“ کھڑکی میں بند سفید پوش کابل جان “ _____________کابورہ کی تتلیاں

تحریر و کور ڈیزائن:ثروت نجیب

_______________

“برف نو !برف نو ! سلام ، سلام “

اُس نے کہا تھا : جس دن موسم کی پہلی برف کوہ پغمان کی چوٹیوں سے ہوتی ہوئی کوہ شیر دروازے کو ڈھک دے گی اس دن میں تمھارے گھر ایک نیکمرغہ شگون لاؤں گا ۔ اُس دن میں تمھارا مہمان ہوں گا ۔ تب تک جب تک قرغہ جھیل شیشے کی طرح جم نہ جائے ۔ پھر میں اس شیشے پہ تمھارا نقرئی عکس دیکھوں گا ۔ نمدیدہ موسم میں تمھارے نرم سپید رخساروں جیسی برف ، تمھارے سرد ہاتھوں جیسی یخنی لیے جب ہمارے شہر کو پیار سے آغوش میں لے گی۔
تب میں برف کے سرود پہ محبت کے گرمجوش گیت گاؤں گا ۔
اُس نے کہا تھا : ”کابل بی زر باشد اماّ بی برف نباشد ”۔

کھڑکی کے باہر برف کی فصل لہلہا رہی تھی ۔ پائن کی کھردری شاخوں سے جھولتی ہوئی ملائم برف ، دبے پاؤں ساری وادی میں سفیدی کر چکی تھی ۔ سپیدان کابلی ، اسیرانِ برف ، عاشقانِ مستی لحافوں سے نکل کر باہر آ گئے ۔
ہر کوئی برف کو چھو کر محسوس کرنا چاہتا تھا ۔ وجود سے ٹکراتے ہی برف پگھلنے لگتی ۔ ابھی اس میں بارش کی نمی تھی ۔ یہ کچی کنواری کلیوں کی طرح گلیوں میں بچھتے ہی تحلیل ہونے لگتی ۔
برف ، بارش کا ہاتھ چھوڑ کر اکیلے سرد سفر پہ نکلی تو دیکھتے ہی دیکھتے سڑک دو انچ سفیدی سے ڈھک گئی ۔
سڑک پہ اکلوتی پیلی ٹیکسی سفید سرمئی منظر میں دل میں ایسے اتری جیسے پہلی نظر کی محبت ۔
مکرویان کے عقبی باغ میں برف کے تخت پہ بچہ پھسلن کے خوف سے مبراء والہانہ رقص کر رہا تھا ۔
میں اسے کھڑکی سے دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔
برف کے گولوں سے کھیلتے بچوں میں ایک لڑکا آدم برفی بنانے میں مگن تھا ۔ برف کا پُتلا اس کی قد جتنا تھا ۔ اس نے اپنی سیاہ ٹوپی جب برف کے پتلے کو پہنائی تو اس پہ گرتی برف نے پولکا ڈاٹس بنا دیے ۔
اس سے پہلے کہ وہ دھوپ تک جیتا ، برف میں لڑتے دو بچوں نے آدم برفی پہ گر کر اس کی جان لے لی ۔
بنانے والا ٹوپی جھاڑتا میدان چھوڑ کر چلا گیا ۔
فٹ ہاتھ کے پاس ریڑھی پر رکھی ادھ کھُلی دیگ سے بھاپ نکل رہی تھی ۔
ریڑھی والے نے ہمت کی کہ منہ سر لپیٹے سوپ بیچنے نکل آیا ۔ ورنہ برف جمود کا موسم ہے ۔ سب کو لحافوں میں جما دیتا ہے ۔
دو منچلے گھڑ سوار سڑک پہ ٹک ٹک کرتے مٹر گشتی کر رہے تھے ۔ یہ حتما تپہ مرنجان سے آئے ہوں گے ۔ جہاں گھڑسواری کا شغل چند پیسوں کے عوض پورا کیا جا سکتا ہے ۔ مگر ان کا حلیہ دیہی تھا یقیناً یہ گھُڑ مالکان تھے جو گھڑسواری کرتے کرتے اتنی دور نکل آئے ۔
تند و مند ، چاک و چوبند افغانی گھوڑے خراماں خراماں چلتے چلتے داہنی گلی میں مڑ گئے ۔
خشک شاخوں والے برہنہ درختوں کی لباس پوشی ہو چکی تھی ۔ وہ سفید عروسی لباس میں قطار در قطار اجتماعی شادی کی بیشمار دلہنوں کی طرح سجے ہوئے تھے ۔
حسین ترین ۔
موسم کے ساتھ ایجاب و قبول کرتے یہ درخت ذیادہ خوش تھے ، برف یا میں ؟
اللہ جانے ۔۔۔۔

تقریباً چھ ہزار فیٹ بلندی پہ واقع وادی کابل سطح سمندر سے بلند ترین دارحکومتوں کی فہرست میں شامل ہے ۔
شہر کابل جسے ہم محبت سے کابل جان کہتے ہیں برف کا ایسے استقبال کرتا ہے جیسے نئی نویلی دلہن کا کیا جاتا ہے ۔
کل سے برف نے شہر کو اپنی آغوش میں لے لیا ۔ نرم گرم آغوش ۔ ہاں ! نرم گرم آغوش
جب برف باری ہو رہی ہوتی ہے تب ٹھنڈ میں اتنی شدت نہیں ہوتی ۔ شدت تب آتی ہے جب اس پہ دھوپ کی نوخیز کرنیں پڑتی ہیں ۔
ہنگام سحر سے نابلد برفباری کی وجہ سے ایسی خاموشی پھیل چکی تھی کہ رقص کرتے بچے کے قدموں کی آہٹیں بھی برف میں دھنس گئیں ۔ اس کی مسکراہٹیں بھی ۔
ٹیکسی کا ہارن بھی فریز ہو گیا ۔
پھر سبز چائے کے پیالے سے اٹھتی بھاپ نے کھڑکی کے شیشے کو دھندلا کر دیا اور سارے منظر ننھے ننھے قطروں کے پیچھے رہ گئے ۔
برفباری کہ وجہ سے ہوا صاف ہو چکی تھی ۔ سبز ماسک اتر چکے تھے ۔ سموگ کے متاثرین کو اب آکسیجن سلنڈر کی ضرورت نہیں تھی ۔
حالیہ چند سالوں میں وادی کابل میں سموگ نے بھی باقی المیوں کی طرح اپنی جگہ بنا لی ہے ۔
ٹھٹھرتی سرد راتوں میں پولتھین کے لفافے اور ٹائر جلانے والے حدت کی چاہت میں موت کو دعوت دے دی ۔ کیونکہ کوڑا جلا کر ہاتھ تاپنے والوں کے پاس لحاف نہیں ہوتے ۔ دستانوں برف باری اٹھانے والوں کو کیا خبر یہ دعائیں قبول ہوئیں تو خیمے میں زندگی بسر کرنے والے کتنی جانیں کھو دیں گے ۔
ارباب اختیار کا بس چلے تو غریبوں پہ اس موسمُ میں بچے پیدا کرنے پہ پابندی لگا دیں ۔ مگر ان بزرگوں کا کیا کریں جو ہر سال یہ موسم ڈر ڈر کر گزارتے ہیں ۔ برف کے ہر گولے میں انھیں ملک الموت کی صورت نظر آنے لگتی ہے ۔ یہاں سردیاں موت کے بہت سے پروانے لے کر آتی ہیں ۔ ان کے جنازوں میں شرکت کرنے والے ضعیف بزرگوں کو کوفت دینے کے لیے کہ اب “ نہ جائے رفتن، نہ پائے ماندن “ ۔
وہ برف کھود کر انھیں برف میں ہی دفن کر دیتے ہیں ۔ سردہوتی بوڑھی سرخ دعائیہ ہتھیلیاں جلدی جلدی داڑھی پہ پھیر کر گھروں کو لوٹ جاتے ہیں ۔ سخت سردی اور شدید گرمی صرف امراء کے موسم ہیں ۔ وہ ہر موسم کو انجوائے کرتے ہیں ۔ چھوٹی چھوٹی گاڑیوں کو کوئی حق نہیں وہ برفباری میں گھر سے نکل کر اطراف میں پکنک منانے جائیں ۔ برفباری کا موسم تو آتا ہی لینڈ کروزر مالکان کے لیے ہے ۔ چھوٹی گاڑیوں کو چاہیے وہ پہلے اپنے پہیوں پہ زنجیریں چڑھائیں ان کو اہتمام سے زرہ پہنائیں ، نہیں تو لڑھک کر فور بائی فور ویل کی گاڑیوں کو ہاتھ ہلا کر شرمندہ نہ کریں ۔ گاڑی رکنے سے ہائی والیوم میں گانا گاتا فریاد دریا جب خاموش ہو جاتا ہے تو بالکل مزہ نہیں آتا ۔ اس لیے فور بائی فور گاڑیاں برف میں گھر گھر کرتی پھنسی ہوئی ، الٹی یا لڑھکی ہوئی گاڑیوں کو چچ چچ چچ کرتی فر سے گزر جاتی ہیں ۔ انھیں دھکا دینے ان جیسی گاڑیاں ہی دروازے کھولتی ہیں ۔ کابل شہر سے چند میل دور قرغہ جھیل ایک ایسا پکنک سپاٹ ہے جہاں سال کے بارہ ماہ آمدورفت رہتی ہے ۔ البتہ سردیوں میں ہجوم کم ہو جاتا ہے ۔ صرف صاحب ثروت حضرات ہی پوش ریستورانوں کے مخملیں صوفوں پہ براجمان بھاپ اٹھتے سوپ سے محضوظ ہوتے ہیں ۔ کھڑکی سے گرتی بےتحاشہ برف کو دیکھ کر گرما گرم سیاسی مباحثے کرتے ہیں ۔ ان کے بچے آسمان پہ اڑتی اکا دکا بھوکی بےچین ابابیلیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے پنڈیوں تک برف میں دھنسے سیلفیاں لیتے ہیں ۔
میرے گھر کی کھڑکی جہاں پرندوں کو دانہ ڈالا جاتا ہے برف سے جام ہو چکی ہے ۔ دور دور سے آنیوالی چڑیاں ، کبوتر اور قمریاں پھڑ پھڑا کر واپس چلی جاتی ہیں ۔
صرف گرمیوں میں ٹھنڈے پانی کے کٹورے رکھنے والوں کو علم ہونا چاہیے کہ موسم سرما میں بہت سے پرندے بھوک سے مر جاتے ہیں ۔
روایت ہے کہ مسلمانوں کے خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے پہاڑوں پہ دانہ ڈالنے کی رسم شروع کی تاکہ مسلمان ملکوں میں پرندے بھوک سے نہ مریں ۔ یہ روایت ترکی میں تو ابھی برقرار ہے مگر ہمارے ہاں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اناج کی بوریاں پرندوں کی نذر کی جائیں یا انسانوں کو۔
میں نے خشک روٹیوں کو پانی میں بھگو کر نرم کیا اور دوبارہ باورچی خانے کی کھڑکی کھولنے کی کوشش کی ۔
لیکن بے سود ۔ میں نے برف پگھلنے تک انتظار کرنا بہتر سمجھا ۔ اپارتمان کی کار پارکنگ میں ہمارے پڑوسی کی گاڑی کا انجن سٹارٹ نہیں ہو رہا تھا ۔ وہ بےہنگم آوازیں نکال کر بند ہو جاتی ۔
تب مجھے خیال آیا پرندوں کو بھی ایسے ہی تکلیف ہوتی ہے جیسے گاڑی کا انجن جام ہونے سے ہم کو ہوتی ہے ۔ انجن تو گرم پانی ڈالنے سے دوبارہ چالو ہوجاتا ہے مگر مردہ پرندے گرم پانی ڈالنے سے بھی دوبارہ زندہ نہیں ہوتے ۔
مجھے ان کا کوئی اور بندوبست کرنا ہوگا ۔ پل صراط پہ یہ پرندے کہیں میرا راستہ نہ روک لیں ۔ ان کے چھوٹے پر ہجرتوں کے لمبے سفر کے لیے نہیں بنے ۔ یہ یہاں رہنے مجبور ہیں ۔ جو ہجرت کر کے اب تک میدانی علاقوں تک پہنچ چکے ہوں گے ان میں بھی آدھے سے ذیادہ شکاریوں کی خودغرض بندوقوں کا شکار ہو کر دسترخوان پہ سج چکے ہوں گے ۔ پچھلی چار ہائیوں سے عربوں نے ہمارے پہاڑی سادہ لوح لوگوں اور معصوم پرندوں کا بےدریغ استعمال کیا ۔ افغانوں اور پرندوں کی نسل کشی میں کس کا پلڑا بھاری ہے اس کے آنکڑے مل بھی جائیں تو فیصلہ کرنا مشکل ہوگا کس مخلوق نے ذیادہ جانیں دیں ۔ انھیں شکار کے پرمٹ دینے والے بےحس حاکموں کی مٹھیاں سال کے بارہ مہینے خوب گرم رہتی ہیں ۔ کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کیا ایک دن مہاجر پرندے بھی صرف تصویروں میں دیکھائی دیں گے ؟ کیا یہ بھی چلغوزوں کی طرح کمیاب ہو جائیں گے ؟ چلغوزے جو کبھی کابل کی ریڑھیوں پہ بکتے تھے اب بڑی بڑی دکانوں میں شیشے کے شوکیس کے اندر سجے ہوتے ہیں ۔ افغانستان میں چالیس سالہ جنگ میں خاص کر امریکی بمباری نے چلغوزوں کے باغات کو بےحد متاثر کیا ۔ پہاڑوں پہ اگنے والے درختوں کو کیا خبر تھی وہ امن کے لیے لڑی جانیوالی جنگ میں چلنے والی گولیاں اور میزائل سینے پہ کھائیں گے ۔
کیا انھیں اس لیے بویا گیا تھا وہ امن کے دھوکے پہ نابود ہو جائیں ؟

اب نہ امن ہے نہ چلغوزے ہیں ۔ ہم دونوں کو بہت یاد کرتے ہیں ۔ اور مجبوراً خوف کے لحافوں میں دبکے مونگ پھلیاں کھاتے ہیں ۔ خوف نے بہت سی روایات کو نگل لیا ہے ۔ جیسے برفی کی رسم ۔ جب بوجھل سفید بادل گھر کے آئیں ۔ سکوت کا عالم ہو اور لگے کہ پہلی برفباری ہو ۔ تو دل کرتا ہے میرے کمرے کے توشک کے نیچے وہ پرچی پہ برفی لکھ کر چپکے سے چلا جائے ۔ یونہی توشک جھاڑتے وقت وہ پرچی مجھے ملتے ہی مجھ پہ لازم ہو جائے میں اس کی دعوت کروں ۔
نامہ برفی کا رواج بھی کتنا خوبصورت تھا ۔
“ برف نو از ما برفی از شُما
امشب مہمانِ شُما “۔
موسم کی اولین برفباری والے دن کوئی دوست ، ساتھی رشتہ دار چپکے سے آتا اور برفی لکھ کر توشک کے نیچے رکھ جاتا ۔ اگر برفی لکھنے والا پکڑا جاتا تو جرمانہ دیتا اگر چپکے سے برفی لکھ کر نکل جاتا تو اس کی دعوت کی جاتی تھی ۔ بعض اوقات شعر کی سورت میں پیغام لکھا جاتا ۔جن کے متن کچھ یوں ہوتے ۔

