تحریر:سدرتہ المنتہی

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

______________

قسط ساتویں

خود محبت چل کر آئی تھی.

********

رات کی تنہائی نے اپنے پر پھیلادیے تھے.
اور چاروں اور سردیوں کی سرسراہٹ خاموشی.. اور ٹھنڈ تھی.
. ایسی خاموشی جو مدھم سا قرار بھی دیتی ہے.. اور سکون آور گولی بھی.. لیکن رات کے اس پہر جب ابھی بارہ بھی نہیں بجے تھے رات کا پہلا چوتھائی حصہ ختم ہونے کو تھا.
وہ ان کے گھر کے پچھواڑے چلتی ہوئی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی باہر نکل آئی تھی.. دسمبر جنوری میں بدلنے جارہا تھا.
سردی کا پارہ ہائی تھا..
اور اسے پتہ تھا ہیپی نیو ائیر کے ترانے گونجنے کی کوئی صدا یہاں تک بھی آ پہنچے گی اور اس طرح تو ان کا ارتکاذ ٹوٹ جائے گا .
اور تکلیف ہوگی..
اس نے پورے پندرہ منٹ انتظار کو ترجیح دی.
مدھم خاموشی میں ایک قدموں کی دھمک بھی ویران سڑک کو بجا دیتی تھی..
تبھی وہ آہستگی سے قدم چل رہی تھی.
باوجود اس کے پتوں کی سرسراہٹ واضح تھی.. ہوا کے مدھم تھپیڑے بھی ٹھنڈ کی سرسراتی لہروں کو پھینکتے تھے..
اسے لگا جم ہی نہ جائے.. اور اس قہر کی سردی میں وہ درخت کے تنے پر ایسے بیٹھے ہوئے ہیں
جیسے سردی ان کا کچھ بگاڑ ہی نہ سکتی تھی..
وہ پہلے آہستگی سے قدم اٹھاتے ہوئے پیچھے کچھ فاصلے پر آکر کھڑی ہوگئی.
اور اس کے بعد جیسے اسے اچانک ہی سوجھا کہ ان کو مخاطب کرنا چاہیے کیونکہ بارہ بجنے میں کم وقت رہ گیا ہے…
لیکن اسے لگا کہ یہ غلط ہوگا.. اگر وہ کسی گہرے خیال میں گم ہیں تو یہ واقعی غلط ہوگا..
وہ آہستگی سے ان کے برابر والے تنے کے پاس بیٹھ گئی جو تھوڑے ہی فاصلے پر تھا..
وہ تو ایسے گم تھے جیسے.. کسی نشے میں دھت ہوں..
یا کوئی سراب پاچکے ہوں..
وہ اچانک اٹھی.. اور تھوڑا رگڑ کر قدم آگے پیچھے کرنے لگی کہ ہلکے سے ارتعاش سے انکی توجہ بٹے..
لیکن ایسا نہیں ہوا..
اس نے قدم تیز رگڑے.. سرسراہٹ ہوئی.. لیکن کچھ نہ ہوا..
اس نے یہ کیا کہ ایک موٹا سو پتھر اٹھاکر پوری توانائی سے نہر میں پھینک دیا.. اور پانی میں بھنور اچھلا..
وہ تھوڑے سے بے چین ہوئے لیکن پھر سے وہیں جم گئے..
اس نے پہ در پہ پتھر اٹھاکر پھینکنا شروع کردیے..
وہ اس مسلسل حرکت سے جیسے ہوش میں آئے تھے..
کھلی آنکھوں سے ارد گرد دیکھنے لگے.. اسے فاصلے پر پہلے غیر یقینی اور پھر دیکھتے یقین کیا تو بدمزگی سے منہ بنایا..
عالین.. اس وقت.. تم یہاں کیوں ہو..
وہ پتھر سے زیادہ ٹھوکر کھاکر آگے بڑھی تھی..
میں یہاں ہوں.. شکر کیجیے..
وہ کچھ قدم چلنے کے بعد ان کے قریب آگئی تھی..
ورنہ یہ ہوتا کہ تھوڑی دیر میں ہیپی نیو ائیر کے ترانے آپ تک پہنچتے..
اوہ.. ہاں.. مجھے یاد نہیں رہا.. میں ورنہ آج نہ آتا..
اس یخ بستہ سردی میں کیا آپ روز آتے ہیں؟
ہاں.. اب آتا ہوں..
خاصے کی بات ہے.. ویسے پوچھ سکتی ہوں کہ یہ ڈرامہ آپ گھر پہ بیٹھ کر کیوں نہیں کرتے..
تم اسے ڈراما کہہ رہی ہو عالین ؟انہوں نے افسوس سے اس کی طرف دیکھا تھا.
عالین نے اس وقت نوٹ کیا کہ انکی شال ان کے برابر میں رکھی تھی اور دستانے اور موزے درخت کی لکڑی کے ساتھ ٹنگے لٹک رہے تھے.. مطلب آتے وقت انہوں نے پہن رکھے ہونگے اور اس وقت انہیں انکی ضرورت نہ پڑی ہوگی.. یہاں تک کہ کوٹ کے بٹن بھی کھلے ہوئے تھے گویا ان کا جسم ابھی گرم ہے..
لیکن کیوں.. اس حد تک تو بستہ سردی میں..
اس نے آگے بڑھ کر ان کی ہتھیلی کے ساتھ کلائی کو چھوا تو حیران رہ گئی.. وہ گرم تھے
آپکو بخار ہے؟
نہیں عالین یہ میرے اندر کی تپش ہے..
یہ میرے اندر کا لاوا ہے.
اندر کا لاوا.. اوہ.. جیسے تبت کے لاما کرتے تھے.. امیجینیشنز کے ذریعے..
سب کچھ یہ دماغ قبول کرتا ہے عالی.. اور یہ اگر قبول نہ کرے کوئی قانون اس پر لاگو نہیں ہوسکتا..
کچھ بھی نہیں ہوسکتا..
تو پھر اپنے دماغ کو اس حد تک ٹیز کرنے کی کیا ضرورت ہے سر کہ یہ موسموں کے خلاف کھڑا ہوجائے..
سردی ہو تو سردی کو قبول نہ کرے
گرمی ہو تو گرمی کو قبول نہ کرے..
یہ غلط ہے.. اگر آپ اپنے دماغ کو اتنا مخالف سمت بدلیں گے تو کیا ہوگا..زیادہ سے زیادہ وہ سردی میں گرمی اور گرمی میں سردی ہی محسوس کرسکے گا نہ.. اور تو کچھ نہیں کرپائے گا..
توپھر یہ بوجھ کیوں اور کس لئے.. اتنا زیادہ بدلنے کی کوئی تک نہیں بنتی. آپ زیادہ سے زیادہ شدت کو کنٹرول کیجئے.. یہ نہ کہیں کہ سخت سردی میں گرمی ہے.
ہاں آپ یہ کہیں کہ اتنی بھی سردی نہیں ہے سردی زرا کم ہے..
بس اس سے بھی کام چل جائے گا..
آپ کیوں اتنا بوجھ خود پر اور دوسرے پر ڈال دیتے ہیں.. جسے اٹھاتے ہوئے بھی بندہ تھک جائے..
عالین.. تم ٹھیک کہتی ہو..
لیکن میرے پاس اس سب کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے.. انہوں نے دستانے اور موزے پینٹ کی جیب میں اڑسے تھے.. شال کندھے پر ڈال دی تھی..
چلو.. تم باقاعدہ کانپ رہی ہو.. مجھے تم پر رحم آرہا ہے..
وہ اس کے ساتھ کھڑے ہوکر بولے..
شکریہ.. ہاں میں واقعی کانپ رہی ہوں.. کیونکہ میں اپنے ٹیمپریچر کو کنٹرول نہیں کرسکتی..
میں سردی میں سردی.. اور گرمی میں گرمی محسوس کرتی ہوں..
اچھی بات ہے عالین لیکن جس طرح دل کو باندھ رکھا ہے تم نے.. ویسے ہی زرا کیفیت کو بھی زرا موڑو.. کم. از کم سختی کے خلاف تمہاری مشین کام کرسکے.. حالانکہ فی الحال تم عمر کے اس حصے میں ہو جب تمہارا جسم سختی کو فیس کرنے کی قوت تمہیں لادیتا ہے.
لیکن جب ہم بڑھاپے کی طرف بڑھتے ہیں تو رنگ پھیکے پڑنے لگتے ہیں..
اس لئے بہتر ہے کہ کنٹرول کرو..
کرنا سیکھو.. کام آئے گا..
کیونکہ تم ذہن کنٹرول کرسکتی ہو..
تم بندے کا ذہن بناتی ہو.. تم جلا بخشتی ہو..
تم مائینڈ پاورز کے فارمولے پر کام کرو.
وہ ان کے ساتھ چلتے ہوئے انکی بات پر ہنس پڑی تھی..
مائینڈ پاور فارمولا.. بس کیا کہیے.. فی الحال تو مجھے آپ سے بات کرنی تھی. بلکہ شکایت تھی آپ سے. لیکن.. فی الحال چھوڑیں.. ہم. گھر پہنچ جائیں.. اور آج لگتا ہے مجھے آپکے گھر کے کسی بدروحی کمرے میں ٹہرنا پڑے گا.. کیونکہ..میں بمشکل گاڑی کو یہاں گھسیٹ لائی ہوں.. اس وقت اس کھٹارہ کی سنگت کا رسک لینا میرے لئے قطعی دشوار ہے
ہاں.. تم ٹہرجانا آج رات.. ویسے بھی.. ہم باتیں.. کریں گے..
وہ گھر سے نزدیک آگئے تھے.. عالین نے محسوس کیا کہ انہیں سردی لگ رہی ہے.. محسوس ہورہی ہے.
اب آواز میں ہلکی سی کپکپی تھی.
وہ اندر آئے تو بستر پر لیٹ گئے..
تم کچھ دیر آرام کرلوعالین.. پھر ہم باتیں کریں گے..
ضرور.. میں چائے بناکر آتی ہوں.. اور اس کے بعد ہم باتیں کریں گے..
نہیں تم لڑکے کو کہہ دو چائے بنالے گا.. پچھلی بار تو تم خفا ہوکر گئیں… لیکن ابکی بار زرا دوستانہ رکھنا تاکہ باتیں آسان ہوں..
باتوں کو آسان کرو..
وہ چائے کا کہہ آئی اور بستر کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ کر کمبل لیکر بیٹھ گئی اور پہلا سوال اس کا یہ تھا کہ پہلی محبت کھونے کے بعد آپ کا رد عمل کیا تھا..
وہ تھوڑا حیران ہوئے پھر ہنسے.. عالین.. تم حد کرتی ہو.. سوال وہ کرتی ہو جس کی کوئی توقع نہ ہو..
خیر میں تمہارے سوال کا جواب دوں گا.. ضرور دوں گا..
تو بات وہاں سے شروع کرتے ہیں جب نور فاطمہ کی شادی ہوئی تھی.
پہلی محبت کھونے کے بعد میرا رد عمل کیا ہونا تھا.. میں تو ایسے محسوس کررہا تھا جیسے ریت کے پہاڑ ڈھے گئے ہوں..
اور ڈھے گئے تھے.
عالین لگتا تھا ایک سمت پوری دنیا کھڑی ہے.
اور دوسری سمت آپ ہیں..
دوسری سمت آپ.. اس کے بعد آپ مخالف سمت کھڑے ہونا شروع کرتے ہیں..
اور مجھے مخالف سمت کھڑے ہونے کی پہلی بار جہد ملی..
زندگی اپنی طرز سے کام کررہی تھی.. سب کچھ فطری تھا.. محبت کا ہاتھ سے کھسک جانا.
کسی کا بچھڑنا.. کسی کا ساتھ چھوڑدینا..
محبت میں امتحان.. ہجر ‘دشت.’صحرا.. سب کچھ فطری تھا..
بس مجھے لگا اس ساری کائنات میں میں ہی غیر فطری ہوں..
آپ نے اپنی پناہ نہیں ڈھونڈی ؟
ڈھونڈی تھی. جب ٹوٹ کر گرا تھا تب ڈھونڈی تھی..
تو پھر کیا ملا آپکو؟
خود محبت چل کر آئی تھی..
خود محبت ؟
ہاں.. خود محبت چل کر آئی..
اس رات میری سلمان محمود سے ملاقات ہوئی تھی.
*******

جن وقتوں میں میں تمہیں چاہتا تھا!
******

وقت کبھی کبھار کسی حالت کو ایسے ہی کھینچ لیتا ہے..
جیسے نور فاطمہ کی موت کو کھینچ رہا تھا..
انہوں نے آخری بار اس کی چارپائی کے پاس جھکتے ہوئے ان سے کچھ باتیں کرنا چاہیں تھیں..
مجھے معلوم ہے نور فاطمہ.. معلوم ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بہت دور رہے ہیں..
معلوم ہے کہ ہم نے ٹوٹ کر ایک دوسرے سے نفرت کی ہے..
لیکن میں تمہیں صرف وہ وقت یاد دلارہا ہوں کہ جب ہم ملے تھے.. جب ہم نے بہت ساری محبت کی تھی.
جن وقتوں میں میں تمہیں چاہتا تھا.. تمہارے پیچھے دیوانہ پھرتا تھا..
تمہارے آگے پیچھے چلتا تھا..
تمہاری راہ تکتا تھا..
اور تمہارے لئے بدنامی مول لے لی تھی.
وہ وقت یاد کرو نور فاطمہ.. تمہیں سکون ملے گا..
تمہیں یہ احساس ہوگا کہ زندگی میں تمہیں چاہا گیا ہے..
یہ کس قدر طاقت ور ہے کہ ہم چاہے گئے ہیں.
ہمیں چاہا گیا ہے..
ہم سے محبت کی گئی ہے..
پھر مرنے کا بھی کوئی خوف نہیں رہتا کہ جب ایسا محسوس ہوجاتا ہے کہ ہم چاہے گئے ہیں..
ہمیں کسی نے مانگا تھا..
ہم مانگے گئے تھے.
یہ احساس کتنا مستحکم ہے..
نور فاطمہ جب ہم آگے جارہے ہوتے ہیں تو کبھی کبھار ہمیں پیچھے دیکھنا پڑتا ہے.
نور فاطمہ.. ایسا کرنا پڑتا ہے.
ایسا کرو. اچھی یادیں سوچو نورفاطمہ..
ہماری شادی کے نئے دن..
میری تمہاری لئے محبت..
کاش نورفاطمہ ایسا ہوسکتا کہ تم مجھے ویسے ہی قبول کرپاتیں.. جیسا میں تھا.
اور میں تمہیں ویسا ہی قبول کرپاتا جیسی تم تھیں..
ہم دونوں نے ایک دوسرے کو اپنے مزاج کی طرف کھینچنا چاہا..
اور ہم دور ہوتے گئے..
لیکن پتہ ہے نور فاطمہ..
ایک کام کرو..
وہ اس کے سامنے آگئے تھے اور اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا تھا..
وہیں چارپائی کے کنارے ٹک گئے.
تم ایسا مت سوچو کہ تمہاری طاقت کسی کو ٹرانسفر ہونا لازمی ہے..
دیکھو. یہ ہوسکتا ہے کہ کسی کو ٹرانسفر ہو..لیکن تمہاری مرضی سے نہیں..
دیکھو.. تمہارا پوتا تھا مستقیم..
ہوسکتا ہے وہ اسے گئی ہو.
زیب کے نصیب کی نہ ہو..
اسی لئے تو میری سازشیں کامیاب ہورہیں تھیں کہ میں تمہارا رابطہ زیب سے جوڑنے نہیں دیتا تھا..
اور ایسا ہوتا بھی تھا.
تقدیر میرا ساتھ دے رہی تھی.
دیکھو میری بات سنو..
اگر مستقیم زندہ نہیں ہے..
تو پھر تم ایسا کرنا کہ وہاں جاکر اس کا خیال رکھنا..
اگر وہ زندہ ہے اب تک تو اس کی مکمل صحت کے لئے وہاں فریاد کرنا.
دیکھو.. تمہارا بیٹا ہاشم الدین مجھے بھی اس اہل نہیں لگتا..
لیکن تم نے ایک بار بھی اس سے ملنے کی خواہش نہیں کی..
ایک بار بھی.. اسے بلاؤ اسے پکارو.. دعا کرنا کہ وہ مرنے سے پہلے ایک بار انسان کا بچہ بن جائے..
نہ بھی بنے تو.. اس کے لئے رنج لیکر نہیں جانا..
نور فاطمہ اچھائی برائی کا فیصلہ اوپر ہوتا ہے
وہیں کرنے دیا جائے تو بہتر ہے.
ہم جو کہتے ہیں کہ یہ اچھا ہے..
یہ برا ہے..
یہ اس قابل نہیں..یہ اس قابل نہیں ہے
یہ سب غلط ہے.
ہم کون ہوتے ہیں اچھے برے کا فیصلے کرنے والے..
نورفاطمہ تم بہرحال بہت اچھی ہو..
تم نے اپنے کام کئے.. لیکن ہوسکتا ہے تمہاری پھر سے واپسی ہو..
حالانکہ ایسا نہیں ہوگا..
لیکن ہوبھی سکتا ہے.
تم پچاس سال بعد پھر پیدا ہو.
یہی شکل.. یہی صورت.. یہی مزاج.. یہی سوچ..
ہوسکتا ہے گھر بھی یہی ہو.
ایسا ہوتا ہے..
خود کو اکیلی تنہا اور بے بس محسوس مت کرو نور فاطمہ..
انکے اس جملے پر جیسے بے جان وجود میں حرکت آئی تھی..
آنکی آنکھوں سے آنسو گرنا شروع ہوگئے تھے.
خود کو مضبوط محسوس کرو.. اور یہ فیصلہ کرو کہ تمہیں مزید یہاں رکنا چاہیے .
یا جانا ہے..
یہ فیصلہ کروگی تو آسانی ہوگی..اگر رکنے کا ارادہ ہے تو خود کے اندر ہمت جمع کرو.
اور پھر اسٹیبل ہونے کی کوشش کرو.
جب تک زندہ ہو ایفرٹ کرو..
کوشش کرو..
زندہ رہنے کے لئے جتن کرو..
زندہ رہنے کے لئے ہاتھ پیر مارو..
لیکن نہیں رہنا تو بھی اپنا راستہ آسان کرو.
وہ یہ کہتے ہوئے خود رودئے..
یقین کرو تمہیں یہ سب بہت مشکل سے کہہ رہا ہوں..
یقین کرنا بہت مشکل ہے میرے لئے تمہیں ایسا کہنا.
بہت ہی مشکل ہے
لیکن کہہ رہا ہوں.. صرف اس خیال سے کہ تمہیں تکلیف ہے.
نکالو نورفاطمہ نکالو خود کو اس تکلیف سے.. نکالو…
ایسا ہو نہیں سکتا کہ تم کسی ایک طرف ایفرٹ نہ کرپاؤں..
بس خود کو اس اذیت سے آزاد کرو…زندگی چاہیے تو ساتھ دو میرا..
بھرپور قسم کا..
نہیں چاہیے تو اپنا ساتھ دو..لیکن نکلو طاقتوں کے غبار سے..
کوئی چیز اس وقت اہمیت نہیں رکھتی..
سوائے اس کے کہ نور فاطمہ زندگی موت کی کشمکش میں پڑی ہے.. بہت عرصے سے. .
اور اسے اب کسی ایک طرف نکلنا ہے..
دل سے سوچوں تو تمہیں کھونا نہیں چاہتا..
دماغ سے سوچوں تو تمہاری فکر ہوتی ہے..
اور حقیقت کی نظر سے سوچوں تو تمہارا وجود تمہارے لئے بوجھ بن رہا ہے.
یہ سچ ہے.
اور یہی کڑوا بھی ہے.
لیکن ہے سچ..
انکی آواز میں نمی کے ساتھ آنکھیں بھی نم تھیں..
تمہیں کہتا ہوں اتار پھینکو خود پر سے یہ نام نہاد طاقت کا بوجھ…
چھوڑو فیض کی فکریں.
چھوڑا.. زیب کی اس کی اس کی فکریں..
یہ سوچو اپنے لئے اس وقت تم. آسانی کیسے کروگی..
یا لوٹ آؤ..
آخری جملہ کہہ نہیں سکے کہ یا چلی جاؤ..
ہاتھوں پر گرفت گرم تھی..
انکی آنکھیں چھلک گئیں اور نور فاطمہ کی آنکھوں کی نمی بہنے لگی تھی..
انکے ہونٹ لرزش میں تھے..
اور گلے سے وہی غوغاں والی مدھم سی آوازیں تھیں ..
اور پھر انہوں نے محسوس کیا جیسے اس نے فیصلہ کرنے کی ٹھان لی ہو….
گرفت میں ہاتھ جامد سے تھے اور تھوڑا سا سکون ہر طرف بکھررہا تھا..
انہیں یقین آیا کہ محبت کی زبان اثر رکھتی ہے..
سب سے بڑی بات کہ وہ سوچنے پر مجبور ہوئیں..

*******

تمہارا دل ٹوٹا تو دکھ مجھے ہوگا!
********

محبت عجیب ہوتی ہے..
سرسراتی ہوئی.. دور تک سرایت کرتی ہوئی..اندر تک رچ بس جانے والی.. محبت ہے ہی ایسی..
وہ ابھی ابتدائیہ تھا محبت کا.. ابھی تو وہ خوشی سے سرشار ہوگا.
ابھی تو محبت میں امتحان دوری پر ہونا چاہیے تھا
کہ میں نے اس پر بوجھ لاد دیا.
مجھے خود بھی بہت شرمندگی محسوس ہوئی تھی.. مستقیم نے لکھا تھا کہ وہ اپنے باپ سے ایک بار بات کرے گا.
اس نے بات کی تھی.
اس نے جلد ملنے کا وعدہ کیا تھا مجھ سے..
وہ اپنے وعدے نباہ کرنے والا تھا.
مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس کے والد نے کس طرح مسترد کیا.
لیکن مجھے یقین تھا کہ اس نے مسترد ضرور ہی کیا ہے.
اس دن کے بعد مستقیم نے مجھے ملنے کا کہنا چھوڑدیا.
پھر نہیں کہا کہ مجھ سے ملو..
اور اس کے بعد میں انتظار ہی کرتی رہی تھی.
اس کا پتہ لگایا.
اور اچانک پتہ چلا وہ دوسرے شہر چلا گیا ہے.
اس کے باپ نے اسے بہت دور بھجوادیا تھا..
میں نے اسے آخری خط بھی لکھا تھا.. کہ تمہیں خوش رہنا ہے..
جینا ہے.. اور جیے ہی جانا ہے..
مجھے پتہ تھا کہ اس کی زندگی متاثر ہوگی. مجھے پتہ تھا… ضرور ہوسکتی تھی..اس لئے میں نے اسے حوصلہ دینے کی اپنی سی کوشش کرکے دیکھ لی تھی.
لیکن وہ شاید بے سود گئی کیونکہ اس کے بعد جلد ہی اس کی خودکشی کی خبر نے ہنگامہ مچادیا..
یہی کہ اس نے پہاڑی سے گرکر بہتے دریا میں چھلانگ لگادی تھی..
میں تمہیں کیا بتاؤں.. جس کی نہ لاش دیکھی.
نہ جسے زندگی میں الوداع کیا..
وہ میری وجہ سے جان سے ہاتھ دھوبیٹھا..
اس روز کے بعد خود کو معاف نہیں کرپاتی مجدد..
بس ایک بار اسے دیکھنے کی تمنا نے ماردیا ہے..
چچا گزرگئے.. چچی نے پرواہ نکالنا چھوڑدی.. ان کی بلاسے میں کہاں ہوتی ہوں.. انہیں کیا پرواہ…
بس مجدد..اس کے بعد مجھے پتہ چلا کہ ایک ایسی عورت ہے نور فاطمہ.

جو مرے ہووں سے ملواتی ہے..
میں نے سوچا جتنا مشکل چلا ہوگا.. کاٹوں گی..
میں نے سوچا کہ کچھ بھی ہو.. اس تک پہنچوں گی..
اور ایک بار اگر مستقیم نظر آیا تو ہاتھ جوڑکر معافی مانگ لوں گی..
آواز سنی تو.. گڑگڑاکر معافی مانگ لوں گی.. اسے بتاؤں گی کہ مجبور تھی..
اسے ایک. بار دیکھنے کی طلب نے مجھے گھر سے نکال کھڑا کیا ہے مجدد..
اب دعا کرو ہم وہاں جلدی پہنچیں..
اور میں جلد ہی اپنی تمنا پاسکوں..
مجدد خاموشی سے اس کی بات سن رہا تھا.. اور اس کی نظر ٹرین کی کھڑکی سے باہر ٹکی تھی..
ٹرین کی رفتارکچھ سست ہوئی تھی اسٹیشن کے قریب آکر..
اف آخر.کتنا انتظار.. کتنا..
پھر انتظار..
نہیں سعدی اب انتظار نہیں میری دوست..
بس اب نزدیک ہیں.. غور سے دیکھو.. یہ جام پور کا پلیٹ فارم ہے.
نجانے کیوں اسے لگا ایک جگہ ہجوم سے نکلتا ایک سایہ تھا.. سفید کپڑوں والا مدھم سایہ.

اسے لگا وہم سا ہوا تھا..
وہ تیزی سے گم ہوتا ہوا سردیوں کی شام کے دھندلکے میں سفیدیوں میں ڈھکا ہوا… مستقیم. تھا.. ایک دم آنکھ سے اوجھل ہوجانے والا..
جانے کیوں وہ سعدیہ کو بتانہ سکا.. اگر بتاتا تو پھنس ہی جاتا..
بہرحال اسے پہلے سے کچھ یقین ہوا کہ ہوسکتا ہے کہ سعدیہ کی خواہش پوری ہوجائے.
لیکن خود کے چاہنے پر کیسے…
وہ عجیب شش و پنج میں مبتلا بس اس کے ساتھ ٹرین سے نیچے اترا..
تم کسے دیکھ رہے تھے مجدد.. کیا کوئی پرچھائیں.. ؟
ہاں شاید.. تم نوٹس کیا؟
ہاں.. کیا..
کسے دیکھا..
پتہ نہیں..
نہیں مجدد لگا کہ جیسے کسی شناسا کو دیکھ رہے ہو..
جیسے پہچاننے کی کوشش کررہے ہو..
اچھا.. ٹھیک ہے…ٹھیک کہتی ہو..
مجھے لگا جیسے.. ہوسکتا ہے میرا وہم ہو..
تمہیں کیا لگا. ؟
مجھے لگا جیسے وہ مستقیم تھا.
وہ اس کی بات پر چونک کر اسے دیکھنے لگی تھی..
اور بڑی تیزی سے آگے بڑھنے لگی..
اس کی آنکھوں میں بھی نمی آگئی تھی اچانک ہی..
تم رورہی ہو؟سعدی
نہیں مجھے یقین کیوں نہیں آتا کہ.. وہ مرگیا ہے..
تمہیں یقین ہے کہ وہ مرگیا ہے..تبھی توتم اس کی روح سے ملنا چاہتی ہو..
نہیں مستقیم.. نہیں..سمجھنے کی کوشش کرو..
میرا یہ یقین ہے کہ روح کو کوئی نہیں ملاسکتا.. اور اگر ملاسکتا بھی ہوگا تو.. مجھے پتہ تھا..
پتہ تھا کہ وہ عورت ناکام جائے گی..وہ کہے گی میں ایسا نہیں کرسکتی. اور پھر مجھے یقین آئے گا کہ مستقیم.. زندہ ہے..
سمجھنے کی کوشش کرو نہ..
تو تم خود کو دھوکہ دے رہی ہو..
لیکن مت دو.
ہوسکتا ہے کہ وہ تمہیں کہے کہ میں تمہیں ملواتی ہوں.. اور پھر.. تمہیں کوئی یقین دہانی کرائی جائے کہ مستقیم..
وہ کہہ نہیں سکا کہ مرگیا ہے..
ٹھیک ہے.. تو پھر میں یقین سے رولوں گی..
تو پھر یہ معافی کا ڈرامہ ؟
ڈرامہ نہیں.. معافی اس کا مجھ پر حق ہے..
جو مانگنا چاہیے..
سامنا ہو نہ ہو.. کہیں لاشعور میں بھی.. میں نے اس سے معافیاں مانگی ہیں.. اس سے باتیں کی ہیں..
جانے کیوں مجھے لگتا ہے کہ اس تک میرے پیغام پہنچتے ہیں..
چاہے وہ مردہ ہو.. یا پھر زندہ..
بس کوئی ارر ہے.. نیٹورک میں..
وہ دور کرنا چاہتی ہوں..
شاید غلطی پر ہوں.. لیکن ہوں..
چلو..
ہم اب ان سے نزدیک آگئے ہیں..
ہمیں یہاں سے کوئی سواری لینی ہے ایسی جو ان کے گھر تک ہمیں چھوڑدے..
وہ پلیٹ فارم پر اتر کر سامان تھامے ہوئے آگے بڑھ گئے تھے.
تم رکو.. میں کوئی رکشہ یا تانگہ وغیرہ پکڑلاتا ہوں
پلیٹ فارم پر رش کم تھا..
نہیں ہم ساتھ ہیں.. وہ اس کے ساتھ ہی چلنے لگی تھی
ضدی ہو سعدی..
کبھی کی نہیں لیکن ہوں سہی..
چائے بھی نہیں پینے دی تم نے مجھے..
چائے وہیں پی لینا..
پتہ نہیں کیوں مجھے لگتا ہے ہم وہاں کچھ کھا پی نہیں سکیں گے.
یہ تمہیں کیسے لگتا ہے؟
بس لگتا ہے..
تو پھر چلو.
پہلے چائے پی لو.
نہیں بس اب رہنے دو..
وہ پٹڑی کراس کر آئے تھے

*******

اچھے ساتھی بیچ سفر میں چھوڑکرنہیں جاتے.

************
فون کی بیل مسلسل بجتی جارہی تھی.
وہ ورک شاپ ماسٹر سے بات کرتے ہوئے کئی بار جھلائی تھی بالآخر اس سے معذرت کرکے زرا سائڈ پر ہوکر اس نے کال رسیو کی..یہ طاہر کی کال تھی..

ہیلو طاہر.. کیسے ہو؟
ٹھیک ہوں عالین تم کیسی ہو پلیز مجھے تم سے بات کرنی ہے ضروری سی..
اچھا ٹھیک ہے کرتے ہیں بات.. لیکن مجھے دو منٹ دو میں زرا ورک شاپ ماسٹر سے کچھ کہہ رہی تھی.. صرف دو منٹ ہولڈ کرو تم.. اوکے..
وہ کہہ کر اس طرف آگئی تھی.. ماسٹر نے اسے گاڑی کی خراب کنڈیشن کے بارے میں آگاہ کیا. آدھی مشین نئی ڈلنے کی نوبت تھی. وہ خود اسے مشورہ دے رہا تھا کہ نئی گاڑی بک کرالے..
بالآخر فی الحال جگاڑی کا کہہ کر اس نے چند اوزاروں کے پیسے دیے اور انتظار کا کہہ کر باہر نکل آئی..
ہاں اب بولو طاہر کیسے ہو؟کیا بات کرنی ہے..
میں ٹھیک ہوں عالین..لیکن تم کدھر ہو؟ورک شاپ یا اسٹور میں ہو کیا؟
ہاں یار میں ورک شاپ آئی ہوئی ہوں بس مت پوچھو بڑا سکون تھا’ زندگی میں.. لیکن.. کبھی کبھار
ہم اپنے ڈھنگ سے جارہے ہوتے ہیں طاہر.. کہ
اچانک راستے رکتے ہیں..
اچانک گاڑی خراب ہوجاتی ہے..
میری بھی گاڑی سمجھو خراب ہوگئی ہے.
مشین والی بھی.. اور زندگی والی بھی..
واہ.. کتنے مزے کی بات کی تم نے عالین.. اور کتنی عجیب سی.. مشین والی بھی.. اور زندگی والی..
لیکن زندگی والی کا کیا معاملہ ہے.. چلو مشین والی تو سمجھ آسکتی ہے..
بس مت پوچھو طاہر..
بس کئی دنوں تک گاڑی کے اور زندگی کے معاملات میں ہی پھنسی رہی ہوں..اسی لئے طبیعت پر بھی اثر ہورہا ہے ..
یہ جب پھنستی ہے تو دیر تک پھنسی رہتی ہے..
سمجھو میری گاڑی کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے..
پھنس گئی ہے..
ہر طرح سے..
خیر تم سناؤ.. کیسے ہو.. ؟اوراتنے چپ چپ کیوں محسوس ہورہے ہو؟بیک گراؤنڈ میں صرف ہارن سنائی دے رہے ہیں تمہارے..
وہ بات کرتی ہوئی قریبی کیفے ٹیریا تک آگئی تھی..
ہاں ڈرائیو کررہا ہوں..
وہ تو لگ رہا ہے.. جا کہاں رہے ہو؟نبیلہ ساتھ ہے؟
نہیں یار.. کہاں.. وہ اور ساتھ..
تو ابھی تک ناراضگی گھٹی نہیں اس کی؟
اس کی ناراضگی اب گھٹے گی نہیں عالین.. بڑھ رہی ہے.. اور بڑھتی ہی رہے گی..
تم چھوڑو.. اسے.. اپنی بتاؤ ‘ویسے بھی میں آدھے پون گھنٹے میں پہنچنے ہی والا ہوں ائیرپورٹ تب تک بات ہوتی رہے گی..
ہیں ائیر پورٹ.. خیریت ہے ؟
ہاں.. سعودی جارہا ہوں یار.. کمپنی بھیج رہی ہے.. لیکن سوچو اس بہانے دل کا بوجھ بھی ہلکا ہوجائے گا…عمرہ بھی کرلوں گا..
ارے واہ.. گڈ ہوگیا.. یہ تو اچھا ہے..
لیکن نبیلہ کو لے جاتے تو اور اچھا تھا..
عالین… وہ نہیں جاسکتی.. ویسے بھی اسکی ڈلیوری نزدیک ہے.. لیکن وہ واقعی نہیں جائے گی.. اگر جاسکتی تب بھی جانا نہیں چاہتی..
تم لوگوں کے درمیان آخر صلح کی کوئی صورتحال کیوں نہیں نکلتی طاہر ؟
اب تو اور بھی مشکل ہے عالین.. وہ ضد پر چڑھی ہوئی ہے. اور اس کنڈیشن میں ہے کہ اسے جتنا سمجھایا جائے گا وہ اتنی ہی بدظن ہوگی..
جتنا کہا جائے گا اس کے الٹ سمجھے گی..اسے مناؤں گا تو وہ روٹھے گی.. سمجھاؤں گا تو بگڑے گی..
قریب لانے کی کوشش کروں گا تو بپھرجائے گی.. دھکیل دیتی ہے وہ مجھے ہمیشہ.. کسی بڑی گہری کھائی میں.. وہ ایسی ہی تھی..
پہلے تو چلو قسموں پر.. وعدوں پر.. وضاحتوں پر مان جاتی تھی.. لیکن اب نہیں عالین.. اب اس کے ماننے کے سارے موسم لگتا ہے گزرچکے ہیں..
اسے ایک ضد نے آلیا ہے یار.. وہ اپنے ہاتھوں سے سب کچھ اجاڑنے کے لئے نکلی ہے..
لیکن طاہر.. پلیز.. تم. اسے ایسا کرنے نہیں دینا..
میں سب کچھ کٹ جانے کے خوف سے ہی وہاں سے ہٹا ہوں عالین.. اس وقت میرا اس سے ڈسکنیکٹ رہنا زیادہ ضروری ہے یار..
جنتا معاملے کو سلجھانے کی کوشش کروں گا معاملہ الجھتا جائے گا…
تم ٹھیک کہہ رہے ہو طاہر. لیکن اس دورآن تم دونوں کے درمیان اتنا فاصلہ نہ آجائے کہیں کہ واپس جڑنا مشکل ہوجائے..
وہ اب اس پر ہے عالین..
دیکھو.. طاہر.. اس کی ڈلیوری میں کم وقت ہے. تمہیں چاہیے کہ تم جلدی لوٹ آؤ..
عالین.. رہنے دو یار…وہ خود دیکھ لے گی.. اسے میری ضرورت نہیں ہے. وہ انگزائیٹی کا شکار ہوجاتی ہے.. اور ابھی تو مزید ہوگی..
مجھ سے ایک غلطی ہوئی ہے عالین.. میں بس پہنچنے والا ہوں پھر آدھے گھنٹے میں میں اندر چلاجاؤں گا.. میں بس تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ. تم زرا اس سے بچ کر رہنا..تمہارا نمبر ایم شیور اس کے پاس ہوگا یا اس کے لئے نمبر حاصل کرنا مشکل نہیں ہے.. وہ تمہیں فون کرکے برا بھلا کہہ سکتی ہے..
پلیز کوئی اجنبی نمبر مت اٹھانا..
تم.. کیا کہنا چاہ رہے ہو.. وہ مجھے کیوں تنگ کرے گی..طاہر…
یار تمہیں اس کا پتہ ہے.. اس کے شک کا نہ..
تمہارے کہنے پر میں گیا تھا.. اسے کئی وضاحتیں دیں..
وہ نہیں مانی..
وہ روزانہ یہی بحث چھیڑدیتی تھی..میں نے کہہ دیا کہ ہاں ہے.. میرا اس سے چکر ہے.. تب جان چھوٹی ہے
وہ اسکی بات پر بے ساختہ ہنسی تھی..ارے واہ طاہر تم تو بڑے بہادر نکلے یار.. دھت تیری کی.. بازی ہی الٹ گئی..
تم ہنس رہی ہو؟میں سمجھا تھا تم مجھ پر خفا ہوجاؤگی..
دیکھو.. طاہر بات تو خفا ہونے والی ہی ہے میرے دوست.. لیکن چلو.. تمہاری اگرجان ہلکی ہوئی تو کوئی مسئلہ نہیں.. فیس کریں گے.
مجھے بس اتنا بتاؤ کہ وہ فون کرے تو کیا کروں؟خاموشی سے اس کی گالیاں سنوں..
انکار کروں.. تمہاری طرح وضاحتیں دوں. جیسے پہلے تم دیتے تھے.. یا پھر مان جاؤں کہ ہاں میرا چکر چل رہا ہے..
حد کرتی ہو.. عجیب لڑکی ہو.. دیکھو.. گالی دے تو جواب میں گالی دینا.. برا بھلا کہے تو کہہ دینا بے شک.. لیکن اگر تم نے ہامی بھری تو تم پھنس جاؤگی میری جان چھوٹی کہ نہیں لیکن تمہاری نہیں چھوٹے گی.. وہ بہت تنگ کرے گی.. تمہیں
تو اچھا یہ نہیں ہے کہ میں اس کا فون ہی نہ اٹھاؤں..
ہاں وہی تو کہہ رہا ہوں تمہیں کہ کوئی ایسا نمبر مت اٹھانا جو تمہارے پاس سیونہ ہو..
اف طاہر اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے.. فون آج کل میں اس لئے اٹھارہی ہوں کہ کوئی بھی کرسکتا ہے.. سعدیہ کرسکتی ہے.. مجدد کرسکتا ہے.. کوئی بھی کرسکتا ہے..
کال کوئی بھی کرسکتا ہے.. اس لئے مجھے یقین مانو ان جانی کال کا اس لئے بھی انتظار ہوتا ہے کہ کہیں کوئی اپنا ہی نہ نکل آئے..
اوکے عالین تم لے لینا.. لیکن اگر اس کی کال نکلے تو پلیز. ایسے ہینڈل کرنا کہ تمہیں زیادہ پرابلم نہ ہو.
تم فکر نہ کرو.. میں دیکھ لوں گی.. ویسے بھی گاڑی کا مسئلہ حل ہو تو مجھے نکلنا ہے التمش صاحب کی طرف..نور فاطمہ کی حالت ویسی کی ویسی ہے.. لیکن وہ کہہ رہے تھے کہ لگتا ہے اب وقت قریب ہے.. اب اگر وہ خود کہہ رہے ہیں تو ایسا ہی ہوگا.
وہ چاہ رہے تھے کہ میں جلد پہنچ جاؤں.. آج اگر گاڑی نہ بھی ملی تو مجھے نکل جانا ہے یہاں سے..
پورا ہفتہ عجیب گزرا ہے..گاڑی کے پیچھے.خوار ہوکر
سالس صاحب کیسے ہیں اب؟انکی طرف گئیں اب؟
مت پوچھو وہ سردیوں کی رات میں ٹھنڈ کے کہرے میں باہر نکل جاتے ہیں مراقبہ کرنے.. بڑی غیر حالت لگ رہی تھی مجھے انکی..
قسمت نے اگر ساتھ دیا تو دوبارہ آج ملوں گی.. ان سے بھی جاتے جاتے.
ویسے بھی کہانی تو مکمل ہوگئی تھی لیکن بات باقی ہے.
انہیں توجہ کی ضرورت ہے.. انہیں آسانی چاہیے.. خیر.. سب ٹھیک ہے..
تم ایسے کیوں کہہ رہی ہو جیسے وہ کسی خطرے میں ہوں..
نہیں طاہر خطرہ نہیں لیکن وہ پھنسے ہوئے ضرور ہیں.. لیکن نکلیں گے.. میں سوچ رہی ہوں انہیں کوئی سلمان محمود اور روبینہ وجیح ہی سنبھال سکتی ہے.
بات میرے بس سے زرا سی اوپر ہے.
اب یہ دو بلائیں کون ہیں؟میں بے تو کبھی نہیں سنا ان کے متعلق..
ارے پاگل.. ان کے دوست ہی سمجھ لو.. خیر ابھی تم نکلو پھر بتاؤں گی..
ٹھیک ہے..بس خیر تو ہے نہ.. یہ کنفرم کرنا تھا.
ہاں ہاں خیریت ہی سمجھو.. خیریت ہی ہے..
چلو پھر مجھے آگاہ کرنا میں زرا وہاں پہنچ کر ایک دو دن میں رابطہ کروں گا.
اپنا خیال رکھنا پلیز.. اور اپنے بارے میں ضرور بتانا..
ہاں ٹھیک ہے.. فکر نہ کرو.. تم نکلو.. بس ایک بات میری باندھ لو طاہر..
وہ یہ ہے کہ اچھے ساتھی کبھی بیچ سفر میں چھوڑنہیں جاتے..
اس کے اس جملے پر اس نے ٹھنڈی سانس بھری تھی..
اور اس نے دعا دے کر فون رکھا تھا..
کیفے میں دھوپ شیشے کی دیواروں سے چھن کر آرہی تھی…اس نے گلاس وال سے نظر باہر دوڑائی اور اپنے لیے کافی کا کہہ کر باہر کے حصے میں دھوپ میں جا بیٹھی ..ابھی اسے وہاں سے نکلنا تھا اور گاڑی کی خبر لینے کے بعد نکلنا تھا.
کئی معاملات تھے جو اس کے ذہن میں زیر بحث آرہے تھے.. ایک تو معاوذ نام کے دم چھلے سے وہ عاجز آئی ہوئی تھی.. جو ذہنی کیمسٹری بنانے کے لئے ہر روز دن میں دو بار فون کرتا تھا.. پہلا فون وہ اٹھاتی نہ تھی.. اور دوسرے فون پر بات گھماکر معذرت کرتی.. اور تیسرا فون آنے سے پہلے اسے معذرت کا ٹیکسٹ کرکے منع کرتی کہ وہ فرصت کے وقت میں کال کرے گی..
وہ اس کے ہاتھ نہیں آنا چاہ رہی تھی..
اور یہ اس کا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہ تھا..
اسی کشمکش کو جھٹکتے ہوئے اس نے گاڑی کی خبر لی تو حیران ہوئی کہ اس نے اجنبی کال کا نمبر رسیو کیا اور جھٹکے سے رک گئی.
نورفاطمہ کے انتقال کی خبر تھی.

******

مجھے مرنے کے لئے اٹھایا گیا!
******

اسے یہ تیسرا جھٹکا لگا تھا جب اس نے پوری طرح سے آنکھیں کھول لیں تھیں..
لڑکی کی توجہ کتاب کی طرف تھی لیکن کسی کسی وقت وہ اس طرف بھی دیکھ لیتی تھی.
اس کی سانسوں کی حرکت تیز تھی. جیسے کوئی زبردستی سانس لینے کی کوشش کرتا ہے
لڑکی نے فورا” اس طرف دیکھا.. کچھ سیکنڈز تک وہ دیکھتی رہی..
تو یہ جاگ گیا.. پھر جیسے یقین آنے پر کہا.اور کتاب بند کرکے رکھی.. اور بغور اسے دیکھا.. تاکہ یقین کرلے..
وہ بے یقینی اور بوکھلاہٹ ناسمجھی سے ادھر ادھر دیکھنے لگا تھا.
اور پھر.. اس کی اجنبی آنکھوں کے پریشانی سے ادھر ادھر گھمانے پر وہ پرجوش ہوکر اٹھی… اور دوڑ کر باہر چلی گئی جہاں وہ پودوں کو پانی دے رہیں تھیں
.عدیلہ.. عدیلہ میڈم…
وہ کیا نام ہے اس کا..
کس کا؟وہ اسے بے زاری سے دیکھتے ہوئے کہنے لگیں..
ارے اس لڑکے کا.. لڑکی جھلائی..
مستقیم.. شاید یہی.. بتایا تو یہی گیا تھا.
وہ اٹھ گیا ہے..وہ اٹھ گیا.. دوسری بار اس نے قدرے جوش سے کہا تھا.
کیا…؟تم سچ کہہ رہی ہو؟
جی..جی …بالکل اس نے آنکھیں کھولی ہیں..
اس نے دیکھا ہے..
ہائے میرے خدا.. انہوں نے دل تھام لیا تھا..پانی کا کیٹل وہیں رکھا اور اندر کو والہانہ دوڑلگادی..
جہاں وہ سانسوں کی بے ترتیب جنگ لڑرہا تھا..
کیا میں مرگیا.. ہوں..
یا مرنے کے لئے جاگا ہوں..
یہ اس کا کچھ لمحوں بعد خود سے سوال تھا.
لڑکی پیچھے آکر دروازے کے پاس کھڑی ہوگئی تھی..
عدیلہ میڈم نے آکسیجن کے سیلینڈر سے تار جوڑا.. اور تار کی نالیاں اس کے نتھنوں میں دے دیں..
انہوں نے کہا تھا یہ مرنے کے لئے ایک بار پھر جئے گا..
لڑکی نے عدیلہ میڈم کو یاددہانی کرائی.
چپ کرو.. تم.. چپ کرو. ایسا نہیں ہوگا.. ہم کوشش کرتے ہیں.. یہ بچ جائے گا انشاءاللہ..
ان کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اور وہ پریشان اور بوکھلائی ہوئیں.. کبھی اس کی وحشت اڑاتی صورت کو دیکھتیں تو کبھی آکسیجن سلینڈر اور تار کو دیکھتیں کہ.. اسے دوا تو آسانی سے پہنچ رہی ہے یا..
جاؤ.. انہیں بلاؤ.. ماسٹر صالح کو بلاؤ. انہیں بتاؤ کہ اسے ہوش آگیا ہے..
جاؤ.. جلدی..
انہیں اچانک ہی خیال آیا تھا.
اچھا جاتی ہوں..
تو جاؤ نہ جلدی کرو.. یہاں کھڑے کھڑے کیا کررہی ہو..
جارہی ہوں..توبہ ہے.. وہیل تو نہیں لگے ہوئے مجھے..وہ منہ بسور کر دروازے سے باہر نکل گئی تھی..
انہوں نے ٹھنڈی سانس بھری.. اور اس کا ہاتھ تھام لیا..
سانس کھینچو… سانس کھینچو.. کوشش کرو پلیز..
کوشش کرو.. تم بچ سکتے ہو..
اپنے پھیپھڑوں کو تکلیف دو کام میں لاؤ.. تکلیف کی پرواہ مت کرو.. بس کوشش کرو.
دیکھو.. تمہیں جینا ہے..
یہ مان لو کہ تم جینے کے لئے لوٹائے گئے ہو..
انہوں نے یہ جملہ بڑے رازدارانہ انداز میں کہا تھا.
بس جیتے جانا.. جینا.. . اٹھو..یہی زندگی ہے..
اس نے اس حوصلے کم تجسس بھری زیادہ.. آواز پر ایک کوشش کی تھی.. لیکن پھر اچانک جیسے فورا” اس کی سانس کا سلسلہ منقطع ہوا تھا.. تبھی.. وہ ایک جھٹکے سے رکا تھا..اس کی سبز آنکھیں جیسے ایک جگہ پر ٹہر سی گئیں تھیں..
اور عورت کی آنکھوں میں اسی نے ساختگی کے ساتھ پانی بھرآیا تھا..
کسی ایک ہی جملے کی بازگشت تھی..
تمہیں جینا ہے.
تمہیں جینا تھا..
تمہیں. جینا….. چاہیے..
لیکن تمہیں تمہیں جینا… مہنگا پڑے گا.
یہ آخری جملہ خود اس کا تھا..
اس کے کانوں میں کوئی آخری بار کی چیخ پوری قوت بن کر چیخنے لگی تھی..
اور زندگی سے نبٹنے والے کو لگا کہ یہ سچ تھا کہ اسے واقعی مرنے کے لئے اٹھایا گیا تھا!

____________

جاری ہے