کچھ کہانیاں محصور ہیں ۔ کچھ کرفیو کی وجہ سے گھروں میں دبکی ہوئی ہیں ۔ کچھ چنار کے درختوں کی اوٹ میں سسک رہی ہیں ۔ کچھ کو سلاخوں کے پیچھے اس طرح قید کر دیا گیا ہے کہ ان کے لفظ دھندلا چکے ہیں ۔ میں نے ایک کہانی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر اس کا سرا بہت دور گدھ کے پنجے سے بندھا تھا ۔ کہانی زندہ تھی ، کہانی کا ماخذ مر چکا تھا ۔ میں نے اس کے ڈھانچے کو غنیمت جانا ۔ لکھنے کے لیے اس پہ بھی بہت کچھ لکھا جا سکتا تھا ۔ میں نے کہانی شروع کی مگر مجھے لگا یہ پلاٹ بہت پرانا ہے وہی ظلم و ستم کی گھسی پٹی کہانی ۔ جس کے ہاتھ میں لاٹھی تھی وہ بھینس کو ہانک کر اپنے طبیلے میں لے گیا ۔ پھر میں نے شہر کا رخ کیا ۔ گلی کی نکڑ پہ ویران گھر کی چوبی بند کھڑکی کے پیچھے کہانی کو آواز دی ۔ اس نے سنی ان سنی کر دی ۔ مجھے تعجب ہوا ۔ یہاں تو ہر کوئی کہانی سنانے کو بیتاب ہونا چاہیے ۔ پھر اس نے کنارہ کیوں کیا ؟
میں نے ہمت کر کے کھڑکی سے جھانکا ، کہانی بستر مرگ پہ تھی ۔ کیا یہ مرنے کے بعد زیب قرطاس ہوگی یا اسے کبھی سنا ہی نہیں جائے گا ؟ ۔ اس کی امیدیں دم توڑ چکی تھیں ۔ کھڑکی کی درز سے تازہ ہوا کے جھونکے نے اسے نئی سانس دی ۔ اسے لگا جیسے وادی میں پھر سے بہار آ گئی ہے ۔اس نے سیاہ حلقوں سے بھرپور آنکھیں کھولیں ۔ تو اسے سنگین نظر آئی ۔ وہ آنکھیں پھر سے بند ہو گئیں ہمیشہ کے لیے ۔ مجھے بہت دکھ ہوا ۔ میرے دیکھتے دیکھتے ایک فوتگی ہوگئی ۔ شہر میں داخل ہونے سے پہلے مجھے لگا تھا سوگوارانِ شہر میں داخل ہوتے ہی بہت سی کہانیاں میری جانب لپٹیں گی ۔ مجھے وہ سارے دکھڑے سنائیں گی جو ان پہ بیتے ۔
مگر نہیں ! وہ ساری کہانیاں خاموش تھیں ۔ بالکل اپنے تخلیق کار کی طرح ، چپ۔۔۔
میں بھٹکتی ہوئی روح کی طرح خالی سڑکوں پہ گھومتی رہی ۔ بہار کب کی لمبی چھٹیوں پہ جا چکی تھی ۔ اب خزاں بہار کے چھوڑے ہوئے نشان مٹانے پہ تلی تھی ۔ ہوائیں جھاڑو دے کر مرجھائے ہوئے پتوں کو ٹھکانے لگانے پہ مامور تھی ۔ یہ باھم ملی بھگت کا کام وہ ازل سے سلیقے سے کر رہی تھیں مگر اس بار اس وادی میں سب کچھ خاموش تھا ۔ سوائے ان بوٹوں کے جو مکافات پہ یقین نہیں رکھتے ۔ جن چمنیوں سے کبھی دھواں اٹھتا تھا وہاں سے دبی دبی سسکیاں سنائی دیتی تھیں ۔ اس قسم کی سسکیاں اپنے آس پاس میں کب سے سن رہی تھی بلکہ چیخنا چلانا بھی مگر ان کو سننے والے کان بہرے ہو چکے تھے ۔ ان کی دور کی نظر بھی بہت کمزور تھی ۔ یہاں عجب حالات تھے ۔ دکانوں کے شٹر پہ زنگ آلود تالے ایسے براجمان تھے جیسے سب کچھ نگل جائیں گے ۔ ان کی کھٹی بدبودار فولادی ڈکاروں پہ کئی کہانیاں بنیں گی ۔ مگر میں ایسی کہانیاں لکھنے والوں میں سے نہیں ۔ میں ان مقفل دکانوں پہ افسوس کیا اور آگے چلی گئی ۔ مجھے یاد آیا یہاں کہانی نگار بھی رہتے تھے ۔ ان کا کیا حال ہوگا ۔ کیا ان کے دماغ میں روز بیک وقت کئی کہانیوں کے پلاٹ تیار ہوتے ہوں گے یا وہ لفظوں سے روٹھ گئے ہوں گے؟ کہنے کو ایک سوال تھا مگر یہ گردش کرنے لگا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ جھیلوں کی اور بھاگا اور سنسان کشتیوں کے ساتھ تیرنے لگا ۔ جن کے چپو ، چوہوں پہ ماتم کر رہے تھے ۔ طوفان آتا ہے تو چوہے سب سے پہلے بھاگتے ہیں ۔ سوال بھی خشکی پہ اترتے ہی چوہوں کی طرح بھاگ گیا ۔ کیونکہ اس کی اپنی دکان ابھی گرم تھی ۔
کوئی ہے ۔۔۔۔؟
یہاں کوئی ہے ؟
ہیلو !!!!!!
یہ ہسپتال میں اتنا سناٹا کیوں ہے ؟
اوہ اچھا ، یہاں بھی کرفیو لگا ہے ۔ میری یادداشت اتنی کمزور تو نہیں ۔ البتہ عادت نہیں ہے ۔
اتنا طویل کرفیو میں پہلی بار دیکھا ہے جو دو ملکوں کو آپس میں خاموشی سے ملاتا ہو ۔
اتنی ٹھنڈی برف ، سرد جنگ بھی تو پہلی بار دیکھی ہے ۔ جہاں زبان کو زبردستی تالو سے چپکا دیا ہو ۔ وہ جب سرکے تو کال کوٹھڑی میں دھکیل دیا جاتا ہو ۔
سفید فراک میں ملبوس ایک ننھی کہانی ویران سڑک اچانک ایک گلی سے نمودار ہوئی ۔
اس کی گلابی پونیاں گواہی دے رہی تھیں کہ رنگ ابھی زندہ ہیں ۔ بندوقیں تانے باوردی فوجیوں کو دیکھ کر اداس ہوگئی ۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی ۔ اس نے آنکھیں کھلتے ہی ان کو دیکھا ہوگا ۔ اور انھی کو دیکھتے دیکھتے اس عمر تک پہنچی ہوگی ۔
آخر عادت کیوں نہیں ہو جاتی پنجرے سے پنچھی کو ؟
جن پرندوں کا جنم پنجروں میں ہوتا ہے کیا وہ اڑنا بھول جاتے ہیں ؟
نہیں ۔۔۔ ہرگز نہیں ۔
لیکن !
بس خاموش ۔۔۔۔۔ مزید کچھ نہ کہو !۔
لفظ” لیکن “ جب درمیان میں آ جائےتو دلیل کی موت ہو جاتی ہے ۔ مردہ دلیلوں کو تاریخ کبھی رقم نہیں کرتی ۔
ہوائیں موسم کی تمازت کو چیرتی ہوئی کہنے لگیں : ہم نے زمانے دیکھے ہیں ۔ کربلا سے کشمیر تک ۔ ۔۔ ۔
پانی بند کرنے سے اطاعت ملتی تو یزید ظلم کا استعارہ نہ ہوتا ۔ میں ملول تھی ۔ کہانی کا کوئی سرا نہیں مل رہا تھا ۔
بہت سے ادیب قلم تھوڑی پہ رکھے منتظر تھے کہ یہ چپ ٹوٹے تو ان کا روزگار شروع ہو ۔ گھسے پٹے موضوعات نے جمود طاری کر رکھا ہے ۔
ایک کہانی دور سے آتی دیکھائی دی ۔ وہ بڑبڑا رہی تھی ۔
“روانی بہت ضروری ہوتی ہے ۔ “
وہ کافی ضعیف تھی ۔ مجھے شانوں سے پکڑ کر پوچھا بتاؤ :
“ ہمارے لیے انھوں نے کیا کیا؟ “
میں نے کہا گھروں سے نکل کر خاموشی طاری کی ۔
وہ دل پہ ہاتھ رکھتے بولی :
“ہائے ہائے خاموشی تو مرنے والوں کے لیے طاری کی جاتی ہے ۔ ہم تو ابھی زندہ ہیں “
میں کیا کہہ سکتی ہوں ؟
اس نے کہا پھر ؟
میں کہا پھر ایک دھواں دھار تقریر کی ۔
وہ خوش سے بولی اچھا پھر کیا ہوا ؟
میں بولی پھر ایک لمبی خاموشی طاری ہوگئی ۔
“ روانی بہت ضروری ہوتی ہے ”
فضا کی چپ کو توڑتی ایک گولی کہانی کے ماتھے پہ لگی اور پھر خاموشی چھا گئی ۔
اس پہ الزام تھا ، وہ حریت پسندوں کو سگنل دے رہی تھی ۔
میں ایک بار پھر مایوس ہوئی ۔ آخر کس نے کہا مجھے کہ اس ترسیدہ وادی میں قدم رکھوں۔ جس کے سارے پہاڑ گنجے ہو چکے ہیں ۔ ان چٹیل چوٹیوں کے اندر دفن خزانے ان کی جان لینے کے درپے تھے ۔
میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔
مجھے ڈر لگا ! دو ملاؤں میں سونے کے انڈے دینے والی مرغی حرام نہ ہو جائے ۔
دونوں کو مرغی سے ذیادہ انڈوں کی فکر تھی ۔
وہاں سرِشام خوف کے دروازے کھلنے لگے ۔
مجھے بہت ڈر لگا ۔
میں وہاں ہوا میں لہراتے کھلے بالوں کو سمیٹتی اکیلی ویران سڑکوں پہ رو رہی تھی ۔
جہاں نہ بندہ تھا نہ بندے کی ذات تھی۔
بس میں تھی اور بوٹوں کی چھاپ تھی ۔
واپسی پہ بنا کہانی لیے جب بزمِ ادب میں پہنچی ۔ تو بہت سے کندھے اچکے ۔ کچھ پتلیاں مجھے دیکھ کر سکڑیں ۔ کچھ بھوئیں اوپر کو اٹھیں ۔ کچھ ہونٹوں پہ ظنزیہ مسکراہٹ تھی ۔ ایک نے ہمت کر کے کہہ ہی دیا ۔
ہونہہ ۔۔۔۔
ہم نے تو گھروں سے نکل کر چپ سادھی ، تم نے کیا کیا ؟
میں نے افسردگی سے کہا !
میں بھلا کیا کر سکتی ہوں ، میں تو خود ایک کہانی بن چکی ہوں ۔

__________________

تحریر: ثروت نجیب،کابل،افغانستان

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف