گورکھ دھندہ____________صوفیہ کاشف

ذندگی کا کوئی راستہ اسکے ساتھ کسی طور ملتا نہ تھا۔کبھی پیچھے رہ جاتا کبھی آگے نکل جاتا! کبھی وہ رستوں کی دھول میں کھو جاتی اور کبھی دور سے دکھائی پڑتی برج خلیفہ ہو جاتی۔کبھی اتنی پست کہ تھامی نہ جائے،کبھی ایسی بلند کہ چُھوی نہ جا سکے۔جو کچھ بھی تھا جیسے صدیوں کا گھیرا تھا! جیسے جنموں کا پاکھنڈ تھا جیسے اسکے ستاروں کی گردش تھا۔وہ کھو کر اور مل کر،چھپ کر یا ظاہر،بڑھ کر یا رک کر اُسے پا نہ پاتی۔وہ پکارتی تو گمشدہ وہ سنتی تو غائب۔وہ تھامتی تو بکھرتی،اور چھوڑتی تو اُجڑتی۔محبت اسکی زندگی کا اک ایسا گورکھ دھندہ تھی جو اُسے راس آتی نہ چھوڑ کر جاتی۔محبت اسکی ایسی سوتن تھی جسے ہر پل اسکے ساتھ چلنا اور جلنا تھا،ڈوبنا اُبھرنا تھا، ٹوٹنا بکھرناتھا۔
وہ راستوں میں ساتھ تھا تو ہاتھ تھامے چلتا تھا۔کسی موڑ پر ،یونہی اک راہگزر پر زرا سا ہاتھ چھوٹا تھا کہ زمانے بدل گیے تھے۔محبت کی خوش نصیبی کہیں سالوں کے لیے غاروں میں جا کر سوگئی تھی۔باہر محض ہجر کی آگ کا کتا بھونکتا تھا۔اسکے گھر کی بہتی ٹوٹیوں سے محبت کا نوحہ بہتا تھا،پرنالوں سے فراق کے جھرنے بہتے تھے اور چولہوں پر جیسے سسکیاں پکتی تھیں۔ اسکی ساری حیات جیسے آتش عشق میں بھڑکتی تھی۔کچھ لہجوں کی گہرائی محض ڈبونے کے لیے ہوتی ہے۔کچھ کردار ذندگی میں صرف توڑنے کے لئے آتے ہیں۔اور کچھ لوگ صرف دیوتا ہوتے ہیں۔خدا سوائے موسیٰ کے کہاں کسی کو دکھائ دیتا ہے۔آس پاس کی انساں نما نابینادنیا میں اسے بھی اک خدا ملا تھا۔ جسکی داسی ہو کر وہ اُسی خدا کو اوڑھے اُسی کا طواف کرتی تھی۔کبھی قدموں کی زنجیروں میں جکڑے،کبھی دل کے غبار میں الجھے،کبھی روح کے بگولوں میں اُڑتی ہجر کے پہاڑیوں پر ادھر سے ادھر بھٹکتی پھرتی تھی۔تڑپتی اور ِسسکتی تھی۔
صدیوں پہلے کا زمانہ تھا کوئ،جب سفر کی دھول میں اٹ کے وہ ڈاچی والے سے بچھڑ گئی تھی۔صدائیں ہی بلا پائیں نہ کارواں روکے گئے۔فاصلے تسخیر ہوے نہ صحرا روندے گئے۔صحرا میں دفن سسی کی طرح وہ بھی ریت میں دھنس گئی تھی۔منزلوں کے غرور میں جانے والے کبھی کھونے والوں کے لیے بھی رکے ہیں بھلا۔اُجالوں کے باسیوں کو تاریکی بن جانے والی صورتیں کہاں یاد رہتی ہیں۔دنیا کے میلے اور دکھ سکھ جھمیلے اسے ہرا گئے تھے۔کارواں منزلوں پر پہنچے،کامیاب ٹھہرے،خیمے لگے،نئی منزلوں کے نقشے سجے،نئی بستیاں بسای گئیں، جھنڈے لگاے گئےتو کہیں دور اگلی منزل کی حدوں سے دھند میں بسی کسی ہریالی سرذمیں پر سب سے اُونچی نظر آتی تھی۔یہ کب ہوا،کیسے ہوا،وہ جو کسی راہ پر گر کر بکھر گئی تھی وہ کسی اگلے بلند مقام پر تن کر کھڑی تھی۔وہ پچھلے موڑ پر بُھلای جانے والی اگلی منزل پر اسکی راہ تکتی تھی۔
فاصلوں کی اک اور آزمائش تھی۔اب کامیابی کا جھگڑا تھا اور انا کا سب بکھیڑا تھا۔وہ جسے خود سے کم سمجھتا تھا اب کمتر ہو کر چھپتا تھا۔کبھی چیختا جھگڑتا تھا۔اپنے غرور کی تاروں میں الجھتا بکھرتا تھا۔وہ روشنی پھیلاتے سویرے سے نظر چرا کے بند آنکھوں سے من چاہے سپنے میں بسنا چاہتا تھا جب تپتا سورج بنکر وہ دن کی صورت نکلی تھی ،اسقدر گہری چمک کے ساتھ کہ اسکی بصارتیں دھندلا گئی تھیں۔نظروں میں صرف روشنیاں چمکتی تھیں اور صورتیں کھو سی جاتی تھیں۔وہ آنکھیں ملتا،چشمہ بدلتا،کبھی آگے ہو کر کبھی پیچھے مڑ کر دیکھتا،مگر اسکی چمک کے سامنے ٹھہر نہ پاتا۔کیا یہ وہی تھی؟نہیں یہ وہ نہ تھی یہ اس سے کہیں بڑھ کر تھی۔
دنیا کے بکھیڑے کبھی انساں کی عقل سے بھی سدھرے ہیں۔جمع،تفریق،ضرب تقسیم،جسقدر کر لو،لالچی دلوں کا حاصل صرف خسارہ ہے۔آج بھی دنیا میں صرف شیشے جیسے چمکتے دل اُبھرتے ہیں۔آج بھی خلوص شہر کی صرف ایک دکان پر بکتا ہے۔آج بھی محبت سب سے سستی ہے مگر لاکھوں پر بھاری ہے۔سونے پر سونا لادو،ہیروں پر ہیرے چڑھا دو،اک محبت خارج تو ہر جا اندھیرا ہے۔محبت آج بھی بند آنکھوں سے چلتی ہے اور سب سے دُور جاتی ہے۔سہہ جانے والا دل کبھی کمزور نہیں ہوتا۔ٹوٹ جانے والوں کی مضبوطی سے دنیا ٹوٹ بکھرتی ہے۔محبت روگ سہی،جوگ سہی،مگر اسکی تاثیر بناپہاڑ نہیں جمتے۔اسکی روانی نہ ہو تو چشمے جان ہار جائیں اور سمندر اپنی حدوں میں ڈوبتے رہ جائیں۔محبت کا سر آج بھی سب سے اونچا ہے اور محبت کو منزلوں کے لئے بلی چڑھانے والے آخر سب کچھ ہار جاتے ہیں۔اُسے بھی تو ذندگی کی سب سے چمکتی خیرہ کرتی آنکھوں سے غرض تھی،کاندھے پر سجے ستاروں کی تمنا تھی،حوالہ جات میں سب سے اونچا حوالہ اسکی منزل تھا۔زندگی کی دوڑ میں سب سے آگے نکلنا تھاسب سے تیز چلنا تھا ایسے میں وہ اسکے لیے رکتا تو ہارتا۔جمع تفریق،ضرب تقسیم کے سب صحیح فارمولے لگا کر اس نے بالکل صحیح حل نکالا تھا مگر جواب پھر بھی غلط نکلا تھا۔
منزلیں سَر ہوئیں،جھولیاں بھر چکیں تو اُس نے دیکھا تھا وہ آج بھی ہر منزل سے اُونچی تھی۔شیشے جیسا چمکتا دل آج بھی اک روشن سورج تھا جو ہزاروں ستاروں کو روشنی مستعار دیتا تھا۔لوگوں کی نظریں اور سر جھکا دیتا تھا۔چمکتے سورج کی حدت نے اُسے شرابور کیا تھا،راحتوں کو بے سرور اور منزلوں کو بےغرور کیا تھا۔اعزاز منزلوں کے نہی فتح کے ہوتے ہیں۔منزل اُس نے جیتی تھی مگر فتح چمکتے سورج سے ہار گیا تھا۔

______________

Published in alifkitab

تحریر و فوٹوگرافی و کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

3 Comments

  1. آج بھی دنیا میں صرف شیشے جیسے چمکتے دل اُبھرتے ہیں۔آج بھی خلوص شہر کی صرف ایک دکان پر بکتا ہے۔آج بھی محبت سب سے سستی ہے مگر لاکھوں پر بھاری ہے

    Epic…

    Wah….

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.