“برف باریده به امید خدا
برف نو از ما و برفی از شما
گرکه ما بردیم جمعا 5نفر
گر شما بردید مختارید”

اب شاید کسی گاؤں کسی حجرے میں یہ روایت باقی ہو ۔ کوئی “برفی “لکھ کر بھاگ جائے اور جاتے ہوئے نعرہ لگائے ۔ “ برفی “
منچلے لڑکے یہ شرارت اپنے دوستوں کے ساتھ کرتے اور بالفرض برفی لکھ کر بھاگنے کی کوشش کرنے والا پکڑا جاتا تو اس کا منہ کالا کر کے گدھے پہ بیٹھایا جاتا ۔
گدھے پہ بیٹھنے والا نئے سال کی نئی برف کے پلان بناتا ہوگا اور بدلہ لینے کی سوچتا ہوگا یا خفیف ہوجاتا ہوگا ؟
کیا پتہ ؟
وقت “برفی” بھی ساتھ لے گیا ۔
دن ڈھل چکا تھا ۔ میرے اپارتمان کے عقبی باغ میں چہل پہل خاموش ہو چکی ۔ پائن اور پوپلر کے درختوں پہ جیسے سیب کے پھول کھِلے ہوں ۔
سفید ، بےداغ اور حسین ۔
کھڑکی کھولو تو خنکی کی مخصوص خوشبو دماغ کو معطر کرنے لگتی ہے اور اس کی نمی پھیپھڑوں کو گدگداتی ہے ۔
برف کے گرنے والے ہر گولے ❄ کی ساخت انسانی انگلیوں کی پوروں کی طرح ایک دوسرے سے جدا ہوتی ہے ۔ برفباری کے وقت لگتا ہے جیسے دو شرارتی پریاں آسمان پہ ایک دوسرے کو تکیے مار رہی ہیں اور کپاس ہمارے سروں پہ گرنے لگی ہے ۔ بظاہر آک کے بکھرے پھولوں جیسے گولے ستارہ نما کرسٹلز ہوتے ہیں ۔ جن کی شکلیں نمی اور درجہ حرارت کے تبدیل ہونے سے بدلتی رہتی ہے ۔ مانو تو جیومیٹری کے سارے مخمس، مسدس ، مثمن اِنھی میں پوشیدہ ہیں ۔
کہیں واقعی یہ برف کے گالے وہ پریاں تو نہیں جن کا ذکر دادی آماں کیا کرتی تھیں ۔
ستارہ نما پیراہن پہنے پھلجڑیوں سی ایک ساتھ زمین پہ اترتیں اور پھیل جاتیں ۔ ان کے زمزمے سے راتیں منور ہوتیں ۔ پھر خورشید کی پہلی نظر پڑتے ہی پگھلتے پگھلتے فنا ہو جاتیں ۔
ہم پوچھتے انھیں جب معلوم ہوتا ہے کہ زمین پہ جا کر فنا ہونا ہے تو وہ اترتی ہی کیوں ہیں ۔
تو دادی آماں کہتیں :
حق ہائے ۔۔۔
پتہ تو سب کو ہوتا ہے میرے بچے!
کہ فنا ہو جانا ہے پھر بھی ہم زمین پہ اترتے ہیں ۔
پھر بھی ہم رقص کرتے ہیں ۔
پھر بھی ہم گھر بناتے ہیں ۔
اور سب کچھ بھول جاتے ہیں ۔
رات گہری ہونے لگی تھی ۔
چاند کیا ،چاندنی کیا ؟
ہیچ ۔۔۔۔
ہر نظارہ ہیچ ۔۔۔۔
کسی نے نور کا تڑکا دیکھنا ہو تو شبِ برفبار دیکھ لے ۔
جیسے خدا زمین پہ اتر رہا ہو ۔
الوہی سفید ، خاموش رات ۔ کسی جانور کی آواز نہ کوئی انسانی چاپ ۔ چہار سو دبکی ہوئی خاموشی ۔ ہر طرف پھیلا ہوا سناٹا ۔ بچھی ہوئی سفیدی ۔ برستا ہوا نور ۔
اگر کسی میں جذب ہونے لگے تو دنیا و نا فیھا بھول جائے ۔
بھول جائے کہ گھڑی نے کتنے بجائے ۔
کس نے پکارا ۔
مہبوت کر دینے والا منظر ۔
یقیناً مولانا رومی برفباری کی کسی شام حجرے سے نکل کر محو رقص ہوئے ہوں گے ۔ بازو پھیلائے دائرے میں گھومتے ہوئے ۔
برف تصوف ہے ۔ بائیں پھیلا کر رقص کرنے پہ مجبور کر دیتی ہے ۔
برف عاشقی ہے ۔
مسلسل اسے دیکھتے رہیں تو اندھا کر دیتی ہے ۔ آنکھوں کا سارا نور چھین کر خود میں جذب کر دیتی ہے ۔
وہی الوہی شب کھڑکی کے باہر مجھے بلا رہی تھی ۔ ولایت کا نقرئی تاج لیے ۔ میں تحلیل ہونے کو بےقرار ۔
مگر ہائے کہ میرے پاؤں میں شعور کی بیڑیاں پڑی ہوئیں ۔ میں دستک دیتی خوابناک غیر ارضی دعوت پہ شش و پنج میں مبتلا ۔ ادھر کلاسک کرسٹلز کے ستارے مجھے اشارے کرتے ہوئے ۔
برف اکیلے ہی سفید فلور پہ رقص کرتی ہے ۔ میں پیچھے ہٹ جاتی ہوں۔
اُس نے کہا تھا : سرد موسم کی سفید راتوں میں تمھاری زلفوں کی بیباک سیاہی سے میں اپنا بخت از سرِ نو لکھوں گا ۔
اُس نے کہا تھا : جب سکوت کے سینے کو پیٹتی یادیں تمھارے ذہن کی قرطاس پہ بکھریں تو ان صفحوں پہ پیار بن کر “میں “فقط “میں “ سجوں گا ۔
اُس نے کہا تھا :
اشک جب آنکھوں میں جم نہ سکیں ،
سیلِ گریان کی جنگ بھی جاری ہو ،
دل کا موسم بھی کچھ ایسا ہو ،
درون ہو بلا کی حدت اور باہر برفباری ہو
میں لوٹ آؤں گا مگر ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی نے کیا خوب کہا :
“ ھمی سیگار ھا در برف خاموش می شوند “
کھڑکی کا پردہ سرکتا ہے ، امید کا ایک اور سیگار بھی بجھ جاتا ہے ۔

___________________

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.