہاں لے جانے لگے…اندھیری روشنی کی جانب..

اندر والوں کے ہاتھ اس سے چھوٹنے لگے.. بھائ بہنوں کے.. کہ انھوں نے نۓ ہاتھ تھام لیے.. ؛؛ *ایک وقت میں تو ایک ہی ہاتھ تھاما جا سکتا ہے نا…!!؟*
اب مگر سب باشعور لگنے لگے ہیں.. وقت آگے بڑھ گیا ہے.. چھوٹی لڑکی بہتتت آگے نکل گئ ہے..

مگر پتا نہیں وہ چھوٹی لڑکی.. بڑی نہیں *بری لڑکی* کیسے بن گئی..؟؟ 😒
محبت تلاشنے والے برے ہوتے ہیں؟؟ اگر نہیں تو برے کیوں لگتے ہیں؟؟ 😒 برے کیوں بنتے ہیں،؟؟
یہ تصویر کا ایک رخ لگے شاید.. بڑی بہنوں اور بھائ پر بھی قیامت ہی ٹوٹی.. مگر آپ ہی بتائیے…چھ سات سالہ بچی… جو ماں کی جنازے کی چارپائی پکڑ لے.. اسکے ساتھ جانے کی ضد کرے.. ساتھ کے وعدے یاد کراۓ.. دیوانی ہو جاۓ..
اسکا حق تو زیادہ ہے نا محبت پہ…؟ اسکے حصے میں تو بوڑھے ماں باپ آۓ .. ان میں سے بھی ماں چلی گئی.. تو اسکا حق زیادہ ہوا نا؟

پھر وہ بری کیسے بنی…!!؟
مجھے تو بس ایک ہی غم کھاتا ہے… کیا کوئ بھنورا.. اسکے لیے جگنو نکلے گا؟؟ کیا کوئ جگنو اسے محبت کی روشنی بخشے گا؟؟ یا وہ اپنی روشنی بھی کھو دے گی؟! 💔
آپ ہی بتائیے نا.. چھوٹی قصور وار لڑکی بری نہیں تو کیا ہے..؟؟
ہاں مگر یہ ایک رخ ہے..
___________
تحریر:عمارہ احمد

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف