ہو فطرت گر عقابی،
ہو ہستی انقلابی…

ہے شاہیں سے تمہاری
یقیناََ ہم رکابی…!!

کلام اور یہ قلم کہ،
نہیں قطعاََ حبابی…

کرے جو سوز پیدا
وہی اصلی ربابی…

نوائے مردِ مومن،
زمیں پر ہے شہابی…

لَعَب اور لغو کی ہے
جہاں میں بےحسابی…

پریشاں ہے یہ کرتی
جوانوں کی نوابی…

بڑھاپا جلد آئے
ہو ضائع جب شبابی…

مدینہ پھر نہ چھوڑوں،
ملے جو باریابی…

نہیں حصہ تزئیں میں،
تو پھر کیسی عتابی؟

ہے تھر یاں کب سے روتا،
خدا! بھیج اب سحابی…

سجا دنیا کو بےشک،
یہ ہے خانہ خرابی…

اداسی یاں ہے اتنی
ہے ہر لحظہ شتابی…

_____________

کلام:نورالعلمہ حسن

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف