“افغان داستان “صوفیہ لاگ پہ شروع ہونے والا محض ایک افسانوی سلسلہ نہیں تھا بلکہ کچھ دکھ تھے ، المیے تھے ، ایک پھانس تھی جسے میں نے تحریر کیا ۔ جب میں افسانہ لکھنے کا سوچتی تو کہانیوں کا ایک ہجوم میرے اردگرد کھڑا ہو جاتا ۔ میرے لیے یہ مشکل ہو جاتا میں کس کہانی کو پہلے لکھوں ۔ سال دو ہزار انیس میں نے افغان داستان کے نام کیا ۔ جیسے ہر چیز کا انجام ہوتا ہے ویسے ہی افغان داستان بھی اپنے اختتام کو پہنچی ۔ یہ اور بات بہت سی ادھوری کہانیاں مکمل ہونے کے کی منتظر ہیں ۔ بہت سے کہانیاں مجھ سے خفا ہیں کہ انھیں لگتا ہے ان کا لکھنا ضروری تھا ۔ شاید کبھی کسی وقت میں انھیں بھی لکھوں ۔
مجھ سے اکثر سوال کیا جاتا کہ میں اردو میں ہی کیوں لکھتی ہوں ۔ ؟ مجھے حیرت ہوتی اردو زبان کی طاقت سے لوگ کیسے نا آشنا ہیں ۔ اردو ہندوستان ، پاکستان اور افغانستان کو لسانی اعتبار سے آپس میں جوڑتی ہے ۔ اس سرحد پہ کوئی گیٹ بھی لگا سکتا ، نا ہی پہرے بیٹھا سکتا ہے ۔ نہ ہی خاردار باڑیں میرے لفظوں کو آپ تک پہنچنے میں روکاوٹ ہیں۔
اردو زبان میں بلخ و بخارا کے خطے کا خمیر ہے ۔
افسوس سے لکھنا پڑتا ہے پچھلی کئی دہائیوں سے افغانستان کو لوگ خبروں میں میں پڑھتے اور سنتے آ رہے ہیں ۔ ان خبروں کے پیچھے کتنے دکھ چھپے ہوتے ہیں کسی کو کیا معلوم ۔
“افغان داستان “خبروں کے پیچھے کی روداد تھی ۔
عوام کے دلوں کو متنفر کرنے کے لیے پروپیگنڈہ کرنے والے ، فاصلے بڑھانے والے ، دیواریں کھڑی کرنے والے بہت ہیں۔ میں نے پُل بننے کا فیصلہ کیا ۔ اور چاہتی ہوں محبت کی آمدورفت کبھی نہ رکے ۔
میں شکر گزار ہوں ان تمام قارئین کی جنھوں نے پڑھا اور سراہا ، تبصرے کئیے ، تنقید کی ۔
قارئین ہی میرے قلم کی طاقت ہیں ۔
صوفیہ کاشف کی محنت اور محبت کو داد دیتی ہوں ۔
یار زندہ و صبحت باقی
باحترام
ثروت نجیب

______________